Sunday, November 22, 2020

کالا رنگ اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 زندگی میں سب کچھ لُٹا چکنے کے بعد امید کے پہلو میں بیٹھے محبت کے نئے رنگوں سے کھیل رہی ہوں .افق پر قزح کے رنگوں نے دُنیا کی خوبصورتی بڑھا دی ہو جیسے ۔۔۔! امنگوں کے جاگنے سے من کے سمندر نے سپیوں کو پالیا ہو جیسے ۔۔۔! کچھ ایسے گمانوں میں جھومتی روح نے اداسی کو چادر کو سلیقے سے اوڑھنے کا سلیقہ سیکھ لیا ہے . ایک نئی ہستی کی تکمیل پرانے اجزاء ترکیبی سے ہو جائے اور اسکو نئے رنگوں سے گوندھا جائے تو کالا رنگ اترتے دیر نہیں لگتی . کائنات کی ناتمامی کو کالے رنگ کی چادر سے پردہ ڈال دیا ہے اور کہیں تکمیل شدہ اجزائے ترکیبی پر کالا رنگ چڑھا دیا گیا ہے . اس رنگ کے مابین یقین اور بے یقینی کی فضا پھیلا دی گئی . جب حجاب اٹھتا ہے تو ست رنگی بہار وجود کو چار اوڑھ لپیٹ لیتی ہے جبکہ امید کو استقلال میں ڈھلنے، صبر کو عزم کی تصویر بننے ، عشق کو تعبیر بننے کے لیے خاک کو جس خمیر سے گوندھا گیا ہے وہ خمیر بھی حجاب رکھتا ہے . ایسا حجاب جس کے چار اوڑھ اندھیرا ہے اور اندھیرے پر مٹی کا لباس ... زندگی میں سب کچھ لٹا چکنے کے بعد میرے پاس ایک ہی سرمایہ بچا ہے وہ سرمایہ حیات محبت کی تقسیم ہے جس کو ہر انس کی فطرت میں رکھا گیا ہے مگر تقسیم امید کے چراغ اپنانے سے ملتی ہے ... میں ان چراغوں سے افق پر قزح کے رنگوں کو دیکھ رہی ہوں اور طمانیت کا احساس رگ وپے میں سرائیت کرگیا ہے​



انسان اپنی دُھن ، لگن کی خاطر نفع لینے سے نقصان ملتا چلا جائے تاہم ہستی اسی سمت پر جستجو کے رنگ بکھیرتی چلی جائے تو بس مقصد حیات فوت ہوجاتا ہے . ہمیں معلوم نہیں ہوسکتا ہے کہ ہستی کیوں ادھوری ہے تو کیونکر معلوم ہو کہ تکمیل کے ثمرات کیا ہیں ۔ناتمامی پہ ماتم ! اپنی تکمیل کس لیے ہو؟ تکمیل وصل سے ہوتی ہے۔وصل کی گھڑی سے پہلے اُداسی کی انتہا سے گزرنا پڑتا ہے .اسی اداسی کی مثال موسم خزاں کی سی ہے جیسے خزاں میں پتے چر چراتے ہیں اور ہُو کے عالم میں کالا رنگ اوڑھے خاکی پتلا گھومے جا رہا ہے ! اپنی ناتمامی کا ماتم ! کیسا ماتم؟ تکمیل کے دائرے سے اختلاف مقاصد کو سمت دیتا ہے اور پرواز کے بعد آزمائش ہوتی ہے . اس آزمائش کے بعد وصل مل جاتا ہے ! خاک کی موت ہوجاتی ہے اور حیات دوامی ،وجود فانی کی منزلیں عطا ہوجاتی ہیں تب زبان پر 'اسم َ حق ' لا فانی ذات کا ذکر شروع ہوجاتا ہے .آنکھ تب تک روتی ہے جب تک اس کو موت کی سند عطا نہیں ہوتی ہے .

جن جذبات کو قرطاس پہ تحریر دیکھنا چاہتی ہے ، قرطاس اس معیار پر پورا اتر نہیں رہا ہے ! قرطاس کو چاندی کے ورق میں ڈھالا جاتا ہے اور چاند کی روشنی میں رکھے جانے کے بعد ماہتاب کے سائے میں پرورش کی جاتی ہے یہاں تک کہ خورشید مثل خورشید ، چاند مثل چاند اور چاندنی چار سُو اوراق سے پھیلنے لگتی ہے . ان اجزائے ترکیبی کو نمود ہستی تب سہ سکتی ہے جب بھنور میں رہنا سیکھ لے اور بات اس نہج کو پہنچے کہ بھنور کی کیا مجال ہمیں ڈبو چلے !

قندیل کی روشنی نرم نرم سبز پتوں کی ودیعت ہے ! وہ پتے جن کو زیتون کے درخت سے نسبت ہے ! یہ ارواح کی قندیل اس سر سبز سدا بہار نور کے چراغ سے وصال کے بعد روشن رہتی ہے ! یہ ابد کا سفر ہے جو بعد فنا کے عطا ہوتا ہے جس پر قرطاس سے لکھوایا گیا کہ ازل نے کی ابد کی جستجو مقام ھو تلک ، جنوں کو مل ہے جائے آبرو مقام ھو تلک ............................... یہ آئنے جو دھندا لا جاتے ہیں ! یہ آئنے جو ٹوٹ جاتے ہیں ، یہ آئنے جن کی روشنی کھونے لگتی ہے مگر جستجو جاری رہتی ہے ! ایسے آئنے ازل کے نور سے سیراب کیے جاتے ہیں اور ان کو اوج فنا کے بعد بقا ، حیات دوامی کی وہ منزل مل جاتی ہے جس کے بعد نہ تو تو رہا ، نہ میں میں رہا............ کا تذکرہ کیا جاتا ہے ......... ایسا کیوں ہے ! ایسا کیوں ہے ؟منزلیں فنا ہوجاتی ہیں ،جستجو مٹتی نہیں ہے، سکندری مل بھی جائے تو گداگری کی طلب رہتی ہے ! کون جانے کے ازل نے ، ازل کے ٹکرے کو ادھورا کردیا ! وچھوڑا دے کے اس کی کمر توڑ دی ! عجز کی لاٹھی عطا کردی ، بڑھاپے نے فقر سے پناہ پکڑ لی اور مسافر کو پڑاؤ کی جگہ پر پڑاؤ کرنے سے روک دیا ! اسے کہا گیا کہ ابھی سفر کر ! اے میرے ہمنشیں ! ابھی سفر کر ! ابھی کوزہ گر سے ملنا ہے !​

جفا کا نام مت لے ، یاں وفا سے کام چلتے ہیں

 جفا کا نام مت لے ، یاں وفا سے کام چلتے ہیں

وہی دنیا میں باقی رہتے جو مر کے بھی جیتے ہیں

ملی معراج ھو سے ، عکسِ ھو میں ذات ہےموجود
کمالِ رقص بسمل میں ہی ہم اپنا اوج پاتے ہیں


رموزِ عشق ہجرت کی بدولت کھولتے ہیں ہم
ہمی قالو بلی کے رقص میں اکثر جو رہتے ہیں

نمودِ ہست کی فطرت کے جلتے دیے رہنے
قلندر پر ازل کے پردے سارے فاش ہوتے ہیں

ازل کے نور نے مجذوبیت بخشی ، ہوں مثلِ بحر
تلاطم خیزی سے طوفان میری گھبرا جاتے ہیں

ُخاک کی جستجوُ صدائے کن

 خاک کی جستجوُ صدائے کنُ

گونجی ہے کُو بہَ کُو صدائے کنُ

ُخوشبو صحرا کی پھیلی ، ہر ِاک نے
پایا ہے عہدِ نُو صدائے کنُ

سوزِ ہجراں نے ہے کیا صحرا
غم کی ہے جستجو صدائے کنُ

دِل میں واحد صدائیں دیتا ہے
ھو کی ہے ہو بہو صدائے کنُ

عشق میں وہ چراغ بُجھ کے جلا
جس دِیے کی ہے ضوُ صدائے کنُ

تار کا نغمہ گُم احد میں ہوا
جب سُنی کو بہ کو صدائے کنُ

مستیِ روح الست کی چھائی ہے
ھو کے ہے روبرو صدائے کنُ

احمد فلک کا نور ہیں ، چاند سبھی تاروں کے

 احمد فلک کا نور ہیں ، چاند سبھی تاروں کے

تقسیم رحمت ہوتی ہے ان کے ہی اشاروں سے
٭٭٭٭
محبوب کی محفل میں جب میں نے پڑھی تھی نعت
جھوم کے سب کہنے لگے کیا ہیں میرے جذبات
٭٭٭٭٭
میں جوگن سرکار کی،نیچی میری ذات
وصف ان کا کیسےہوبیاں،میری کیا اوقات
٭٭٭٭٭
تیری رہ پر میں چلوں ، میری بنے گی بات
ہوگی زیارت جب مجھے ، تب میں لکھوں گی نعت
٭٭٭٭
صدیاں گزریں دید کو ، کب ہوگی میری عید
جلوہ اپنا دکھلا دو ، پوری کردو امید
٭٭٭٭
چہرہ کملی والے کا دمکے ہے نور میں
نورِ حقیقی جیسے تھا پوشیدہ طور میں
٭٭٭٭٭
مصطفوی نور میں چمکے ہیں کائنات کے راز
معراج کی شب کو عیاں تھا پردہِ مجاز
٭٭٭٭

عکسِ مصطفی کی جھلک دیکھی حجابِ ازل میں
مرشد حق کو تب دیکھا میں نے رحمت کی غزل میں

علمُ البیاں کی نعمت ملی ہے

 علمُ البیاں کی نعمت ملی ہے

حمد و ثنا کی دولت ملی ہے
شاہِ ِ مدینہ کی بات جب کی
آنکھیں نمیدہ میری ہوئی ہیں
خورشیدیت بخشی نورؔ کو ہے
میدِ سحر کا میں ہوں ستارہ
تخلیق میری کی صورتِ عبد
ہوں اس کی پہچاں کا استعارہ
اس کی تجلی نے دی ہے پاکی
پل پل نئی ہے اب اضطرابی
اس نے نظر بھر کے جب تھا دیکھا
قرباں تجلی میں ہونا چاہا
ظاہر میں باطن میں اس کا جلوہ
اپنی ولا میں گم کر ہے ڈالا​

صبح نے کہا تو قریب ہے

 جانے بات کیا ہے اس نے تھام رکھا ہے

معراج نہیں ہے مگر نہ کچھ عام رکھا ہے
حسرت نہ رکھی ، آرزو کو بھی بے کل کیا
اس نے آنے کا عجب اہتمام رکھا ہے
سورج کی ضو تحفہِ معراج ہے
رات میں نغمگی تحفہِ معراج ہے
وصل جانے کب اصل سے ہونا
اصل کی بات کرنا اصل معراج ہے
عشق کا سانپ دل کو ڈستا رہتا ہے
زہر لہو میں بہتے بے کل رکھتا ہے
موت آئی بھی تو کیسے آئی ہے
زہر کا تریاق اصل معراج ہے
مسیحا نے زخم مندمل کردیے ہیں
رحمت میں رکھنا اصل معراج ہے
ہائے ! اضطراب کا زہر اور دےدے
موت کو پھر شہ موت دے دے

صبح نے کہا تو قریب ہے
رات نے کہا تو حبیب ہے
شمع نے کہا تو نصیب ہے
شہر نے کہا تو رقیب ہے
روح نے کہا تو بشیر ہے
تجھ میں کوئی تو دل پذیر ہے
تو اسیر ہے یا فقیر ہے
نیزہ ہے یا تو شمشیر ہے
در کی جس کے تو بنی غریب ہے
کر دیا ترا دل فقیر ہے

دل میں رہتا کونسا میر ہے
وہ حبیب ہے ! وہ حبیب ہے
وہی تیرا نصیب ہے وہ میرا نصیب ہے!
اے درد ! پاس بیٹھ جا میرے
سُن لے ہیر کی داستانیں
گھُنگھرو پہن ناچوں میں
میں اسیر ہوں یا زنجیر
جنون کی تو تحریر ہے
وہ جو تیرا حبیب ہے
وہ ہی میرا نصیب ہے
اس کا ڈیرا دل میں ہے
وہ جو خود میں کامل ہے
روح میں مکمل شامل ہے

شہِ والا ! ہماری سنیے !
ہمارے دل کی حالت دیکھیے
آپ نے کہا ،وہ کیا
کیا نہیں جو نہیں کیا
ہماری ڈور آپ کے ہاتھ
نہیں چاہیے اور کوئی ساتھ
قصہ رات کا ہے یا یہ ہے بات
خوشبو کی مل رہی ہے سوغات
ہمارے جذب کی سُنے گا کون
درد کو ایسے سہے گا کون
وہ جو میرے دل میں بیٹھا ہے
دیے جارہا ہے صدائیں
ہیر بن کے ناچوں گی
اس کھیل میں رانجھے کو پانا

تیرا اضطراب جنون رقصِ قیس نہ ہوجائے کہیں
لیلی بنتے بنتے تو مجنوں نہ ہوجائے کہیں

یہ شمع ، یہ گُل ، یہ چنبیلی کی خوشبو
یہ رات کی رانی بکھر رہی ہے چار سو
انگڑائی لے رہی ہے کائنات کوبہ کو
من کی اگنی میں جل رہا کوئی ہو بہو
یہ چار دن کا میلا ہے ، دنیا ہے

کیا اکیلے اس دنیا میں نہ آئے؟
کیا اکیلے اس دنیا میں آئے؟
ساتھ میں ہوں ، کیوں دکھتے ہو ستائے
جام در جام پیے جاتے ہو
رہتے پھر بھی پیاسے ہو
صنم اس دنیا کا اکیلا ہے
بیلی ، سجن ، یاروں نے کیا دینا ہے
بڑے پیار کے دعوے ہیں تمھیں
حسن پر بڑا ناز ہے تمھیں
تمھارے حسن کو دید بخشی ہے
تمھاری پیار کو ضُو بخشی ہے
تمھیں اپناکے یار بنایا ہے

فلک سے کہو کہ آشیانہ پوچھے
ندیوں سے کہوکہ ویرانہ پوچھے
زمین سے کہو کہ میخانہ پوچھے
حجر سے کہو کہ آستانہ پوچھے
شجر سے کوئی رازدارانہ پوچھے
کدھر ہے یہ ضوخانہ پوچھے
عاشق سے کہوکہ رازدارنہ پوچھے
رنگوں میں چھپا کاشانہ پوچھے
بُلبل نے کہا کہ کیا کیا پوچھے
مرض بڑھے تو شِفاخانہ پوچھے؟

دل کو وہ ایسے سُنائی دے
دھڑکن سینے میں دُہائی دے
میں اُس کے خیال میں گُم ہوں
اے خاک ! مجھے رہائی دے
سن کے میری بات وہ مسکرایا
ساغر میں گُم کو کیادکھائی دےَ؟
چوٹ لگی ، دل پگھلتا دکھائی دے
میخانے کو میخانہ نہ دکھائی دے
بند اکھیوں میں رستہ نہ سجائی دے
ذات کو اب ذات نہ رِہائی دے
جذب کو واحد ذات میں گمائی دے
اے خاک ! پوچھ! جو نہ دکھائی دے!

وہ جھُکا اور اشارے میں بنادیا
صحرا کو جنگل جیسا سجا دیا
وہ خیال بنا اور خیال نہ رہا
خیال روبرو مگر کچھ نہ دہا
یہی خیال دل میں بٹھا دیا
وہ سامنے مگر دکھائی نہ دے
اے ذات مجھے اب رہائی دے
وہ پاس ہے مگر دکھائی نہ دے
رات پہلو میں گزر جائے گی
زندگی سلگنے میں بیت جائے گی
اس نے مجھ پر کرم پھر بھی رکھا
ذات کو میری سخی کردیا ہے
غنا کی چادر مجھ پر اوڑھا دی
عطر ، خوشبو مل گئے
خوشبو عنبر کی بن گئی
ایک رات کی پہیلی
ایک رات میں سلجھی
من کی اگنی میں مور ناچے
مور ناچے جیسے چور بھاگے

معراجِ بشری

 کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں 


حقیقت کبھی نظر نہ آئی مگر حقیقت محسوس ہوئی ۔ احساس میں موجود رگوں میں سرائیت کیے ہوئے کہ ہماری شہ رگ سے قریب ہے ۔بعض انسان سرپھرے ہوتے ہیں ، شاید مجھ جیسے جنکو حقیقت کو دیکھنے کی جستجو ہوتی ہے ۔ محشر کے بعد دیدار ہونا ہے تو ہر پل میرا محشر ہے۔ اس حشر کی تسلی کو ہر دوسرا پل دیدار کو لکھ دیا ہوتا ۔ میرے لیے لمحہ بھر کا درد بھلے زمانوں پر محیط ہوتا مگر وہ تو ہوتا جو درد کی شکل میں موجود ہوتے دکھتا نہیں ہے ۔ایک سانس نفی کرتی اور دوسری سانس الہ کہتے دیدار کرتی ہے ۔

اِنسان کے لیے اپنا ہونا ایک بڑے صدمے سے کم نہیں مگر ذاتِِ حق کی آگہی ہونے کے بعد ۔ انسان اپنی پُوجا کرتا ہے ، عبد ہوتے ہوئے معبود بن جاتا ہے ۔ عبدیت کی ضد میں معبودیت پر فائز ہوجانا صرف کفر ہے ۔میں خود پسند ہوں کیونکہ میں نے خاک کی شکل کو پسند کیا یا میں خود پسند ہوں کہ مجھے اپنی باطنی صورتوں سے پیار ہے ! ایک قسم کی خود پسندی جو خاکی پُتلے کو حاصل ہے ، وہ اس خود پسندی سے مختلف ہے جو روح کو دیکھنے ، سمجھنے ، سننے کے بعد حاصل ہوجاتی ہے !

جب انسان اپنی روح کا طالب ہوتے سننا ، دیکھنا اور سمجھنا شروع کردیتا ہے تب اسکو یقین کی سواری مل جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!یقین عالمِ حسیات کی جانب گامزن ہوتے احساس دِلاتا ہے کہ سانس کی ادائیگی بھی کلمہ لا سے الا اللہ کا سفر ہے ۔ جیسے جیسے اس سفر میں پاؤں میں آبلے ، دل دشت و ہشت نگر ، روح خار سے تار تار ہوجاتی ہے تب وہ اثبات کی دولت عطا کرتا ہے ۔ خلافت کی نعمت اس اثباتِ حق کے تسلیم کے وحدانیت کی جانب سفر شُروع ہوجاتا ہے ۔ سورہ الاخلاص کی عملی تفسیر بنتے انسان واحد کی شرکت میں ''لا '' کی مہر ثبت کرتے '' الا اللہ '' کی تسبیح کرتا ہے ۔ یقین سے ملی اثبات کی نعمت کے بعد مافوق العقل واقعات انسان سے سرزد ہونا شُروع ہوجاتے ہیں ۔جو ان میں کھوگیا وہ نفس کی پہچان میں دھوکا کھا گیا ، جو نکل گیا وہ خالص ہوگیا ۔دھوکا کھانے والے وہی لوگ جن کے بارے میں سورہ العصر میں بیان کیا گیا کہ جن کے اعمالات سیاہ نے عمر کا صفحہ چاک کردیا ، مہلت قلیل ہوگئی اور خسارہ بڑھ گیا ۔

کلمہ لا الہ الا اللہ '' شک '' و ''یقین '' کی جنگ سے تعبیر ہر انسان کی عملی کہانی ہے کیونکہ ہونٹ اس کو ادا کرتے ہیں جب روح اس کے ورد میں مصروف ہوتی ہے۔روح پر خاکی ملمع جب اتر جاتی ہیں تب روح کے زنگ ختم ہوتے ہیں ، رنگ ابھرتے چمکتے ہیں ۔روح کی صورتوں کو نیا شعلہِ شوق عطا کیا جاتا ہے ۔ جس جس سے انگ میں شوخیِ ہست و نمود کی چنگاریاں پیدا ہوجاتی ہیں تب درد کا صور بالخصوص ایک بار پھوُنکا جاتا ہے ، جس سے موت یقینی ہوجاتی ہے یعنی موت کو شہ مات ہوجاتی ہے ۔ یہ درد کبھی رقصِ بسمل کراتا ہے ، ننگے پاؤں خار پر چلاتا ہے ، بدن لہو لہو ہوتے سر نیزے پر لگواتا ہے ۔ یہ درد کبھی اژدہے کی صورت تو کبھی شیر کی شکل میں تو کبھی چیتے کی خونخواری لیے بوٹی بوٹی نوچتا کھسوڑتا اور خون چوستا محسوس ہوتا ہے ۔ ہر رگ کی رگ کے دس ہزار ٹکرے کر دیے جائیں اور ہر رگ میں کائنات کی دوئی کا درد رکھا دیا جائے تو روح درد سے اپنے وجود سے منکر ہوجائے یا پھر بڑھ کا سامنا کرتے کہے :
آ درد ! ہم تجھے تھام لیں کہ ہم میں اتنا حوصلہ ہے ! آ درد ! ہمارے طوفان سے مقابلہ کرلے ! ہمارے اندر طوفان ہے ! آ درد! خنجر اور تلوار کا رقص کریں ! درد ! درد ہم سے منہ چھپاتا پھرتا ہے کہ ہمارے دل کے خون کے آگے سب ہیچ ہے ! مٹی ہیچ ! آنسو ہیچ ! ہوا ہیچ ! شیشہ ہیچ کہ ٹوٹ کے بکھرجائے ! سب مایا ہے مگر بدن پر ہوس کا سایہ ہے ! ہوس نے بدن کو تھام رکھا ہے جبکہ درد کی ہوس سے شدید قسم کی کشمکش ہے تب درد شب خون مارتا ہے ! یہ کھیل ہجرت کے بعد سے شُروع ہوا اور وصل سے پہلے تک جاری رہتا ہے ! اس دنیا میں کوئی روح اس درد سے ماورا نہیں ۔سب کے اندر یہی الاؤ دہک رہا ہے جس سے جلا ہوا جل کے راکھ ہوجائے ! یہ آگ پھر بھی ختم نہ ہو تاوقتیکہ کہ گلزار ہوجائے !

لا الہ الا اللہ کے بعد سے عروج انجم تک کا سفر ۔۔۔۔۔۔ فرش سے عرش تک کا سفر ہے ۔ الم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس عرش کی کہانی اسی ' الم ' کی کہانی ہے ۔ رحمت ِ خاص جو حضرت محمدﷺ پر ہے وہی رحمانیت ہے جبکہ بندوں پر جو عطا سیدنا سرکارِ دو عالم ﷺ کی ہے وہ رحیمی ہے ! جہاں پر تقسیمِ عمل لائی جاتی ہے وہ خانہ کعبہ ہے مگر جہاں سے تقیسم شُروع ہوتی ہے وہی جگہ مسجد نبوی ہے اور جہاں پر معراج بخشی جاتی ہے وہی جگہ مسجد ِ اقصی ہے ! اسی طرح عشق کے بھی تین مقامات ہیں ، عشق کا عین : مقامِ لا ، عشق کی شین : مقامِ لا سے الہ (بالخصوص ذات میں گم ہوجانے کے بعد ) ، عشق کا ق : مقامِ الا اللہ ! تقسیمِ خاص سے تقسیمِ عام سے ہوتے معراج کا سفر ہی انسانی روح کا کائنات میں معین سفر ہے !

احساس کہاں ہے ، لباس کہاں ہے ؟

 احساس کہاں ہے ، لباس کہاں ہے ؟

زندگی ہے جسکا اقتباس، وہ کہاں ہے؟
لہو کی بوندوں میں یار کا آئنہ ہے
تشنگی بڑھی بے انتہا ، قیاس کہاں ہے؟
ربط احساس سے ٹوٹا سجدے کے بعد
ڈھونڈو میرا نشان ، اساس کہاں ہے؟
جُنون کو خسارے نے دیا پتا منزل کا
حساب چھوڑو ،دل شناس کہاں ہے؟
-----------------------
---
جواب میں ، احساس میں کیا الجھے
پھولوں کو نئی خوشبو ملتی جائے
رنگ بکھرتے ہیں بارش کے بعد
وصال کے بعد ملال ہیں مٹتے
بہاراں ہے ! یار شکوے کیسے
قبا میں بند پھول پر جگنو کیسے
صبا میں پتے ہیں کھلتے رہتے
شجر کو ملے سندیسے کیسے کیسے
----------------------

صدائے نغمہ ھو جب گونجتا ہے ، جبل میں کہرام آجاتا ہے ۔زمین پر اساس پاتے یہ جبل بُلندی کا حامل ہوجاتا ہے ۔ ذاکر کے ذکر پر خوش ہوتے شرابِ طور عطا کردیتی ہے ۔ نور سے ہستی کا رُواں رُواں کھو بیٹھے ہستی ، فرق ختم ہوجائے ، تو مشاہدہ بھی ایک ہوجاتا ہے ۔

تکمیل کا سفر قربانی کی دھوپ میں کاٹا جاتا ہے ۔ لوحِ محفوظ پر لکھے حُروف کی سیاہی وقت کو تھما دی جاتی ہے ۔ لٹکا دیے جاتے ہیں نیزے پر سر ، نعش سولی پر ، مٹی کے بُت سے نغمہِ ھو بول اٹھتا ہے ۔ موت کی زندگی کی عطا ہوجاتی ہے ۔

اندھیروں کو رُوشنی کو ہدیہ دینا ہوتا ہے ۔ احسان پر بسمل کو تڑپنا بھی سرِ عام ہوتا ہے ۔ کان کُنی کا عمل وسیلوں سے شروع ہوجاتا ہے ، فیض عام ہوجاتا ہے ، چھید در چھید کیے جانے کے بعد اندھیروں میں روشنی سے محفلِ نور کی ابتدا ہوجاتی ہے

محفلِ نور ساقی کے دم سے چلے
بادہِ مے سے سب داغ دلِ کے دُھلے


آئنہِ جمال ، اصل ُالاصل جمال میں مدغم اصل ہوجاتا ہے ۔ مقامِ فنائے عشق میں حیات دوامی ، اسم لافانی کی عطا پر شکر کا کلمہ واجب ہوجاتا ہے ، خوشبو کا بکھر جانا کِسے کہتے ہیں ، صبا کو سندیسے کیسے دیے جاتے ہیں ، غاروں میں اندھیرا ختم ہوجانے کے بعد سب در وا ہوجاتے ہیں ۔


مرا وجود تیرے عشق کی جو خانقاہ ہے
ہوں آئنہ جمال ،تیرے ُحسن کا کمال ہے



۔ صدائے ہست کے میٹھے میٹھے نغموں کا سلسلہ جاری رہنا ہے ، سجدہ در سجدہ سلسلہ جاری رہنا ہے ، سویرا ہوجانے کے سویرا پھر کیا جانا ہے ۔


سجدے میں ایک اور سجدہ کریں
سر اٹھنے پر ہم نیا سویرا کریں
مہِ تاباں کی سُرخ پلکوں پر
تلوں کے بل پہ رقص کریں

مصور نے عبد کی تصویر میں جمال کے نگینوں سے سجایا ہے ۔اسکا احسان ہے کہ جمال دیا ، اسکا احسان کہ کمال کی رفعت دی ۔ احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے ۔جہاں جمال بسا دیا جاتا ہے ، رسمِ شبیری کو نیا وقت دیا جاتا ہے۔نماز کے لیے قبلہ مقرر کر دیا جاتا ہے ۔سرِ طور سُحاب روشنیوں کی برسات کرتے ہیں ، اقصیٰ کے میناروں میں جگہ دے دی جاتی ہے ۔

اے سرِ زمینِ حجاز ! تجھے سَلام ! سینہ مکے سے مدینہ کردیا جاتا ہے ۔محبوب کے محبوب کی جانب متوجہ کردیا جاتا ہے ۔ یہ مساجد ، یہ جبل ، یہ مینارے ، تیرے روشنی کے استعارے ، لہو ان سے گردش مارے ، کہاں جائیں غم کے مارے ، کرم ہو مرجائیں گے دکھیارے ۔ کپڑا جل کے راکھ ہوجائے تو ہوا کو اوپر اٹھنے نہیں دیا جاتا ہے ، چنگاری سلامت رہتی ہے ، راکھ بکھرتی نہیں ہے ، خوشبو دھیمی دھیمی بکھرتی ہے ۔