Sunday, November 22, 2020

رنگ پردیسی کو مل گئے

 رنگ پردیسی کو مل گئے

رنگ پردیسی کو مل گئے
پرواز کو پر اب مل گئے
سج دھج کرکے اڑنا ہے
راج اب فضا میں کرنا ہے
لڑنا ،جھگڑنا لڑ لڑ کے منانا
ستم سہنے کا نیا طرزچلانا
وچھوڑے دا غم جاندا نہیں
کسی ویلے بس ہن رہندا نہیں
ماں تُوں دوری بڑا ستاندی اے
اکھ ہن نیر وگاندی نیں
غم دی گل کریندے گل مک جانی
مٹی وچ مٹی ایویں ای مل جانی

اس کی ذات جلوہ گر ہے ۔ نور محمد کے سکون بخش سر فضاؤں میں بکھر رہے ہیں ۔ اور میں مسافر ، مسافروں کے سامنے رقص کیے جارہی ہوں ۔
ظاہر سے لگے ہے کہ میں ہوش کھوئے جارہی ہوں ۔ میرے یار کی بخشش مجھے مدہوش کیے جا رہی ہے ۔
اس نے سدھ بدھ مجھے دے کر میرے سارے بے کل سوتے اپنے پاس رکھ لیے ہیں ۔ سبھی تاروں کو اکٹھا ملائے جارہا ہے اور اپنے ذکر کی مالا پروئے جارہا ہے ۔
مجھے وہ وحدت کی راہ دکھائے جارہا ہے ۔میں تو ہواؤں کی بستیوں میں گم ہوتی جارہی ہوں میری ذات دھواں دھوان ہوتی جارہی ہے ۔
میرے یار کی تجلی بڑی میٹھی ہوتی ہے ، سکون بخشتی ہے ایسا کہ دل گداز سے بھر جاتا ہے اور آنکھ نم ہوتے بھی نم نہیں رہتی ،
ملن کا احساس لہریں لینے لگتا ہے کہ انجانی کشش خوشی کی لہریں بہاتی ہیں ۔
حق ! محمد محمد ! حق ! علی علی ! حق ! حسین ! حسین ! حق ! حسن ! حسن ! حق ! فاطمہ ! فاطمہ ! حق ! عائشہ عائشہ! حق ! خدیجہ ! خدیجہ ! حق ! مریم ! مریم !
اتنا کرم ہوگیا مجھ پر ! ان سب کا سایہ مجھے مل گیا ! مجھے ان کا سایہ مل گیا ! ان کی روحیں جیسے میری روح سے مل گئی ہیں !
میں کیا جانوں کیسے ملن ہورہا مگر میں مل رہی ہوں ! جانے کیسے ! جانے کہاں ! جانے لا مکانی میں ! جانے کہاں کس نگر میں ہوں مگر سب میرے دل میں ہیں !
سب کچھ دل میں ہورہا ہے ! ساری کائنات تو میرے دل میں ہے ۔
حق ! حق! یا علی ! یا علی ! یا علی ! یا علی ! یا علی ! یا علی ! حق یا حسین ! یا حسین ! حق ! یا حسین ! حق ! یا حسین
ان کی نظرکرم مجھ پر رہے یا مالک دوجہاں ہمیشہ تا ابد ۔
حق ! حق ! لوگو ! مجھ پر کرم ہوگیا ! میری آنکھ نم ہے کہ اس سے بڑا کیا کرم ہوگا ! اس سے بڑی کیا رحمت ہوگی !
سنو ! کوئی رحمت اتنی زیادہ نہیں جتنی مجھ پر ہوئی !
حق ھو ! حق ھو ! حق ھو ! حق ھو !
اے صدیق اکبر ! سلام ! اے سیدنا صدیق اکبر سلام ! اے صدیق اسلام ! اے دین محمدی کے غم خوار ! سلام ! آپ کو سلام ! قبول کیجئے سلام !
حق ھو ! حق ھو !
اے سیدنا عثمان ! اے نرم خو ! اے عالی مرتبت! سلام ! سلام ! سلام! سلام! اے جلال بادشاہ ! سلام ! سلام !
یا عمر عزیزی یا عمر عزیزم ! اے میرے ہم نشین ! اے میرے عزیزم سلام ! سلام میرے دل ! سلام میرے رہبر! سلام اے جلال بادشاہ !
اے میرے پادشاہ ! سلام ! اے بادشاہ گر ! سلام ! قبول کیجے میرا سلام ! اے سردار سخا ! اے امین الامت ! سلام ! سلام !
اے میرے طلحہ ! تیری قربانیوں کو سلام !
اے میرے دلبر ! اویس ! سلام !! سلام! سلام ! یا سید الفقراء یا حیبیب کبریاء سلام یا اویس سلام !
اے حبشیوں کے سردار سلام ! سلام اے خوش الحان عبد ! سلام ! سلام سلام ! ا
اے علی ! شاہ مرداں! شیر یزداں ! اے باب العلم ! اے علی ! سلام ! سلام سلام ! مجھ غلام کو اپنی غلامی میں قبول کیجئے !
اے سیدنا ابرار عالیجاہ ! میں کیسے کروں اس کرم کا شکر ادا ۔ آپ کی ہوئی نگاہ اس محفل مقدس کی نیک ارواح کے درمیان مجھے حاضری کی سعادت سے نوازا!
میرا سر آپ کے قدموں میں ہے ! میری روح مکمل آپ کی اطاعت میں ہے ! اس اطاعت کو اپنی رحمت سے دوگنا کرتے میرے سر پر ہاتھ رکھ دیں !
آپ کی رحمت سے بندی چل رہی ہے ! اے میری جان ! اے میرے دل ! اے میرےحضور ! اے عالی مقام ! میں کیا بیان کروں آپ کا مقام !
اے عالیشان! اے عالی نسب ! مجھے اپنے ساتھ لگا لیجے! اپ سے نسبت بڑی سچی ہے ! مجھے آپ کے محبوب سے سچی محبت ہے !
حق ھو ! حق ھو !
سلام ! اے خلیل اللہ! سلام اے خلیل اللہ ! اے شہنشاہ الانیباء ! میرے آقا کے جد ! اپ کو بے حد سلام !
اے میرے موسی ! اے سچے کلام کرنے والے ! اے جمیل عالی انسان ! اے نبیوں میں لاڈلے نبی ! سلام ! سلام ! سلام ! سلام!
اے میرے عیسی ! اے میرے عیسی ! اے میری روح ! اے میرے دل ! اے میری جان ! اے میری جان! سلام ! سلام ! سلام ! سلام!
اے یحیی ! سلام ! سلام ! اے سچے غم خوار سلام ! اے سید البشر ! آپ کے مسکراتے سد ابہار چہرے پر سلام ! ! سلام !
اے میری اماں حوا ! اے میری ماں ! سلام! سلام ! اے میری عظیم ماں ! سلام ! قبول کیجئے سلام ! سلام
اے سردار و ہادی ! اے شیث علیہ سلام ! آپ کو میرا سلام ! سلام ! سلام ! سلام ! سلام!
اے اللہ کے منتخب بندو اے اللہ کے اطاعت گزارو تم سب پر میرا سلام ! سلام ! سلام ! سلام!
میری روح خوشی سے نکلنے کو بے قرار ہے ! مولا کیسا کرم کردیا ! میں اس قابل تو نہ تھی !
اے مالک ! میری ذات بڑی چھوٹی تھی ! بڑی پست تھی ! مین ذلیل تھی ! مجھے کتنا اونچا کردیا !
اللہ جی ! اللہ جی ! مجھے اونچا کردیا ! اللہ جی مجھے عالی کردیا ! اللہ جی ! مجھے کتنا عالی کردیا !
اللہ جی ! اللہ جی !حق مالک ! تو ہی تو ! حق ھو

مصور ابھی ترتیب میں لا رہا ہے
آئینہ کو آئینہ میں لگا رہا ہے
جمیل کو جمال میں سجا رہا ہے
کمال کو کمال سے ملا رہا ہے
مرضی کا جلال دیے جارہا ہے
مصور ابھی ترتیب میں لا رہا ہے

لکھتے لکھتے ہاتھ رک سا جاتا ہے
سچ کو سچ مانتے دل کانپ جاتا ہے
حقیقت کو پاکر لرز سی اٹھی ہوں
کیا لکھ رہی ہوں ، حیران ہو گئی ہوں
لکھ کے خود بھی حیران ہوں
روح کو کیسی کیسی نسبت ملی ہے
میں اپنی راہ چننے نکلی تھی
میری روح نے مجھے خبر دی
مجھے ہے خاتم الانبیاء سے بیعت
مجھے ان کے اتباع میں رہنا ہے
خدمت انساں میں محو رہنا ہے
میرا دل علی کے پاس ہے
میرا نور حسین کے پاس ہے
میں حسینی چراغ ہوں
مجھے عشق فاطمہ سے ہے
مجھے عشق عائشہ سے ہے
مجھے عشق خدیجہ سے ہے
میرا عشق علی ہے
میرا عشق عمر ہے
میرا عشق صدیق ہے
میرا عشق عثمان سے ہے
میں ان کے رنگوں کو پانا چاہتی ہوں

مجھے حیا کا پاس فاطمہ سے ملا
مجھے تقدس کا خیال مریم سے ہوا
مجھے ماں کا احساس اماں حوا نے دیا
مجھے حسن کا احساس عائشہ سےہوا
ہائے! کن کن کی مجھ پر نظر ہے
کس کس احساس نے رنگ دیا ہے
یہ بڑے کرم کے فیصلے ہیں
یہ بڑی نصیب کی بات ہے
میں لکھتے لکھے حیرت کناں ہوں
میرے ہاتھ کی لرزش مدھم مدھم ہے
میری روح کا احساس بے حد نرم ہے
جمال کا سایہ مجھ پر ہوگیا ہے
میرے حبیب شہِ ابرار کی نظر مجھ پر ہوئی
ان کی تجلی کے کمال سے لکھ رہی ہوں
پر لطیف سا احساس ہے
ہر شے رک سی رہی ہے
ہر شے میٹھی سی ہے ،
دل میں میٹھا میٹھا نشہ سا ہے
ابھی تو اس کی ابتدا ہے
جامِ جم کا موسم چل رہا ہے
جمال ، جلال کا موسم چلا ہے
بہار کے موسم میں تجلی کی برسات
خوشی کا جاوداں احساس پالیا ہے
میں اس کے نشے میں گم !
کیا بتاؤں محبت کا خمار !
عجب سا لطف سرشار رکھے
رگ و پے میں پیار سرائیت کرے
یہ احساس نور کی ترجمانی ہے
نور کا احساس میری بیانی ہے

تخلیق وجہِ بشر

 تخلیق وجہِ بشر


وہ جو روح کی اساس ہے
اسی سے بجھتی پیاس ہے
لا الہ سے بنائی گئی ہے کائنات
الا اللہ سے سجائی گئی کائنات
محمد رسول اللہ سے جلا پائی کائنات
انسان سوچتا ہے کہ کائنات کا جھمیلا ، رولا کیا ہے ؟ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ وہ اوپر مسند پر بیٹھا ہے اس کو کیا ضرورت ہے انسان کی ؟ ملائک کی اس کی رکوع ، سجود ، قیام کی مختلف حالتوں میں عبدیت کا حق ادا کر رہے ہیں ۔ انسان کیوں خلیفہ بنایا گیا جبکہ تحقیق کا مادہ تو جنات کے پاس بھی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مادہِ تحقیق و شک --- جس کی بنا پر ابلیس نے تکبر کیا اور بارگاہ ایزدی میں ملعون و محجور ہوا ۔۔۔ آدم علیہ سلام کو خلافت دی گئی اور تمام مخلوقات میں نیابت کی تلوار تمھا دی گئی ۔۔۔۔۔ابلیس جس نے ہزار ہا سال رکوع میں تو ہزار ہا سال سجدے میں ، ہزار ہا سال قیام کی حالت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار کیا تو کیا وجہ تھی وہ آدم علیہ سلام کو دیکھ کے متکبر ہوگیا کہ وہ عبادت میں آگے ہے ۔ آدم علیہ سلام کو سب ملائک نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا ۔۔۔ سوچ ، خیال ، وہم ، شک کا مادہ تو ابلیس کو دیا گیا مگر وہ اپنے رب کو پہچان نہیں سکا ۔۔۔اگر وہ عارف ہوتا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ انکار کیسے کرتا ؟ سالہا سال کی عبادت نے خالق کی پہچان نہ کرائی اور آدم علیہ سلام تخلیق کے وقت بھی عارف تھے ۔۔۔۔۔۔۔ جب حضرت آدم علیہ سلام نے ممنوعہ شجر کو چکھا تو غلطی کا ادراک بھی ہوگیا ۔۔۔۔ ان کی غلطی میں تکبر میں نہیں تھا اس لیے توبہ کی گنجائش رکھ دی گئی اور توبہ بارگاہ خداوندی میں مقبول بھی ہوگئی جبکہ ابلیس کو ہمیشہ کے لیے جہنم واصل کردیا گیا ۔۔تکبر اتنا بڑا جرم ہے کہ یہ شرک تک لے جاتا ہے ۔ ابلیس نے یہی غلطی کی کہ اس نے سمجھا کہ اس کی عبادت سے اس کو بھی خدائی مل گئی ہے جبکہ وہ تو بہت چھوٹا ثابت ہوا ۔۔۔۔۔۔اللہ عزوجل نے سب گناہوں کا کفارہ رکھا ہے مگر شرک کا نہیں رکھا اور نہ ہی اس کی کوئی معافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔


انسان کے اندر شک و یقین دونوں کے مادے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ شک کا مادہ انسان کے اندر رکھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ یہی انسان کو بے سمت خلا کا مسافر بنا دیتا ہے اور جب یقین کو مستحکم کرتا ہے تو یہی انسان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی پہچان کرا دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کائنات کا سیاپا انسان کے لیے سجایا گیا ۔۔۔۔۔۔اللہ کی تلاش کے لیے ادھر ادھر بھاگنے سے نہیں بلکہ خود کی ذات میں محو رہنے سے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ذات خدا باری تعالیٰ کا جلوہ ، خود میں معجزن ہے ۔۔۔ اس کے لیے کسی در سے بھیگ مانگنے کی ضرورت نہیں کہ جب آپ کے اندر سوال اٹھنے شروع ہوجائیں تو سمجھ لیجئے کہ علم کی جانب سفر کا آغاز کرلیا ہے ۔ جب سوالات کے جواب ملنا شروع ہوجائیں تو جان لیجیے کہ معرفت کے راستے پر قدم رکھ لیا ہے ۔۔ اپنے اندر کے سوالات پر غور کرنے سے انسان نئی دنیا تلاش لیتا ہے ۔۔۔جبکہ اپنی ذات میں موجود سوالات کے چراغ بجھانے سے نور الہی کی جانب کے سبھی راستے تاریک ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ہائے ! انسان اس دنیا میں دنیا کو فتح کرلے تو کیا حاصل کہ سکندر دو گز زمین کا ٹکرا ہی بوقت موت لے پایا جبکہ علم ذات سے نفع حاصل کرنے کے بعد قلندر دنیا کو پاؤں کے نیچے رکھتا ہے ۔۔۔۔۔قلندر کے دل کی دنیا کی اتنی وسیع و روشن ہوتی کہ دنیا سے رخصت کے وقت اس کے پاس وسعتوں کا جہاں ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔بلاشک ! انسان اس دنیا سے کچھ نہیں لے کے جائے گا مگر اپنی ذات کے علاوہ !

کائنات کا سیاپا انسان کی پہچان سے شروع ہوا ۔۔۔۔۔جوں جوں احساس کی مٹی سے محبت کے سوتے خالق کل کی جانب رواں دواں ہونے لگتے ہیں تو اس رولے و سیاپے کی سمجھ آنا شروع ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔اندر بڑا نور ہے ! اندر بڑا جلوہ ہے ! اندر رہنمائی ہے ! اندر کبریائی ہے ! کائنات کی ابتدا و انتہا کے سبھی سوالات کا جواب ''اندر'' سے ملتا ہے ! بندے باہر کی دنیا بناتے ہیں ۔ بنگلے ، گاڑی ، نوکر چاکر اور تعیشات زندگی حاصل کرنے کے لیے عمر گنوا دیتے ہیں ، نور خدا کو بجھادیتے ہیں ! حاصل ذات ! ان کے پاس دم رخصت جاتے وقت اس جہاں سے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ حسرت بھری نگاہ سے پیاروں کو دیکھتے ہیں کہ یہی پیارے ان سے منہ موڑے بیٹھے ہیں کہ جن کے لیے زندگی میں رشوت لی ، چوری کی ، برے کام کیے ! آج وہی بھول گئے ! خالق کے لیے کیا کیا ؟ اپنے لیے کیا کیا ؟ کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندر بسی کائنات کی مسند پر ''نور الھدی'' جلوہ گر ہے جب انسانی ذات اپنے سارے وہم و شکوک ختم کرکے اللہ کی جانب رجوع کرلیتی ہے تو جان لیتی ہے کہ حقیقت اصلی و بشری کیا ہے ؟ انسانی نیابت و خلافت کا احساس -------وہ احساس جو سید البشر بوقت تخلیق لے کے پیدا ہوئے تھے کہ ان کی روح اللہ کی قربت میں تھی ---- انسانی روح جوں جوں اللہ کے قریب جاتی ہے تو اس کو ''قالو بلی '' کا عہد تازہ ہوجاتا ہے ۔۔۔وہ عہد جو اللہ سبحانہ نے تمام ارواح سے لیا تھا ! اللہ چھپا ہوا خزانہ ہے ! جب ایک پہچان کا در وا ہوتا ہے تو شیطان ''سو وہم'' انسان دل میں جگا دیتا ہے اور جب بشر ان اوہام کو مارتے اللہ کی جانب دوسری پہچان کی سیڑھی پر قدم رکھتا ہے تو شیطان ہزار قسم کے وساوس اس کے دل میں بھر دیتا ہے !

سجدہ

 بات اُسکی سمجھائی جاتی ہے، جو سمجھ رکھتا ہو.سمجھدار جانتا ہے.عقلِ کُل، علم و فن میں یکتا ایک قوت ہے جس نے میرے باطن کو اپنے نورِ سے بھرپور کردیا.جب وساوس کے جال، خدشات کے تانے بانے مکڑی کے جالے بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کا لیس ختم ہوجاتا ہے. کہنے کو ہر شے باطل ہے ماسوا نور کے جو جسم میں قید ہے، روح میں مکین ہے. یہی دہکتی گلنار روشنی ہے جو بےخطر آگ میں کودنے پر مجبور کرتی ہے. یہی ہے جس نے ہر رگ میں یاد کے دس دروازے رکھے ہیں. ہر در پر اللہ لکھا ہے. جیسے جیسے ذکرِ یار میں وجدان سلجھنے لگتا ہے، شمع کو احساس مل جاتا ہے. وہ احساس کہ وہی مکین دل سے لامکان کی بلندیوں پر ہے. وہ پہنچ سے ہوتے پہنچ سے باہر ہے. وہ بصارت میں ہوتے بصیرت سے باہر ہے. وہ ادراک کے پنجرے میں علم کا وہ بحر ہے جسکی حد نہیں ہے. بے حد، لامحدود ذات کے آگے کم مایہ ذات سربسجود ہوجاتی ہے. یوں لگتا ہے وہی باقی ہے باقی سب ختم شُد ... یہیں سے صدیوں کے فاصلے سمٹنے لگتے ہیں. قافلے چلتے رکنے لگتے ہیں. یہی مقام ہے جہاں خبر کونے کھدرے سے اکثر نمودار ہونے لگتی ہے. احساس لکھنے بیٹھ جاؤں تو شاید اک صدی بیت جائے یا اس سے زائد تو کون لکھنے میں وقت کو کاٹے. احساس بھی شمع کی مانند جلتا رہتا ہے روشن کیے رکھتا ہے. یہی سجدہ ہے

انداز

 خُدا میرے غم میں شریک ہے، میری خوشی باعثِ شرک ہے. نوحہ اسکی یاد نہیں مگر یاد اسکی آتی ہے مگر خوشی جب ملتی ہے اسکی یاد نہیں رہتی. دل کی.بے کلی اسکے ہونے سے مشروط نہیں مگر بے کلی کے قرار میں باعث مددگار تو وہی ہے. خیر کہ وجود اسکا کہاں ہے وہ ہے وجود بنانے والا ہے تو وجود بنانے والا بس تاحد نگاہ سے دور ہے. جیسا کہ ایک قوی ہیکل کے ہاتھ میں پتھر اور اس پتھر کو زمین کہیں تو اس میں رینگنے والے اسکو کہاں دیکھ سکتے مگر وہ سب کو دیکھ سکتا ہے سوال یہ ہے کہ وہ دوربین ہے تو ہمیں بھی دور کی نگاہ عطا کردے. اگر دل کی کیفیات اصلی نہ ہوتی تو میں روح کی ہر شے سے منکر ہوجاتی مگر جب کبھی بھرپور طاقت سے روح کے انکار میں مصروف ہوتی ہوں تو اسی شدت سے روح کا احساس ہونے لگتا ہے تب احساس ہوتا ہے وہ موجود ہے مگر میں نہیں ہوں ...میں چل نہیں رہی، وہ چلا رہا ہے، میں ایک کٹھ پتلی جسکی دوڑ اسکے ہاتھ میں ہے. خیر محسوسات ہر انسان پر ایک جیسے وارد نہیں ہوتے اس لیے دوسرا انسان ان کی ضد میں آجاتا ہے، اسکا ضد میں آنا اسی شدت سے خیال کے موجود ہونے کی دلیل ہے جیسا کہ.وجود سے گلاب کی خوشبو محسوس کرنا ... ہر کوئی محسوس نہیں کرسکتا...یہ مافوق الفطرت تو مافوق ہوئ اسکو سمجھ آتی ہے جس پر فطرت سے اوپر کچھ برتا جائے. اس ضمن میں تو دو مثالیں سامنے آتی ہیں کہ بندہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہے یا بیگانہ ہوتے فرزانگی میں مگن ہے. دیوانگی عشق کی لو میں جلتی رہتی ہے اور خوشبو پھیلتی رہتی ہے .. کبھی خوشبو کی اگربتی سے جلتی روح دکھتی ہے تو کبھی نوری ہالہ دکھنے لگتا ہے .... کبھی آپ صلی علیہ والہ وسلم کی نگاہ میں اپنا آپ محسوس ہونے لگتا ہے تو کبھی زبان پر درود جاری ہونے لگتا ہے تو کبھی دو بار درود پڑھنے سے ہزار تسبیح کا سکون مل جاتا ہے تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہزار تسبیح بھی دل کو بنجر کیے رکھتی ہے، کبھی روح رقص میں رہتی ہے ... یہ سب جب بیت جاتا ہے تو دنیا سامنے آجاتی ہے دنیا جھنجھوڑ دیتی ہے اور مگن ہوجانے کے بعد نہ روح کی جانب توجہ نہ دنیا کی جانب ..پھر کسی اک دن اپنی مرضی سے بلا لیتا ہے. اس کے انداز بڑے عجیب ہیں

شمع گرد پروانہ گھومتا ہی رہتا ہے

 

ذکر مصطفی میں دل جھومتا ہی رہتا ہے
شمع گرد پروانہ گھومتا ہی رہتا ہے





*****

یہ میری آنکھ کے آنسو جو چشمِ نادیدہ سے جاری ہیں ، وہ اسمِ حق کی تپش ہے ، جو نمی دل میں ہے وہ عکسِ مصطفیﷺ کی رُوشنی ہے جس نے میرے گرد ہالہ کر رکھا ہے ۔ ذات میں خلا سا ہے ،جیسے میں ایک قدم پیچھے ہوں سفر میں ، سفر مُبارک ہے جس نے میرے رگ و پے میں جستجو کے نادیدہ دروازے وا کررکھے ہیں ، ان سے جاری اضطراب کو سرر کی ہوا سے ٹالا جاتا ہے ۔ میری آنکھوں میں چمک ہے وہ جلوہِ یار کی بدولت ہے


ذکرِ مصطفیﷺ میں دل جھومتا رہتا ہے
شمع گرد پروانہ گھومتا ہی رہتا ہے
یار کی حضوری میں روح جھومتی ہے تو
قلب، نامِ احمد ﷺ کو چومتا ہی رہتا ہے



شوق میں مقامِ حیرت کا ذکر ہوتا ہے ، حیرت کے اسرار کیا ہیں کوئی نہ جانے ۔ بس ایسی جگہ ہے جہاں پر اپنی ذات کا جلوہ رہتا ہے ، ہمیں یہی ذات ساجد دکھتی ہے ، یہی رکوع میں ، اسکی فنائیت پل پل میں خبر دیتی ہے ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ رابطے میں روح سرکارِ دو عالم سیدنا ﷺ سے رہتی ہے اور ایک لمحے کا یہ رابطے گوکہ بے پایاں خوشیاں دیتا ہے اسی شدت سے ہجر کی لہروں کو تن بدن میں آتش کی طرح بکھیر دیتا ہے ۔ بدن ایسا کہ جلے تو دکھے بھی نہیں ۔



زندگی میں بیقراری کا مقام قرار کے بعد سے شروع ہوتا ہے ، جتنا انسان بیقرار رہتا ہے ، اتنا سکون ملنا ہوتا ہے ، یہ روح جس نے کبھی غارِ حرا کے گرد گھومتا ہوتا تو کبھی مسجدِ نبوی کے مینارے نگاہ کے سامنے ہوتے تو کبھی جالیوں کے آگے کھڑی روح سلام پیش کیے رہتی ہے ، دل میں خواہش اُبھرتی ہے کہ اتنا درود بھیجوں ، اتنا سلام بھیجوں کہ کائنات کی کسی روح نے نہ بھیجا ہو ، اتنی اطاعت کروں کہ پہاڑ گرپڑے مگر سرمہ بھی دھول بن کے نامِ احمد صلی علی پڑھتے پڑھتے بکھر جائے ، پہچان ختم ہو تو پہچان ملتی ہے ، شناخت نے زندگیوں کو مسمار کررکھا ہے ، انسان کی پہچان تو بس فنا میں چھپی ہے



سلام اے میرے شہر میں مقیم اے عالی مقام ، سلام اے سدا بہار مسکراہٹ کی حامل ہستی ، اے میرے عالی مقام! عید بھی تب ہوتا ہے جب شمع کا جلوہ تیز ہوجاتا ہے اس جلوے سے آئنہ صیقل ہوتا رہتا ہے ، عکس اتنا پڑتا ہے کہ نقل و اصل کا فرق مٹ جاتا ہے یہ مقام جس کی چاہت ہے کہ میں نہ رہوں بس میرا حبیب رہے ، میں ایک اڑتی ہوئی خاک کے ذروں کی مانند بکھری رہی ہوں ، ہر ذرہ میں جلوہ رہے ، جلوے میں ہزار وں تجلیات کے اسرار رہیں ، ہر اسرار ہزاروں راز کلامِ الہی کے منکشف کرے ، میری ذات میرے لیے مشعلِ ہدایت ہوجائے ، میرے دل میں بس تو رہے میں نہ رہوں



میں خاک ، جلوہ بس تو
میں ذرہ ، باقی بس تو
میں فانی ،لافانی بس تو
میں عکس ، آئنہ ہے تو
میں آئنہ ، جلوہ بس تو
جلوہ تو ، میں تقسیم
ہزار ہوگئے آئنے
جن میں دکھتا بس تو


اے میرے موسی ، جلوے کی تابش میں جلنا ، جل جل کے مرنا ، مر مر کے زندہ رہنا ، عشق نے مجھے مجبور کردیا ، طواف کب شروع ہوتا ہے کب ختم وہ تو ہوش نہیں بس ایک ہی ہوش رہتا ہے کہ بس تو ہی ہے ، اے لافانی یہ دنیا جو تخلیق کے مادے سے معرض وجود میں آئی ،، اس کے اندر سے جو روشنی نکل رہی ہے وہ بس تو ، میری آنکھ میں سرمہِ دید ہے ، میری زبان میں ذکر محمدﷺ کی چاشنی ہے ، اتنی مٹھاس روح میں کہ خوشی کا سا مقام ہے ۔۔۔ کب ہوگا آپ کا جلوہ، اے میرے یحیی ، کب ہوگا ، یہ دل تو سب ایک آس میں جی رہا ہے کہ کب میں آپ کی محافل میں شرکت کروں گی اور کب یہ شرکت ہوگی ، اے میرے ہادی بس دل نہیں سمجھ سکتا کہ کونسا تحفہ دوں جب آپ شہر میں تشریف لاتے ہیں میرے شہر شہر میں روشنی سے احساس کی پلکیں بھی روشن ہوجاتی ہیں

لا الہ الا اللہ میری تسبیح ہے

 


اس کی شہنائی گونج رہی ہے
روح مستی میں گھوم رہی ہے
جوگ پالتے کردیا اس نے روگی
اس کی بات میں خود کو میں بھولی
ضربِ عشق سے ذائقہِ موت ملا
کلُ نفس ذائقتہ الموت
یہ کون میرے سامنے ہے
میں کس کے سامنے ہوں
وہ میرے یا میں اس کے۔۔۔؟
ہجرت میں گمشدہ روح پہچانے کیسے؟


وہ جو اس جہاں کا سردار ہے جس کے اشارے سے سب کام چلتے ہیں ۔ جس نے میرے دل میں دھڑکن دی اور اس دھڑکن میں اپنے نام سے رونق دی ۔ اس کو جلوہ دل کی مٹی کو بہت نرم کردیتا ہے مگر اس کے کے ساتھ غم کی ایسی کیفیت لا حق ہوجاتی ہے جس کو میں کوئی بھی نام دینے سے قاصر ہوتی ہوں ۔یوں لگتا ہے کہ دل کو مٹھی میں بند کرکے نچوڑ دیا گیا ہے مگر ہر سانس شہادت دیتی نظر آئے اور زندگی آزار سے آزادی کی تمنائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!اس دل کو درد ملتا ہے مگر کون جانے کو کتنا درد ملا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ شاید صدیوں کا درد ملا ہے یا ایک پل میں صدی کا درد ۔۔۔۔۔۔! میرے سوا اس درد کو کون جان سکتا ہے کیونکہ اس کو سہنے والی میری اپنی ذات ہے مگر میں اپنی اوقات میں رکھی ہوئی اس سرخ پلیٹ کو دیکھتی ہوں جس میں چھپا وصل کا نقاب مجھے اپنی اوقات سے بڑھ کے دکھتا ہے ۔ بحرِ وجود سے نکلتی درد کے بے کراہ لہریں ساحل پر شور کرتی ہیں تو لفظوں کی صورت شور کی آواز میں بھی سن لیتی ہوں ۔ لہریں بحر سے علیحدہ ہوتے ہی اپنا وجود دھارتے مٹی میں مدغم ہوتی جاتی اور میں اپنی ذات کے منقسم ٹکروں کے رقص پر حیرت کناں! جونہی حیرت کے دریا میں غوطہ زنی کرتی ہوں تو اپنی حمد اپنے یار سے سن کے خراماں خراماں چلتے اس کے سامنے سر بسجود ہوجاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔

اے یار سجدہ بنتا ہے
سجدہ کے بعد جلوہ ہے
جلوہ کے بعد حیرت ہے
حیرت کے بعد کچھ نہیں ہے
میں غائب ہوں ! وہ موجود!

مقامِ شُکر کہ موت آن پُہنچی
مقامِ شُکر کہ میں چُن لی گئی
مقامِ شُکر کہ بعد موت زندہ ہوں
مقامِ شُکر کہ آبِ حیات پیا ہے !
مقامِ شُکر اس کو پہچانا ہے !
مقامِ شُکر کہ اس نے بنایا مجھے
مقامِ شُکر کہ میں اسکا جمال
مقام شکر کہ میں اس کا کمال
مقامِ شُکر کہ میں اس کے ساتھ
مقامِ شُکر کہ وہ ہے میرے پاس
مقامِ شکر کلمہ توحید میں پڑھا
مقامِ شکر کہ مرشدیت محمد کی ملی

اپنی ذات جب فنا کے سفر پر روانہ ہوئی ہے تب سے ہستی کے ذرہ ذرہ نڈھال مستی میں اپنا وجود کھوئے جارہا ہے اور بادل بنتے ابر کی شکل میں ڈھلتے برسنے کو تیار ۔۔۔۔۔۔! وہ جو شاہد ہے ، وہ جو مشہود ہے ! نور کو اسی کا طرز عمل ملا ہے جس پر وہ چلتے یار سنگ رقص کرے گی ۔ میرا نام آسمانوں میں نور کے نام سے لکھا ہے کہ لوح قلم پر میری پیدائش اسی نام پر رکھی گئی ۔ہستی تو نور بن کے بکھر جانی ہے اور باقی کچھ بھی نہیں بچنا ! اس کے ساتھ پر کچھ ایسی گمان ہوتا ہے کہ میرا وجود جبل النور کی مانند روشن ہے اور میں اپنی حمد میں خود مصروف ہوں گویا کہ میں یار کی تسبیح کرتی ہوں ۔دوست جب ملتے ہیں تو ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں اور میں نے بھی اپنے یار کو پہچان لیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ تیرا نام نور ہے اور میں کہتی ہوں کہ مالک تو تو سراپا نور ہے ! نور کا کام یقین کی روشنی دینا ہے ۔ حق ! حق ! حق ! میں اس کے رکوع میں گم ہوں اور اس میں فنا ہوں ۔۔! فنا کے سفر میں پہ در پہ انکشافات نے وجود میں بھونچال بپا کردیا ہے اور حرارت بدن نے محشر کی سی گرمی بخش دی ہے ۔میری ہڈی ہڈی اس کی تسبیح میں گُم ہے ۔ اس محشر سے جسم روئی کی مانند بکھرتا جارہا ہے جیسے شمع اپنا بدن گھل گھل کے ختم کردیتی ہے بالکل اسی طرح ہڈی ہڈی سرمہ ہوتی جاتی ہے مگر کیا غم ! اس کی فنا کے حال میں کیا پروا؟ کیوں ہو پروا ؟ میں تو اس کی تسبیح میں ہوں اور مجھے لا الہ الا للہ کی تسبیح ملی ہوئی ہے ۔

اس نے نور کو آزادی دی ہے ، آزادی جو بعد موت کے ملتی ہے ! جو بعد فنا کے ملتی ہے ! جب اس سے فریاد کرتی ہوں کہ تجھے دیکھنا ہے ! اپنی دید تو کرادے نا ! تو وہ کہتا ہے کہ جاؤ ! نوریوں !

تڑپ دلِ مضطر کی بڑھ چکی ہے
ابر رحمت کی برسات ہوچکی ہے

اس کو تسلی دو کہ اس کی بات سن لی گئی ہے ۔ وہ پاس آتے ہی حمد شروع کرتے ہیں میں اپنے مالک کی تسبیح میں ان کے ساتھ ہوتی ہوں اور صدائے درود عاشقانہ مجھے مسحور کیے دیتی ہے

اللھم صل علٰی محمد و علٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم و علٰی آل ابراھیم انک حمید مجید ۔

درود کے ساتھ پیرکامل کی نظر ہوجائے تو دل میل کے دھل جاتے ہیں اور کثافتیں سب غائب ہوجاتی ہیں ۔دل توحیدی میخانہ بن جاتا ہے ۔ جام در جام پینے کے بعد میخانہ کو میخانے کی طلب ہوتی ہے کہ اب پیاس اس صحرا کی اسی در سے بجھ سکتی ہے کہ جانے کب اس در پر ملے حاضری اور کب ہو یار کی دید ، کب ہو مرشد کامل کا جلوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔! مرشد کامل کی نظر ، کرم ہے مگر اب دل دید کے سوا کچھ مانتا نہیں ہے ۔۔۔جی چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اسی در کی ہوجاؤں اور دل کے بجھے چراغ اسی در کی روشنی سے جلالوں ۔۔۔۔۔۔!

لا الہ الا اللہ میری تسبیح ہے
عشق میں کھال اترنی ہے
لا الہ الا اللہ میری تسبیح ہے
عشق میں زبان کھینچی جانی ہے
لا الہ الا اللہ میری تسبیح ہے
عشق میں دار پر مستی کرنی ہے


۔۔۔۔

دَما دَم کہ دَم دَم میں صدائیں دُرود کی

 

دَما دَم کہ دَم دَم میں صدائیں دُرود کی
زَمیں سے جو بکھری ہیں ُشعاعیں وُرود کی

دمِ رقص محوّیت جو بسمل کی بڑھتی تھی
بکھرتی رہیں جو کرِچیاں تھیں وُجود کی

تجلی یوں طہٰ ﷺ نے کی سینہ چمک اُٹھا
ادا کیں نمازیں عشق نے سب سجود کی

ثنائے محمّدﷺ محفلِ نوری میں کی تو
مٹیں دوریاں سب نورؔ جو تھیں حدود کی

میں غائب ہوں ،وہ موجود ہے،،عالمِ ہو میں
بکھرتی ہیں اکثر ہی صدائیں شہود کی

معراج و عبدیت

 

بندگی کیا ہے ؟ کیا کوئی عمل ہے ؟ کیا نیت ہے ؟ کیا کسی نیت سے ملا اجر ہے؟ بندگی کی تشریح کیا ممکن ہے؟


جذبات کے یہ سمندر ہیں ، میرے افکار کے سمندر میں ذات غوطہ زن ہوئی اور اس غوطہ نما ذات نے سیپ نکالے ۔ ان سیپوں کو جب جانچا تو پایا رازِ نہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تُو ۔۔۔۔۔۔۔ تُو ۔۔۔ تو "ہر جگہ " ۔۔۔۔"جہاں تُو" ، وُہی اک جہاں ۔۔۔تُو رب العالمین ۔۔۔ الحمد اللہ ۔۔ قران پاک کی پہلی سورہ میں سب کہتے ہیں الحمد للہِ الرب العالمین ۔۔۔ اسکی تعریف انسان سے ممکن نہیں مگر ہاتھ دعا کو اٹھتے کہتے ہیں کہ مالک تو رب العالمین ہے

ہستی کا دُھواں خوشبو بنتا بکھرتا ہے ، خوشبو سندیسہ بنتی ہے ، عکس مکمل ہوتا جاتا ہے ۔۔ ارتقائی عمل ایسا ہے جیسا کہ اک گول شیشیہ ہے فلک سے جلوہ نما ہوا ، فلک سے اوپر جہاں کی تمثیل اک کمپیوٹر کی سی جہاں پر روشنیوں و تجلیات کا نظام ہے اور دل کی مثال بھی گول آئنے کی سی ہے یوں سمجھے اک شعاع وہاں سے پہنچتی ہے جیسے پہلی تاریخ کا چاند آہستہ آہستہ چودھویں کا چاند بنتا جاتا ہے ،یہ عمل ہر روح کے لیے جاری رہتا ہے ، وہاں سے روشنی دی ، جتنی روشنی ملی ، اتنی ہی مثبیت ملی

جوں جوں پیالہ بھرتا گیا ، توں توں عکس مکمل ہوگیا ، عبدیت مل گئی ، عبدیت مل گئی تو معراج حاصل ہوگئی

جب درد لا دوا ہوجائے ، تو ہم کیا کریں۔۔۔!
جب عشق عین و لا ہوجائے تو ہم کیا کریں۔۔۔!

عشق ،کسی بھی مظہر کی علامت میں ڈھلتا ہے وہ علامت "مٹی کا پتلا" انسان بھی ہوتا ہے ۔ جیسے جیسے سورج روشن ہوتا ہے تو اس سورج کی روشنی میں چودھویں کا چاند دکھتا ہے ، منظر نکھرجاتا ہے ، ہوا کا سندیہ ہوا کہ چلو پرواز کریں۔۔۔۔،

ہوا سے پوچھا گیا کہ پرواز کس جہان کی ؟ بڑی آس سے پوچھا کیا مسجد اقصی کی؟

ہوا نے جواب دیا کہ ہمیں کیا پتا ؟ ہوا نے آندھی تشکیل دے دی ۔۔ اپنا ٹھکانہ نہ رہا ۔۔ بے منزل خزاں کے پَتے کی مانند ہوا کے لَے پر اڑتے جائیں ، ذرے کی کیا اوقات سائیں ۔ ذرے کو جو اجال دیتا ہے ، وہی ہستی کو کمال دیتا ہے۔۔۔ معراج ہمیں ہمارے ہادی مرسل ، سچے سائیں نبی پاکﷺ کی بدولت ملی ، کہ ہماری روح کے لیے ویسے ہی نشانیاں بکھری ہیں ۔۔۔ بندگی کے بعد عکس کامل ہوتا ہے اور شبیہ مکمل ہوجائے تو فرق نہیں رہتا ۔۔

فرق بس پیالے کے سائز کا رہتا ہے ۔۔۔ یہ عطا ہوتی ہے ، جتنا پیمانہ بڑا ہوتا ہے اتنی کثرت سے جام ملتا ہے ، اتنی کثرت سے دل ویران ہوتا ہے ، ویرانے میں نقطہِ حرف کے نمو پانے سے مرکزیت ملتی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تشنگی ہر اک ذات میں ہے ، پیاس علم کی بڑی ہے ، ذات کے صحرا میں کنواں نہیں ملتا ۔۔۔! پانی کون پلائے گاَ ؟ کس کے پاس عظمت کے ایسے نشان جو ہمیں دے دے عبدیت کا احساس ، معراج کا وہ احساس جو ہم برسوں سے تلاس کیے جارہے ہیں ؟

یہ کیسی تلاش ہے؟ یہ کیسا سفر ہے جس میں ذات ایسا محسوس ہو کہ کوئل کی مانند گھومتی جارہی ہے ۔۔۔ کوئی نقطہ پانا چاہتی ہے !نقطہ حرف کو پانے کی کوشش میں کہاں سے یہ کوئل شروع ہوا ۔۔۔۔۔۔۔اسکا احساس ہی نہ ہوا۔۔۔۔ نقطہ آغاز ہی میرا نقطہ اختتام ہے ۔۔شاید یہی عبدیت ہے ، یہی سمندر ہے تلاطم کا ، یہی عکس ہے نہی کا کہ امر اس کا ہوتا ہے ، موت واقع ہوتی ہے ، وہ موت جس کو قران پاک میں لیل سے تعبیر کیا گیا ، جب لیل چھاجاتی ہے ۔۔۔ تو وہ خشیت کی چادر باری تعالیٰ نے پہلی وحی کے وقت نازل کی اور وہ سانچہ جس میں ہر عبد کو ڈھلنا ہوتا ہے ، اک ارتقائی عمل ہے جسکو ہم کہیں تو ایسے ۔۔۔۔ تب مزمل سے مدثر کا فرق ختم ہوجاتا ہے ، تب یسین کے مقام پر ایک حیرت کا سماں ہوتا ہے

علم کی لگن جو تجسس کے مقام پر جو ذات میں سوئی کو ہلاتی رہتی ہے ، بے تاب کیے دیتی ہے ، وہ ذات کی تکمیل تک بے چین رکھتی ہے ، یہ بے چینی ، آتش صفتی ، سیمابی کیفیت ، لامحدودیت ۔۔محدودیت میں سب اس نقطہ حرف کی پیش خیمہ ہے ، وہ جو ذات کی سرنگوں میں تہ در تہ مٹی کے تودوں تلے دبا ہے۔۔۔ جیسے برسوں کسی کوئلے کو بھی دفن کرو تو وہ ہیرہ ہو جائے ، وہی ہیرہ ہر ذات کی تلاش ہے وہ ہی ہر اک کی کامل ذات ہے ، انسان سارے بے چین رہتے ہیں جبتک کہ وہ کامل ذات کی تشکیل نہ پالیں ۔۔۔۔۔ جس کو عشق ہوگیا وہ ضم ہوگیا ، مکمل نفی اک سعی ہے ۔ لیس الانسان الا ما سعی ۔۔۔۔ ہماری سعی کا نقطہ سائنسی ہو ، تخیلاتی ہو ، وجدانی ہو ۔۔یہ سعی ، اس کی سمت ۔۔ہمارے افکار کے مطابق ذات کے کمپس پر سمت کا تعین کیے دیتی ہے ۔۔۔ یہی آیت رہ رہ کے میرے ذہن پر ہتھوڑے کی مانند برستی ہے

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (1)

۔۔۔ سبحان الذی ۔۔۔ پاک ہے وہ ذات ، پاک ہے وہ ہر شرک سے کہ سب سے اولی وہی ہے ، بعد از خدا بزرگ توئیﷺ قصہ مختصر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعبدہ ۔۔۔ بندگی کی کامل مثال محمد ﷺ ہیں ، وہ تمثال گر کی مکمل تمثیل ہیں ، وہ مثال جس کو تراش کے آئنہ خود مسکرا ٹھا ، آئنے کو فخر ہوا ظاہر پر بھی ،باطن پر بھی ، وہ مثال اک جلوے کی مثال ، جلوے پر جب جلوہ ہوا تو آئنہ اس قدر نازاں تھا کہ حرف نہیں ، بس اس ناز میں بھی اک حجاب تھا ، اس ناز و حجاب کی قسم وہ ذات پاک ہے ہر کس شرک سے ، کہ اس کی پھر بھی کوئی مثال نہیں ۔ لیس کمثل شئی ۔۔۔۔۔ جس نے بے مثال خیال ک و نمو دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لے گئی مسجد احرام سے مسجد اقصی کی جانب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات میں ۔۔۔ رات بھی کیا ، خواب مکمل موت کی سی کیفیت کہ جب موت ہوگئی عارضی طور گویا وقت روح کے لیے ماوراء ہوگیا ، وہ وقت جب وقت جمع ہوگئے، جہاں تمام مثالیں اکٹھی ہوئیں ، کوئی روح اللہ تو کوئی کلیم اللہ تو کوئی ابتدائے حرف کا جمال ، تو کوئی کمال کی مثال، تو کوئی روح میں چھپے اسرار کی وحی ، سب کی ہوئی امام الانبیاء سے ہوئی ملاقات ، سب نے دیکھا کہ وہ ذات جو ان کے پاس آئی وہ کتنی کامل ہے ، انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ذات کے کس حصے میں کتنے مکمل اور کس کس حصے میں مکمل جناب سید مصطفی ﷺ ۔۔۔،تو سب نے نماز قائم کی ، مان لیا آپ کو امام کہ سب کی اپنی اپنی شبیہ کا عکس جناب سید عالی مجتبی ﷺ میں چھپا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب نے مان لیا آپ کو مکمل تو جب گئے معراج کو تو دیدار رب ہوگیا ، دیدار کے بعد جب واپس آئے تو ملاقات ہوئی انبیاء سے تو سب نے اپنی اپنی تجلی کو جناب سید کائنات ﷺ میں پہچانا اور دیدار رب کرلیا ، گویا رب کا دیدار بھی سید کائنات ﷺ کی دید میں ہے ۔۔۔۔سبحان اللہ ، پاک ہے وہ ذات جس نے مسجد حرام سے لے کے مسجد اقصی تک اپنے انبیاء کو مختلف تجلیات سے تشکیل دیتے بھیجا اور اور ان نشانیوں میں کامل سید عالی شہ ابرار امام عالی سرور کائنات امام عالی میرے آقا ، رحمت دو جہاں تاجدار انبیاء رفعت زماں ، ہادی ، نور حق کی سچی نشانی ہیں ۔۔۔ ان کو سلام واجب ۔۔۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔۔كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ۔۔.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔۔كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ۔۔.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔

بیشک اس نے دیکھنے والوں کے لیے نشانیاں رکھی ہوئی ہیں ، وہ نشانیاں جو ہمارے پیامبر ﷺ نے دیکھیں ، وہ دیکھنے والے دید نے بھی دیکھنے کی سعی کی تو وہ بھی دیکھے گی ، اس لیے ہمارے نبی پاک ﷺ پر ایمان ہر عیسائی ، یہودی فرض ہے کہ وہ کمال کی تجلیات تو آپ ﷺ کے امتی ہونے کے باعث ہم دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔

عین محبت

 تخلیق کا عنصر جس نے جس خمیر سے تخلیق کیا ، وہ مادہ راز رکھتا ہے ، ہر مادہ حروف مقطعات کی طرح خود میں ایک راز ہے ، گویا ایک کائنات کے اندر چلتے پھرتے راز ہیں ، ان رازوں کو جاننے والے قران پاک سے علم حاصل کرتے ہیں ۔ قران پاک گنجینہ الاسرار ہے ۔۔۔ ہر ظاہر شے کی کُنجی ایک اسم مقطع ہے ، وہ مقطع جب وردِ لب ہوتا ہے روح کے علم کو حاصل کرنے کی کُنجی ایک نیا دُنیا کھول دیتی ہے ۔۔۔، راز نہاں کیا ہے؟ رازِ فغاں نیم شبی کیا ہے؟ رازِ حجر و شجر میں مجلی کیا ہے ؟ ہر سانس لینے والے شے مقدم ہے اس شے سے جو سانسوں کی گنتی کے بنا چلے ، وہ تو نوریوں کی طرح سجدے میں جھکی ہے ، اسکا ذکر سب دنیا کے اجالوں کو اس سے چھپائے ہوئے ہے گویا وہ کائنات کی بے ثباتی کو پہچانتی ہے ، گویا وہ جانتی ہے رازِ ثبات کیا ہے ۔۔۔ مگر اے کہ انسان جس کو خسارے میں کہا گیا ، جس کی حدوں میں حد نہیں رکھی گئی ہے ، جس کے جذبوں کو شدت بے انتہا رکھی گئی ، جس کے علم کو اس کی نفی میں رکھا گیا ، جس کی روح کو حرف مقطع کے ساتھ قفل میں رکھا گیا ۔۔۔ وہ قفل کے ساتھ پیدا ہوئی مگر علم لیے ہوئے پیدا ہوئی ہے ۔۔۔ اس قفل کو جوں جوں کھولا جاتا ہے تو دروں کی دولت ملتی جاتی ہے



آپ ﷺ سراپا قران پاک ہیں گویا کہ قرانِ پاک کے سبھی حروف مقطعات کے لیے علم کی شرحیں کھولتے علم کو خود لاگو کرتے رہے ، گویا اپنے آپ کو احسن التقویم پر فائر کردیا گویا کہ نفس دیا گیا تو ساتھ نور بھی دیا گیا ، یہ تو انسان پر ہے کہ نور کو حاصل کرے یا نفس کی جانب لپکے یا دونوں کو متوازن رکھتے دنیا و دین کو خود پر فائز کرے ۔۔۔ اختیارِ حُسن جس کو دیا جائے وہ محسن ہوجاتا ہے ۔۔۔حسن والے اس جہاں میں بہت سے مگر دیکھنے والی آنکھ نہیں ۔۔۔ یہ مانتے سب کہ سیدنا امام عالی پروقار حسین کو اس قدر حسین بنایا گیا کہ ان کے حسن کے چرچے فلک پر ہیں ۔۔۔ ایسی حسین روح کہ حسین صورت جو عین پرتو جناب سیدنا مجتبی ﷺکے ۔۔

اندھیر نگری دنیا ، بھٹکنے والے یہاں بہت ۔۔۔ دنیا ہیئت میں حسین ہے مگر اس کی ظاہری بھول بھلیاں دھوکے و فریب کے جال میں لپیٹ لیتی ہیں تو جب موت آتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ لایا کیا تھا مگر لے کے کیا جارہا ہے ۔۔۔ لانا وہی تھا جو دیا گیا تھا مگر خود سے جستجو نہیں کی گئی ۔۔۔خود سے لیا نہیں گیا ، لفظ الہیات جو قران پاک میں ہیں ان کو کھول کے دیکھا نہیں گیا ، ان کو جانچا نہیں گیا ، ان کو پرکھا نہیں گیا ۔۔۔۔ بس رزالت میں گرنے والے احسن التقویم سے اسفل سافلین میں گر جاتے ہیں


وہ حرف اول ہے بقا چاہتا ہے
وہ حرف آخر بعد فنا کے ملتا ہے
ازل کا نور ، نقطہ الف میں ہے
یہ گنجینہ ء نور لوح و قلم میں ہے
ابد کا نور ، نقطہ میم میں ہے
معبد نور میں خشیت کا وضو
نوری قفل کو کھولتا ہے
رات کا قیام حضوری میں
فنا کو اوجِ بقا کی منزل دیتا ہے
مئے دید مقامِ سینا پر ہوتی ہے
نشاطِ ہست کے در کھول دیتا ہے
زمین گردش میں رہتی ہے
چاند چودھویں میں رہتا ہے
سورج ہر سُو چمکتا رہتا ہے
وہی ، وہی تو چار سو رہتا ہے
نورؔ سراپا نور میں ڈھلے جو
وہ اسکی ولایت میں رہتا ہے
فاذکرونی اذکرکم ، جس نے کہا
وہ محفلِ نوری میں ذکر میں رہتا ہے
حم ۔۔میم میں ذکر یار کرنے سے
سجدہِ شُکر وہ قبول کرتا ہے
رازِ توحید عیاں ہوجائے تو پابندی لازم ہوجاتی ہے ۔ ہر شے اپنی ملک میں کوئی نہ کوئی قدرت رکھتی ہے ۔۔ہر روح کو اپنا عکس دیکھنا ہوتا ہے اور وہ ''میں '' کی جانب رہتی ہے ۔۔ اس کی حالتِ ضد کہا جاتا ہے ، اس کو حالتِ کُفر کہا جاتا ہے جب عین جانتے انکار کیا جائے ۔۔ اپنے ''میں '' اس کی قدرت کے بعد ختم ہوجاتی ہے اور اس کا ذکر ختم ہوجاتا ہے جبکہ جو شے یا روح اُسکی "میں " میں فنا ہوجاتی ہے گویا وہ عین موت کے قریب ہوجاتی ہے وہ مظہر جو اس کائنات کو چلا رہا ہے ، وہ کُرسی جس نے چہار سُو اُجالا بکھیر رکھا ہے وہ اس کے ساتھ جڑتے احکامات لاگو کرتی ہے گویا وہ اسکی ملک میں اپنی مرضی کو فنا کردیتی ہے وہ اسکی ہوجاتی ہے اور وہ ہی مقبول ہوجانا ، اصل محبت ہے

خیالات کی جنگ

 سب سے بڑا خطرہ اندر ہے، باہر سب اندر کا عکس ہے

اک نورانی شکل لیے بابا بولا، جس نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا ...

نہیں، سب خارج سے ہے، درون تو خارج کا عکس ..
اک بدہیئت شکل موٹا جس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں بولا ... اس نے اپنی تلوار نکالی اور جلاد کی سی سختی لیے مارنے کو لپکا ...

بابے کے چہرے پر سرخی نے رنگ جمانا شروع کردیا .... اس نے کہا پاس حرم ہے، اک بندہ وہاں منادی کر رہا ہے، خوشیاں لے لو، غم دے دو .. تم ایسا کرو اس کے پاس جاؤ ...

کالے بدہیئت آدمی نے جونہی حرم کے اندر قدم رکھنا چاہا، واپس مڑ آیا کہا کہ ساتھ چلو ...

بابا اور بدہیئت موٹا کالا آدمی دونوں منادی کرنے والے شخص کے پاس گئے ...

ابدی خوشی لے لو، عارضی مجھے دے دو ...

یہ ابدی خوشی کیا ہے؟

دیکھ کالا رنگ اس بابے کا ہے، مگر تری کالک نے تو مجھے پریشان کردیا ... تو ایسا کر یہ فیروزہ رکھ ... اس سے تجھے خوشی ملے گی ...


کالے بدہیئت موٹے آدمی نے بابے کی جانب دیکھتے فیروزہ لینا چاہا تو پیچھے ہٹ گیا جیسے کرنٹ لگا ....

میں یہ پتھر لے نہیں سکتا، مرا قبیلہ ناراض ہوگا ... میں تو قتل کرنے کو ارادے سے آیا ہوں .. نیک خیال کو ..

تو گویا تم اک بد خیال ہو، یہ کہتے ہی ندا دینے والے تو تلوار نکالی اور خیال کا قتل کردیا ..

اب کیا ہوگا، اس کا قبیلہ تو سیلاب کی طرح بہتا جائے گا اور ہمیں نگل لے گا ... میں تو مدینہ سے کعبتہ اللہ کو دیکھنے آیا تھا، راستے میں اس کا سامنا ہوگیا ...

مدینے سے آئے ہو مکے میں، راستے میں وہم پال لائے ہو ....

یکایک کالا پانی کسی پہاّڑ کی سرنگ سے نکلنے لگا ... منادی کرنے والے نے آنکھ بھر کے دیکھا ہی تھا اک نیلی شعاع نکلی جس نے پانی کو آگ لگا دی اور وہ جل گیا ....

بابا رقص کرنے لگا .. کہنے لگا خیال پر اس طرح کی بندش ہوگی تو وہم کبھی نہیں ستائے گا .