Tuesday, December 29, 2020

اللہ ‏آسمانوں ‏زمینوں ‏کا ‏نور ‏

اللہ آسمانوں زمینوں کا نور
اللہ نور السموت ولارض 

وہ نور زمین و زمانے کا ہے 
کام حقیقت کو پہچاننے کا ہے

جو اندر بھی موجود ،باہر بھی موجود
اسی کا کام راز افشاں کرنے کا ہے

انسان میں اس کا نور خاص ہے
نائب کا کام اس کو جاننے کا ہے

ساجد بھی انسان ہے ،مسجود بھی ہے
عشق کی سلطنت میں  کام قربان ہونے کا ہے

اللہ نور السموت ولارض

ملائک میں اس کا نور ہے 
خلائق میں اس کا نور ہے 
دِلوں کو پھیرتا ہے غرور
تکبر لے جاتا ہے پھر نور
ڈھونڈتے رہتے ہیں ہم سرور
دیدار کروں گی اس کا میں ضرور
میں نے دیدار کرنا ہے اس کا ضرور
میخانے میں جام پینے سے ملا ہے نور 

جلوہ نور دل میں ، کیا کروں غرور
سجدہ کرتے ہوتے رہنا نور نے مسرور
اس کا جلوہ پاتے پاتے جلوہ ہورہی ہوں
سجدہ عشق ادا کرنا عاشق کا کام ہے
ھو کا اندر سما جانا اسی کا کام ہے 

اندر باہر کون ہے؟
میں کیا جانوں!
اوپر نیچے کیا ہے؟
میں کیا جانوں!

زمین کی گردش کا ردھم
جس میں چھپا ہجرت کا غم
زمین بڑی گردش میں ہے
اس کی گردش کو کس نے تھام رکھا ہے؟

میں کیا جانوں؟

میں ہوا کے دوش میں اڑتی رہوں
فضاؤں میں بسیرا میرا رہے
اس کے پاس جانے لگی ہوں
میں خود میں خود سمانے لگی ہوں
کیسے جلوہ خود کا میں خود کروں
کیسے سجدہ میں خود کو خود کروں
کیسے نماز خود کی خود پڑھوں
کیسے ذکر میں اپنے محو رہوں

اپنی حقیقت ''میں '' کے سوا کچھ نہیں !

میں ایک حقیقت لیے ہوں
میں حقیت کی ترجمان ہوں
میں خود اس کا فرمان ہوں
''کن '' سے تخلیق کی ہے

انما امرہ اذا ارادہ شیا ان یقول لہ کن فیکون !

اس کے ارادے سے ترتیل ہوئی
تخریب سے تعمیر   ہے ہوئی 
اس نے اپنے لیے چن لیا ہے
مجھے خود ہادی کردیا ہے

اس کے لیے بھاگوں چار سو
اندر جستجو محو رکھے کو بہ کو

میں اس کی یاد میں غرق ہورہی ہوں
وہ مجھے کہے جارہا ہے: فاذکرونی اذکرکم

اس کا ذکر میں کیے جارہی ہوں
اپنے ملائک سے کہے جارہا ہے
نور کا ذکر بُلند کرو !

مجھ پر سجدہ واجب ہوا
میرے ہادی نے میرا ذکر کیا

اس نے خودی میں جلوہ کردیا
وہ چار سو نظر آتا ہے
اندر اس کو کیسے دیکھوں
میں خود میں گم ہو چلی ہوں

میں محبت کی گمشدہ بستی
میری پاک ہوگئی ہستی

اس نے چنا مجھے یہ اس کی مرضی
میں نے ڈالی نہیں اس کو کوئی عرضی

کچھ ‏ماسوا ‏درود ‏کے ‏نہیں ‏ہے

کچھ ماسوا درود کے نہیں ہے 
کچھ ماسوا درود کے ہو کیا؟  

والضححی - قسم اللہ کھاتا ہے. ہم سب وہ قسمیں بس  پڑھتے ہیں. قسم کا قیام دِل میں نَہیں ہوا ہے.  قیام کیا ہوگا قسم کا؟  جب ہم وہ چہرہ دیکھیں گے یا نمودِ صبح کی جانب پیش رفت ہوگی ہماری . نمودِ صبح روح کی رات میں ہوتی ہے. یہاں سورج بھی رات میں موجود ہوتا ہے. سورج جب نگاہ کے سامنے ہو تو ہوش و خرد کہاں ہوتے ہیں؟  

اے طائر تو "لا" ہو جا 
اے  طائر تو "عین " ہو جا
اے طائر تو "شوق " ہو جا

طائر جانتا نہیں ہے کہ شمع تو گھل گئی ہے. سارا احساس اأسے مل چکا ہے. شمع نے مصحفِ دل طائر کے سینے میں کب کا اتار دیا تھا مگر یہ طائر بے خبر رہا 

یہ بے خبری بھی عجب نسیاں ہے جس میں اک ہوش و خیال دوجے تمام ہوش و خیال پر غالب ہو جا  جب انسان خود اپنے حضور ہو جائے. روح کو غالب ہونے دے اور نفس کو مغلوب. اس لیے رب فرماتا ہے " اے اطمینان والی روح، مری جانب لوٹ آ. ارجعو،  ارجعو،  ارجعو 

ہو سکتا ہے کہ وہ در دل پر بلا لے.  ہو سکتا ہے در یار سے یار یار کہنے کی تسبیح ملے. جے عمل یار یار ہووے تو بات سرکار سرکار دی ہووے. من تو شدم، تو من شدی کی بات ہے. موج استقلال نے شکست کا راستہ روک رکھا یے جو فرما رہی ہے کہ رک جا طائر. موج شہید ہے. شہید وہ ہے جو مناظر کو خاموشی سے دیکھے. صدیق وہ ہے جو دیکھنے مابعد گواہی دے. 

چلو گواہیاں اکٹھی کریں 
چلو گواہ ڈھونڈیں

Tuesday, December 15, 2020

تسبیح

تسبیح پڑھنے سے نہیں آتی، عمل سے آتی ہے.  عمل جانے کس جہان سے آتا ہے. یہ اتمام حجت ہے!  یہ امتحانِ بخت ہے! بھلا امتحان سے بخت کب ملا.  امتحان بھی نصیب ہے اور کامیابی بھی نصیب ہے . عمل کا دانہ بہ دانہ،  تسبیح ہوا چاہتا ہے ـ مل کے عمل یہی کرنا ہے کہ اب پرواز کو پیچھے نہیں مڑنا . اک نظام جس کو وہ رواں رکھے ہوئے، وہ نظام سینوں میں کاربند ہے ـ سینہ بذات خود امانت ہے. امانت مل جائے تو شکررب کا واجب ہوجاتا ہے.  شرح صدر عام نہیں ہے،  شروحات صدور سے صدر مل جانا گویا نظام میں منظم ہوجانا ہوتا ہے.  میم بھی اک منظم اسم ہے. عین بھی منظم اسم ہے اور الف کے گرد اسماء کے دائرے ہیں. دائرے مدار میں مدام گردش میں ہیں اور مرکز نقطہ ہے. یہ لحد میں دل.  یہ اترا کسی میں یے اور مہدِ دل میں عجیب پیغامات ہیں. شعور ذات یہی ہے کہ شعور الف ہے اود بین السطور یہی تاثر یہی ہے میم کے اسم میں افکار گم ہیں. افکار گم ہوجائیں تو الف کا شعور حاصل ہوجاتا ہے ... 

ہم پریم نگریہ گئے 
دھول ہوگئے 
مٹی نے مٹی کو پکارا 
مٹی میں مٹی نے جگہ لی 
مٹی سے سیکھی پچھان 
مٹی سے پایا ہم نے دھیان 
مٹی دیتی ہے بابا گیان 

جسم معلق ہوتے ہیں،  دل منور ہوتے ہیں،  افلاک میں روح ہوتی ہے. روح سے روح نے دیکھا. روح نے کیا دیکھنا تھا؟  کیا جلوہ ہونا تھا؟  اک غائب دوجا موجود. دوجا غائب تو پہلا حاضر. یہی کلمہ ہے. یہی عشق ہے غیبت و حاضری میں مقصود سر بہ نیاز تسلیم خم ہے.  یہ جو دولت ہے یہ دولت پہچان کی ہے. یہ لاگ سے لاگ کا دھاگہ ہے اورمرغ بسمل بھاگا ہے!  مرے گا تو جیے گا. جیے گا تومرے گا کیسے؟  آ!  چلیں سحر میں کھوجائیں 

نازنین و حسین سے پوچھیں گے؟ کیا پوچھیں گے؟  وہ بتائیں گے کہ حسن سے موت کیسی ہوتی ہے!  حسن بذات خود ساحر ہے جو کہ بہتا ساغر ہے . میخانہ الست مست سے اک مے کیا میخانہ لے جا مگر میخانہ کا کیا کرے گا؟  میخانے کے لیے جہانوں کی وسعت لیے قلب  کو  اور کیا چاہیے؟  

گرو سے پوچھو کہ گروہوتا کون ہے. وہ  جس نے پیار سے پکارا یا پیار سے سکھایا. پکار بھی پیار ہے. یہ صدا ہے جو دم بہ دم  دھیرے دھیرے جگہ بنالیتی ہے. مے تو اک ہے کہ میخانہ کیا ہے.  گلاس چھلک اٹھتا ہے مگر پیمانے سے کیا چھلکے گی اس کی جس کی وسعت میں کمی کو محتاجی نہیں ہے.

اے راقب!  بن ثاقب.  سجدہ کرتے ہیں ثاقب ہیں اور تسبیح سجدہ بہ سجدہ کیے جانے سے زندگی کا رقص رواں دواں ہوتا ہے. جس نے رقص کی حقیقت کو جانا ہے اسکا علم  ہوا کہ علم  کچھ نہیں بس اک لایعنی بحث کا ماخذ .. اصل شے نور ہے. نور جس کو مل جائے تو وہ نور ماسوا دیکھے گا کیا؟  جس کو نہ ملے اسکو چاہیے اس کے لیے تگ و دو کرے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے وہ اپنے نور سے نوازے گا ہر اس متلاشی کو جس نے اس کی کھوج کی. اس کو مستی ہستی کا علم نہ تھا مگر عشق کی بوٹی نے اندر جگہ بنائی کہ نیستی نے صدا لگا دی. پھر کون ہوگا نسیتی میں؟  حق موجود!  خدا موجود

Friday, December 11, 2020

دعا

دعا ہے کہ دعا رہے یہی.  جلتا رہے دل یونہی یونہی.  سچ کی رعنائی ملے یونہی.  افق کے ماتھے پر شمس ملے یونہی.  رنگ ملنے سے اچھا ہے رنگ نکل آئے.  چشمے اُبل پڑیں ... کچھ پتھر ایسے ہیں جن سے چشمے ابل پڑتے ہیں. کچھ ایسے جن کو برق اچک لیتی ہے. اک نے فیض دینا ہوتا ہے دوسرے نے لاڈ لینے ہوتے ہیں. پتھر کوئ ہوتا نہیں ہوتا جب تک پانی نہ ملے یا برق نہ مل جائے. یہ ہنگام شوق دیکھتا رہے گا کیا؟  آگے بڑھ!  یہ رات ہے اس میں بیٹھا رہے گا کیا؟  آگے بڑھ!  یہ جواب ہے سوال میں ڈوبا رہے گا؟  آگے بڑھ!  یہ نفس ہے اور نفس میں ڈوبا رہے گا؟  آگے بڑھ!  یہ روح ہے اور الجھا رہے گا کیا؟  آگے بڑھ!  یہ جسم کی قید نہیں ہے،  پرواز کو سوچی جائے گا؟  آگے بڑھ!  یہ طائر بیٹھا ہے کیا بیٹھا رہے گا؟  آگے بڑھ. یہ سمت ہے، وہ سمت ہے اور تو سمت کا تعین میں رہے گا؟  آگے بڑھ؟  یہ سجدہ ہے اور تو سوچے گا سجدہ کس نے کیا؟  آگے بڑھ؟  

اے حضرت انسان!  تجھے ترے رب نے عزت بخشی مگر تو نے تو رب سے بے نیازی دکھا دی جبکہ بے نیازی تواس کی شان یے. اے اشرف المخلوقات! تو نے سوچا نہیں کہ تجھے احسن التقویم کیوں بنایا؟ تو فکر کیوں نہیں کرتا؟ تو فکرکرے تو مجھ تک آ پہنچے مگر تجھے اپنی آیتوں کی لگی یے 

اے حضرت انسان. تجھے نسیان کھا جائے گا. تجھ کو ذمہ داری سے بات سننی چاہیے تاکہ تونفس پر رہنما ہو جا. تجھے لاج رکھنی چاہیے اس خلافت کی جو آدم کو ملی. آدم سے آگے سینہ بہ سینہ منتقل ہوئ .... یہ انبیاء کرام،  یہ رسول مقام بہ مقام زینہ بہ زینہ چلے اور زینہ کی انتہا معراج .... ہم نے دی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم. اے انسان ...جب ترا ذکر کہیں نہیں تھا تب بھی میں تھا. تب تو نیست نابود ہوگا تو کس کا ذکر باقی رہے گا ... جس کو سمجھ لگے گی دوئ نہیِ کہیں وہ جانے گا جنت ودوذخ تو تضاد ہیں. خدا تو ضدا سے مبرا یے وہ نہ شرقی نہ غربی ہے. اس کا چراغ الوہی جل رہا ہے. جل رہا ہے  جل رہا ہے. جل رہا ہے.

آج ‏بھول ‏جاؤخود ‏کو

آج بھول جاؤ خود کو،  بھول جانے والے انسان نہیں ہوتے ہیں کیونکہ یاد باقی رہتی ہے ـ 
او یاد باقی 
او میرا ساتھی 
او ساتھ رہیا 
او میرا پیا 
نہ لاگے جیا 
شام آئی پیا

محبوب سامنے ہو اور سامنے نہ ہو. ہم ہوں اور ہم نہ ہوں. یہ کیسے ہوتا ہے؟  وہ حاضر ہوتا ہے اور وہی موجود ہوتا ہے 
وہ کہتا ہے 
نہیں ہم کہتے 
جب اللہ کو دیکھتے 
ھو الحیی القیوم 
جھانگو دل میں 
اللہ کو دیکھو 
کہو کہو کہو 
ھو المصور 

صورت گر نے اپنی صورت دی ہم کو اور کہا فثم وجہ اللہ. چہار سو اپنی صورت نہیں بلکہ اس کی صورت ہے. درون کی صورت الگ ہے!  مورت صورت الگ ہے.  صورت میں اس کا سافٹ ویئر الگ الگ ہے.  یہی نقاش گر کی نقاشی ہی کہ منجملہ حقائق بھر دیے اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں. یہ اسم نہیں اک نشانی ہے. نشانی دل میں اترتی ہے تو آیت اترتی ہے. آیت دل کی آیت سے مل جاتی ہے 
حرف اول ملا 
حرف بقا ملی 
الف الف الف 
اللہ اللہ اللہ 
مانا مانا مانا 

جلوہ دکھتا نہیں ہے کیونکہ میں نے جانا نہیں اسکو. جان نہیں سکتی خود کو کیونکہ لاتدرکہ الابصار میں رمز یے. وہ دیکھے تو ملے،   ہم ٹکر ماریں رہیں خالی ہاتھ. دل کی خالی جھولی میں مانگ کا سوال ہے کہ میرا اللہ ... میرا اللہ ... میرا اللہ ... 
اللہ جان ہے عالم کی 
جام جم پیو اور کہو 
اللہ جان ہے عالم کی 
جام جم پیو اور کہو 
صورت صورت میں 
اللہ اللہ کو پاؤ گے 
اللہ اللہ پانے سے ہے 
اللہ اللہ کہنا کیا ہوا؟


رنگ والے نے بلایا ہے. رنگ والے سے کہو کہ اللہ ھو. اللہ ھو. اللہ ھو 

تم اللہ، وہ اللہ،  یہ اللہ،  ادھر اللہ،  اُدھر اللہ 
واللہ،  واللہ ہر جگہ اللہ،  واللہ واللہ اللہ اللہ  
یہ اللہ میرا، وہ اللہ اسکا،  نہیں سب کا ہے 
کہو اللہ، کہو اللہ،  اللہ والے سنیں گے ھو ھو 

تو خود ہے!  تو خود ہے!  تو خود مصور ہے!  تو خود ترتیب ساز ہے. تو چشم بصیر سے دیکھے اور کوئ جگہ ایسی نہ ہو جہاں چھپ نہ سکے ہم. ہم چھپ نہیں سکتا وہ دیکھے اگر تو تاب لاؤ گے؟  لاؤ گے تاب؟  آب و تاب میں حساب نہ  رکھو ورنہ ہو جاؤ گے لاجواب. یہ شام گلاب ہے. یہ شام ہے مست ولائے حیدری. منم حیدری! ہم حیدری ہیں. ہم غلامِ علی ہیں ... ہم غلام پنجتن پاک ہیں. بے حساب درود اعلی ہستیوں پر. یہ شمار نہیں کرتے دینے میں. مانگ لیتے ہیں ہم ان سے ذات اپنی ... ذات وہی ہے جو ساڈی ذات ہے. اسم ذات ہے!  حق ذات ہے!  جس میں شاہ عباس ہے. جس میں ریشمی رومال ہے جس میں ساجد بھی اک ہے وہی مسجود ہے. فرق نہیں. دوئ نہیں تو نماز ہوئ کیا؟  بس جانو اور کہو نہیں جانا. معلوم نہیں ہے. ہم نہیں جانتے 
کیف ھالک 
کہنا اچھا ہے سب 
یوم تکملو 
کہو کیا پتا کیا خبر 
بس کہو اللہ اللہ اللہ 
اللہ اللہ کہنے والا ساز اک 
اللہ اللہ کہنے والی بات اک 
اللہ اللہ کہنے والی آگ اک 
اے برق نسیم!  کدھر ہے!

بس ہم مرجانا چاہیں پر موت نہ آئی. ہائے!  کب آئے گی موت اور کب وطن واپسی ہوگی کہ پھر مکان کی قیود نہ ہوں گی. لباس پہنو یا اتارو اپنی مرضی. بس دوری کا سوال نہ ہوگا  بس اک بات ہوگی. وہ ہوگا وہ ہوگا وہ وہ ہوگا ہم نہیں ہوں گے ہم کدھر ہوں گے؟  گم گم گم گم گم ہم نقطے میں گم ہوں گے. ہم محور ہوں گے ہم گردش میں ہوں گے. ہم  رقص ہوں گے. ہم اپنا تماشا دیکھیں گے اور کہیں گے ھو ھو ھو ھو ھو

صاحب ‏قران

بے چین ہے دل کیوں؟  یہ اضطراب کیوں ہے؟  رُخ تو مائل ہے، دل میں محسن بیٹھا ہے اور جزا نہیں محبت کا. اس سے پوچھنا کہ موجِ اضطراب مانند بحر تموج رکھتی ہے اور انتہا مانگتی ہے.  تو درد دے!  دے اور بے انتہا دے مگر ساتھ وہ دے جس کے لیے کاتب کو مکتوب لکھوا رہا ہے. یہ فاصلے حائل کیوں ہیں؟ یہ نقاط کیوں متصل نہیں ہورہے؟  تو نے کہا تھا کہ تو دے گا؟ تو نے تو کہا تھا تو نہیں چھوڑے گا!  تو نے تو کہا تھا کہ دائم ساتھ رکھے گا مگر یہ جو دوری ہے یہ تو اضطراب ہے ـ اے برق نمودار ہو!  اے شعلہ جلا دے!  اے الوہیت کے چراغ،  ملوہیت کی روشنی سے نواز ... تو نے دینا ہے تو نے تو کہا تھا تو دے گا 
خاموشی ہے اور رات سوتی ہے 
تو نے تو کہا تھا تو تو دے گا 

پھر سیم و زر کے انبار کہاں ہیں؟  پھر وہ رات کے عروج پر بام و در سے کھلی روشنی کہاں ہے ـ میرا گنبد افلاک میں کھوگیا ہے ـ یہ معبد بدن میں کس کی آیت ہے؟  یہ موج حق ہے جو سینے میں پیوست ہے 

سو جاؤ!  سو جاؤ!  سو جاؤ!  
ورنہ زار زار رو!  زار زار رو!  
اس نے بلایا نہیں ہم جاتے نہیں 
وہ بلائے گا تو ہم جائیں گے 

اک اسم مانند فرشتہ راہ میں ہے.  اک اسم مانند آئنہ نمود میں ہے. اس نے کہا تھا دید کریں گے. کرو گے پھر تم دید ... چلو پھر وادی ء بطحا میں چلیں. چلو پھر النمل کو پڑھیں. اور دیکھو چیونٹی کا سینہ زمین پر کیسا بھاری پڑا تھا.  چلو ہد ہد سے پوچھیں کہ افلاک سے زمین تلک کس کی شہنشاہی ہے ..چلو چلو ہم خود کن پڑھ کے پھونک دیں تن من میں "اللہ " جان آئے گی ہم میں.  جی اٹھیں گے ہم.  مردہ دل کو چاہیے کیا؟ کیا نہ چاہیے؟  وہ دے گا روشنی سے منور سجدہ. سجدہ پڑا رہے گا اور ہالہ نور سفر کرے گا. یہ مقام حــــم کب کھلے گا. یہ اسم طلحہ ہے. یہ مجاور اسماء کے فرشتے ہیں. دل میں مزار ہے جس میں نورانی مصحف کو پڑھنے والی کنجیاں ہیں اور مطہرین ان کنجیوں کو کھول سکتے. چلو " اسم کن " سے "لفظ " اللہ " کو پھونک دیں. یکمشت سب خود کھل جائے گا. تمام اسماء کی مجال نہ ہوگی. ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے .... صاحب قران وہی ہوتے ہیں!  قاری ء قران وہی ہوتے ہیں 

اے خدا!  کتنی دیر؟  یہاں سانس کم ہیں،  کام زیادہ ہیں. اے خدا بلا لے اور کاتب کو پکڑا دے وہ تمام اسماء جس کو بوقت نفخ دیا تھا. نائب کو چاہیے کیا؟  نیابت ادھوری ہے!  انسان ادھورا ہے. تجھ کو اللہ کب گنوارا ہے کہ نائب ادھورا رہے.  تو نے تو کہا تھا تو اپنا نور مکمل کرتا ہے. تو نے تو کہا ہے کہ نور مکمل ہوگا چاہے جتنی کوشش کوئ کرلے. تو نے کہا ہے کہ اکملت اکملت اکملت. جب تو نے مکمل کردیا تو امتی کیسے رہ سکتے؟  یہ تو ہمارے لیے ہے نا؟  ہے نا؟  ہے نا؟  تو دے دے اللہ!  اس سے پہلے سانس گھٹ کے مر جائے!  مرض بڑھتا جائے گا دوا کب ہوگا. تو نے کہا تھا کہ تو ملے گا. تو نے کہا تھا تجھ کو مخلوق سے محبت ہے. تو محبت والا ہے. تو پیار والا ہے. تو مانگے ہیں ہم اور مانگی جائیں گی کہ بنا لیے ہم کیسے جائیں؟  بتا؟  بتا؟  بتا نا؟

طائر ‏سدرہ ‏

سفر کا آغاز شروع نہیں ہوتا مگر جب بچہ قدم رکھتا ہے ـ قد بڑھ جاتا ہے اور شعور پختہ ہوجاتا ہے ـ روح کا شعور سمجھنا پڑتا ہے یعنی شعور میں لانا پڑتا ہے ـ تم فلک پر بیٹھ کے وہ لکھتے ہو جو وہ لکھواتا ہے، تو پھر شعور بیدار ہے مگر تم زمین پر رہ کے اسی میں کھو گئے ہو تو زمین کی ناسوتی نے تم کو گھیر لیا ہے ـ  فلک پر مقیم ہونے کے لیے طائر کو پرواز چاہیے ہوتی ہے. پرواز کو پر لگانے والا جانتا ہے نور کن ہندسوں اور کن حروف سے منتقل ہوتا ہے ـ  تم کو آیات نوری چاہیے اور تم نہیں جانتے کہ خدا تم کو یہ آیات نوری دینا چاہتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ نور اپنا دائرہ مکمل کرلیتا ہے ـ دائرہ مکمل ہوتے ہی فرق مٹ جاتے ہیں ـ تب ہی دوئی کا خاتمہ ہوجاتا ہے ـ وحدت کی جانب سفر کا آغاز خشیت سے ہوتا ہے جب روح کو جلال ملنے لگے تو یہ مقام ہے ـ مقام اقرا.  یہ مقام لاہوت ہے. مقام لاہوت پر جائے بنا لفظ اقراء کے مکارم سمجھ نہیں آتے. جب لاہوت پر مقیم طائر جاننے لگتے ہیں تو ان کو ترس ہونے لگتی ہے کہ قراءت ہو مزید. ھل من مزید کرتے کرتے ان کو سرر کی منازل میں وہ سب طے کرایا جاتا جس کے واسطے ان کو عبدیت کا درجہ ملنا ہوتا یے. ہم چاہتے ہیں کہ انتخاب کریں تو ہمارا انتخاب کا طریقہ یہی ہے کہ دینے والا بس تسلیم میں رہے کہ بقا ہمیں ہے. یہ ہماری کرسی ہے جس پر ہم قرار کیے ہوئے ہیں. ہم دیکھتے ہیں تو روح دمکنے لگتی ہے. اسکو ہماری چاہت ہے. اے طائر،  تو نفس کے دھوکے و فریب میں پھنس کے اس کرسی کو اپنی کرسی مت سمجھنا ورنہ شہ رگ سے جو قلبی قلبی فرشتہ ہے،  جان کنی کے عالم میں اس سے ملنا محال ہو جائے گا. ہم نے جو عطائے غیب سے عطا کیا ہے وہ اک جریدہ ہے. اس پر جو تحریر ہے وہ فیکون کا وہ علم ہے جو تکوین کا محتاج ہے. ہم نے چاہا کہ پرواز دی جائے تو ہم چاہیں گے ایسا ہوگا. کسی کی مجال نہیں ہے کہ ہمارے قانون میں دخل ڈالے 

اے طائرِ سدرہ!  تجھے کس بات نے دھوکے میں ڈآل رکھا ہے؟  یقین کے بنا کچھ ممکن نہیں ہوتا ہے. جب تک نوری ہالہ مکمل نہ ہو، تب تک وہ مقام مقربین کا جو لکھا ہے، وہ ملتا نہیں . نقطے سے سفر شروع ہوتا یے دائرہ بنتا ہے اور دائرہ پھرنقطے تک لوٹ آتا ہے. سو لوٹ کے ہمارے پاس آنے والی روح،  اطمینان سے رہ!  سمیٹ لے یہ اشک اور سجدے میں رہ. خدا ساجدین کو محبوب رکھتا یے خدا صابرین کو محبوب رکھتا یے

فانصرنا

فانصرنا فانصرنا، فانصرنا 
ہم آپ سے، آپ ہم محبت رکھتے ہیں . یہ تو محب کا محبوب سے معاملہ ہے جس کے لیے رفعت کا سفر مستقر ہے ـ استقرنا سے فاستقم تک یہ ھمزات سے دور جانے کی بات ہے ـ یہ وہ سَمے ہے جس سَمے آنکھوِں سے آنکھوں فاصلہ خطِ حد تک تھا.  یہ وہ قوس ہے جس کو قلب میں پیوست کیا گیا گویا قلب خود اک تلوار مانند قوس ہے  . یہ کیفیت!  یہ احساس جب طاری ہونے لگا تو ترتیل ہونے لگی ذات اپنی.  ذات اپنی ترتیل ہوتی ہے کسی مصحف کی طرح.  جب اقرا آپ نے کہا، وہ آپ نے کہا ہے مگر جب کہلوایا گیا تو بات بنی ـ تب جوہر ذات کھلا ـ جوہر ذات کھلا تو عیاں ہوا کہ کوئ حاجی بھاگ ایسے رہا ہے جیسے بکل دے وچ چور ـ بھلا چوری پکڑے گا نا ـ اسکو تو چور بڑے پیارے ہیں.

مست ولائے علی مست ولائے علی اور حجاب اٹھا تو شفافیت کے پردوں میں دوئی نہ ملی ـ جو ظاہر میں تھے وہ محمد صلی اللہ علیہ وآکہ وسلم جو درون میں وہ  یکتا و واحد. وہ ہمتا و یکتا جس کی سمت لا ترجمان کی جانب سے ہے گویا لامکان کی جانب سے لازمان کو کھینچ لیتا ہے  زمانے سامنے ـ مکان میں زمانے  بندہ زمانوں میں کھو جائے تو واپس آنا بنتا ہے اگر وہ واپس آیا تو جذب جذب جذب ہوتے باہوش ہوگا کہ صاحب ہوش وہی جسے ہوش نہیِ

Tuesday, December 8, 2020

میری ‏ایک ‏فریاد

میری ایک فریاد ۔۔۔۔۔!!!
ایک عرضی اور فریاد اپنے محبوب کے نام جس نے یہ جہاں بنایا ۔ اس نے ''ُکن '' کہا اور ''فیکُون'' تشکیل و تعمیر کی راہ پر تکمیل کو پہنچا ۔ مخلوق بھی اسی 'کُن ' کی محتاج ہے اور جب وہ دعا مانگتی ہے اور اس کی بارگاہ میں عرضیاں پیش کرتی ہے تو سبھی کچھ یقین کی راہ سے مسافر کی خواہشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیتا ہے ۔ میں نے اس سے عشق کی التجا کی ہے اور اپنی عرضی ڈالی ہے:

درد کے میں سوت کاٹوں!
یا غموں کی رات کاٹوں!
خون بہتا کیا میں دیکھوں؟
یا سہوں مخمور ہو کے ؟
رقص بسمل کا کروں کیا؟
مور کی مانند ناچوں؟
''تم'' سنو فریاد میری!
نالہ غم کس سے کہوں میں ؟
''تجھ'' بنا کیسے رہوں میں ؟
لوگ قصہ عام کرنا چاہتے ہیں!
اور مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں!
خود تو محوِ عشق ہیں ''وہ'' !
تذکرہ میرا' وہی' اب عام کرنا چاہتے ہیں!
سات پردوں میں چھپا '' اللہ '' تو ہے!
جلوہ گاہوں میں بسا'' اللہ'' تو ہے !
آنئے بنتے ہیں کوئی ،
عکس بھی ہوتے ہیں کوئی،
ہے پسِ آئینہ بھی وہ ،اور پسِ مظہر بھی وہ ہی ہے ،
اس کا جلوہ چار سو ہے !
التجا میری ،دعا میری ،رَموزِ عشق کی ہے داستاں کیا؟
بے ادب نے تو حدیثِ دل سُنا دی ہے جہاں کو ۔۔۔۔،

َجمال والا وصالِ ُصورت نظر میں آئے
سکونِ دل کو جمالِ ُصورت نظر تو آئے
فگاِر دل ہوں، جلائے ُشعلہ مجھے سدا یہ!
َجلن بڑھے ! نورِ حق َبصیرت نظر تو آئے
َلگاؤں حق کا میں دار پر چڑھ کے ایک نعرہ
مجھے زمانے کی اب حقارت نظر تو آئے
کہ نعش میری َبہائی جائے َجلا کے جب تک
دھواں مرا سب کو حق کی ُصورت نظر تو آئے
کٹَے مرا تن کہ خوُں پڑھے میراَکلمہ'' لا ''کا
کہ خواب میں بھی یہی ِعبارت نظر تو آئے

کائنات میں عاشق کا سب سے بڑا مرتبہ شاہد ہونا ہے یعنی کہ اس کے وجود کی گواہی دینا ہے ۔ جس کا جلوہ چار سو ہے ۔ وہی عیاں ہے اور وہ ہی نہاں ہے ۔ اے مولا ! مومن دل والے پاک ہوتے ہیں ۔ ان کے دل میں تیری ذات بسیرا کرتی ہے اور مومن کون ہے ؟ ایک بندہ شہاب تھا جس نے دنیا کا لطف بھی لیا اور اور راہ عشق کا مسافر بھی بنا ۔ وہی شہاب جس نے قطب الاقطاب سے پیالہ فقر رد کردیا کہ دنیا اور دین دونوں کی چاہت پر اس کا یقن استوار رہا ہے ۔ انسان وہ بھی تیرا کہ وہ چلا گیا مگر اس کا ذکر آج بھی زندہ ہے ۔ ہم نے سنا ہے کہ اس کے میخانے میں شراب عشق کے جام مفت مل جاتے تھے اور ایک اور بندہ جس نے کعبہ پاک کو کالا کوٹھا بنا دیا اور اپنی ذات کے طواف میں مست ہوگیا اور خود میں ناچنے لگا ۔ مالک ! یہ کیسی رمز ِ عشق ہے جو عاشق کو بے ادب و گُستاخ بنا دے اور وہ وہ بول دے جس کا زمانہ درک نہ رکھے ۔

َرموزِ عشقِ کا آئینہ ،عینُ العین ہے کون؟
مجاہدُ حیدرِ کرّار بابُ العلم ہے کون؟
َصاحب جلال کہ صاحبِ رائے بھی ہے کون؟
ہے صِدیقی و حبیبی کون ؟یارِ غار ہے کون؟
ُمعزز وہ زَمانے کے، ہیں ہم رسوائے دنیا !
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ
ذلیل و خوار مجھ سا اس زمانے میں ہے بھی کون؟
مرے عیبوں پہ پردہ ڈال کے مولا کرم کر !
مری ُپر عیب ، کم تر ذات۔۔۔ اس کا رکھ بھرم تو!
کرم تیرا کہ ترتیل میری ذات کر دی !
رہی خامی نہ ، ترتیب میری ذات کردی!​

ے شک! ذلیل کیے جانے میں امن ہے اور شہرت میں رسوائی ہے ۔۔۔! . یہ راستہ اور اس سفر میں تھکن نے مجھے مضطرب کردیا ہے. مولا! مجھ کو کس راہ پر ڈال دیا.تیری راہ کے عشاق بڑے عجیب ہیں ۔ کچ مفتوح اور کچھ فاتح ، کچھ ممدوح تو کچھ ثناء خوان اور کچھ ذلیل تو کچھ معزز ہیں ۔ یہ تیرے فیصلے ہیں کہ تو جسے چاہے جیسے نوازے اور جس روپ میں نوازے اور جو شکر کرلے۔ 

ہم میں سے مالک کوئی ایسا نہیں آیا جو ترا یوں نام روشن کرتا جیسے اوپر کیے ذکر گئے اصحاب نے کیا اور اپنا نام منور کرتے عالم کو بتا دیا کہ جن کو یقین کی راہیں مل جاتی ہیں ان کو وسوے ڈرا نہیں سکتے اور نہ ہی وہ ڈگمگا سکتے ہیں ۔ہم سے تو ترے نام کی صدا بلند نہیں ہوتی اور نا ہمارا دل ترے ترانے سنتا ہے اور نا ہی دل میں تیری یاد کے چراغ روشن ہوتے ہیں ۔ ہم تو وہ لوگ ہیں مولا ! جنہوں نے کلمے کی لاج بھی نہ رکھی ، ہم نام کے مسلمان بھی نہیں ہیں ۔

لیس کمثلہ شئی ....
" "لیس لہٗ کفو احد!!
" "لیس ہادی الا ھو!"
"ھو! ھو! اللہ ھو!!
" "لا الہ الا اللہ"
"حق! حق! اللہ اللہ"
" حسبی ربی جل اللہ"
"ما فی قلبی الا اللہ"

"
مجھ کو حدی خوان بنایا ہوتا !!
یا احد! نغمہ سراں بنایا ہوتا !
ایک تیری راہ میں قربان ہوتی!
مجھ کو نفس پر رہنما بنایا ہوتا!
اے کون و مکان کے مالک!
نور پوشیدہ کتنا رہتا ہے!
ہمیں نظر نہیں آتا ....
حق! مالک کیونکہ اندھیرے میں میری ذات ہے
. رخ سے اب اپنا پردہ ہٹادو
تاکہ دنیا پر تیرے "نور " سے
عالم میں اجالا ہو جائے

حاجی ‏کون ‏..... ‏؟







دنیا میں خواہش کا ہونا اللہ کے ہونے کی دلیل ہے اور اس کی حسرت ہونا انسان کے عبد ہونے کی دلیل ہے ۔ کچھ لوگ خواہش کو حسرت بنا لیتے ہیں اور کچھ لوگ خواہش کی تکمیل کے لیے جان لڑا دیتے ہیں اور کچھ امید کا دامن سدا یقین کے سفر پر رواں رہتے ہیں ۔ یونہی ایک دن میں نے بھی خواہش بُنی کہ میں حج کرنا چاہتی ہوں ۔ لوگوں کو حج کرتے دیکھا کرتی اور سوچتی کہ بڑے خُوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اللہ کے گھر جاتے ہیں ۔ عید الضحی پر پچھلے سال افسردہ بیٹھی تھی کہ دل سے ایک صدا اُبھری :​

حاجی کون۔۔۔۔۔!
وہ جو خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں
وہ جو قربانی کی یاد مناتے ہیں
قربانی جس کی ابتدا حضرت اسماعیلؑ سے ہوئی
قربانی جس کی انتہا حضرت امام حسینؑ سے ہوئی
میں انہی سوچوں میں غلطاں رہتی تھی کہ مجھے کون سی قربانی دینی ہے ۔
کیا ہم سب کو قربانی کی صرف یاد منانی ہے
یا اس کو مقصدِ حیات بنانا ہے ؟
مجھے اچانک ایسا لگا کہ کوئی اندر صدا لگا رہا ہے !
دل سے ایک صدا ابھر رہی ہو
جیسے کہ اچانک کوئی اندر مجھ میں صدا لگا رہا ہے ۔
میرے سامنے تو آؤ۔۔۔!
من مین چھپے لگاتے ہو صدائیں۔۔۔!
بڑی رنگوں کی پکار تم کرچکے
بہت سے رنگ مجھے دکھا دیے !
مجھے رنگوں میں الجھا دیا ہے!
پاؤں میں زنجیر ڈال مجھے مسافر کردیا ہے !
میری پاؤں میں اپنی تلاش کی زنجیر ڈال دی ۔
کس کے پیچھے میں بھاگوں...!
اور کروں تلاش کا سفر ۔۔!
اس نگر سے اس نگر کا سفر،
پاؤں میں ڈال تلاش کی زنجیر
مجھے تو مسافر کردیا ہے .......!
ہائے ! تم نے یہ کیا کر دیا ۔۔!
میرے لیے سب صحرا کر دیا۔۔!
کس سمت جاؤں اور کس کو پکاروں ؟
کہ میں رنگی ہوں تو کیسے ؟
یہ رنگ مجھ پر کیسا ہے ؟

''او رنگی ۔۔!
اپنے اندر جھانکتی کیوں نہیں ہے ؟
من میں جھانک اور پا سراغ ِ زندگی !
مٹا کے ہستی کے سب رنگ
تو کر اب میری بندگی
دیکھ ۔۔۔!
پاس جا'' کالے کپڑے ''کے
''کالے کپڑے'' میں چھپا حرم ہے ۔
کعبہ کو سلام پیش کر اور گزر جا۔۔!
یہی تیرا کام ہے ایسے ہی شور نہ مچا تو ''

کون ہو تم َ؟
''رنگی '' کہنے والے تم کون ہو ؟
مجھے کس نے رنگنا ہے ؟
میرا عشق باؤلا ہے اور روح مدہوش !
کیا تم نے رنگا مجھے ؟
ایک طرف جی چاہتا کالا کپڑا ہٹادوں ۔۔۔!
پھر جی چاپتا ہے پاس کھڑے مناجات کروں !
مجھے یقین ہے وہ میری دعا کو سنے گا !
وہ جس کا گھر ہے ''یہ''
دعا ہوگی میری قبول ،
اس کے بعد کیا ہوگا ؟
میرا نہ رنگ رہے گا اور نہ روپ ۔۔۔۔۔!!
میرے اندر کون ہوگا ؟کیا تم ۔۔۔۔؟

سنو۔۔۔!!

وہ کعبہ اِدھر ہے تو'' یہ'' کعبہ اُدھر ہے ۔
ِادھر بھی رنگ کالا ہے اور اُدھر بھی۔
اِدھر طوافِ خاک اور ادُھر میری ذات ہے۔
اِدھر بدن مست ہے اُدھر میں مدہوش ہوں
اِدھر تم نظر آتے ہو اور اُدھر تم بس چکے ہو
اب بس چکے ہو تو طواف ہو رہا ہے ۔
اِدھر بدن محو رقص تھا اب روح محوِ رقص ہے!!
اُدھر کوئی عاشق تھا تو اِدھر مجذوب ہے !!
اُدھر ست رنگی اور اِدھر یک رنگی ۔۔۔
اُدھر شاہد تھا کوئی اور اب مشہود
اُدھر کوئی ضرب لگائے پھرتا ہے۔
لا مشہود الا اللہ!
لا موجود الااللہ!
لا مقصود الا اللہ!
لا معبود الا اللہ!
حق ! لا الہ الا اللہ!
اور ِادھر خاموشی ۔۔۔!

'' خاموش'' تم اب بھی رنگی ہو ۔۔ !
سارے رنگ تمھارے میرے ہیں !
تیرا باطن اور ظاہر کس کا ہے؟
تیرا قبلہ و کعبہ کس کا ہے ؟
بھید چھپا اندر کس کا ہے ؟
تیرے دل میں عکس کس کا ہے ؟
یہ اکتساب و اضطراب کس لیے؟
فنا کے راستے پر حدود کس لیے ؟
اے خاکی ! یہ شبہات کس لیے ؟

یہ'' اضطراب۔۔۔! ''
تو نہ ختم ہونے کا ایک سلسلہ ہے۔
جو شاید قیامت تک جاری رہے گا۔
اس اضطراب کا اظہار کیسے کروں ؟
اپنے ''اندر ''کا جلوہ کیسے کروں ؟
وہ رنگ جو بکھرے تھے!
اب وہی رنگ جمع ہو کر،
ایک سفید روشنی کو جنم دیتے ہیں ۔
اس پر کالا کپڑا ہے ۔
اس کو دیکھوں کیسے؟ ؟


ہائے ! یہ اضطرابی۔۔۔!
کیسے ہوگی دید ؟
کتنے پردوں میں چھپا ہے'' تو''
یہ رنگوں کی دنیا ہے!
خوشبو کی دنیا ہے!
نغموں کی دنیا ہے!
اور سب کے اندر ''تو''
بس ایک آواز لگنی باقی!
بس وہ ہے تیری " حق ھو"
ہائے ! یہ حجابی ۔۔۔!
کیسے دیکھوں ؟
میرے رنگ'' کالے کپڑے'' نے کھینچ لیے
اور میں خالی ۔۔۔۔!
میرا اندر خالی!
میرا باہر خالی!
مگر باقی اک ''تو ہی ''تو''
تو ہی میرا سائیاں !
تو ہی میرا سائیاں!
دل کرے اب دہائیاں۔۔!
تو ہی میرا سائیاں۔۔!
جھلک کرداے نا اب!!


''سنو''
رنگی ۔۔۔۔!!!
حجاب ضروری ہے اور طواف بھی ضروری ہے ۔تم طواف کرتے رہے ہو اور تمھیں طواف میں سرشاری کے مقامات پر شاہد رہنا ہے ۔ تمھارا اضطراب اور خواب سب حقیقت میں بدلنے والے ہیں ۔اور ان کے بعد'' رازِ کن فیکون ''ہو جانا تم پر لازم ہے ۔زبان تمھاری خاموش رہنی چاہیے اور دل کو جاری رہنا چاہیے ۔ تمھاری ذرا سی کوتاہی تمھیں مجھ سے میلوں دور کر دے گی ۔اور دور ہوجانے والے بعض اوقات '' عین '' سے دور ہوجانے والے ہوتے ہیں۔۔۔!!!اپنی تقدیر تم کو خود بنانی ہے ۔وہ جو لوح و قلم پر رقم ہے اس کی دونوں انتہاؤں کو رقم کیا جاچکا ہے ۔ راستے متعین تمھاری عقل نے کرنے ہیں اور اس کے بعد عقل کا کام ختم ہو جائے گا ۔



او ۔۔!'' رنگی'' ۔۔۔!
جب عقل اپنا کام تمام کر چکے گی ۔
تیرا لا شعور تب جاگ جائے گا۔
تب خاکی سچا موحد ہوگا!
اور تیرے ذکر میں میرا ذکر ہوگا۔
''الا بذکر الا اللہ تطمئن القلوب''
میرا ذکر تیری چادر بن جائے گا!!
خوشبو چار سو پھیل جائے گی ۔
اور تب سب حجاب مٹ جائیں گے ۔
تیرا اضطراب بھی مٹ جائے گا۔
او خاکی ! تو صرف میرا ہوجائے گا ۔


خلقت کعبے کے گرد ''سو'' طواف بھی کرلے ''حج'' نہ ہوگا جب تک میرا طواف نہ کرے ۔ دیواروں کو چومتے چومتے ، کالا ہونے کی دعا مانگنے والے کم کم ہوتے ہیں ۔ یہی '' خلا '' تو بقا ہے ۔ اسی میں چھپی دوا ہے ۔ اور کالا رنگ اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے ۔ کیا سنا نہیں تم نے ؟

إنما أمره إذا أراد شيئا أن يقول له كن فيكون


یہی مجھ تک پہنچے کے مدارج ہیں ۔ ان مدارج کو پہنچے بغیر حج کا عین تم نہ پاسکو گے ۔ بالکل اسی طرح تم کو ثوابِ طواف ضرور ملے گا جس طرح تم قرانِ حکیم کو سمجھے بغیر پڑھتے ہو بالکل اسی طرح تم حاجی بھی کہلاؤ گے ۔ جب تم آیتوں کو کھول کر پڑھو گے اور آیتوں کو آیتوں سے ملاؤ گے تو مشہودیت تم پر لاگو ہوجاؤ گی

نیلا چاند، سرخ جام اور سبز لباس...!!!​





شام کے وقت سے صبح کا وقت ، ایک انتظار سے وصال اور وصال سے ہجر کا وقت ہوتا ہے . جانے کتنے دکھ ، اللہ جی ..! جانے کتنے دکھ ... ! آپ نے رات کے پہلو سے دن کی جھولی میں ڈالی ، جانے کتنے درد سورج لیے پھرتا ہے . اللہ جی ..! سورج بڑا ، اداس ہے ... اس کو رات میں دیکھا ہے ، جب میں چاند کو دیکھ رہی تھی .. !​

دل سے صدا تو اُبھری ہے ، دل کہتا ہے ، اللہ جانے نا...! اللہ جانے کہ کس کو کتنا دینا ہے ، جس کو جتنا ظرف ہوتا ہے اتنا اس کو درد ملتا ہے ..!! سورج کی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی ۔۔۔ پیار بانٹنے والے کے حصے میں دینا لکھا ہے اور درد پی پی کر ، سورج کو قربانی دینے کی عادت سی پڑ گئی ہے ۔۔۔۔ اس کی عادت ، نے رات کی جھولی بھرنی ہوتی ہے اور رات سورج کی تلاش کی عادی ۔۔ انتظار کی ''عادت '' کس کی ۔۔۔؟​
جانے کس کی ، زمین کی یا رات کی ، یا پھر چاند کی ۔۔۔؟​
کون جانے ۔۔۔۔!​
بس جانے تو ، ایک '' عادت'' کی لت پڑجانے کا جانے ۔۔۔!​
اب کہ عادت سی ہوگئی ہے ، عادت ... !​
ہاِں...!​
عادت...!!​
کیسی عادت ...!​
سورج سے، چاند کا رشتہ معلوم کرنے کی عادت ،​
زمین سے اللہ کا رشتہ جاننے کی عادت ..!!​
زمین پر چاند بھی ہے ، اس کے گرد گھومتا ہے اور سورج اس کو روشنی دیتا ہے ...۔۔۔۔!.​
اب پوچھیے !​

زمین کا رشتہ کس سے کتنا گہرا....؟ ہوسکتا ہےچاند سے ہو ، چاند زمین کا طواف کرتا رہتا ہے ، زمین کو سورج سے زیادہ ، چاند اس لیے عزیز ہے .... رات کا چاند سے ملنا ، اللہ جی کی نشانی ہے ... اللہ کے امر میں کون رکاوٹ ڈالے ..؟ بات تو وہی ہے نا...! زمین کے گرد چاند ایک ہے مگر زمیں میں طوفان لاتا ہے ، اس کے سمندر میں شور لا کر لہروں کو بڑا تڑپاتا ہے . یہ بھی پتا نہیں چل رہا کہ چاند زمیں کو کشش کر رہا ہے یا زمین چاند کو ...۔۔۔۔! مگر رات بڑی حسین ہو گئی ہے ...۔۔۔! کرم رات پر ہو ... ۔۔۔۔!کبھی کبھی رات کو وصال میں مزہ آتا ، چاند کے رات سے وصل میں زمین بڑی خوش ہوتی ہے اور اللہ جی کی حکمت! اللہ جی کی ...! چاند کو ایک زمین سے پیار ہے ۔۔۔! سورج کے پیار کئی ہیں ...۔۔۔! اس لیے چاند پہ لوگ مرتے بڑے ہیں .۔۔۔!. قسم لے لو! چاند کی محبتیں ، چندا کے نام سے منسوب ہیں ... سورج کی محبتیں بڑی بے نام ہیں ، خشک ، خشک سی ...!!!​

کبھی زمیں بڑی کشش کرتی ہے ..!​
ارے ! کس کو ؟​
چاند کو ....!​
اچھا.. اس سے کیا ہوتا ہے ؟​
ہوتا تو کچھ نہیں ہے مگر چاند بھی بے تاب ہوجاتا ہے اور اپنا جلوہ سال میں چودہ دفعہ بھی کروا جاتا ہے ، چودھویں کا چاند اور وہ بھی بار بار ابھرے ..!!​
اس کا حسن کیسے ہوگا..؟​
کیا جانے ہم ...؟​
سبز زمین کی گود میں نیلا چاند آجائے اور جام ُُسرخ نہ ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے .... ! لبالب جام ہو اور سرخ جام کا مزہ بھی اپنا ہے .اور جام کے بعد کا سماع ۔۔۔ اس کا لطف تو اور ہی ہو۔۔۔ مگر جام کے بعد ہوش کہاں ۔۔۔؟​
کہاں ہوش ، ہوش تو نہیں ہے ۔۔؟​
لگتا ہے کہ پہلی ہی پی رکھی ہے ، جو سرخی کی بات ہورہی ہے ...!!​
کیا فرق پڑتا ہے ...؟ پیے جاؤ اور پی لو ... بس پیمانہ بڑا ہو ..... اور اتنا ڈالو کہ سب کے سب جام پیمانے میں سما جائے ...!!! پیمانے بڑا کرنےسے نہیں ہوتا بس ودیعت کردہ ہوتا اور چھلک بھی جائے تو کیا۔۔۔؟​

لگتا ہے دیوانگی چھا گئی ہے ...؟​

دیوانہ جام کا رنگ کیا جانے .... یہ سرخ جام تو ہوش کی نشانی ہے ، یاقوت کی طرح بدن میں سما کر ، روح کو نیلا نیلا کر دینے والا....! پینے کے بعد کا ہوش کہیں مجھے بہکا نہ دے ...!!! ہوش والے بہکتے نہیں ہیں اور جوش والے سمجھ کہاں رکھتے ہیں ، فرق ہی مٹ جاتے ہیں سارے کے سارے ...!! بس فرق ختم ہوجاتے ہیں ۔۔ تفریق مٹ جانا اچھا ہوتا ہے۔ اس سے تضاد ختم ہوتا ہے ، رنگ اڑ جائے تو تضاد کے بہانے سو۔۔۔!!!​

زمین نیلی ہورہی ہے اور چاند بار بار جھلک دکھلاتا ہے ، چاند کی تاک جھانک سے سمندر میں مدوجزر آگیا .... سیلاب آگیا اور زمیں سبز سے نیلی ہو رہی ہے .... برباد ہو رہی ہے ، تخریب ہو رہی ہے ، مٹی بدل رہی ہے ، ریختگی بڑھے یا زرخیزی .... سیلاب کا کام تو دونوں چیزوں کے سبب پیدا کرنا ہے ...!! اللہ کی حکمت ۔۔ اللہ جی جانے ، وہ جانے ، ہم کیا جانے ۔۔۔؟ ہم تعمیل کے غلام ۔۔۔ غلام ، بس غلام اور کچھ نہیں ۔۔۔! آنے دو سیلاب ۔۔۔! اس کا کرم ، اس کی حکمت اور اس کی حکمت بندہ کیا جانے ۔۔۔ !بندہ جانے وہی ۔۔۔ جو وہ جانے بس۔۔۔!!!​

سیلاب سبب زندگی اور سیلاب سبب موت بھی​
یہ حیات کا عندیہ بھی اور جانے والے کا سندیسہ بھی .... !​

کون جانے کہ کس نے جانا ہے اور کس نے آنا ہے ، مگر زمین نیلی نیلی ہے ، اس کا سبز رنگ ، نیلا ہوتا جارہا ہے ، کبھی کبھی تو گمان ہوتا ہے کہ زمین کہیں پوری ہی نیلی نہ ہوجائے .....!! اور ہوش کھوتا جارہا ہے ...!! زمین نیلی ہر دفعہ ہوتی کہاں ہے ، یہ بھی اس کا حکم ہوتا ہے اور جب حکم ہوتا ہے ، تب جام ملتا ہے ، جام ۔۔۔ جام بس اور جام کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔!​
جام پر جام ...!​
کتنا پینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟​
دل کر رہا ہے ۔۔۔۔!​
بس 'مے و شراب سے کبھی نہ نکلوں ۔۔۔۔!​
بس کبھی بھی نہ ۔۔۔!​
سرخ شراب ، بس سرخ ، سرخ ، اور سرخ.... سب سرخ ہوجائے ...!!!​

بس ، سرخی جام ، نیلا چاند اور سبز زمین کا وصل ہوگیا اور ایک '' نور'' کا ہالہ سا بن گیا...........!!! ایسا ہالہ کب بنتا ہے ، جب بنیاد مل جاتی ہے ، جب سب اجزا مل جاتے ہیں ۔۔۔ جب بکھر کر سب سمٹنے لگتا ہے ۔۔ اور فرق ختم ہوجاتا ہے ۔۔۔!!!​
نہ سرخ رہا..!​
نہ سبز رہا...!​
نہ نیلا رہا...!​
صرف ''نور ' رہا....!!!​
وہ جو ازل سے دل میں مکیں ہیں ، وہ تو یہیں کہیں ہے اور اسکو ڈھونڈتا کوئی بہت حسیں ہے ، اس کی چاہ میں کس کی ہورہی ترکیب ہے ....!!!​

کون جانے ، کون جانے ، کون جانے...!!!​
کوئی نہ جانے ....!!​
بس ''وہ '' جانے ...!!

یوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ​





یونہی ہنس کے نبھا دو زیست کو مسلسل​
محسوس کرو گے تو مسلسل عذاب ہے​

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ جسم سیال بن کر بہنا شروع کر دیتا ہے. روح کا ذرہ ذرہ کانپتا ہے. اور درد کی سوغات کی گرمائش سے گھبرا کر دل درد کی کمی کی دعا مانگنے لگتا ہے. درد کا کام ہے۔۔۔! کیا ! شعلے کو بڑھکانا! شعلہ بڑھکتا ہے اور روح کو لپک لپک کر بانہوں میں لپیٹ کر وار کرتا ہے.۔۔۔۔۔۔۔!!! درد بذات خود کچھ نہیں، اس کا ماخذ اندر کی تخریب در تخریب کرکے مٹی کی گوڈی کرتا ہے۔۔۔!!! اور مٹی جب تک نرم نہیں ہوتی یہ وار کرتا ہے!!!. اس نرم زمین پر پھول کھلنا ہوتا ہے . اس پھول کی خوشبو کا عالم دیوانہ ہے اور بلبل اس کی پروانہ وار متوفی ہے. جگنو کا رنگ و روشنی اس خوشبو کے آگے ماند پڑجاتا ہے. کون جانے محبت کے درد میں چھپی خوشبو۔۔۔!!! جو! جو جان جائے وہ جھک جائے، وہ مٹ جائے۔۔۔۔۔۔۔!!!​

درد کے ہونے کے احساس کئی سوالات کو جنم دیتا ہے! جب درد وجود بن جاتا ہے تو وجود کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس سوال کی تلاش اور کھوج میں ایک بات ذہن میں آئی ۔۔۔۔! میں نے ایک کینگرو کے بچے کو زمین پر بھاگتے ہوئے پایامگر اس کے پاؤں زمین پر بھی نہ تھے ۔ مجھے لگا اس کو کوئی اٹھائے ہوئے ہے ۔میں نے غور کیا تو محسوس ہوا کہ اس حجم زمین سے سے پانچ انچ اوپر ہے اور کبھی لگا کہ وہ کسی کی آغوش میں ہے مگر مجھے اس طرح کی آغوش کی سمجھ نہیں آئی جو نظر نہیں آتی ۔ کیا کینگرو جس نے بچے کو اٹھایا ہوا اور اس کو وجود ختم ہوگیا ؟؟؟؟ یا یہ کہ وہ ایک دائرہ لطافت میں داخل ہوگیا ہے۔۔۔! کیا پھر میں یہ مان لوں کہ کینگرو ہی نہیں رہا ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اس کا وجود نہیں ہے۔۔۔۔؟؟ مگر اس کے درد کا وجود تو ہے ۔ ہم گزشتہ سے پیوستہ ہیں اور جس رشتے سے پیوست ہیں وہ ایک درد کا اور تخلیق کا رشتہ ہے ۔۔۔۔۔!!! مگر کون جانے اس تخلیق کی اذیت ۔۔؟​


کون جانے گا ؟ کوئی تو ہو جو روک لے ! جب کوئی روکے گا نہیں تو اذیت بڑھتی جائے گی اور لامتناہی ہوگی ۔ اللہ ہم کو نظر نہیں آتا مگر اللہ سے ہمارا رشتہ درد کا ہے! تخلیق کا ہے ! خالق کو مخلوق سے محبت ہے ! مگر ہم کو اس کا احساس جب ہوتا ہے جب ہم درد میں ہوتے ہیں۔سارے رشتے اللہ جی سے درد کے ہیں ! ہم جھکتے اللہ کے آگے درد میں ہے مگر میرا درد اتنا نہیں کہ میں جھکوں ! میں تو دنیاوی سہارے لے کر درد کو سُلا دیتی ہو۔۔۔دل میرا صنم خانہ بن جاتا ہے ! اور کبھی اس میں بُت رکھ دیتی ہوں ! اقبال کو بھی یہی درد محسوس ہوا ہوگا۔۔!!!​


جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا​
تیرا دل تو ہے صنم آشنا ،تجھے کیا ملےگا نماز میں​


دل تو صنم خانہ بنا مانگتا ہے سہارا۔۔۔۔۔۔۔ ! اور ہے یہ بڑا بیچارہ۔۔۔۔ ! روتا ہے۔۔۔ ! رونے دو ۔۔۔! ہنستا ہے۔۔۔ ! ہنس لینے دو۔۔۔ ! کرنے دو اس کو ! ہنسے یہ کھیل کر ۔۔۔۔! کہ ہے تو رونا اس کو ۔۔۔۔۔! تو تھوڑا سا ہنس لے۔۔۔۔۔۔۔ ! مستی کرلے ! مستی کرکے کیا کرے گا ! ہے یہ بڑا بیچارہ ! ناہجاز! دل کی تڑپ اگر تمثیل بن جائے اور غلامی کا تاج پہن لیا جائے تو کیا ہوتا ہے ! وہی ہوتا ہے جو شاعر کہتا ہے​

ہم نے کیا کیا نہ ترے عشق میں محبوب کیا​
صبر ایوب کیا، گریہ یعقوب کیا​

جب دل درد سے معمور ہوجائے تو میخانہ بن جاتا ہے ! میخانہ چھلکتا ہے ! چھلک کر ٹوٹ جاتا ہے ! آواز تک نہیں آتی ! ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !کیا ہے دل شکستہ رب کو عزیز بھی بڑا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔!! اللہ دلوں کوتوڑتا ہے اپنے اصل سے جوڑنے کے لیے ۔۔۔۔۔!! مکمل دل میں دنیا اور ٹوٹا ہوئے میں اللہ کا بسیرا ہوتا ہے ! کرچی کرچی ہوتا ہے ! ہونے دو ! توٹتا ہے ! توٹ جانے دو ! مگر کیا ہے احساس ہونے دو کہ درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔! لوگ احساس بھی ہونے نہیں دیتے ۔۔ہم نےدرد کے آئینے کو سنبھال کر رکھا۔۔۔۔۔۔ ! غم ہوتا بھی تو انمول ہے نا! جب ہم دکھوں کو انمول کرکے ان کو بے مول ہونے سے بچالیتے ہیں تو اللہ جی ! اللہ جی ! خود کہتے ہیں ۔۔۔۔! کیا کہتے ہیں ؟؟؟ وہی جو ابھی لکھا ہے ! کیا لکھا ہے !​

تو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ​
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں​

یہ لکھا ہم نے تو نہیں ! مگر یاد آیا ہے بڑا ! کہیں ہمارے دل ٹوٹا ہو تو نہیں ! مگر یہ بڑا سالم و قوی ہے ! اس میں بسا دنیا کا درد ہے درد ہے ! ارے !!! اس میں دنیا کی خاطر تو کوئی درد نہیں لیا ہوا۔۔۔۔ہم شروع سے اپنی دھنی اور خوش رہنے والے ! دھن تھی کہ مارکس اچھے ہیں کبھی ٹاپ کرنے کو سوچا نہیں تھا! ہمارے مارکس اچھے آئے ہم تو خوش۔۔۔ ! مگر ہمارے اساتذہ ہم سے خوش نہیں۔۔۔ ! ان بقول ہم کوٹاپ کرنا تھا ! سو ہم نے ان کے دکھ کا سوچا ہی نہیں ! اور کبھی سوچا نہیں انسان کو دوسرے کے دکھ کے لیے پیدا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔!!! درد دل میں پیدا ہوتا تو اپنے ہم عمروں کے لیے ! کہ چلو ۔۔۔۔۔! چلو ۔!!! آئنے سے پیار کا تقاضہ تو نبھ رہا ہے مگر تھی تو کرپشن ! ہم سب سے بڑے نقل خورے ! ہم نقل کروا کے اپنا اصل چھپا لیا کرتے تھے۔۔۔لوگ ہم سے آگے نکل جاتے مگر ہم کو اصل سے زیادہ ان کی پرواہ ہوتی ۔۔۔! اگر میں اور آپ ! سب مل کر آئینوں سے ، سبزے سے ! صحرا سے ! درختوں کی بریدہ شاخوں سے ! خزاں کے زرد پتوں سے ! بہار کی اولین خوشبو سے ! سرمئی آنچل پر بادلوں کے نقاب سے ! زمین پر پھیلے اشجار سے ! اُس کی تخلیق کے ہر روپ میں پنہاں درد کو سمجھنا شروع کردیں گے تب ہمارا شجر تخلیق سے رشتہ اور پیوستہ ہوجائے گا۔۔۔!​

تو ‏نوازنے ‏پر ‏آئے ‏تو ‏نواز ‏دے ‏زمانہ

 نوازنے پر آئے تو نواز دے زمانہ


ایک جھونکا باد کا ... اور ایک بازی ہے صیاد کی ...! دنیا بڑی سیانی ہے ...! باد کے جھونکوں سے ، نیلم کے پتھروں سے ، ہیرے کی کانوں سے ، اونچے اونچے گھرانوں سے ، بے وقعت آشیانوں سے ، ایلپ و ہمالیہ کے پہاڑوں سے ہوتی خاکی مقید کو اور خاکی مقید کی قید میں کر دیتی ہے. ایک شے کی بے وقعتی ...! لوگ سمجھتے نہیں شے کی وقعت کو سمجھانا پڑتا ہے..! خاک کو خاکی آئینہ نہ ملے تو خاکی قبر کے ساتھ ساتھ لامکاں کی بلندیوں پر پرواز کرتی روح دھڑام سے نیچے گرتی ہے.....! چھوٹی موج کا شکوہ ہوتا ہے ! کرتی ہے ! مگر آسمان سے گر کے جو معلق ہوجاتے ہیں ان کو ہم کہتے ہیں : نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے!​

اس کی زندگی 'تین اور تیرہ' کا المیہ بن جاتی ہے ...! تین کا کلمہ اکیلا پڑھنا حق کو گوارہ نہیں اور چار والی سرکار عدد تین کے بغیر کچھ نہیں ہے .. کسی نے کہا اور خوب کہا​

یا صاحب الجمال و یا سید البشر​
من وجھک المنیر لقد نو القر​
لقد یمکن الثنا کما کان حق ہو​
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر​

تین بذات خود سہ حرفی ہے کہ وہ یکتا ہے .. ! جب کہ تین اور ایک کو جمع کرلو تو عدد چار بن جاتا ہے ...مخلوق اللہ کی ایک ہے ..باقی سب تین ہے .۔۔۔۔۔۔۔!!!.یہی ایک کا فرق چار والی سرکار کو تین سے جدا کرتا ہے اور بولتے ہیں سعدی صاحب: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ..۔۔۔۔۔۔۔۔.!!.! اس تین میں چھپا اک نور ہے۔۔۔۔!!! اور جو مخلوق سے ربط استوار نہیں رکھ سکتے ان کا مقام نہ تین سے ہے اور نہ ہی چار سے ...آسمان اور زمین کے درمیان معلق لوگ ..۔۔۔۔۔۔۔!!!. جو سفل بھی نہیں ہیں مگر وہ مومن بھی نہیں ہیں .۔۔۔.! حق کا کلمہ ان کو معلق کیے ہوئے ہیں ! حق !حق ! کرتے ہیں زندگی بسر کرکے درمیانی زندگی کا تعین ان کی مسافت کو جِلا بخشے گا ...۔۔۔!!!وہ مجہول سوال نہیں کریں گے اور نہ کہیں گے : کہاں جاؤں میں ....!!!​


حقیقت کا پردہ دھیمے دھیمے نغمے پر فاش ہوجاتا ہے اور صاحبِ حقیقت ان دھنوں کے لے پر ناچ کر ، دھمال ڈال کر ، لے کی مستی میں ہوش و خرد سے بیگانہ ہوجائے تو اس کی آگہی کے در کھلنے پر اس کی ذات سے حق کو کیا حاصل ...؟ حق بڑا جلال میں ہے ....۔۔۔...!! اس کی تاب لانے کو حوصلہ چاہیے کہ درد صدیوں کا لمحوں میں دے کر پل پل کی مار ماری جاتی ہے ! یہاں پر جلال حق کو بنتا ہے کہ اس نے بندے پر مان کیا اور اس نے مان کی لاج نہ رکھی ...... اس پر تیرہ کا در ... چار نہ ہوسکا اور جب چاند ٹکرے کرنے والا نظر نہ کرے تو ...؟ تو حق کیا کرے گا ...؟ چاند نگر کا باسی زمین سے ناراض ہوتا کب ہے .. اس کی محبت زمین سے اتنی ہے کہ وہ اس کے گرد گھوم کر اس کی ایک ایک بات کی خبر لے رہا ہے ...!!!​

قران پاک کی ایک آیت ناشکروں کے لیے اتری جو ''افلا یعقلون'' کی مثال پر صادر آتے ہیں ۔۔۔۔۔.!!!. نشانیاں دیکھ کر انکار کرتے ہیں .. جب رب فرماتا ہے : تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ....؟؟؟؟ کھول کھول کر نشانی بتانے کے بعد عقل رکھتے ہوئے یہ لوگ اندھے ہوتے ہیں ....۔۔۔۔۔ ! رب کا جلال ان کو نیچے گرنا نہیں دیتا کہ اس کو گوارہ نہیں کہ وہ پاتال میں گر جائیں اور نہ ہی ان کو قرب دیتا ہے ...!!! ا​


کعبے کو کس منہ سے جاؤ گے ....؟ شرم و نہ حجاب... ! نہ پاس یار کا...! او میرے بندیا !​

شرم کر ...! شرم ! شرم ! اور ڈوب جا اپنے من کے گیانوں میں ...! تیرا گیان ہی تیری پہچان ہے ...!!! غار بھی ہے ! چٹان بھی ہے ! فکر کا راستہ بھی ہے ! عقل سے گزرنے کا راستہ بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔!اتنی جلدی رب سے مایوس ہوجانا...!! میرے پیارے دلدار ...!!! تیری آنکھوں سے گرنے والا پانی اس بات کی پہچان ہے کہ تجھ کو مجھ سے کتنا پیار ہے.۔۔۔۔۔۔۔۔.! کیا میں تیرے پیار کی لاج نہ رکھوں۔۔۔۔۔۔۔..؟ کیا​
میں تیری شرم کا حجاب نہ بن جاؤں...۔۔۔۔۔۔۔؟ رب تیری باتیں تجھ کو کھول کر بتانا چاہتا ہے کہ آنکھ کھول کر زمین کا نظارہ کر.۔۔۔۔۔۔...!!! ​

تجھ کو پرواہ ہے درد کی جو تیرے سینہ کھل جانے پر عطا کردہ ہے .۔۔۔۔۔..! ساری زندگی کیا تو اس کی دوڑ میں صرف کردے گا؟ بتا ..!!! تجھ کو اس دنیا میں کچھ کام کرنا ہے ...! جب تک تو وہ کام نہیں کرلیتا ۔۔۔۔!!تجھ کو اپنی محبوبیت سے دور رکھنا ہی میری منشاء ہے. ایک میرا غازی بندہ ! وہ جس نے قرامطییوں کو شکست فاش دے کر براہ راست خود کو عدد ''تین '' پر استوار کرلیا ہے..دنیا میں سب تین ہے ۔۔۔!!!مخلوق بس ''ایک '' ہے.. وہ تین جمع چار ....!!! دونوں تینوں کو عین پر پالیا ..۔۔۔۔۔۔!!!. ایک وہ بندہ جس کو نور الدین زنگی دنیا کہے جس کا باپ عماد الدین بن کے ""دین کا ستون"" نور دنیا کے حوالے کرگیا.۔۔۔!!! صدقہ جاریہ اس کا کام...! وہی جس نے نبیﷺ کی قبر مبارک کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے مضبوط کردیا اور خود ایک جانشین صلاح الدین دنیا کو چھوڑ گیا.۔۔.!!! صلاح الدین کا مقصد اللہ نے طے کر رکھا تھا.۔۔۔۔۔!!.​

ایک بار پھر یثرب سے فلسطین آ​
راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصی ترا..​

اقصی ٰ نام کی بات سے یاد آیا.۔۔۔!!!..بندے نام ِکے اقصیٰ والے ہو تم...! نام بدل جانے سے کام بدل نہیں جاتے ...!!!! اپنا نام تو نے بدل ڈالا...مگر نام اقصیٰ والے بڑے کام والے ...! جب کام ملے تو بندے کا کام کرنا چاہیے زندگی کا مقصد سب کی زندگیوں میں جدا جدا ہے مگر اس جدا کام کی شاخ در شاخ مل کر نور کو سرچشمہ ِ درخت سے جڑی فیض یاب ہوجاتی ہے .۔۔۔. !!کوئی شاخ ہے تو کوئی درخت تو کوئی ہرا بھرا باغ ہے ..۔۔۔۔!!!.سب کا مقام اپنا اپنا... ! چل بندیا ! تو نہ کر تیری میری ! تو کر بس ''میری میری'' تیری خواہش کی تیری تیری ... اس کو رب پر چھوڑ دے.۔۔۔۔۔!!!.. نوازنے پر آؤں تو نواز دوں زمانہ........!​

حقیقت ‏کیا ‏ہے ‏؟

حقیقت کیا ہے​

محبت کیا ہے ؟ حقیقت ہے ؟ مجاز ہے ؟وجود ہے ؟ نفس ہے؟ حواس ہیں؟ محبت کے بارے میں میری یہ تیسری تحریر ہے ۔ پہلی تحریر جس میں مجاز کی حقیقت سے انکار کا نام محبت کو دے کر ، دوسری وہ جس میں مجاز سے راستہ نکلتا ہے حقیقت کا ، اور یہ تحریر وہ ہے جو مجاز اور مظاہر سے ہوکر گزرتی حقیقت کو پاتی ہے ، یہ لے جاتی ہے محبت سے عشق کے عین کی طرف۔۔۔! عشق کے راستے میں ناگن کا پہرا ہوتا ہے کہ انسان کو سپیرا بننا پڑتا ہے اور جوگ پال پال کر ، ساز سے کرنا ہوتا رستہ استوار۔۔۔۔! بڑی مشکل راہ ہے محبت سے عشق کی ۔۔۔۔۔! محبت کے کچے رنگوں پر عشق کا رنگ چڑھتا نہیں اس لیے محبت کے درجے ہیں جبکہ عشق کی انتہا کوئی نہیں ہے ۔ یوں کہ لیں کہ ابتدا ہی انتہا ہے اور انتہا بھی ابتدا ہے ۔

محبت ،تصوف اور ادب تینوں کا رشتہ ایک ہی تار میں بندھا ہے . یہ پہچان کا راستہ ہے ، مجاز سے محبت صرف انسان کی اپنی پہچان کا باعث بنتی ہے کہ انسان کی پہچان اس وسیلے سے بنتی ہے ، جس سے اس کو محبت ہوتی ہے۔۔۔! . جبکہ مظاہر جیسے آگ ، پانی ، مٹی ، ہوا .... ان سے گزر کو مزید حقیقت کو پانے کی جستجو لے جاتی ہے اللہ کے قریب۔۔۔۔۔۔ ! اس کائنات کو بنانے والا کون ہے ؟ ایک ہے ؟ بادل چلتے ہیں اور بارش ہوتی ہے ، یہ بارش کئی جگہوں پر طوفان تو کئی جگہوں پر زندگی کا سندیسہ بنتی ہے ۔۔۔!. زرخیز مٹی اور بنجر مٹی کی تفریق بارش سے ہوتی ہے . بارش آسمان سے برستی ہے مگر زمین پر پہنچ کر اس کی تاثیر زمین والی مٹی کے مطابق ہوجاتی ہوجاتی ہے . طوفان بارش لاتی ہے اگر مٹی کی زرخیری بڑھانی ہو ...بصورت سیلاب مٹی کے کٹاؤ سے دریا میں بہ جانی والی مٹی اصل مٹی سے مل کر زرخیز ہوجاتی ہے .


محبت صرف رقص کا نام تو نہیں۔۔! ! ایک باب کا نام تو نہیں اس کے تو کئی دروازے ہیں . ایک باب'' حرم ''ہے اور دوسرا باب ''کرم'' ہے اور ایک باب'' ادب و حیا'' کا ہے ، ایک باب ''مراد'' کا ہے . ان کے درمیاں جانے کتنے ''در'' عشاق پر کھلے ہیں اور کتنے اس کوکھولنے میں کامیاب ہوئے ؟ ہر کوئی روح کے اندر نہیں جاسکتا . مگر روح سے روح تک کا راستہ ، یعنی روح سے اصل تک کا راستہ ہی ''وصل'' کا راستہ ہے .روح سے انصال دو طریق سے ہے ، ایک طریقہ بذریعہ رہنما سے یا دوسرا مجاز کے عشق سے ، جبکہ دوسرا طریقہ براہ راست ہے .

براہ راست طریقہ عدم کی مٹی پر استوار وجودیت کی نفی سے ہوتا وصل کی شراب سے ہمکنار کرتا ہے . اس راستے پر کوئی نہیں چل سکا سوائے'' ایک'' انسان کے ۔۔۔۔۔! اُن کا خمیر خاص ہے . جن کے لیے یہ کائنات بنائی گئی وہ تو اس کائنات کا حسن ہے اور خلیفہ ہیں. ایسے خلیفہ جو باقی پیغمبروں کے امام ہیں مگر ان کے امتی ۔۔۔! اس کے راستے پر چلنے والے ۔۔۔! ان کے خلیفہ ہیں ۔جن کے مراتب ان پیامبروں سے بڑھ کر ہیں . معراج کے راستے پر سب سے بڑا درجہ ''عبد'' کا ہے .کامل درجہ پانے کے بعد ''ورا سے ماوار '' تک کا سفر کیا ہے .'' روح'' سائنس کی رُو سے ''ہوا'' ہے اور ''ہوا'' کو سائنس کی رُو سے دیکھا نہیں محسوس کیا جاسکتا ہے اس لیے آنکھ سے ''ہوا'' کو دیکھنے پر سائنس کچھ نہیں کرسکتی سوائے کچھ ایسے آلات جو شفافیت ختم کرسکیں . روح کو کون دیکھ پایا ؟ مگر اس کا ماورا کہنا ، مادیت کی توہین کہ جو بقاء ہے تو روح کو تو ہے . یہی مادیت کی سب سے ہلکی نشانی ہے ، مائع اور گیس سب نکل جائیں تو باقی ''ہوا '' رہ جاتی ہے . روح کہاں سے ماوار ہے ؟ روح کو محسوس کریں اور روح آپ کو باقی دنیا محسوس کروائے گی .


براہ راست کے بعد وسیلہ حضور پاکﷺ کی ذات ہے .جب مومن ان کا دیدار کرتے ہیں تو گویا حضور پاکﷺ ان کو دیکھ رہے ہیں کہ ان کی آنکھ نورانی ہے ، اس کے ناز و انداز مست و بے خود کرتے ہیں . جب ہم ان کی طرف دیکھیں تو حقیقت میں ہم نے اللہ کو پالیا . اس کی تمثیل اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیؑ کو جواب ہے کہ جب اللہ نے حضرت موسی ؑ جو نبی دلال تھے ، کہا

اے اللہ ! میں تجھ کو دیکھنا چاہتا ہوں!

موسی ! تو مجھے دیکھ نہیں سکتا مگر یہ نہ سمجھنا کہ کوئی بھی نہیں سکتا . ہاں ایک ہے میرا بندہ جس کو'' قاب قوسین ،ثمہ دنا '' کی رفعتیں عطا کروں گا ۔۔۔! اے موسی! تو مجھے نہیں دیکھ سکتا مگر مصطفیٰ کی آنکھوں میں دیکھ لینا ! وہ میرے جلوؤں کا نظارہ لے کر لوٹتا ہوگا ۔ اس کی آنکھوں میں دیکھ لینا ! تجھے رب کا نظارہ ہوجائے گا!

اس لیے سید مہر علی شاہ نے کیا خوب کہا ہے کہ ایسے بندے جن کے رتبے بنی اسرائیل کے پیامبروں سے زیادہ ہوں گے جو صدیق ہوں گے ۔۔۔وہ بندے ایسے الفاظ میں ثناء کا حق ادا کرتے ہیں ۔

''مکھ چن ، بدن شاسانی ہے
متھے چمک دی لاٹ نورانی ہے
کالی زلف تے اکھ مستانی ہے
مخمور اکھی ہن مد بھریاں
اس صورت نوں میں جان آکھاں
جان آکھاں تے جان جہان آکھاں
سچ آکھاں تے رب دی میں شان آکھاں۔۔۔''

محبت روح ہے جو مجاز کی سیڑھی سے حق کی طرف جانے کا ذریعہ ہے . مجاز کی سیڑھی ، رہنما کی سیڑھی ہوتی ہے ، عشق کا ''عین '' اس کے بغیر ملتا نہیں ہے انسان کی پہچان مجاز سے منطبق ہے اگر وہ مظاہر سے جڑ کے خالق سے نہ جڑپائے تو وہ بے چین و بے قرار ہوجاتا ہے . اس کی مثال اس طرح کہ رہنماء دو جہاں نے غور و فکر میں مشغول چالیس سال گزار دیے اور تنہائی میں رہنے لگے ، دنیا سے کنارا کرلیا تب ان پر ایک دن الہام کا سلسلہ واراد ہوا اور ان کی روح کو علم سے نوارا گیا . وحی کا سلسلہ کچھ لمحات پر محیط تھا اس نے سرر طاری کردیا ، چالیس سال کی محنت کے بعد وہ لمحہ پایا ....!اس کے بعد وہ نیک بندے تلاش حق میں مشغول ہوئے کہ کب مزید ان کو عطا ہو .... !کبھی کبھی غم انتہا کو پہنچ جاتا اور پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے اس پر سے نیچے گرنے لگتے کہ انتہائے غم میں یہ حالت ہوجاتی تھی . تب بچانے والی ذات قادر المطلق کی تھی ...! ان پر سلسلہ شروع ہوا اللہ کے کلام کا ...! اللہ کے کلام نے براہ راست جوڑا آپﷺ کو اللہ سے ... یہ کلام ہر انسان کے لیے رہنمائی ہے . کہ اس سے جڑنا یا اس پر غور و فکر کرنا ایسا ہے جیسے آپ کی بات اللہ تعالیٰ سے ہورہی ہے کیونکہ آیات پر غور و فکر کرنا کائنات پر غور کرنا ہے ، یعنی اللہ کی بنائی گئی اشیاء کو پہچاننا کہ ان کو کس مقصد کے لیے بنایا گیا اور اس کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے ،اس سفر سے ہوتے ہوئے انسان خود کو پہچانتا کہ اس کے پیدا ہونے میں کیا حکمت ہے ....میں نے فارسی سنی مگر سمجھ نہیں آئی ... اس کی زبان کی چاشنی میں کھو گئی بالکل اسی طرح پہلے قران کی مٹھاس کو روح میں رس گھلتی ہے اور روح خود ترتیل سے کلام الہی کی تلاوت کرنے لگتی ہے اس راستے میں اللہ سے محبت کے تمام راستے اور تمام سرے مل جاتے ہیں . خالق کے کلام کی ہر آیت تجلی لیے ہوئے ہے . جو اس تجلی کو پاگیا اس نے اصل میں قران پاک کی نعمتوں سے مزہ اٹھایا . اس لیے ہر مومن کا راستہ اللہ تعالیٰ سے قران پاک سے جڑتا ہے جبکہ حضور پاکﷺ وسیلہ ہیں . اصل ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور رہنمائی کو حضور پاکﷺ اس دنیا میں تشریف لائے ہیں .

محبت

محبت۔۔۔۔۔۔​


محبت کی حقیقت اور معنویت کیا ہے؟ میری زندگی میں نظریات کے تغیر نے محبت کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔ نظریہ محبت روحوں کے تعلقات سے منبطق ہے. روح کے کششی سرے قربت اور مخالف سرے مخالفت میں جاتے ہیں. بنیادی طور پر درجہ بندی کشش اور مخالفت کی ہوتی ہے. اِن روحوں سے نکلتی ''نورانی شعاعیں'' ایک سپیکڑیم بناتی ہیں. ارواح کی کشش کا دائرہ بڑا یا چھوٹا ہوسکتا ہے.اور ان کی دوسری درجہ بندی دائروی وسعت کرتی ہے اور یوں انواع و اقسام کی ارواح تغیر کے ساتھ مرکز کے ساتھ مخالفت یا کشش کرتی ہیں. جن کا حلقہِ کشش بڑا ہوتا ہے وہی مرکز سے قریب ہوتی ہیں.​

لوگ کہتے ہیں محبت کا سرچشمہ بدن ہے. انصال سے انتقال ہوتا ہے اور انتقال حواسِ خمسہ کا محتاج ہوتا ہے. اور یہی محبت اصل محبت ہے کہ محبت روپ بدلتی ہے یا کہ لیں لباس بدلتی ہے. محبت پھر خود ملبوس ہے جس کو میں اوڑھ لوں اور زمانے کے رواج کے مطابق اوڑھنی اتار پھینک دوں . دوسری صورت میں انصال کے بعد اتصال اور انتقال میں اس قدر موافقت ہو کہ یہ روح اور خاک دونوں کا ملزوم ٹھہرتی ہیں. محبت ملبوس کی طرح نہیں ہوتی مگر اس میں خاک ایک ملاوٹ کی طرح ہوتی ہے. دل نہ ہو میلا، بدن میلا اور رنگ کچیلا ..۔۔۔​

محبت کی پہلی سیڑھی خاک سے چلتی روح کو بھنگ پلاتی ہے اور افیون کے دھونی میں 'من نشیلا ' تن بھلا ' بیٹھے لوگ ''دائروی رقص'' شروع کرتے نظر آتے ہیں اس رقص میں روح کے ساتھ ساتھ جسم بھی گھومتا ہے ۔اس پہیے (جسم)کو روح تحریک دیتی رہتی ہے یہاں تک کا تن اور من کا ہوش جاتا رہتا ہے. تب ایک روح تقسیم در تقسیم کے بعد تن کی نفی کا کلمہ پڑھ لیتی ہے اور مقام عین پالیتی ہے.​

روحانی انتقال بجسمانی کے فوقیت رکھتا ہے. یہ درجہ آگہی کے دروازے پر لاکھڑا کرتا ہے. آگہی جنون بھی ہے اور عذاب بھی۔۔۔۔. یہ فہم بھی ہے اور ادراک بھی ۔۔۔۔۔ یہ راز بھی ہے اور انکشاف بھی ۔۔۔۔!!!​

دروازے تک پہنچنے کے لیے لمحوں کی تپسا بھی اہمیت رکھتی ہے کہ پل بھر میں صدی بھر کا درد دے دیا جاتا ہے.اور پل پل درد کا انجیکشن ہوش سے ماورا کیے رکھتا ہے اور عاشق عین دروازے پر پہنچا دیا جاتا ہے. ''​

کیا دروازے کھٹکھٹاؤ گے؟ شرم و آداب کے تمام التزامات کو بھول جاؤ گے؟''​

یہاں روح سے موسیقی کے سُر نکلتے ہیں ان کی تال پر رقص جنوں کرتے کرتے دروازہ کھل جاتا ہے.۔۔ موسیقی کی تال پر ناچنے والے ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک پہنچا دیے جاتے ہیں کہ اس جہاں میں ہوش و عقل ناکام و نامراد پلٹتے ہیں ۔ یہ سرشاری و مستی ، یہ عالمِ بے خبری انکشاف کے دروازے ہی نہاں کو عیاں کرتی ہے ۔ کہنے کو مد ہوشی بھی ایک نعمت ہے​

تقلید ‏اندھی ‏نہیں ‏ہوتی

تقلید اندھی نہیں ہوتی ..........!!!
ایک عرصے سے اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے دل کچھ تھک سا گیا ہے کہ تقلید اندھی ہے اور مجھے تقلید نہیں کرنی ہے . دراصل تقلید کے لفظی معانی میں اتنی الجھی ذات میری کہ تقلید کے وسیع معانی کی طرف دھیان ہی نہیں گیا . تقلید ، مقلد ... ان لفظوں کی مارو ...!! اور یہ لفظ ہمیں ماریں ... جواب میں لفظوں کا کچھ نہیں گیا مگر ذات اندھی ہوگئی ہے . اندھے کو ''نور'' ایک دفعہ مل جائے تو رفتہ رفتہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ تقلید اندھی نہیں ہوتی بلکہ تقلید کے پیچھے بھی ایک فکر چھپی ہے . مجھے تقلید سے ایک بات یاد آرہی ہے . میں نے کسی جگہ کہیں پڑھا تھا

حضرت نظام الدین اولیاء رح کو اپنے دو مرید بہت عزیز تھے یا یہ کہ ان میں سے بھی ایک زیادہ عزیز تھا.حضرت نصرت چراغ دھلوی رح اور دوسرے حضرت امیر خسرو رح .... دونوں لاڈلے مگر زیادہ پیار ان کو'' طوطی ِ ہند '' سے تھا . جب اپنا جانشین مقرر کرنا چاہا تو آپ فیصلہ کرنے میں تامل کرتے رہے کہ کس کو مقرر کروں . دونوں حاضرِ خدمت تھے . دونوں کو کہا: فلاں فلاں جگہ پر جا کر یہ کھیر فلاں شخص کو دے آؤ. دونوں چلے اور اس جگہ پہنچ گئے . جب ادھر پہنچے تو دیکھا کہ کوئی حضرت اینٹ کی ایک بنیاد رکھتے کہ دیوار تعمیر ہو سکے . اسکی بنیاد پر تعمیر کا کام خود ہوتا جاتا . جب ان دونوں کو دیکھا ، تو حضرت نصرت چراغ دہلوی نے کھیر کا برتن ان کو تھما دیا. اور ان حضرت کو کیا جی میں سمائی کہ انہوں نے مٹی کھیر میں ڈال کر دونوں کو دے دی کہ کھا لیں . طوطی ہند نے ذرا تامل کیا جبکہ حضرت نصرت چراغ دہلوی نے بلا تامل کھا لی. اس کے بعد وہ حضرت کام میں مشغول ہوگئے اور یہ دونوں شخصیات واپس حضرت نظام الدین اولیاء کے پاس آئیں . آپ نے نہ چاہتے ہوئے بھی خلعت ِ فاخرہ حضرت نصرت چراغ دہلوی کو مرحمت کر دی .

زندگی میں اسی طرح ہم اندھے ہوکر حقیقت کے پردوں کو سمجھ نہیں پاتے . ہمیں جو نظر آتا ہے وہی حقیقت لگتا ہے . لیکن ...! لیکن ہر کڑوی شے بھی زہر نہیں ہوتی . کبھی کبھی کڑوی شے سے وہ اثر نکلتا ہے جس سے تن من سے میٹھے سرمدی نغمے نکلتے ہیں . یہ نغمے درد سے مخمور ہونے کے باوجود سہارا بن جاتے ہیں . ''تن'' کا فلسفہ ہے کہ تقلید ''اندھی '' ہے جبکہ من کا فلسفہ ہے '' تقلید '' عقل سے گزر جانے کا مرحلہ ہے . یہ مقام عقل سے ملتا ہے مگر عقل پر مستقیم لوگ تقلید پر استوار نہیں ہو پاتے ہیں جبکہ عقل سے گزر جانے والے تقلید پر ایمان لے آتے ہیں . یہ وہ مقام ہوتا ہے کہ جہاں روشنی سے تن و من و لباس سے روشن روشن کرنیں گزرنے والوں کے لیے مشعل ِ راہ بن جاتی ہیں .

ہم چونکہ پیدائشی مسلمان ہیں اس لیے ہمارے لیے تقلید کا مفہوم وہی ہے کہ اندھا رہ ....! جبکہ ایک کافر ، ملحد جب ایمان لاتا ہے اس کی تقلید عقل کے مرحلے سے گزر چکی ہوتی ہے . اس لیے کافر ہم پیدائشی مسلمانوں پر سبقت لے جاتا ہے . بالکل اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد صاحب پیدایشی تقلید کے عادی تھی مگر تھے وہ سچے ، ان کے افکار بھی صوفیانہ تھے مگر لوگ ان کو سُن نہ سکے . لیکن ایک مغرب زدہ انسان جس کے کچھ عقائد باطل تھے کچھ بہت روشن تھے اس سے لوگ متاثر ہوگئے . کیونکہ اس کی ذات میں پیدا ہونے والے باطنی تغیرات میں لوک ذات چھپی تھی . وہ لوگ جو اپنا آئینہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ انسان ہمارے ہی جیسا ہے ، یہ کبھی ہم پر کفر کا فتوٰی نہیں لگا سکتا ہے اور اگر لگائے گا تو اس پر ہم خود بڑھ چڑھ کر الزامات لگا دیں۔۔۔۔۔!!! . وہ شخص اقبال تھے جن کی ذات میں پیدا ہونے والے تغیرات نے ایک مسلمان کو کافر اور پھر کافر سے مومن بنادیا. اقبال عقل سے گرز کے اس مقام پر آگئے جہاں اجتہاد بھی تقلید کا حصہ تھا ، جہاں سنت بھی .۔۔۔۔!. جہاں حدیث بھی اور جہاں فقہ بھی تقلید کا حصہ تھا۔۔۔۔!. ایک مسلمان نے ''شکوہ'' لکھ کر اللہ کی ذات کو للکارا کہ ہم سے صرف وعدہ حور کیا ہے ، دیکھو مسلمانوں کی حالت کتنی دل گرفتہ ہے ،.... کافروں کو نوازنے والے کبھی مسلمانوں کو بھی نواز دے ۔۔۔۔!. اس للکار سے رحمت باری تعالیٰ نے کافر کو اپنے اور قریب کر لیا اور اس نے کہ دیا

پا کر مجھے بے کس تری رحمت یہ پکاری
یہ بندہ بے برگ و نوا صرف ترے لیے ہے

یہ بھی حقیقت ہے کہ جب انسان مومن کا درجہ پالیتا ہے تو وہ 'اسوہ حسنہ '' کا نمونہ بن جاتا ہے . مومن جو حقیقت میں قران پاک کی قرات میں مصروف ہوتے ہیں وہ خود ہئ چلتے پھرتے نمونے بن جاتے ہیں ..۔۔ یہ چلتے پھرتے آئینے ہوتے ہیں اور ان آئینوں میں جھانکوں تو بس ایک ذات نظر آتی ہے ۔ کوئی آئینہ دل کو ظاہر کرکے حلاج بن جاتے ہیں اور کوئی ابو الحسن نوری ، یا بایزید بسطامی ۔۔۔ کچھ پوشیدہ رہتے ہیں ۔ اللہ کی ذات اخفاء رہتی ہے اور اس کو پوشیدگی پسند ہے ۔ اور ظاہر ہو بھی جائیں تو وہ ذات باری تعالی کے داعی ہوتے ہیں۔ ان کے اندر قران مشک کی طرح گھول دیا جاتا ہے ۔ اس کی خوشبو چہار سو پھیل جاتی ہے ۔بس ایک ذرا سے ۔۔۔۔ ایک غوطے کی دیر ہوتی ہے ۔ غریقِ قران ِ کلامِ باری تعالیٰ والے اصحاب دراصل غوطہ ور ہوتے ہوئے بھی دنیا میں رہ کر ''نور'' کو پھیلا رہےہوتے ہیں

قرآن میں غوطہ زن ہو اے مرد مسلماں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اﷲ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
یہ راز کسی کونہیں معلوم کہ مومن۔۔۔۔۔۔۔۔ قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

مجھے یہ لکھتے ہوئے ایک درد کا احساس ہو رہا ہے کہ ذات ہماری کتنی بری ہے ۔ ہم پر سوار ہمارے شیطان نے ملعون شیطان کو خوش کر دیا ہے ۔ ہم اپنے نفس کے حصار سے نکل سکیں ، اپنے حساب و شمار سے نکل سکیں تو بات بھی ہو۔ ہم تو خود میں کھوئے ہوئے ہیں ، اور کھو کر بھی ، غرق ہو کر بھی اگر احساس نہیں ہوتا ہے تو ہمارے ہونے کا فائدہ ۔۔۔؟ کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک اندھی تقلید کو عقل کی کسوٹی سے پرکھ کر ، اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیں ۔ ایسا کرنے میں ہماری مٹی سب سے بڑی دشمن ہے ۔ خاکی پتلے کی حقیقت جس طرح بابا فرید نے عیاں کی وہ مٹی کی کشمکش ہے ، اور بالآخر ہم سب کو جانا تو اسی مٹی میں ہے ، جہاں سے ہمارا خمیرا اٹھایا گیا ہے اور اس کے پاس جانا ہے ، جس نے ہم میں روح پھونکی ہے ۔ اس کی ''پھونک '' سے ہم میں غرور پیدا ہوا ہے ، اس غرور و تکبر کو عجز و انکساری کے پیکر میں ڈھلنا ہے

ویکھ فریدا مٹی کھلی
مٹی اتے مٹی ڈلی
مٹی ہنسے مٹی روے
انت مٹی دا مٹی ہوے
نہ کر بندیا میری میری
نہ اے تیری نہ اے میری
چار دن دا میلا دنیا
فیر مٹی دی بن گءی ڈھیری
نہ کر ایتھے ہیرا پھیری
مٹی نال نہ دھوکا کر تو
تو وی مٹی، او وی مٹی
ذات پات دی گل نہ کر تو
ذات وی مٹی، تو وی مٹی
ذات صرف خدا دی چنگی
باقی سب کچھ مٹی مٹی


یہ راز بہت دیر سے جا کر معلوم ہوتا کہ مٹی کی حقیقت صرف ایک دھوکا اور سراب ہے ۔ اس مٹی نے مٹی میں جانا ہے تو کیوں نا! کیوں نا ۔۔!! ہم جاتے کوئی کام ایسا کر جائیں کہ ''انت'' بھی اگر ہو جائے تو چنگی ذات خدا دی ، ساڈے نال نال ہی روے ۔ کیا تفرقے میں الجھ کر خود کو تباہ کرتے جارہے ہیں ۔ اپنے نفس کے جہاد کی تقلید کر لیتے تو معلوم ہوتا کہ تقلید کبھی بھی اندھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔!!! نفس سے جہاد کرنے کے بعد انسان چلتا پھرتا قران بن جاتا ہے ، جہاں ظاہر و باطن ، روح و مٹی کے درمیان کی کشمکش ایک ہو کر سارے اختلافات ختم کر دیتی ہے ۔۔ہمیں اپنے اندر کی مٹی کو ختم کرنا پڑے گا ، اس خاک کو جس نے ہم کو حواس کے ذریعے بھٹکا دیا ہے

جانے ‏کب ‏میخانہ ‏یہ ‏دل ‏بنے ‏گا ‏

جانے کب میخانہ یہ دل بنے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
بچپن میں جامِ محبت سے آشنائی نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی چہرہ محبوب سا لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ محبت کے لفظ سے ''چڑ'' تھی ۔ ایک خود ساختہ وعدہ کیا ہوا تھا خود سے کہ محبت میں بربادی ہے اور بربادی کون کرنا چاہے گا۔۔۔۔۔۔۔!

کلاس میں کئ لڑکیاں محبت میں گرفتار تھیں ۔ جس کو محبت ہوتی ، اس سے دوری ہوجاتی ۔ ایک دن کہ بھی دیا :

''یار ! آپ کیسے لوگ ہو ؟ اسکول پڑھنے آتے ہو ، پڑھو اور جاؤ گھر ، یہ کیا جوگ پالے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اس طرح تعمیر رک جائے گی۔ اور اس '' محبت'' کی نفرت میں سارا دھیان خشک باتوں اور فلسفیانہ باتوں میں الجھا لیا ۔ جس سے دماغ کچھ زیادہ ہی خشک ہوگیا۔ خشک باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بس کچھ زیادہ ہی خشکی ہوگئ ۔۔۔۔!


ہر بار ''ٹوکنے'' پر ایک جواب ملتا کہ ''ہم'' ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس لیے برباد نہیں ہیں ہم ۔۔۔۔! جہاں میں ایسے ایسے آئے ہیں ، جن کا محبت نے کچھ نہ چھوڑا۔۔۔!

تب سے ''ارادہ'' کرلیا کہ '' محبت'' دراصل ایک ''نفرت'' ہے اس ''محبت و نفرت '' کے کھیل میں ''وقت'' بڑا سیانہ ہے ۔ سو ہم منکر اور ہماری '' موحد'' سے نفرت بڑھتی ہی گئی۔۔۔۔ جانے کیوں مسلمان گھرانے کی پیداوار ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
شاید اس لیے کہ ایک انسان کے کئی موحد کیوں ؟؟ اب یہ سوال بڑا تڑپاتا تھا۔۔۔۔ محبت میں ''احد'' کا کلمہ بھی نہیں اور کثرت بھی بڑی ہے ۔ دل نے کہا کہ '' عاشقی بڑی بدنام شے ہے ۔ اس سے دوری ہی بھلی ۔ اقبال کا شعر بڑا یاد آتا ہے اس موقع پر۔۔۔۔۔!

کثرت میں ہوگیا وحدت کا راز مخفی
جگنو میں جو چمک ہے وہ پھول میں مہک ہے ۔۔۔۔


ایک ''وقت'' اور سو ''کرب'' ۔۔۔ منظروں سے محبت ، راستوں کے درمیان کھڑے ہو کر ، حسین شاہراہوں کی دلکشی پر غور کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہرے بھرے درخت ، لہلہاتے کھیت ، ندی کی '' چھن چھن '' کرتی آواز اور میرا سانس۔۔۔۔۔ اکثر تھم سا جاتا ۔۔۔!!! جب بھی پہاڑوں پر جاتی ، کسی پہاڑ سے کھڑے ہوکر نیچے وادی کو دیکھتے ۔۔۔۔! دل کرتا یہیں مرجاؤں مگر اس حسین وادی کی قید سے نہ نکلوں ، پھر ایک اور وادی سے گزر ہوا۔۔۔ وہ اس سے زیادہ حسین ۔۔۔۔۔۔ '' میں'' ۔۔۔!!! میں اب راستوں کے درمیاں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بلکہ راستے پر کھڑی ، پل پل کو محسوس کرتی ، سموتی ، ان ''پلوں'' میں مقید ہوتی گئ۔۔۔۔۔!!

وادیاں۔۔۔! یہ کوہسار ، یہ جھرنے ، سبزے پر بیٹھنا، سب کا سب ۔۔۔! سب ہی تعمیر و فطرت کے رخ بنتے رہے اور بارشوں کے بعد آسمان پر قزح کے رنگ امڈنے لگے ۔ ''میں'' ۔۔۔! ''میں ہوں''، اور ہوگئ میں رنگوں کی دیوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔! سارے رنگ میرے اپنے ، سارے سپنے اپنے اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔! اکبھی درختوں کے پاس سے گزر کر، ندی کی چٹان کے پر بیٹھ کر ایک درخت سے ٹیک لگا لیتی اور لمحوں خواب میں گزار دیتی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔!

ایک دن غلطی سے شام تک بیٹھی رہی ، شام کے بعد چاند نے مجھے اور میں نے اسے دیکھ لیا۔ ساری حکمتیں ''منکرینِ نفرت '' کی ختم ، محبت سے نفرت کا فلسفہ ختم اور ''احد'' کا تصور دل میں خواب بھرنے لگا ۔۔۔ یوں میرا وقت چاند کو تاکتے تاکتے گزرنے لگا۔۔۔۔! چاند بہت حسین تھا ، چاند تھا اور رات کے وقت ، چاند کا حسن اور نمایاں ہوجاتا ۔۔۔۔۔! میں نے محبت کا کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہوگئی ۔۔۔۔!

اسلام لانے کے بعد ''مومن '' بننے کا درجہ نہ مل سکا اور ڈگمگا گئی ۔۔ وہ کہتے ہیں نا۔۔۔۔۔ ہاں جی ۔۔۔! وہ کہتے ہیں کہ محبت میں ''شک '' کی منزل ختم کرنی پڑتی ہے ، تب عشق نصیب ہوتا ہے ۔ اور ''میں'' شروع سے ''شکی''' ۔۔۔۔۔۔۔! کبھی یقین نہ کرنے والی ۔۔۔۔! آغاز محبت میں شک نے بیج بو دیا۔۔۔۔۔! اور محبت نے منہ موڑ لیا۔۔۔۔! مگر ہوا یوں کہ ۔۔۔۔کہ ۔۔محبت کو منانے کے چکر میں '' مسافر'' ہی رہی اور منزل نہ ملی ۔۔۔ منزل ''کھو'' گئی جبکہ راستہ بڑا صاف ستھرا تھا۔۔۔۔۔۔ ۔۔!!! اب یہ حال ہے کہ مسافتیں ختم ہی نہیں ہوتی ، دل تیقن کے ساتھ ''کلمہ'' پڑھتا ہے ، مگر ''رخ '' جو مڑ جائے تو واپس کون آئے ۔۔۔؟؟؟

کون واپس آیا؟؟؟؟ عقل والے چلے گئے اور محبت والے آگئے ، دل سے منطقیں اڑا کر ، دیوانہ بنا گئے ۔ اب دیوانہ ، کیا جانے دنیا کا حال ۔۔۔۔۔ کہ یہ دنیا الٹی ہے کہ سیدھی۔۔۔!!! یہ چپٹی ہے یا گول ۔۔۔ ۔۔!!!

ارے ۔۔۔۔!دنیا تو دنیا ہے ، عشق کا پیالہ یا زہر کا ۔۔۔ پینا ہے ، آنکھ بند کی ، ساری حسیات کو مفلوج کرکے ، اس کو کڑوے گھونٹ کی طرح نگلا۔۔۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ اس کا تھوڑا سا حصہ زبان نے چکھ لیا، وہ کڑوا بھی تھا ، مگر ''مے'' بھی ، نشہ تھا یا کیف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! مست ایک قطرے نے بنا کر ، پیاسا بنا کر صحرا کا عادی بنا دیا۔۔۔۔!!! اب شراب کے سوا کچھ اچھا ہی نہیں لگتا کہ دل کرتا ، شراب ، شراب اور بس شراب ۔۔۔!!

اتنا تو پتا ہے کہ ، منکر نہیں ہوں میں ، ملحد نہیں ہوں میں ۔۔۔۔۔ ! اتنا جانتی ہوں ۔۔۔۔ اس سے آگے کا پتا نہیں چلتا اور بس یہ احساس ہوتا ہے کہ محبت گھونٹ گھونٹ ملے تو نشہ ٹوٹ کر چڑھتا ہے ۔۔۔۔۔۔! اس کے بعد کوئی ''تکثیریت ''کا قائل ہو یا ''احد'' کا ۔۔۔۔۔ دل میں عزت پیدا ہوگی ، ہر نفس کے لیے ۔۔۔ ارے ، اب بھی نہ بدلتے تو پھر کب۔۔۔؟؟

اور پھر جو بھی ملا ، جیسا بھی ، کبھی کسی کے دل کے مندر کو دکھانے کی کوشش نہ کی کہ ڈر لگتا ہے کہ اندر چاہے کتنے بھی شیشے ہوں ، ایک شیشہ ''اُس '' کا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔! کہیں ''وہ '' نہ ٹوٹ جائے ۔۔۔۔!! پھر ، پھر سے منکر کا درجہ نہ مل جائے ۔۔۔ احترام، احترام ، بس احترام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

'' وہ'' شیشہ ایک دن اپنا ''شیش محل '' بنا ئے گا۔ مگر جام تو ''تکثیریت'' سے ملے گا، جو جتنا تڑپے گا، اتنا حسن محل کا بڑھے گا۔بس درد کی ''شدت' سے بنتے محل کاایک دن'' در ''وا'' ہونا ہے ، عاشق دروازے پر کھڑا ہے ۔۔۔۔ جانے کب وا ہوجائے ، جانے کبھی خامشی کا سکوت ٹوتے ، جانے کب ، جانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! جانے کب میخانہ یہ دل بنے گا۔۔۔ جانے کب۔۔۔۔؟؟؟

اے ‏خدا ‏کہاں ‏ہے ‏تو ‏؟ ‏پارٹ ‏ٹو ‏


میں نے انسان کو خدا سے لڑتے پایا ہے ۔ میں نے کل سوشل میڈیا کی سائٹ پر ایک سوال پڑھا تھا جس میں لکھا تھا کہ اللہ اور انسان میں بیشتر چیزیں مشترک ہیں ۔ ہم اللہ کی کونسی صفت تلاش کریں جس سے پتا چلے کہ انسان اور خُدا جدا جدا ہیں ۔ ہم انسان خدائی کے دعویدار بن جاتے ہیں ۔ میں نے سوچا کہ انسان تو اللہ کا آئنہ ہے ، اس کا عکس ہے ۔ صفات میں مقابلہ اس طرح کیا جاسکتا ہے

کہ
وہ لا محدود اور تم محدود
وہ معبود اور تم عبد
وہ حکمران اور تم نائب
وہ رحمان اور رحیم
تم انسان و بشر
کہنے والی نے میری بات سے انکار کردیا اور کہا :'' خدا کو اونگھ نہیں آتی جبکہ بندہ بیدار بھی رہتا ہے اور خواب بھی سجاتا ہے ۔اس لحاظ سے بندہ صفات میں زیادہ ہونے کی وجہ سے خدا سے بر تر ہوا''


میرے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ وہ تو عرش پر قرار پائے ہوئے ہو ۔ اللہ تعالیٰ کو اونگھ نہ آنا بذات خود افضل ہونے کی دلیل ہے ۔مجھے خیال آیا کہ فرشتے سربستہ احترام میں رہتے ہیں ۔ ان کی بندگی سُوچنے کی صلاحیت صلب کیے ہوئے ہے ۔ انسان کی سُوچنے کی حالت بیداری ہے اور حالت ء خواب میں انسان سوچ نہیں سکتا مگر بہت سی باتیں ذہن کی اسکرین پر چلتی رہتی ہیں ۔ یا تو انسان حالت ء خواب میں بیدار ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے یا پھر اللہ تعالیٰ سے افضل انسان ہے ؟ اسی کشمکس میں کئی دن گُزار دیے ۔ انسان کو شعور کیوں عطا کیا گیا ؟
شعور شاید انسان کو تلاش و جستجو کے لیے نوازا گیا ہے۔ اگر تلاش مقصود تھی تو سوال بنتا ہے کہ خدا کہاں ہے ؟ میں نے اپنے ارد گرد نظر ڈورائی اور مُشاہدہ شروع کیا ۔ میرے ذہن نے سوال کیا کہ اللہ نے انسان کو دو آنکھیں ، دو کان ، دو ہاتھ اور دو پاؤں عطا کیے ۔ اللہ تعالیٰ نے دِل انسان کو ایک کیوں دِیا ۔ دل کا ایک ہونا کیا خدا کے ہونے کی دلیل نہیں ؟ کیا یہی اصل ''خانہ کعبہ '' نہیں ؟ کیا یہاں اس کا وجود نہیں ؟ بابا بلھے شاہ نے اس لیے کہا تھا کہ اگر میں تمھیں باہر دیکھوں تو تم ہی نظر آتے ہو مگر جب میں اندر کی دنیا میں قدم رکھتا ہوں تو اس کی کشش سے میرا لا شعور ، شعور پر حاوی ہوجاتا ہے اور میں اللہ تعالی محسوس کرتا ہوں ۔ جس کی کشش اتنی ہے کہ دُنیا کی تما قوتیں اندر کی دنیا سے باہر نہیں نکال سکتیں ۔


اس سے میں نے یہ تو نتیجہ اخذ کیا کہ انسان اللہ سے جب دور ہوتا ہے تب جاگتا ہے اور جب سوتا ہے تب وہ اللہ کے قریب ہوتا ہے مگر اُس کی میرے جواب سے تشفی نہیں ہوئی ۔ اُس نے کہا کہ اسے اپنے اندر اللہ محسوس نہیں ہوتا ہے ۔ میں نے بھی اس کے آگے شیخیاں بگھار دیں تھیں مگر میری دلیلیں اُسے اپیل نہ کرسکیں ۔
میری اُس سے دوبارہ بات ہوئی اور اس نے مجھے طعنہ دے ڈالا کہ نور کیسی مسلمان ہو جس کو پتا نہیں ہے کہ اللہ طاقتور ہے یا بندہ !!! اللہ کی صفات کے بارے میں تم نا بلد ہو!!
اس جواب نے مجھےپانی پانی کردیا کہ میں نام کی مسلمان ہوں ۔ جس طرح میرا نام پیدائشی ہے ۔ بالکل اِسی طرح مجھے مذہب پیدائش میں مل گیا ۔ میں نے آیتوں پر غور کرنے کے بجائے ان کو یاد کرنا شُروع کردیا ۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ جس کو فلاں سورۃ یاد ہوگی اس کو قبر کا عذاب نہیں ستائے گا۔ میں نے لفظوں کو رٹا لگایا ہے جس طرح ہماری گُورنمنٹ کے منظور شدہ اسکولز میں لگایا جاتا بجائے کیمبرج اسکولز کے جہاں انسانی حسیات سے مشاہدہ سکھایا جاتا ہے ۔رٹا بھُول جاتا ہے مگر مشاہدہ نہیں ۔


میں نے اس سے کہا '' انسان اللہ کو محسوس کرسکتا ہے جبکہ اللہ بزرگ و برتر کو اس کی حاجت نہیں ہوتی ۔ اگر کچھ دن کے لیے بصارت کھو دو تو کیسے جیو گی ؟ کیسے لکھو گی ؟ [

''اس نے کہا کہ میں اپنی باقی حسیات استعمال کروں گی ۔ چیزوں کو چھُو کے دیکھوں گی کہ یہ ملائم ہیں یا کھُردری ۔ ان کی ہیئت کو محسوس کروں گی ۔ رنگوں کو روشنی کی نرمی گرمی سے محسوس کروں گی ۔ ان کی حرارت سے رنگوں کو جانوں پہچانوں گی ۔''

میں نے اس سے کہا : تم نے میری بڑی مشکل آسان کردی ۔ میں کب سے سوال کی تلاش میں سرگرداں تھی مگر تم نے اپنے جواب سے میرا سوال کو ختم کردیا۔ پُھول خُوشبو کے بغیر ادھورا ہے ۔خوشبو پھیل جاتی ہے اور طمانیت کا احساس دلاتی ہے ۔ دل نور کے بغیر ادھورا اور بے رنگ ہے۔نور ہمارے دلوں میں ہیں اور ہم اس کویہاں وہاں ڈھونڈ رہے ہیں ۔ ہم اسے محسوس کرتے ہیں مگر جھٹلا دیتے ہیں کہ ہم دیکھ نہیں سکتے ۔ نور کی شدت یا روشنی کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ۔ آنکھیں بند ہونے کے بعد روشنی کو محسوس کرسکتی ہیں مگر دیکھ نہیں سکتیں
[/RIGHT]

Friday, December 4, 2020

شکوہ ‏اور ‏سوال ‏

ہماری سوچ کا محور اکثر دنیا ہو تی ہے ۔ دنیا میں لوگ بہت خوش ہیں اور کیوں خوش ہیں ۔ اسکو میری بد دعا لگی اسکے ساتھ برا ہوا ۔ ہم برا ہونے پر خوش اور کسی کے اچھا ہونے پر نا خوش ہو تے ہیں ۔ ہمارے ہونٹ کی جنبش میں مناجات بھی مطلب کی ہوتی ۔ اللہ سائیں اچھا کرنا ۔ بلکہ اس بندے سے زیادہ دینا۔ مجھے ترقی دینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال کیا ہوتا ہے ۔۔؟ اک سوال تو معلومات حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ اک سوال مدد کا ہوتا ۔ مگر مرا مطلب سوال سے شکوہ کے معانی میں ہیں ۔ بندہ رب سے سوال کیوں کرتا ہے ۔ سوال کرنا ہو تو وہ کس حد تک جائز ہے ۔ مجھے حکمت کا جواب اللہ وتبارک وتعالیٰ کی قصے سے ملا اور پتا چلا اللہ جانی نے قصے کیوں کر بتائے ہیں ۔ ان میں کیا حکمتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

سورت کہف شریف میں اسکا ذکر ملتا ہے اور کیا کمال انداز بیاں ہے ۔ میں اس کرم کے کہاں قابل کہ اس بات کو سلیقے سے بتا پاؤں جس قصے سے مجھے سفرِ خضر یاد آتا ہے ۔ روانگی سے قبل انہوں نے منع کیا سوال نہ کرنا اور یہ ساتھ جانے کی شرط تھی ۔ جب حضرت موسیٰ (ع) نے پوچھا مالک کائنات سے کہ اللہ اس دنیا میں مجھ سے زیادہ کسی کے پاس علم نہیں ۔ پروردگار ِ عالم نے کہا۔۔ ایک ایسا بندہ ہے جو تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ اسے تجھ پر فو قیت ہے ۔ پوچھا کون ہے وہ ؟ جواب ملا کہ وہ خضر (ع) ہیں ۔ موسی ؑ تو نبی دلال تھئ ملنے کی ضد کی ۔ پروردگار عالم نے کہا مرا بندہ یہاں یہاں ملے گا، یہ وہی خضرؑ ہیں جنہوں نے آبِ حیات پیا ہے ۔۔۔۔!!!

موسیٰ (ع) سمندر پر آپ کے ساتھ تھے ۔ جس کشتی پر سوار تھتے اسکے کچھ حصوں کو توڑ دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ حیران ہوئے سوال کیا ۔ آپ ؑ کو خضر ؑ نے ٹوک دیا ۔ کہ سوال منع کیا تھا ۔اب کہ سوال کیا تو سفر آپ ؑ کے ساتھ نہ ہو گا۔پھر جب آپ ساحل پر آئے تو ایک بچہ کو مار ڈالا۔ اب تو حضرت مو سیٰ حیران ہوئے ۔۔ لب رک نہ سکے کہ سوال ہونٹ پر در آیا۔۔ پوچھا یہ کیا کیا۔ حضرت خضر ؑ نے کہا میں نے منع کیا تھا سوال نہ کرنا۔ مجھے اجازت دیں ۔ اب آپ کی اور میری راہ علیحدہ ۔۔۔ مگر حضرت موسیٰ ؑ نے منت سما جت کی ۔ مجھے آخری موقع دیں ۔اب کہ سوال کیا تو مجھ سے آپ علیحدہ ہوجائیں بے شک ۔۔

حضرت خضر ؑ مان گئے۔ جہاں پر یہ دونوں ہستیاں تھیں وہ ایک گاؤں تھا وہاں ایک گھر میں رہائش پذیر تھے ۔ خضر ؑ نے اس گھر کی دیوار شکستہ حالت میں تھی ۔۔۔ آپ ؑ نے دیوار تعمیر کر دی ۔ حضرت موسیؑ پھر سوال کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ پوچھا یہ کیا آپ نے ۔۔ مکان کی دیوار کی تعمیر پر کچھ اجرت ہی لے لیتے ۔ اور کیا وجہ تعمیر کرنے کی ۔۔ ۔ !!!!

اب کی بار حضرت خضر ؑ نے کہا کہ اب میرا تمہارا سفر ختم۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ سوال نہ کرنا ۔ جاتے جاتے وہ سوالات کا جواب دے گئے ۔ کہا جس کشتی کو خراب کیا تھا وہ بہت حسیں اور اکمل تھی ۔ ساحل کے پار ایک بادشاہ ہے اسے جو اچھی کشتی لگتی ہے وہ اس پر قابض پو جاتا ہے ۔ اس کشتی میں نقص کی وجہ سے وہ اسے اپنی ملکیت نہیں بنائے گا ۔ اور غریب کا بھلا ہو جائے گا۔ جس بچے کو میں نے قتل کیا اس نے
بڑا ہو کر ماں باپ کے لئے ملامت و تذلیل کا باعث بننا تھا ۔ اسکے بدلے اللہ تعالیٰ ان کو نیک اولاد عطا کرے گا۔ جس مکان کی دیوار کو میں نے تعمیر تھا ۔اسکے نیچے خزانہ دفن ہے جو یتیم بچوں کا ہے اور اب وہ بچے بالغ نہیں ۔ وہ سونا دیوار کے نیچے دفن رہے گا ۔ کیونکہ حریص رشتہ دار ان کا سونا غضب کر لیتے تھے ۔

حضرت موسی ؑ جو لاڈلے نبی ہیں ، لاڈلے نبی تسلیم کیا کہ خضرؑ کا علم ان سے زیادہ ہے ۔ اور رخصت ہوئے ۔ اس سارے واقعے میں ''سوال '' حکمت ہے ۔ ہم سوال کہیں یا شکوہ کہ لیں ۔۔ مالک سے سوال کرتے اللہ میں کیوں سول سروس میں کامیاب نہیں ہوا۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اس تم میں کمی ہے بس اللہ کی مرضی اور ہے اور اس پوشیدہ بھلا ہے جو وہ ہی جانتا ہے اسکے سوا کوئی نہیں ۔ اللہ تعالی بندہ کو ڈھیل دیتا ہے کسی حد تک کہ وہ شکوہ یا سوال کرے ۔ جب وہ حدود پار کردے تو اسکے ساتھ چل نہیں سکتا ۔ ہم کیتے ہیں اللہ اس کا بیٹا لائق ہے میرا نالائق یا کہ میرے ہم نوا مجھ سے اچھا پیش کیوں نہیں آتے میں بھلا چاہتا ہوں ۔ نو سال کا بچہ عالمی ریکارڈ بناتا ہے ۔ مگر 20 -22 سال میں وہ ریکارڈ نہیں با سکے ۔ایسا کیوں ۔ عاشق بناتا ہے اللہ خاص خاص کو ،،، اور معشوق تو اس سے بھی زیادہ چنیدہ ہوتے ہیں ۔ ہم فٹ سے کہتے پیں اللہ میں معشوق کیوں نہیں ۔َ کیوں بڑا خطرناک ہوتا ہے ۔ سوال پہ سوال وہ خاموش ، وہ ساتھ نہیں چھوڑتا چاہے ہمارا یار شیطان ہی کیوں نہ ہو۔۔




کبھی کسی نے اللہ سے کہا اللہ مجھے نبی اکرم ﷺ کا امتی بنایا کسی اور نبی کا بنا دیتے ۔ کوئی نہیں کہے گا ۔ ہم کو اللہ خاص بناتا ہے امتی بنا کر اور آدم کی خصلت ہے کہ وہ خود کو عام نہیں ہونے دیتا ۔خوب سے خوب تر کا جنون ہوتا ہے ۔ ہم بازار جاتے ہیں لینا اک سوٹ یا شرٹ ہوتی ہے یا پرفیوم ۔۔ پورا شہر یا ملک اور کوئی تو باہر کے ممالک بھی چھان مارتے ہیں پھر جا کر انہیں کچھ پسند آتا ہے ۔ اللہ نے ہمیں پسند کیا ہے ہیارے محمد ﷺ مجتبیٰ مرتضیٰ کا امتی ہونا ۔ اللہ نے چھانٹی کی ہے ہماری ۔ساری امتوں میں سے چنا ہے ۔ خاص خاص بندوں کو نبیﷺ کی امت میں ڈالتا گیا۔ پم چنے ہوئے ، گنے ہوئے لوگ ہیں ۔ اللہ کی پسند ہیں ۔ جتنا شکر کرین تو کم ہیں ۔

موت کے اجل نے کہا کہ نہیں میں نہیں جانتا ۔ فرمایا میں نے سمندر کی موجوں کو کہا اسکو ماں کی مامتا دو لوری دو ، ہوا کو کہا اسکا جھولا بن جاؤ ، سورج کو کہا اسکو روشنی دو ، درختوں کو کہا اسکو سایہ دو ، پھلوں کا کہا اسکو توانا کرو ۔۔۔۔ تم جانتے ہو وہ کون تھا۔۔۔ وہ نمرود تھا جس نے بڑے ہو کر خدائی کا دعوا کیا تھا ۔

مجھے رہ رہ کر قرانِ پاک کی نشانی /آیت یاد آرہی ہے جسکو سورہ رحمان میں بار بار دیرایا گیا ہے ۔
فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔ سوال کرنا بھی اسکی نعمت کو جھٹلانا ہے ۔ ہم بہت خاص ہیں اللہ کے۔۔ وہ اپنے لاڈلے بندوں کو ڈھیل دیتا ہے ۔ہم پھر بھی شریک کرتے ہیں اسکو ۔ وہ ہمیں سب کچھ دیتا ہے مگر ایک مطالبہ کرتا ہے کہ مومن ہو جا ، محبت کا مومن بن جا ، محبت سیکھ ۔۔۔ بس تو محبت کرنا سیکھ اسکے بعد وہ جو آسمانوں ہر مقیم کبھی تری دعا رد نہیں کرے گا۔عاشق ایک تو حکمتوں کو جانتا ہے نہ بھی جانے تو ہوتا تو وہ دیوانہ ہے ۔ اسکا ہوش رہتا ہے اسے بس ۔ ذات باری تعالیٰ کے بعد وہ سب بھول جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ جو ''میں'' ہوتی ہے / انا کہ لوں۔۔۔۔۔ اس کو خاک تلے روند دیتا ہے

اک تری چاہت ہے

اک مری چاہت ہے

ہوگا وہی جو مری چاہت ہے

ہاں اگر تو سپرد کردے خود کو

اسکے جو مری چاہت ہے

تو میں تجھ کو وہ دوں گا جو تری چاہت ہے

اور اگر تو نے مخالفت کی اسکے جو مری چاہت ہے

تو میں تھکا دوں گا اس میں جو تری چاہت ہے

پھر ہو گا وہی جو مری چاہت ہے !!!


اختتام سے پہلے دو حکمت سے بھرپور واقعات آپکی نظر کر دوں ۔۔ اک بزرگ نے منت مانی سید سیدی بابا بلھے شاہ رح کے مزار مبارک پر ۔۔۔ روز وہاں جا کر زار و قطار روتا رہتا کہ بات پوری ہو جائے مگر رونا کے سلسلہ بڑھتا جاتا۔۔دل پگھل کر موم ہوتا جا رہا تھا ۔۔ جسم سے سکت جا رہی تھی مگر دعا قبول نہیں ہو رہی تھی ۔ مایوسی کے سائے منڈلا رہے تھے پاس پا س ،۔۔ پر وہ بزرگ مایوس نہیں ہوئے معمول بنا لیا جیسے بندہ نماز پڑھتا اسطرح آکر زاریاں کرنا۔۔۔۔۔اک دن یہ بزرگ زار ع قطار رو رہے تھے ۔۔ تو دیکھا اک نائقہ آیئں ۔۔ منت مانگی ۔۔گھونگھر ؤں کی آواز کانوں میں سنسائی ۔۔ کچھ برا لگا جی کو مگر توجہ ہٹالی ۔

پھر اگلے دن وہ وہاں پر حاضر تھے ۔۔۔ آج مزار پر بہت چہل پہل تھی ۔۔ جیسے کوئی لنگر سا ہو ۔۔ کھانہ تقسیم ہو رہا ۔۔ پیسے بانٹے جا رہے ۔۔۔ ذرا کھوج لگائی تو معلوم ہوا کہ اس نائقہ کی دعا قبول ہو گئی ہے اور اس خوشی میں لنگر کا اہتمام ہوا۔۔ اب تو یہ صاحب مکمل مایوس ہوگئے مری کوئی اہمیت نہیں ۔ اک دن کے اندر اسکی دعا قبو ل ہو گئی ۔ اور تین دن تک مزار نہ گئے ۔۔۔ تیسری رات آنکھ لگتی ہے تو اک نورانی شخصیت جلوہ گر ہو تی ہے ۔۔۔۔ وہ عالی مقام سید سیدنا بابا بلھے شاہ رح ۔۔۔۔۔ بولے ۔۔۔!! تم اتنے ناراض ہوگیے ۔۔ اس عورت کا آنا مالک کو قبول نہ تھا کہ وہ آئے اور بار بار مانگے سو دعا پوری کردی اور تری زاریاں بہت پسند تھیں اور اس لئے مالک تجھے بار بار بلاتا تھا تو اسکا محبوب ہے ترا رونا قبول ہو جاتا ہے اس لئے تری دعا قبول نہیں ہوتی ۔ پھر اس دن کے بعد سے کبھی مزار جانا نہ چھوڑا۔۔


بات کروں میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی تقسیم پر تو اک اور بات یاد آجاتی ہے ۔۔۔ سیدنا بابا بلھے شاہ اپنے پیرو مرشد کے ساتھ بیٹھے تھے ۔۔مجلس کا سماں تھا ۔ مرشد برحق نے کہا بلھیا۔۔۔!! مٹھائی تقسیم کر ڈالو ۔۔


بابا بلھے شاہ نے پو چھا سیدی کس طرز پہ ۔۔۔اللہ کی یا محمدﷺ کی طرز پہ۔۔۔۔۔۔!!! آپ کی بات کو نہ سمجھ پائے اشارتًا کہا کہ اللہ کی طرز پہ۔۔۔۔ جنابی عالی مقام نے کسی کو ایک ، کسی کو سات ، کسی کو 3 کسی کو چار اور کسی کو کچھ بھی نہ دیا۔۔ مرشد کامل نے پوچھا یہ کیسی تقسیم تھی ۔۔۔؟ بولے : آپ نے خود ہی تو کہا تھا اللہ کی طرز پہ کرو۔۔۔ اللہ کی تقسیم تو ایسی ہوتی ہے کسی کو بے حد دیتا ہے کسی کو تھوڑا۔۔کسی کو کچھ بھی نہیں ۔۔۔ جبکہ نبی اکرم ﷺ کا طرزِ کار تو یکساں تقسیم کا ہے ۔۔۔!!! آپ سب کو اک سا دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالی دے کر بھی اور نہ دے کر بھی آزماتا ہے ۔۔۔ جب دعا قبول نہ ہونے پر سوال کریں کم دینے میں سوال کریں تو کیا جائز ہے ۔۔؟ اللہ کی ہر بات تو اسرار ہے جس میں پوشیدہ بھلا ترا یا مرا ہے ۔۔۔!!!بات اس پہ ختم کرتی ہوں ۔۔۔
شکوہ محبت میں ہی ہوتا ہے
مگر محبت شکوہ سے بڑھ کر ہوتی ہے ۔۔۔!!!

عین ‏سے ‏عین ‏

امامِ علی رضی تعالٰی عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں ـ آؤ!  یہ وعدہ کریں کہ محبت کی تقسیم میں کوتاہی نَہ ہوگی ـ یہ کہہ دیں مریضِ عشق کی دوا درد ہے ـ چلو مانگیں وہ احساس جس سے درد پیدا ہو جس سے محبت کے لازوال چشمے پھوٹیـں.  درد حقیقت اک کُنجی ہے ـ حق ہر لازوال امر کے سوتے کو وہ اسماء/کنجیاں حوالے کرچکا ہے ـ جب روح پر فتح کے دَر کھُل جاتے ہیں تو امان کے طلب گار کیوں بنیں ـ سجدے کرتے ہیں ـ ہم سر اُٹھائیں تو دوپہر ہوجائے ـ وہ مرتکزِ نور طٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُجالا لیے دکھائی دیتا ہے جو سہہ لیتے ہیں ان عین عین حقیقتوں کو ـ عین عین کو دیکھتے عین عین ہوجاتے ہیں ـ اب فرق کرو؟  عین عین میں فرق ـ عین کا عین سے فرق کرنے والے ہیں دوئی والے ـــ عین کرو ـ عین دیکھو ـ عین ہو جاؤ ـ میں نے جب اُسے دیکھا میں ویسا ہوگیا ـ کتنا شفاف تھا وہ نا ـ اتنا شفاف کہ جو رنگ ڈالو ـ وہی رنگ دِکھائی دینے لگے ـ اس نے عین عین کی،  عین سے عین ہوجانے میں دیر کتنی باقی ہے ـ جس کے ساتھ جو بیت رہا ہے وہ تو ہورہا ہے ـ کن کن کرنے سے فیکون ہُوا تھا نا ـ یاد کرو نا ـ کِس کِس نے کیا؟ جس جس نے کُن کیا، کُن کُن سے فَیکون والی صاحبِ امر ہستیاں ہیں ـ عین بھی کر،  کُن بھی کر اور فرق دیکھ ـ فرق زمانے کا ہے ـ زمانے ان کے ہیں ـ  بس کاغذ پر جاتے ہیں لوگ ـ خوشبو پر مٹنے والے کم ہوتے ـ کاغذ جلتا ہے اور جب جلتا ہے تو چہار سو سرمہ بکھرنا لگتا ہے ـ یہ تو منظم دھاگے ہیں کشش کے ـ تو بیک وقت کئی دھاگوں سے منسلک ہوگا مگر سب ایک مرکز کی جانب چلتے ہیں ـ تب سب یہی کہتے ہیں 

یا علی یا علی یا علی یا علی 
سلطان عالم تسکین پیامبر 
یا علی یا علی یا علی یا علی 
علی پکار، علی خیال، علی مجسم 
یا علی یاعلی یا علی یا علی 
علی پیکر علی نظام علی باقی 
یا علی یا علی یا علی یا علی 
علی ہادی علی ملجا علی محب 
یا علی یا علی یا علی یا علی 
علی چادر، علی خوشبو، علی صدا 
یا علی یاعلی یاعلی یاعلی 
ہم غلام ہم غلام ہم غلام ہم غلام 
بندہِ مرتضی ـ بندہ مرتضی ـ بندہ مرتضی 
علی چشمانم ـ علی دردِ ہجرانم 
علی شہنشہاہ ہستم سردار قلندر 
علی کہو ـ عین سے عین ہو جاؤ 
علی کہو ـ عین عین ہے ـ تم ہو کون؟
علی کہو ـ ضربتِ علی میں کون ہے؟
علی کہو ـ تم کہہ سکتے ہو؟ نہیں!  نہیں!

اس ‏بات ‏میں ‏اور ‏اس ‏بات ‏میں ‏

اس بات میں اور اس بات میں!
آپ نظر آتے ہو ہر ذات میں!
بہروپ پھرتے ہیں دیوانے!
چلتے ہیں شانے ملانے!
کون کس کا محرم حال جانے!
صحرا کو جنگل اب کیا جانے!
اس دنیا میں انسان کی قیمت!
صورت و مورت سے بصیرت!
حرص و تکبر کی لکڑی!
او لکڑی! دنیا مکڑی!
کیا جانے درد کا حال!
ذرہ ذرہ ہے نڈھال!
ہو گئے ہم تو مست حال!
کون جانے کس کی کھال!
اللہ اللہ کرکے سارے!
''ھو ''نال گلاں ماریے!
''ھو'' نے انگ انگ وچ!
کردی سج دھج!
اب تو ناچ سنگ!
''الف'' اور'' م ''کا رنگ
مٹا اب سب زنگ
چل زنگی! اٹھ رنگ نال!
ناچ تے مار دھمال!
ہجر نے ہن ستانا!
اب تو ہے نبھانا!
چل ہوگیا یارانہ!
اور مل گیا پرانا!
سانس مہک اٹھی!
جاں لہک اٹھی!
چھلکا یہ پیمانہ!
مٹ گیا تفرقانہ!
جان جاناں! دور نہ جاناں!
دل تم پہ قربان جاناں

۲۰۱۵ جون

شدم ‏چوں ‏مبتلائے ‏اُو ‏،نہادم ‏سر ‏بَہ ‏پائے ‏اُو

شدم چوں مبتلائے اُو، نہادم سر بہ پائے اُو۔۔۔

برگد کے درخت کے پاس ایک اللہ کا بندہ بیٹھا ہوا آہیں بھر رہا تھا۔ بانسری بجائے جارہا تھا اس کی بانسری کی درد سے پُر آواز قافلے والوں نے سُن لی۔جنگل میں رات کے وقت کے بانسری کی آواز نے چار سُو چاندنی بکھیر رکھی تھی ۔سالارِ قافلہ نوجوان تھا اور موسیقی کا دلدادہ تھا۔ اُس کے پاس آلتی پالتی مار کے بیٹھا اور کہا کہ :اُس آواز میں جو درد بھری چاشنی ہے ۔وہ مجھے کسی ساز سے نہ سُنائی دی ۔ اس کا راز کیا ہے ؟

عجب نشاطِ درد و کیف و مستی کے عالم نوجوان کو یک سکت دیکھ کر نگاہ دور پیپل کے درخت پر جمالی : سازندگی میرے تن کے ساز سے ہے اور گھپ اندھیرا من کا سانس روکی رکھے میرا ۔ جب تک سانس رُکے میری تب تک ساز چلتا رہے ۔ سازندگی میرا شیوہ ہے اور میراث بھی ۔

سالارِ قافلہ نے سوچا کہ بندہ سٹھیا گیا مگر باوجود اس کے اس کے پاس بیٹھا آسمان کو تاکتے ہوئے بولا اور کہا آسمان پر سب اچھے ستارے ہیں اور ان کی روشنی سے جہاں رُوشن ہے ۔ کاش ! میں بھی رُوشن ستارہ ہوتا !!!

ستارہ ! اُس نے گول دائرہ بنایا اور بولا کہ اس دائرے میں آجا تاکہ میں سازندگی کی قصہ سُنا سکوں اور جو یہ نغمہ سن لے! وہ یہ کہ '' کاش '' کی 'ک' کو مٹا کر ، ''الف'' کے ساتھ وصل کرکے دنیا میں شفقت کرکے ، آخرت میں شافعی ہوجاتا ہے ۔اس کے چہرہ کی طرف آنے والے سوال کو روک دیا اور کہا کہ دائرے میں آجانے کے بعد تماشا دیکھنے کی اجازت ہے مگر نہ زبان کھولنے کی اور نہ سوال کرنے کی ۔۔۔ قصہ سازندگی کہاں سے شروع اور ختم ہو ؟ یہ میں اے سالار ! تجھ کو بتانے سے قاصر ہوں !!! مگر کچھ بچا کچھا میرے پاس سرمایہ سازندگی کا تجربہ ہے ، اس کو میں سُنائے دیتا ہے ۔

سالار قافلہ بڑے غور سے سے اُس سازندے کی بات سننے میں محو ہوگیا کہ اتنی اس کی آواز پر اس کو حضرت داؤد علیہ اسلام کی آواز کا گمان ہوا کہ کہیں وہ جنت میں بیٹھا اس شیریں آواز سے قرانِ پاک کی کسی آیت کی ، کسی نشانی کی بابت کچھ پوچھ رہا ہے اور وہ بتائے جا رہے ہیں ۔ سازندہ ِبرگد نے اسے غور سے دیکھا کہ جیسے اس کے خیال کو جان لیا ہو۔ اور بولا کہ بے شک وہ جنت کے حُدی خواں ہوں گے کہ ان جیسا نغمہ سرا اس دنیا میں ماسوا ایک کے کوئی بھی نہیں آیا۔ یہ تو ایک بادشاہ کی بات تھی مگر کچھ سازندے صرف اپنے لیے بجتے ہیں اور کچھ دنیا کے لیے۔۔ مگر جاتے جاتے ہوئے بادشاہِ وقت کو بیٹے روپ میں سبق سکھا جاتے ہیں ۔

آؤ ! اس دائرہ میں ایک اور دائرہ میں نے کھینچا ہے ! تم کو اگلے دائرے میں آنا ہوگا۔ اس طرح سازندگی چلتی رہے گی ورنہ حق کی بات سننے والا کوئی نہ رہے گا اور جب آواز سُریانی نہ ہوگی تو دل کے نور سے جہاں میں کون نور پھیلائے گا؟

اب کے سالارِ قافلہ کی آنکھوں سے اشک رواں تھے اُس نے سازندگی کی ابتدا کی اس وقت سے اور بولا کہ اے برگد نشین! دلنشیں آواز کے مالک!!!! میرا دل ہے کہ جنگل میں برگد کے ساتھ لگ کر پیپل کے درخت کو تاکوں!!! اور دائرہ تیسرہ خود بناؤ !

خاموش ! دائرے کبھی بھی خود کھینچے نہیں جاتے جب تک کہ اجازت نہ ہو ! جتنے کی اجازت تھی تجھ کو وہ مل گیا مگر آج کے بعد اپنی مرضی سے لکیریں کھینچیں تو سمجھیں کہ یہ سازندگی اب تجھ پر ختم ! سب کی چاہتیں ہیں مگر ان چاہتوں کے دریا کو ایک سمندر میں ڈال کر اُس سمندر کا حصہ بن جا ! اس سمندر میں ڈوب کر اپنی ہستی کو فنا نہ کرنا ! مگر غوطہ خوری کرنا۔ پانی بھی زندگی اور خشکی بھی زندگی ہے ۔ خشک و تر دونوں کو ساتھ لے کر چل ! اسی میں بقا ہے ۔ اب اٹھ !

کہاں؟
میخانہ چلیں ! رند ساز بیٹھے ہیں کب کے !!! میں تیرے انتظار میں تھا ۔ جسم دائروں میں رہے۔۔۔!! دو روحیں جسم کو چھوڑ چکی تھیں ۔ جسم پھر بھی زندگی کے حامل تھے ۔ دونوں جنگل سے ہوتے ہوئے ، دریاؤں سے ہوتے ہوئے ، صحرا میں پہنچے ! یہاں رقص بسمل جاری تھا ، ساز کی لے جانے کس مطرب نے چھیڑ رکھی تھی مگر نغمہ سریانی تھا۔ ساقی پیمانے پے پیمانے  تقسیم کیے جارہا تھا ، اور جہاں کے رند شراب پی پی کر مست و بے خود رقص کر رہے تھے ۔ ساقی نے شراب میں نشاطِ درد کی افیون ڈال رکھی تھی ۔ برگد نشین تو داخل ہوگیا مگر سالارِ قافلہ وہاں کھڑا برگد نشین کو دیکھ رہا تھا جو باقیوں میں کھو چکا تھا ۔ اچانک اس کو ایک آواز آئی

حیدریم قلندرم مستم
بندہ مرتضی علی ہستم
پیشوائے تمام رندانم
مَنَم محوِ جمالِ اُو،
نمی دانم کُجا رفتم
فنا گشتم فنا گشتم،
نمی دانم کجا رفتم

اس کے بعد سالار اس آواز کی لے پر ایک دھاگے پر چلتا ہوا ساقی کے پاس پہنچا کہ اس کے پاؤں دھاگے نے رنگین کر دیے تھے ۔ ساقی سے شراب کیا لیتا وہ اس کے جمال میں کھو گیا !!! ایسا کہ پاؤں کے زخم کے احساس نے اس کے دل سے چیخیں نکال دیں ۔ ساز کی لے پر اس نے رقص بسمل شروع کردیا ۔۔ بے خودی میں یہ کہتا رہا کہ ''' پیشوائے تمام رندانم ، منم محو جمالِ او ''' من ! من! من! کرتے ہوئے تمام مست و بے ہوش گرگئے مگر سالار کہتا رہا کہ '''شدم چوں مبتلائے اُو، نہادم سر بہ پائے اُو'''

Thursday, December 3, 2020

نائب ‏کی ‏حقیقت


زندگی میں قافلہ میرِ کارواں کے بغیر چلتا ہے ۔ ۔ ۔ ؟ اگر ایسا ہوتا تو انسان سالار ہوتا ۔ انسانی کی سالاری دو چیزوں پر منحصر ہے ، ایک اس کی عقل اور دوسرا اس کا وجدان ۔ وجدان کا ردھم زندگی کی روح اور عقل فطرت کا تغیر ہے ۔ دونوں میں کا ساتھ متوازن چلنا مشکل ہے ۔ آسان الفاظ میں جوش و ہوش کو متوازن کرنے سے انسانیت کی تعمیر ہوجاتی ہے ۔ اور ہر دو انتہائیں انسان کی دوسری سالاری کے جزو کو کو مقفل کر دیتی ہیں ۔


انسان اگر عقل کی انتہا کو لے کر چل پڑے تو اس کے پاس ''شک'' رہ جاتا ہے ، اور یہی ''شک'' اس کو انکار کرنے کی طرف لے جاتا ہے ۔ '' عقل '' کا کام ہر وہ بات رد کرنا ہے جو اس کے اپنے حواسِ خمسہ ماننے سے انکار کردیں گوکہ چیز موجود رہتی ہے مگر فرق عقل والے کو پڑتا ہے کہ اس کی سالاری مفلوج ہوجاتی ہے ۔ ایسا سالار انسانیت کا نائب بن سکتا ہے ؟ اگر بن جائے تو انقلاب شیطان کا ہوگا۔۔۔۔۔۔ ؟ شاید اس کا وعدہ شیطان نے کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!


]افسوس ! انسان کی ''انتہا ''اس کو دھوکے میں مبتلا کر دیتے ہے کہ انتہا کا دوسرا نام'' دھوکہ'' ہے ۔ گو کہ انتہا میں جانے والی بہت ذہین ہوتے ہیں مگر ان کی فطانت ان کے لیے ، ان کا ہی بنا ''جال'' ب ان کے سامنے لا کر ان کو پریشان کر دیتی ہے اور وہ اس جال میں کھو کر کہیں کہ نہیں رہتے۔۔۔۔ ۔!!! دو کشتیوں کے سوار انسان کی زندگی کیسی ہوگی ؟ اور ایک وقت آتا ہے کہ پاسبانِ عقل اپنے اختیارات خود '' شک '' کو پکڑا دیتے ہیں ۔ یہی وہی ''شک ''ہے جس کا ''بیج '' آدم کو جنت سے نکالے جانے کا باعث بنا۔ انسان کی سرشت میں یہ مادہ گوندھ دیا گیا ہے ۔ وہ اس سے کیسے بچ سکتا ہے ؟

اقبالیات : عقل گو آستاں سے دور نہیں ۔
اس کی قسمت میں حضور نہی


اس وجہ سے اکثر احباب کو میں نے ''اقبالیات'' کا منکر دیکھا ہے یہ وہ انسان تھا کہ جس نے عقل و وجدان کی پاسداری کرتے ہوئے انسان کے نائب ہونے کے فرائض کی کمی پوری کردی ۔ اس انسان کی عقل نے بھی ''شکوہ ، یعنی شک '' کیا ، جو اس کی عاقلیت کا ثبوت ہے مگر اس کی ضرب ِ کلیم نے وجدانی کیف کا حق پورا ادا کی،ان کا لکھا شعر، شاید لاشعوری طور پر ان کی تعبیر ہے ۔

]ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مُشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اس انسان کو بہت سے عاقل '' شرابی '' اور '' ملحد'' کہتے ہیں ۔ اس وقت جب میں لوگوں کے منہ سے یہ باتیں سنا کرتی تھی تو میرے دل میں شبہات جنم لیتے تھے کہ یہ انسان ''شرابی '' ہے کیا ؟ یہ انسان ملحد ہے کیا ۔۔۔۔؟ الحادِ فکر مغرب اور وجدانی شراب پینے والی شخص کی توقیر دنیا کے چند عاقل نہیں کر سکتے ہیں اور آج میرے سامنے دور ِ جدید کا اجتہادی نمونہ اقبال کی صورت میں ہے ، جس نے قران الحکیم کے حکمت کے گنجینہ اور پرا سرار الفاظ کو اپنے کلا م میں بند کر دیا اور پیغام دے دیا کہ لوگو '! ''عقل کے دروازے اور وجدان کے دروازے '' کھلے رکھنے سے پوری انسانیت کو فلاح مل جاتی ہے ۔


اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقبال کی تقلید شروع کر دی جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقبال کے راستے کی تقلید کی جائے کہ یہ وہی راستہ ہے جو انبیاء کا راستہ ہے ۔ اس راستے میں فکر و غور بھی ہے اور وجدان بھی ہے اور اسی راستے پر ایک اور دور ِ حاضر کی شخصیت بھی چل کر اپنا نمونہ بن گئ، جس کو دنیا قدرت اللہ شہاب کے نام سے جانتی ہے ۔اس لیے یہ سلسلہ
]چلتا رہے گا ، راستہ بھی کھلا رہے گا ۔
مگر کون راستے کے اوپر آتا ہے یہ انسان کی اپنی بساط و مرضی ہے ۔

]دوسری طرف وجدان کی بات کرتے ہوئے مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ 
وہ انتہا ہے جس میں بقا تو ہے ، جس میں فلاح تو ہے مگر یہ فلاح و بقا صرف اور صرف انسان کی اپنی ذات کی ہے ۔ اس صورت میں غذا کی حق دار صرف اور صرف روح ہوتی ہے ۔ اور یہ وہ سلسلہ ہے جس پر بکھشو و سادھو چلتے ہیں ۔ گوکہ اسلامی تصوف کے بہت سے سلسلے اس راستے پر آئے مگر ایک سلسلہ ایسا بھی ہے جس نے دین و دنیا دونوں کا ساتھ نبھایا ۔ سلسہ سہروردیہ کے برزگ حضرت بہا الدین زکریا ملتانی رح بہت بڑی اراضی کے مالک تھے ، وہ شاہ ِ وقت کی عنایات بھی رکھتے اور امراٰء سے ملنے والوں تحفوں کو وصول بھی کرتے ،اور اس کے ساتھ بادشاہوں کی محافل میں شریک بھی ہوتے مگر دنیا کا لباس پہن کر ، اس لباس کی '' لیروں '' سے دنیا والوں کو دیتے ، اور نوازتے رہے اور ساتھ میں عقل کے تمام اجزا کو مجتمع کرکے اپنے من کے گیان میں کھو کر وجدان سے روح کو لذتوں سے سرشار بھی کرتے رہے ۔ مگر ایسا ہے کہ دنیا میں روح کی انتہا پر چلنے والی مجنون بن کر بار گاہ خد میں مقبول و منظور ہوجاتے ہیں مگر وہ انسانیت کی فلاح کے لیے کم کم کر پاتے ہیں ۔

اسلام میں اس کی جانب اشارہ ہے کہ شک و شبہ میں نہ پڑو مگر اسلام نے غورو فکر کو سلاسل میں قید نہیں کیا ہے۔ اسلام متوازن سطحوں پرچلتا ہے ۔ اور جو لوگ درمیانی راہوں پر چلتے ہیں ، تاریخ ان کے ناموں کو متوازن شخصیت قرار دے کر دنیا والوں کو راستہ دکھاتی ہے کہ دنیا میں رہ کر فقیری اختیار کر ، دنیا کو دوسروں کے لیے سمجھو ، اپنے لیے نہ سمجھو ۔ اس لیے قرانِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ دین میں میانہ روی یا اعتدال اختیار کرو۔ یہی راستہ بھلائی و بہار کا ہے ، ہر دو انتہائیں زندگی میں خزاں بن کا روپ اختیار کرلیتی ہیں ۔ اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبتی ہیں ۔ پتا نہیں ! پتا نہیں ۔۔۔ ہم میں سے کتنے ڈوبیں گے اور ساتھ کتنوں کو لے ڈوبیں گے ۔
افسوس ! آج عقل نے انتہائے عقل کردی ، اور شعور ہی شعور رہ گیا ، اور اللہ کا خلیفہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! شاید کہیں گم ہے ، شاید وہ موجود ہے ، شاید ہمیں اس کی سمت نہیں مل رہی ہے ، شاید ہمارے ''قطب نما ''نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے ، شاید مرکز سے رشتہ ریختہ ہوگیا ہے ۔اور پھر سب کی نظروں میں عاقل کا چہرہ سما جاتا ہے ۔

کینوس



''وہ'' اپنے کمرے کے اطراف کا جائزہ لے رہی تھی ۔کمرہ رنگوں کی خوشبو سے مہک ہوا تھا۔ کبھی ایک پینٹنگ کو تنقیدی نظر سے دیکھتی اور کبھی دوسری کو دیکھتی اور یونہی ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے ''میں'' سے مخاطب ہوئی​

''میں'' تم نے یہ پینٹنگ دیکھی ہے ؟ اس میں سارا رنگ اسکیچ سے باہر نکلا ہوا ہے ۔۔۔ پتا نہیں کب رنگ بھرنا سیکھو گی ؟''​

میں نے ''وہ'' کو دیکھا، جس کا انداز مجھے بہت کچھ جتا رہا تھا۔۔۔ میں نے ''وہ'' سے کہا:​
'' جب میں نے رنگ بھرنا شروع کیا تھا۔۔۔ مجھے ایک بنا بنایا سکیچ دیا جاتا تھا۔مجھے اس میں رنگ بھرنا آسان لگتا تھا۔اب میں کبھی اسکیچ کو دیکھتی ہوں تو کبھی رنگ کو ۔۔۔۔۔ اس کشمکش میں رنگ باہر نکل آتا ہے''​

''وہ '' نے ان پینٹنگس سے توجہ ہٹائی اور مجھے دیکھنے لگی ۔۔۔ارے یہ کیا ''میں'' تمہارے چہرے پر قوسِ قزح پھیل کر کپڑوں تک کو خراب کر رہی ہے ۔'' یہ کہ کر ''وہ '' ہنس پڑی​

''میں'' نے اسے جواب دیا کہ شروع میں سب ہی مصور رنگ بھرے کپڑوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں ، ہنستے ہیں ۔۔۔ تمہیں کیا پتا یہی رنگ تو سرمایہ ہے ۔۔۔ یہ دیکھو سبز رنگ ! میرا چہرہ کس قدر حسین لگ رہا ہے ۔۔۔ یہ نیلا ،پیلا رنگ میرے کپڑوں پر لگا ہے۔ انہی رنگوں کی خوشبو سے تو مجھے مزہ آتا ہے ''​

وہ کئی لمحات تک مجھے دیکھ کر مسکراتی رہی اور کہا: اس لیے تم نے ادھورے اسکیچ مکمل نہیں کیے ۔۔۔ جب یہ مکمل کرلوگی تو تم پر رنگ بھی جچیں گے ورنہ سب رنگ تمہاری ذات سے نکل کر بھی مصنوعی تاثر دیں گے ''​

''میں '' دل ہی دل میں ''وہ '' سے قائل تو ہوگئی مگر ہتھیار پھینکنے پر دل آمادہ نہ ہوا اور بولی:​

'' یہ دیکھو ۔۔۔ادھر آؤ۔۔۔ یہ پینٹنگز دیکھو ۔۔۔۔جن کے اوپر سفید چادریں ہیں ۔۔۔ان کو میں نے ان سے کور کیا ہے تاکہ کوئی ان مکمل اسکیچ دیکھ نہ سکے ۔۔۔بس سب سفید ہی نظر آئے ۔۔۔۔''​

''وہ '' نے جب وہ خالی اسکیچ دیکھے تو داد دیے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔اور پھر چونک کر کہا ۔۔۔تم نے اتنے سارے اسکیچ ادھورے چھوڑ کر صرف ایک ہی پینٹنگ میں سرخ ، پیلا اور پھر نیلا رنگ بے ہنگم طریقے سے بھرا ہوا ۔۔۔اچھی بھلے خاکے کا ستیا ناس کر دیا ہے ۔۔۔شاید اس لیے اس کو بھی غلاف سے ڈھکا ہوا۔۔۔''​

''میں '' وہ کی چالاکی پر حیران ہونے سے زیادہ پریشان ہورہی تھی ۔۔۔مجھے معلوم نہ ہوسکا وہ اس قدر گھاگ نکلے گی ۔ابھی سوچوں میں گم ہی تھی ۔وہ پھر سے مخاطب ہوئی :​

''تم ایک کام کرو، اپنے سارے رنگ خود سے اتار پھینکو ۔۔۔ !! بلکہ ایسا کرو اس رنگین لباس کو سبز، نیلا ،پیلے ، جامنی، سرخ ، اورنج اور نارنجی سے ملا کر سفید کردو ۔۔۔ تاکہ تمہارے رنگ بھی ان غلافوں کے رنگوں سے مل جائے''​
آخری تدوین: ‏اپریل 3, 2016

منتشر ‏خیالات

منتشر خیالات
مایوسی ایسا دلدل ہے جس میں آپ نے خود گرنا ہوتا ہے۔اس کے آس پاس لہراتے بازو آپ کو کھینچنے کو کوشش میں رہتے ہیں ۔ جب آپ توازن کھو دیتے ہیں تو دو انتہائیں رہ جاتی ہیں ۔ایک انتہا آپ کو مسٹسزم کی طرف لے جاتی ہے اور دوسری ڈینائیل کی طرف، جب آپ مرتد ہو جاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے دو انتہاؤں کے درمیان رہنے والے کیا منافقت کا لبادہ اوڑھے ہیں جسے عام زبان میں انسانیت کہا جاتا ہے ۔ 

جب میں چھوٹی بچی تھی تب میں ان انتہاؤں میں نہ ان کے مابین تھی ۔ میں معصوم تھی ۔ اس کی دلیل بھی معصومانہ سی ہے ۔ پانچ سال کی عمر میں یہ خیال کرتی تھی میں نے گناہ دو کیے ہیں یا ابھی ایک کیا ہے جب تک تین گناہ نہیں ہوں گے اللہ تعالیٰ معاف کرتے رہیں گے یا نماز چھوٹ جایا کرتی تھی تو سوچا کرتی سات سال کی عمر میں فرض ہے اگر چھوٹ بھی گئی تو کیا ہے ۔ بڑے ہو کر یہی معصومیت منافقت میں بدل گئی ۔ کیا ہوا میں نماز نہیں پڑھتی میں کلمہ گو ہوں ۔ کوئی مدد کو آئے تو گمان ہو کہ ان کو عادت ہے مانگنے کی سو مانگتے ہیں 

اور جب میں میٹرک میں تھی تو مجھے نعتیں ، قرانِ پاک تفاسیر سے بہت لگاؤ تھا سچ بتاؤں تو مزہ بھی بہت آتا تھا÷ پانچ وقت کی نماز پڑھ کر خود کو جنتی سمجھا کرتی تھی ۔ قیامت کا سوچ کر مجھے شاہکارِ کائنات نورِ مجسم ، امامِ انبیاء ، بانی حوضِ کوثر کا خیال آجایا کرتا ۔ اور میں حضرت امام حسین پر اتنی فدا تھی اکثر ان کی بات کرتی رہتی تھی ۔ یہ خیال کیا کرتی میں لباس پیوند زدہ پہن کر سنت پوری کر رہی ہوں ۔ اللہ سے سوال تب بھی کرتی تھی ۔ اللہ مجھے اپنی محبت عطا کر مجھے جنت و دوذخ کے انعام و سزا میں نہ ڈال ۔ یہ بات کہنے کی حد تک تو آسان مگر کرنے کو مشکل تھی ۔ 

میری عادت ایک تو بڑی گندی ہے میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتی ہوں ۔ شکوے کرکے ان کے جواب لکھ دیتی ہوں گویا کہ میں اقبال ہوں ۔شکوے کا طرز تو اقبال سے ہی سیکھا تھا ورنہ جواب شکوہ بھی نہ لکھا کرتی ۔آپ لوگ پریشان ہوں گے جوابِ شکوہ کہاں ہے ۔ اسی محفل کی کسی لڑی میں پڑا ہے مگر خدا گواہ ہے جب لکھا تب خود کو معلوم نہ تھا میں کیا لکھ رہی ۔بس اتنا میں لکھ رہی ہوں جس طرح اب لکھ رہی ہوں۔ لکھنے کے لیے غم کی مے دستیاب ہوتی ہے وہ نہ ملے تو بازار کا سٹاک بھرا ہوا ہے ۔ اکثر شعراء کو میں نے دونوں طرز کے مشروبات نوش کرتے پایا ہے (سنا) بے خودی کے عالم میں انسان شاہکار تخلیق کرتا ہے ۔ اب پتا نہیں اس بات میں کتنی صداقت ہے

متلاشی

'میں نے اپنے ارد گرد جنگیں دیکھیں ہیں ۔ کبھی کبھی ارد گرد بکھرا خون مجھے اپنا سا لگنے لگتا ہے ۔ چند دنوں سے اس جاری جنگ کے احساس نے مجھ میں اتنے خون کر دیے ہیں کہ یوں لگتا ہے باہر کی دنیا شفاف ہے اور اس پر بکھرا خون میرا ہے اور اسکو میرے من نے جذب کرلیا ہے ''

''یہ جنگ کس کے درمیان ہوتی ہے؟ ''میرے قریب بیٹھے سفید پروں والی عجیب الخلقت مخلوق نے سوال کیا ۔

''پتھروں کے درمیان ۔۔۔! ''میں نے اس کے سوال سے بھی مختصر جواب اس کو دیا ۔

'' پتھروں کی لڑائی تم نے کہاں دیکھی ہے ؟ اور کیا پتھروں کا خون تمہارے من نے جذب کر لیا ہے ؟ '' اس نے دھیمے لہجے میں شائستگی سے پوچھا ۔

ہاں ! آج کل پتھروں کی لڑائی ہی ہوتی ہے ۔ کبھی تم نے شفاف ، نیلے، سبز ، سرخ ، ست رنگی پتھر دیکھے ہیں ؟

''کل دو پتھر ایک دوسرے سے تلوار اٹھائے لڑ رہے تھے ۔ ان میں سے ایک زخمی ہو کر زمین کے نیچے چلا گیا اور دسرا زمین کے اوپر ۔۔۔!!
اور پھر جب میں بھی اس کے پیچھے زمین کے نیچے گئی تو وہاں مجھے یاقوت چمکتا ہوا ملا ۔ ''

سفید پروں سے نور کے دھارے میرے چہرے سے ٹکرا کر روشنی بکھیرنے لگے جس نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا اور اس نے پوچھا :

''گویا تم کان کن ہو ۔۔؟

'' نہیں '' !!!
'' میرا نام متلاشی ہے ، مقدر میں سفر لکھا ہے۔۔۔!! ایک دم میری دست شہادت سے سرخ روشنی نکلنے لگی اور اس کی سفیدی سے مل ہلکا نارنجی بنانے لگی ۔

''وہ عجیب الخلقت مخلوق مجھ سے دور ہوگئ اور کہا یہ پتھر تم نے پہن کر سوراخ بھر دیا ۔ سوراخ کو پتھروں سے بھرنے کا ہنر اچھا ہے ، کسی خاکی نے یہ کیا عجب تماشہ کیا ہے مگر چھید بھرنے کا طریقہ اور ہوتا ہے ''

مجھے اس کی باتوں میں پراسراریت محسوس ہوئی اور میں خود بھی اس سے دور ہٹ گئ ۔

'' تم نے یاقوت کو پہن کر اچھا نہیں کیا ، کیا اچھا ہوتا ہے کہ اس کو پگھلا کر چھید بھرتی ۔ پہننے سے صرف روشنی منعکس ہوتی ہے جبکہ اس کو حصہ بنانے سے روشنی وجود سے نکل کر چار سو بکھرتی ہے اور جہاں کے مظاہر اس کو منعکس کرتے ہیں ''

''گھاٹے یا منافع کا سودا کیا ؟
اے نیک صفت !
مجھے تو سوراخ سے مطلب !

میں تمہں ایک ایسے غار میں لے چلتا ہوں جہاں پر تمہاری طلب کی حد ختم ہوجائے گی اور تم شاید اور کی تمنا نہیں کروگی ۔ اس کے ساتھ میں اس غار میں چل دی ۔ غار کا دہانہ کرسٹل کی شکل میں آسمانی رنگ کی شعاعیں بکھیر رہا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے وہاں ڈھیر سارے نیلے سیفائرز کو پایا جن کی آب وتاب سے تاریک غار روشن تھا ۔ تب عجیب الخلقت مخلوق آگے بڑھی جس کے پروں سے وہی نیلے رنگ کا انعکاس ہونے لگا تھا۔ ان میں سے ایک بڑا پتھر اٹھایا اور اس کو ہاتھ میں پکڑا ۔ جیسے ہی اس نے پتھر پکڑا ، وہ پتھر ریزہ ریزہ ہوگیا ۔پھر میری طرف متوجہ ہوا

'' یہ لو ''
'' ان ٹوٹے ریزہ ریزہ پتھروں کا میں کیا کروں گی ؟ اگر دینا تھا تو آب و تاب سے بھرپور مکمل پتھر دیتے ۔۔!!!''

پہلی بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے میرے اندر جھانک رہا ہوں اور پھر بولا۔

'' لال جو باہر انگشت شہادت میں پہنا ہوا ہے اس کا اصل تو انگشہت شہادت کے زیریں ہے ۔اس نے '' گرد'' کو خود میں جمع کر لیا ہے اور
تمام کثافتوں کو اپنے اندر مدغم کرلیا ہے ۔۔۔۔ ''

اس نے اشارہ کیا اور اس کے ہاتھ سے نکلے پتھر کے نیلے ریزے جیلی کی شکل اختیار کرتے گئے اور وہ جیلی ایک ہی جھماکے سے اندر کہیں جم گئی ۔''

میرے اندر طمانیت کی لہر اتر گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ خاکی ارض پر وجودیت نے نیا روپ دھار لیا ہے مگر کس طرح ہوا ، اس کا اسرار جاننا مشکل تر کام ہے۔

'' تمہارے اندر '' یاقوت '' ہے اور تمہارے خون میں '' سیفائر '' ہے ۔ ہاں ایک بات یاد رکھنا : تمھیں 'زمرد ' کے قابل بن کر ''ہیرے '' کا متلاشی بننا ہے اور ۔۔۔ اگر تم نے '' سونا'' ڈھونڈنا شروع کردیا پھر کچھ بعید نہیں کہ دھوکہ میں رہو اور دھوکہ دو۔ ایک ایسا پتھر ' ہیرا' جس کو '' خالص ہونے کے لیے کڑوڑوں سال کی سورج جیسی تپش اور کشش کے دباؤ نے بنایا اس کو تلاش کرچکنے کے بعد تمہیں میری ضرورت نہیں رہے گی ۔ کڑوڑوں سال کا فاصلہ تم سالوں میں طے کرنا کا موقع مل رہا ہے ۔

میں سوچ رہی تھی کہ '' ست رنگی '' ہوگا تو شفاف بھی ہوگا ۔میں اپنے سفر پر نکلی تھی اور یہ عجیب راہیں بتا رہیں ہیں ۔

اُس نے میری سوچ شاید بھانپ لی : ''ست رنگی تمھی ''زیفرقستان'' میں ملے گا اور امید تیقن کے ساتھ '' ہیرا'' انہی خاردار راہوں میں چھپا ہے ۔انسان کی اصل پہچان ست رنگی سے ہوتی یک رنگی ہوجاتی ہے ''

'' میری سمجھ سے سرخ ، سبز ، نیلا ، ست رنگی اور یک رنگی باہر ہے ، بالکل ایسے جیسے کوئی دوسری زبان ہو ''

'' سفر شروع کرنے سے پہلے سوال کرتے نہیں ، کہ یہ سفر بذات خود ایک 'سوال' ہے اور سوال کے اوپر سوال جچتا نہیں ۔ سفر کے دوران سارے سوال ایک ہی سوال میں ختم ہوجائیں گے بس اس سوال کا جواب منزل تک پہنچا دے گا

اس کے بعد میں نے سوال کرنا چاہا مگر وہ غائب ہوگیا ۔ اس نے ہونا ہی تھا کیونکہ سحر کی آمد آمد تھی ،مرغ بانگ دے رہے تھے ۔ میں نے آسمان پر ستاروں کو دیکھا اور وضو شروع کردیا۔