Sunday, May 18, 2025
مکتوبِ شمس
Noor Iman
6:55 AM
6:55 AM
مکتوب بجانبِ شمس ....
گنہگار کا سلام ...
تاریخ اتوار - ۸ا مئی ...
سن: عہد الست
.
اے ماہِ تراب!
اک کاتب کی حیثیت سے، اک قلمکار کی حیثیت سے یہ خط سینہ نور میں رکھا ہے ... زوال گھڑی میں رخ کی جب تلاوت کی تھی، تب حشر سامانی کا مقدر ایسی ہستی کی موجب سے ہونا ہے، جس کو مقدر نے مری نسبت سے منسوب کیا ہے .... آج نور ایمان نے جستجو میں اذنِ حق کو شامل رکھا ہوگا، تب میں اسکے وجود میں قرار پکڑ رہی ہوں گی ..... جس طرح الست مست کے دن آپ کی دید سے میں نے نور ایمان میں ڈھلت مورت کو دیکھا، ویسے عہدِ مٹی میں اسی گھڑی کو جب دید ہوگی، نور ایمان ڈھلت و مورت مری میں قرار پائے گی .... اک گیانی کا کہنا ہے کہ روح سنتی ہے، سناتی ہے.ناطق روح کا بیانیہ ڈھل جاتا ہے ....نطق کی حامل روح کا تعلق جب آپ کے جلوے کی نسبت سے جڑے گا، صورت قرار پکڑے گی، وہ صورت جس نے الست بربکم کہتے قرار پایا تھا .... یوم الدین کی نہج پر کل یومین کی شان لیے آپ سراج منیری کی رویت لیے جب دیکھیں گے، تب یومین کا سراج انتقال ہوتا ہوگا ....... یہ بات خط میں ڈھالی گئی ہے تاکہ حِب الست مستی کی یاد تازہ ہو سکے .. اعتماد کے رخ کو عین الیقینی سے مثل شمع روشن ہوتے دیکھنا خواہش رب ہے .... یہ سجدہ جو اب ادا ہوا ہے، یہ یومین کے مبداء سے پھوٹنے سے قبل ادا ہوا ہے ... خط کا تلفظ والہانہ نہیں بلکہ سرگزشتانہ ہے....اک نذرانہ ہے .. قبول کیجیے.....
سلام علیہ....
نائبِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.
بو ترابی مہک ...
Sunday, November 24, 2024
تلیت --- قرأت
Noor Iman
8:20 AM
8:20 AM
قران پاک میں تین الفاظ حوالہ کے لحاظ سے ملتے جلتے ہیں
تُلیت
قُرأَت
کُتبت
تلیت القران
جب قران پاک پڑھا جائے
کتبت
وہ قران جو لکھا گیا،اس لکھے گئے کی تلاوت
یہ تلاوت کیسے کی جائے
ورتل القران ترتیلا
جب یہ آیات اس انداز سے جسم و روح میں translate ہوتی ہیں تب روح کا (سافٹ وئیر) ایکٹیوٹ ہوتے ان آیات کا عمل کرواتا ہے.جب ہم نہیں کرتے تو اک ڈپریشن و ہیجان کا سامنا ہوتا ہے جس کے سبب ہمیں مزید زمینی و افلاکی آفات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے جب تک کہ ہم اس ٹرانسلیٹڈ ٹیکسٹ کے متن پر اپنے device کو اپڈیٹ نہیں کرلیتے
سورہ البقر جو قران پاک کا مینوئل کا ترتیب توفیقی کے لحاظ سے دوسرا باب ہے.اس باب کی پہلی پہلی آیت ہے
ذلک الکتاب لا ریب فیہ
یہ وہ کتاب ہے......
وہ مینوئل ہے جو قلوب میں رقم ہے بالکل اک موبائل ڈیوائس کی طرح. اس کتاب میں شک نَہیں ان کے لیے جو متقی ہیں
پھر چند اگلی آیات میں فرمایا گیا
جو لوگ ایمان لائے آپ پر نازل شدہ کتاب پر اور ان کتابوں پر جو نازل کی گئی دوسرے انبیاء پر
قران کریم کی کتاب تمام مومنین کے لیے ہے کیونکہ متقی مومنین ہیں اور مومنین کے لیے اس کتاب میں شک نہیں. یہ کتاب سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دلوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے کی وساطت لکھی گئی تھی ...اور لکھی ان دلوں پر گئی تھی جو مومنین اور متقی تھے.جن کی اطاعت خدا سے، خدا کے ساتھ بالغیب پر ہوتے ....ویقیمون الصلوت ...اور جن کا قیام کنکشن پر تھا یعنی جن کا اللہ سے کنکشن تھا اور وہ اس کنشن پر قیام یا قائم ہیں .....
قرأت لفظ قرن سے نکلا ہے جس کا مطلب تمام زمانوں کا اجماع اور کنکشن یا گٹھ جوڑ ...قران جو نازل ہوتا ہے یا طاری ہوتا ہے وہ تمام انبیاء کرام اور الہامی کتب اور بآلاخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ربط جوڑتی ہے.اس ربط کے جڑتے انسان کا خدا سے تعلق و ربط بن جاتا ہے. اس کے اندر اخلاق کے وہ تمام خصائل پیدا ہوجاتے ہیں جس کے لیے اسکی چاہت کی گئی تھی اس جہان میں ..
سورہ الاقرء پہلی سورہ کا معانی قرأت کا ہے
انجیل کا مطلب خوشخبری
توریت کا مطلب حدود کے قوانین یا شریعت
زبور کا مطلب ہے عبادات و حمد و ثناء کے قوانین
قران کا مطلب ان تمام کا اجماع اور اضافہ
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب کہا
ما انا بقاری ....
فرشتے کو کیوں نہیں کہا میں تمھیں نہیں جانتا یا مجھے تمھاری معرفت نہیں ہے یا پہلا کوئی خدشہ .... فرشتے نے اگر اپنا تعارف دیا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی ورقہ بن نوفل کے پاس نہ جاتے ....
فرشتے نے یہ کیوں نہ کہا
تلیت
یعنی تلاوت کرو
قرأت کا مطلب یقینا تلیت سے مختلف ہے ...کسی بھی مینوئل کی ایکٹیویشین قرأت سے کوتی ہے جبکہ تلاوت کوئی اور اثر رکھتی ہے. قرأت کی پہلی قسم ہے ترتیل سے پڑھنا ..جس نے قران کو ترتیل سے پڑھا اس کے لیے قران صدر کھول دیگا.....
Thursday, November 14, 2024
موسی کا چرواہا
Noor Iman
11:26 PM
11:26 PM
موسی کا چرواہا
موسی دریا سے نکالا ہوا بچہ، جس کا نام اسی بات کے تناسب سے رکھا گیا.ایک دِن وُہ اپنی قوم کا چرواہا بن گیا. موسی کی قوم میں عصبیت و شہوت بھیڑوں جیسی تھی، اس لیے اس قوم کا اجتماعی شعور حیوانی رہا تھا. جس قوم کا شعور حیوانی ہو، اسکو جسمانی و زمینی آفات سے سامنا ہوتا رہتا ہے.
موسی کا چرواہا دس زمینی آفات کی بابت ہمیں اس جسمانی و زمینی آفات کا لائحہِ عمل دیتا ہے
۱: پانی کا خون بن جانا
۲: مچھلیوں کا پانی میں مرجانا
موسی کا چرواہا بتاتا ہے کہ جو شخص پانی پیتا تھا، وہ خون بن جاتا تھا مگر یہ آفت بنی اسرائیل کے لیے نہ تھی، اس لیے جادوگروں نے اسکو محض جادو سمجھا تھا.اسکو رفع کرنے کی کوشش کی مگر موسی کا چرواہا سامنے آگیا. حق چھاگیا،باطل مٹ گیا
۳: مینڈکوں کا سیلاب
ارتقاء کے نقطہِ نظر سے مینڈک ایک ارتقائی جینیاتی مواد کی تبدیلی کا نتیجہ ہیں اور قران کے نقطہِ نظر سے یہ عدم سے وجود میں آگئے یا انسان سے وجود میں آگئے، جیسا بندر و خنزیر کا وجود انسانی ہیئت کی بگڑی شکل ہے. چرواہا ہمیں بتاتا ہے کہ مینڈک بارشوں کی طرح برستے رہے، یہاں تک بازو، ٹانگ، سر تلک میں مینڈک ہی مینڈک تھے .......
۴: مچھر کا امڈ آنا
عصا زمین پر مارا گیا،مٹی مچھر بن گئی ...عصا جہاں جہاں پھینکا جاتا،وہ مچھر بن جاتی،یہی کام محض موسی علیہ سلام کا عصا نہیں کرتا تھا بلکہ ہارون علیہ سلام کا عصا بھی ایسی معجزاتی رمز کا حامل تھا. مچھر کا وجود معجزاتی طور پر سامنے آیا یا کہ مچھر ارتقائی عمل کا شاخسانہ ہے،یہ الگ بات ہے مگر عصا کی معجزاتی بات کتنی نرالی ہے کہ عصا نے مٹی کی ترکیب بدل کے روح پھونک ڈالی اور شبیہ بھی مچھر کی صورت بھی مچھر کی .... جناب عیسی علیہ سلام کا سُنا تھا مگر موسی علیہ سلام کے معجزاتی ہنر کی بات الگ سی ہے.....
۵: مکھیوں کی آفت
۶: مویشیوں کی موت
چولہے کی خاک سے مویشیوں کے جسم میں پھوڑے نکل آنا، اک نبی کے ہاتھ سے پھینکی گئی خاک عذاب کے لیے ..... مویشیوں کی موت ہوجاتی ہے ...قہر نازل ہوجاتا ہے
۷ا: اولے پڑنا
۸:فصلوں کو کیڑا لگ جانا
۹:ٹدی دل کا عذاب
۱۰:پہلوٹھی کے بیٹوں کی موت
فرعون کی قوم بالاخر سمندر کو چیرنے لگتی ہے اور موسی کا عصا پانی کو جوڑ دیتا ہے.قوم غرقاب .... موسی علیہ سلام اتنی طویل ریاضت کے بعد غلامی سے قوم کو آزاد کراتے ہیں اور ایک بہادر یا ہیرو سامنے آتا ہے.جسطرح موسی علیہ سلام کو دریافت ہوا، خدا نے نبوت دیدی ہے.اسی طرح ان کی قوم نبی کو پاکے،اس کے ہاتھوں نجات پا کے بھی روٹی، کپڑے مکان کی طلب کرتی ہے.موسی کی قوم میں سے کسی نے خدا کی طلب نہیں کی بلکہ من و سلوی کی فرمائش کی ....موسی علیہ سلام چالیس راتیں گزارنے گئے تو بت پرستی چھوڑ دی. قوم میں جناب ہارون علیہ سلام موجود تھے مگر ان کی حکمت و دانائی بھی کھوج و جستجو کی پیدائش نہیں بلکہ عطا تھی. انسانی نفسیات عطا پر ویسا یقین نہیں کرسکتی جیسا وہ اپنی کھوج و جستجو کی دریافت کے بعد یقین کرتی ہے..اس لیے وہ قوم کو بت پرستی سے روکنے سے قاصر رہے تھے ... دوسرا قوم غلامی سے نجات پاتے دنیا میں محو ہے ،خدا پر ایمان لانے سے قاصر ہے
میرے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کردار سامنے آتا ہے جن کی کھوج ان کو اللہ پر یقین کراتی ہے جیسا کہ جناب ابراہیم کی کھوج ان کو یقین تک لے گئی.... جو قوم کو روٹی، کپڑا، مکان کی جانب بلکہ خالص اللہ کے لیے اللہ کی جانب بلاتے ہیں. ان کے قوم میں کئی حکیم و دانا موجود ہیں جن کی حکمت کی تائید جانب خدا بھی ہوتی رہی یعنی جناب اسماعیل علیہ سلام اپنے باپ کی وہ حکمت و کھوج و دانائی میراث میں مکہ والوں کو دیے دیتے ہیں. اس قوم میں ہر صحابی حکیم ہے مکمل شعور رکھتا ہے.جس کا شعور تمام ضروریات زندگی سے بلند ہوتا خدا تک پہنچتا ہے.موسی علیہ سلام راہ دکھانے کے لیے یقین کی طاقت کے بجائے، عصا و یدبیضا کے حامل جبکہ یہاں بن دیکھے سلمان فارسی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ سے ملنے آتے، یہاں بوذر غفاری ابراہیمی کھوج لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے ہیں تو کوئی یاسر عمار جیسے تو کسی کا آہنی استقلال فاروقی ہے...یہاں ہر صحابی کی حکمت و دانائی روٹی کپڑے مکان تک نہیں بلکہ اللہ کے لیے اللہ تک پہنچتی اپنی آپ مثال ہوجاتی ہے...
ایک امتی کی اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوگی اسکی حکمت کا شعور بنی اسرائیل کے نبی کے شعور سے کہیں بلند ہے. اسکی دانائی و اوصاف اس قدر تیقن پر مبنی ہے کہ وہ مٹی پر لیٹا بھی بادشاہ محسوس ہوتا ہے ....اصل جہانگیری یہی ہے.اصل گلہ بانی یہی ہے....اسی شعور کی وجہ سے سائنس نے اس قدر ترقی کی ہے،اسی شعور کی وجہ سے ملحد پیدا ہوگئے، اک سچا ملحد جتنا خدا کے قریب ہوتا ہے مرے نزدیک کوئی نہیں ہوتا مگر اسکی حکمت کی سمت الٹا چکر کاٹ رہی ہوتی ہے...اسی قوم میں نبوت کے جھوٹے دعویدار ہیں .....یہ میرے امام کی امت ہے ...میرے امام کے امتی میں دانائی و حکمت کی وہ نہریں ہیں جن کا قطرہ قطرہ قلزم ہے...
موسویت کی چادر میں حکمت
Noor Iman
10:29 PM
10:29 PM
نبی بس خبر پاتا ہے یا نشریات پالیتا ہے جبکہ رسول نشریات نہ صرف بانٹتا ہے بلکہ نشر کردہ حدود کی پابندی کراتا ہے. موسی علیہ سلام کی زندگی کی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ عقدہ کھل جاتا ہے نبی پر نبوت کا عقدہ پیدائشی نہیں بلکہ اسکی اپنی دریافت سے کُھلتا ہے.
ایک بچہ جس کا خاندان اُسکے پاس نَہیں یا جس نے ماں کا لمس نَہیں پایا.زندہ ماں کا ہونا،ہجر کا درد سہنا بڑے بڑوں کے پاؤں تلے زَمین نکال دیتا ہے. وہ بچہ حادثاتی طور پر تتلانا شروع کردیتا ہے.اس پر گفتگو کرنے کا ہنر چلا جاتا ہے یعنی وہ بچہ معاشرتی طور پر الگ ہے یا سمجھا جاتا ہے
یہ بچہ جب جوان ہوتا ہے، جوانی میں قبائلی محبت کے بَجائے انصاف کا معاملہ کرنا چاہا اور شدت میں قتل ہوگیا. اس وقت موسی علیہ سلام اپنے کیے گئے قتل کی پوری ذمہ داری لینے سے قاصر رہے اور جلاوطنی اختیار کرلیتے ہیں ....اس جلاوطنی کی بنیادی وجہ خوف کا عنصر تھا. وہ اپنے خوف کا سامنا کرنے سے قاصر رہے....
یہی جَوان حادثاتی طور پر معلوم ساتھ پالیتا ہے اور نبی کے عہدے پر فائز ہوجاتا ہے مگر یہی جوان خدائے بزرگ برتر کے ہونے کے باوجود یا خبر کے باوجود یقین کے درجے پر فائز نَہیں ہو پاتے.اس لیے جب دعوت کا حکم ہوتا ہے تو جناب موسی اختلاف کرتے پائے جاتے
خدا فرماتا ہے
نبوت کا اقرار کرو اور جاؤ خبر دو
موسی علیہ سلام: میرا یقین کون کرے گا
خدا: ان کو بنی اسرائیل کے خانوادہ نبوت کی بابت بتاؤ
موسی علیہ سلام: قبائلی سردار میرا یقین نہیں کریں گے
خدا: ان کو کہو میں اسکی جانب سے ہوں جو کہتا ہے
میں وہ ہوں، جو کہ میں ہوِں
موسی: وہ بات نہیں مانیں گے، ہارون کو ساتھ کردیجیے....
خدا: عزم جلال میں ہارون علیہ سلام کو موسی علیہ سلام کے ساتھ کرتا ہے
جاؤ، فرعون کو خبر دو کہ بنی اسرائیل کو آزاد کرے ...
موسی: وہ میری بات نہیں مانے گا، نہ یقین کریں گے
خدا: عصا پھینک دینا ،ہاتھ نکال لینا
قران پاک میں سورہ طٰہ میں اسی خوف کی نشاندہی کی گئی جب سامری جادوگر رسیاں پھینکتے ہیں تو موسی علیہ سلام اژدہے سے ڈر جاتے ہیں
ندا آتی ہے: عصا پھینک دیجیے
یہاں خوف کے عنصر کے ساتھ، یقین کی کمی کا عنصر ہے جو کہ عام انسانی نفسیات ہے مگر اک نبی کی نفسیات معاشرے کی سطح سے بلند ہوتی ہے جس پر عام استدلال یہی ہے کہ فرعون کی قوم یقین کی اس بلندی کو نہیِ پاسکتی یا بنی اسرائیل کی قلب کی ساخت ایسی بنی نہیں ہوگی جس کی بدولت بِن دیکھے کا سودا کیا جاسکے....
یہاں امتی ہونے پر فخر ہوتا ہے
میرے رسول فرماتے ہیں
میرے اک ہاتھ پر چاند دوسرے پر سورج رکھدیں، میں یہ رستہ نہیں چھوڑوں گا
اللہ کی رائے سے قبل، یا نزول وحی سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ رستہ اختیار کرلیتے ہیں، جیسا کہ اللہ نے چاہا ...اس مقام پر یقین اس قدر راسخ ہوگیا کہ گویا "میں، تو" "تو، میں " سے نکل گیا .. بس ایک ہوگیا
اس لیے خدا نے خود فرمایا
قل ھو الاحد .........
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یتیم و مسکین بچے مگر ایسے صبر و بردبار بچے ہیں جن کی صداقت و دیانت نبوت سے قبل مثال. حضرت ابراہیم کیطرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھوج و جستجو سے یقین کو اک مرتبہ راسخ کردیا. غار حرا میں وحی سے قبل کھوج و جستجو اور وحی یقین کے حال میں نزول ہوئی. یعنی جو اللہ تراشا گیا تھا ذہنِ حال میں، وہ ویسا پالیا گیا....یقین آگیا ....دریافت کی اکملیت اُسی ایک لمحے میں ہوگئی ...
Friday, October 18, 2024
Monday, February 26, 2024
حرف خط نقطہ
Noor Iman
9:18 PM
9:18 PM
تجسیمِ وفا ،الفت سرِراز، ماہناز ہیں
جو شہرِ دل میں حال پر قائم ہیں
وہ تقدیر پر نائم ،تدبر میں پائیم
شمیشیر جن کے ہاتھ میں نازاں
قلم برنگ تجلی صدہا زماں لیے
نور قدیم، نور لطیف کی شفافیت لیے
میم کی عطا پر قائم و صائم شجر
حجر کا نقطہ، شجر کی الف پر قائم
زمانے صدیاں بنتے چلتے گئے
جنبشِ خاماں سے قفلِ نازش ستم زدہ
دل حرف کنندہ پر لام کا نام
اتمامِ حجت:کلیہِ درویشاِں ....
حرف تسبیحات
نقطے تجلیات
لفظ شبیہات
خط سایہِ دلبری
منقش ہالہِ نوری
قندیل نور کی ترمیم
تفریق میں کرم حدوث
کبریائی میں جبلی دھاگے کا نزول
الف کے دھاگے
نقطے کے وعدے
خطوطِ شبیہات و تجلیات و انوارت کی ہستیاں
مدحت نامہ لکھیے
لکھوا دیجیے
وجہِ المنیر کی شاہکار رویت کی ازبر کہانی ہے
طٰہ کی ترتیل شدہ وادی میں جبری آزادی ہے
قدیم راویان نے شام کو سرحد کی مقفل سرحدیں کھول دیں
رات نے اقتدار سنبھال کے شمس الدحی کے گرد تنویر کے ہالے سنبھالے
بشر نے جامہ الحسن میں نور کو وجہِ شاہ بنا دیا
چکر میں صوم و صلوت کے روا رواج رکھے گئے
افسانے لکھے گئے
فسانے بن گئے
نذرانے بقا کے
احتیاج نہیں کسی کے
سرکار کی لاگ میں لگن کی چنر سنبھالی نہ گئی کہ آگ میں آگ کا رکھدیا بالن
یہ وہ احتیاجی خط ہے جس کو نقطہ بہ نقطہ قلب میں تصویر کیا جاتا ہے.اس کے بعد لامثل کل شئی کی مثال خط سے خطوط یعنی صورت سے صورتیں ترویج پاتی ہیں. الف لام میم کے امکانی نقطے کی وسعت کئی صدیوں سے نہیں بلکہ ازل سے نقطہ پذیر ہے....
Tuesday, February 13, 2024
اقراء : اکتیسویں نشست
Noor Iman
8:42 PM
8:42 PM
اکتیسویں نشست
متواتر بات چیت و گفتگو ایک مربوط رشتہ قائم کردیتی ہے. اور گفتگو میں تواتر بجانب خدا عطیہ ہوتا ہے. حکیمانہ صفت لیے لوگ اور اللہ کے دوست ایسا سکون رکھتے ہیں کہ ان سے جاری اطمینان کی لہریں قلب و نگاہ میں معجزن ہوجاتی ہے.مجھے حکم ہوا
قران پڑھو
میں نے ان سے کہا کہ یہ آسان کتاب نہیں ہے.....اسکا پڑھنا عام لوگوں کے لیے نہیں. بلکہ یہ علماء کرام پڑھاتے ہیں....
فرمانے لگے: یہ کہاں لکھا کہ خود پڑھنا نہیں ہے یا اسکے لیے استاد چاہیے؟
میں نے کہا کہ اس کی زبان اتنی مشکل ہے. اسکی عربی کی گرائمر نہیں آتی ....
شاہ بابا: آپ قرآن پاک شروع کردیں پڑھنا....آپ سے نہیں پڑھا جاتا تو آپ پانچ آیات روز پڑھ لیا کریں ....ترجمے کے ساتھ .....اسکو ایسے پڑھیں جیسے محب و محبوب کی چٹھی ہے ......پڑھنے کا ایک وقت مقرر کرلیں.. سارا دن قرآن پاک لیے بیٹھنا نہیں بلکہ ہر آیت کا مفہوم اللہ آپ پر واضح کرتا جائے گا...... جس وقت پڑھنے بیٹھیں اسی وقت اس ایک آیت پر غور و فکر کیجیے
میں نے سورہ العلق کھولی ...اسکو پڑھنے لگی ...میری سوئی تفاسیر پر اٹک گئی کہ اسکا مطلب میں کس تفسیر سے ڈھونڈیں ...
بابا، میں قرآن نہیں پڑھ سکتی. یہ تو علماء و مفسرین پڑھ سکتے.اسکے لیے باقاعدہ نصاب ہوتا ہے
بابا جان فرمانے لگے
بیٹی، قرآن پاک اللہ کا کلام ہے.وہ اپنے قاری پر خود اسکے معانی کھولتا ہے.. تفاسیر تو گنجلک وادیاں ہیں جو فرقہ پرستی کو ہوا دیتی ہیں. فلاں مسلک کی تفسیر، فلاں مسلک کے خلاف ہوتے آپس میں تفرقات کو فروغ دیتی ہے.....آپ سورہ اقراء پڑھیے
اقرا ------- پڑھ
کیا پڑھنا --------؟
کس کو پڑھنا-------؟
اقراء سے مراد کیا ہوگی؟
بنی نوع انسان جب تفکر کی گھاٹیوں میں خدا کی تلاش میں چل پڑتی ہے تو وہیں سے فرمانِ اقراء جاری ہوتا ہے ...
قرأت کس بات کی کرنی ہے؟
تو کون ہے؟
پوچھا جاتا ہے
پھر بتایا جاتا ہے کہ تری پہچان کیا ہے
ترا خدا سے کیا رشتہ ہے پوچھا جاتا ہے
انسان کہتا ہے وہ نہیں جانتا ہے
تب بتایا جاتا ہے
کس مقصد کے لیے بھیجے گئے ہو
یہ پوچھا جاتا ہے
انسان نہیں جانتا
تب اسکو بتایا جاتا ہے
انسان کی *نہیں * اور *معلوم* اسکی پہچان بوسیلہ رب فرمان اقراء ہے....آپ قرآن پاک اسطرح پڑھیں آپ کو معلوم ہو جائے آپ کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ آپ کا رب سے رشتہ کیا ہے؟ آپ کو کس مقصد کے لیے بھیجا گیا ...جب آپ کے حاصل کردہ سارے علوم کی نفی ہوگی، تب وہ ذات خود آپ کے اندر قرأت کریگی .....اور سوالات کے جوابات ملنا شروع ہوجائیں گے
Tuesday, February 6, 2024
من گنجل
Noor Iman
6:33 PM
6:33 PM
من گنجل کھول سائیں
گھٹری انج نہ رول سائیں
من گنجل کھلدا نئیں
تو وی مینوں لبھدا نئیں
اندر بڑے جھول سائیں
کتھے روحی کروبیاں
کتھے جن و انس تے حورین
کتھے غلمانِ جنت، کتھے شیطین
سارے کھڑے ایتھے سائیں
تسبیح کردے ایتھے ملائک
حورین دیون تحائف
غلمان تعارف دی کنجی
نوری علی النور کر سائیں
من گنجل کھول سائیں
میتھوں میرے توں نہ رول
میں تے ہاری،سکدی سکدی
ہن بوہا،باری کھول سائیں
چَن وی تو،شمس وی تو
شجر وی تو، گلِ طٰہ تو
تری قسم، رات وچ تو
صبح دا ستارہ بنیا اےتوں
چار چفیرے رشنائی کر
جندڑی دی دُہائیاں سن
صورت صورت وچ توں
لبھدی پھراں تینوں باروں بار
اندروں جندری تری صورت وکھائے
لبھیا اندر، باہر ترا سایا سائیں
Wednesday, January 24, 2024
حمد
Noor Iman
7:20 PM
7:20 PM
الحمدُ للہ
ال حمدُ للہ
ال (وسیلہ ) حمد (نفس) للہ
ذات کی تعریف، اپنے آپ کی تعریف بنا ممکن نَہیں. جیسا میں نے اچھا کھانا کھایا.مجھے کھانے میں ذائقے اور بھوک نے کہنے پر مجبور کردیا. واہ، کھانا بہت اچھا تھا...مولا ترا شکر ہے...تو نے نعمت میسر کی گوکہ رزق کمانے کی مشقت میں نے خود کی. میرے ٹیسٹ بڈز اگر نَہ ہوتے تو میں کیسے اس نعمت کا شکر ادا کرپاتی ...ان ٹیسٹ بڈز کے ہونے کا شکریہ ...یا کہ میرا نیورانز اگر ٹھیک نہ ہوتے تو مجھے ذائقہ محسوس نہ ہوتا...... اس نیورانز کے نظام کا شکریہ جو مرے دماغ کو سگنلز بھیجتے ہیں کہ مجھے وقت پر زبان تک نیورانز تک میسج پہنچ جانا چاہیے کہ یہ ذائقہ میٹھا، کڑوا ..... ہے ... یہ سب ذائقے بیک وقت چار ذائقوں کے میسجز لیے مجھے تحریک دیتے رہیں ...... میرا الحمدُ للہ شکر مکمل نَہیں ...
غرض تو ہے کچھ بھی نفع بخش نہیں. کچھ بھی نقصان دہ نہیں.
سب منجانب اللہ ہے
سب للہ ہے
جو نقصان رب سے جوڑ دے.اس نقصان و وسیلے کی حمد جس نے ضمیر جیسی نعمت کی مرے درون میں کاشت کی .....
جو خوبی مجھے معتبر کرے غرض دانش کا منبع مجھے سوچ دے کہ میں یہ سوچ کیسے سکتی؟ یہ خیال تو واردات ہے...اس خیال کی عطا نے شکر کی نعمت دی مجھے ....میری سورہ الفاتحہ ....الحمدُ للہ سے شروع ہوگئی
لیکن میرے نفس نے اگر قرأتِ سورہ الفاتحہ کی ہوتی تُو میں ہر خیر و شر کی معرفت سے اللہ تک پہنچ جاتی. اگر مجھے اندازہ ہو پاتا کہ خیر (حق و باطل ) اور شر (حق و باطل) دونوں میرے لیے برابر ہیں...تب کہ خیر کا نتیجہ حق بھی نکل سکتا یا باطل بھی ---- شر کے سبب سے حق بھی پاسکتی یا باطل بھی....ان دو صورتوں میں میرا محور ان اسباب کی حمد کرنا تھی جن نے مجھے حق سے جوڑا .....یہی مقامِ غور و فکر ہے...
Sunday, January 7, 2024
Wednesday, November 22, 2023
قرأت کیوں ضروری ہے
Noor Iman
8:55 PM
8:55 PM
قران پڑھنے و فہم کے لیے روحِ اعظم سے ربط ضروری ہے معظم و مبین و رحمت سراپا ہستی نے قَریب سالہا سال کی ریاضت و مجاہدہ فکرو غور پر رکھا. سوچ و خیال کے تَمام سوتے مرکوز ہوئے ایک نقطے پر، تب جبرئیل رحمت اس نقطہ کے وسیلے سے حرفِ اقرء کے راوی ہوئے
کَہا گیا
قرأت ویسی کیجیے،جیسی کہ بَتائی گئی
حکمت کا درجہ تھا کہ تین مرتبہ کہا گیا
میں قرأت نَہیں جانتا
میں قرأت نہیں جانتا
میں قرأت نہیں جانتا
قرآن پاک کو درجہ بَہ درجہ ایک سیڑھی (نور کی) سے معتبر کیا جاتا ہے تب یہ واردات(وحی) *اوحی* کے لیے وسیلہ روحِ اعظم ٹھہری اور رابطہ کے لیے نشانِ جبرئیل حادث مقرر ہوا.گویا ترتیل و تنزیل کے لیے فرشتہِ وَحی ایک نشان اور ترسیل نور و قرأت پسِ پردہ جاری ہوئی. ہیبت کا عالم تھا کہ لرزش سراپا بدن معطر تھا. رابطے کا پہلا نشان کھالوں کا نَرم پڑجانا، روح کا مقرر ہوجانا. انسانی نفس و جسم پر واردات کیفی کا حال لرزش و خشیست میں ظاہر ہوتا ہے.نَماز دین کی ابتدا اس پہلی وَحی مقرر سے ہوگئی
نَماز دین کا پہلا درجہ خشیت و لرزش ہے جو بعد دید حاصل ہوتا ہے. لقاء سے محرومین اس نَماز دین سے عاجز ہوتے ظاہر کے روبہ ملتبس خدا سے محروم یلغار میں مہم کار رہے
قرأن کسی بَشر کو قرأت کے بنا یعنی (روحِ اعظم) سے ربط بنا نہیں آسکتا.
راقم اس حوالے سے ایک وحی مقرر کی جانب غور و فہم کراتا ہے
تم میں ایک ایسا بھیجا جو تمھارے دلوں کا تذکیہ کرتا اور آیات کو کھولتا.آیات یعنی قلب مبارک میں نشانات. ایسے نشان جن سے چشمے جاری ہوتے
سورہ البقر میں اشارہ ہے
کچھ پتھر سجدے میں اور کچھ سے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں
چشموں سے مراد بصیرت ہے. بصر یعنی دیکھنا اللہ کے نور سے. مومن کی فراست اللہ کے نور سے دیکھنا ہے ...
ان نشانات کی قرأت و ترتیل و انتظام کے لیے غائب / حاضر سے رابطہ کسی روح اعظم سے ضروری ہے جس کا رابطہ اس حادث نور کے نشانات سے ہوتے سلسلہ خدا سے ملتا ہو ...
دوسرا درجہ: قم فأنذر
جب نور مکمل جاذبیت و حسن سے سیراب کردیے تب من و تو کا فرق واجب نہیں ہوتا کیونکہ واجب و الوجود ذات ایک ہی ہے. وہ خود اس کاغذ ہستی میں نمود پاتے نقطے سے حروف تہجی کی مکمل ترتیل کرتی ہے.تب کہا جاتا ہے پیار سے
کملی (نور سراپا) والے
زمانے والو کو ڈراؤ.......
قرآن پاک کی ندرت بیانی ہے کہ اس میں کئی قرآن کی اقسام بیان کی گئی. ظاہر معلوم ہے کہ ہر نبی پر قرأت افکار مختلف ہوتی ہے. کسی پر یہ نور فرقان بن جاتا ہے کہ اس کو ہر سچ و باطل کی تمیز ہو.کسی پر نور الہدی کہ ہدایت پانے والے بن جائیں. کہیں یہ ذکر سے مشبہ ہے. جب وہ ذاکر ہو تو جس جس سے وہ ذکر کرتا ہے یعنی نصیحت.اس نصیحت کی جامعیت کا واردات بن جانا اس کی جانب سے تحفہِ عظمی ہے.وہ برتن میں جب اترتی ہے تو تناول ایک ہستی کرے یا بہت سی مگر یہ جیسے اترتی ہے ویسے زمانوں تک جاری رہتی ہے بس برتن در برتن ایک فرق آجاتا ہے ....
قرأن کی تفہیم بنا قاری کے کیسے ممکن ہے؟
تم کیسے کسی مرشد(قاری) کے بنا تحفہ معظم پاسکتے ہو
قرأن کی قرأت کا اعجاز موجود زمانے میں ایک سورہ سے شروع ہوا ہے.سورہ رحمن کی قرأت ایسے قاری سے جس کو قرأت روح اعظم سے حاصل ہو.جس کو یہ شرف ہو وہ ربط خدا میں ہمہ حال ہے
قرأت قران شفا بن جانا تو بس نقطہ کے کھل جانے کی پہلی آیت ہے
بشر اپنی تمام کثافتوں کو لیے جب اس قرأت سے فیض یاب ہوتا ایسا جیسا قاری عبد الباسط کے پیچھے وہ خود بھی خدا کے روبرو ہے
تب وہ خشیت سے کھالوں کا نرم پڑجانا اہم ہے
بیماریوں کی شفاء سے لیکر عرفان ذات تلک سارے کام نقطے سے شروع ہوتے حروف تہجی مکمل ہونے تلک ہے ...
ذکر کی بہترین قسم ہے کہ ذکر جاری رکھو
نبی مثل نور ہوتا ہے
Noor Iman
8:52 PM
8:52 PM
نبی مثلِ نُور ہوتا ہے مگر صورت بشر ہوتا ہے.اس کی رویت میں اللہ عزوجل اس قدر قرار پاچُکا ہوتا ہے، اُسے دیکھنا اللہ کو دیکھنے جیسا ہے مگر یہ ظاہری صورت کا جلوہ نَہیں وہ دید تو ابو جہل نے بھی کی تھی یہ درون کی رویت کا جلوہ جب تک ممکن نَہیں جب تک نبی خود نَہ دکھانا چاہے نَبی خود نَہیں دکھاتا بلکہ اسکے نور کی رویت(اللہ) جس تک وہ چاہے، جتنی چاہے،پہنچ جاتی ہے اس لیے مومنین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ نَہیں پاتے تھے جب تک نَبی ان کو نہ دیکھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا. جس نے ان کو دیکھا گویا اس نے خود کو دیکھا .... وہ اندر(درون) میں موجود ہیں ..
جناب یعقوب علیہ سَلام کا صبر ایک مثال مگر مسنی الضر کہنا پڑا .
جناب آدم علیہ سلام کا گریہ اور ربنا ظلمنا انفسنا کہنا پڑا.
جناب یوسف علیہ سلام کا گناہگار ہوتے جیل کاٹنا مگر قیدی کو بآلاخر کہہ دیا بادشاہ کو یاد دلا دے.
جناب یونس علیہ سَلام کو لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین کہنا پڑا.
..
ہر ایک نے مثلِ نور ہوتے کہیں نہ کہیں تقاضائے بشریت کا اظہار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی کوئی بات نہیِ نبھائی جس سے نجات کی دعا مانگتے آپ نے اپنی امت کے لیے اپنی اولاد و آل کو قربان کردیا اور دعا امت کے لیے رکھ لی ....ان کی دعا سے ہچکی لیتا بدن،لرزش پیہم،گفتہ بہ دل، گریہ بہ چشمان، روئے زار زار.
رحمت سراپا ،متلجی دِیا،قبولیے دعا،دیجیے ردا،نقش نعلینت پر سجدے کا اذن،شمس الدحی کی رویت، ماہیت قلب میں ..... ایسی رہے ایسی رہے جیسی دعا ہے مدعا رکھا ہے، دل پڑا ہے،ہاتھ دھرا ہے .....
Tuesday, October 10, 2023
ذات ِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
Noor Iman
7:36 PM
7:36 PM
اللہ کی ذات روشن و بابرکت ہر زَمن کے لیے متجلی ہے. جب وہ کسی کو اپنی محبوبیت کا شرف بخشتا ہے تو اس کو ایسی چادر عطا کرتا ہے جو قربت کی نشانی ہوتی ہے. ہر زمانے میں اُسکا محبوب بصورتِ نشان رہا ہے. گویا ذات محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہر نبی کے دل ودیعت کردہ ہے. وہ زمانہِ قدیم سے اب تلک کے تمام خبر دینے والوں کے قلب میں نشانِ عظیم ہے. ہر معرفت کا طلب گار دل اس نشان عظیم کا متمنی ہے.
مناجات
Noor Iman
7:23 PM
7:23 PM
اے مالکِ کونین! دل کو اپنے نور سے منور کردے.قرابت کی منازل عطا کر. جنبشِ ناز سے حریمِ دِل میں قدم رکھ. فریاد رس دل میرا تری بارگہ میں ترے نام کا ہدیہ لیے طالب ہے.مولا تو نے اپنے طالب کو کب حق سے محروم کیا ہے؟ مولا تو نے کب موج کو بحر سے الگ کیا ہے.مجھے بحرِ حق سے الگ مت کر. یہ میرے ظاہر کی بھی موت ہے. یہ مرے باطن کی بھی موت ہے.
نعت
Noor Iman
7:09 PM
7:09 PM
اوہدہ کمبل کالا تے مکھ چن ورگا
مکھڑا سوہنا ،لگدا مینوں رب ورگا
تراب کی قسم کھائی جاتی ہے اور بوترابی کا لقب عطا کیا جاتا ہے.القابات سارے رب کی جانب سے عطا ہیں. وہ اس زمانہِ روشن میں بھی جھکے ہیں جو اس زمانہِ قدیم میں جھک گئے تھے.وہ اس حال میں مقیم ہیں گویا ان کے روبَرو ان کا محب ہے. یہ تسبیح ہے. انسان کو قائم تسبیح خیال کی یکسوئی سے ملی ہے جبکہ رات کی تسبیح بشارت دینا ہے. اندھیرا ہمیشہ روشنی لاتا ہے ..... روشنی عالمِین کی قائم ہوتی ہے تو کملی والا دکھائی دینے لگتا ہے ....
Tuesday, March 14, 2023
ترا خیال....
Noor Iman
1:55 AM
1:55 AM
یہ الفاظ کھوجائیں گے......
محبت کے حرف ختم نَہ ہوں گے .......
وصلت عیش میں خیال ترا غافل نَہ کردے.....
اس لیے تجھے سامنے بِٹھا کے دیکھتے رہتے ہیں ....
کَہیں تُم مجھ خُدا تو نَہیں سَمجھ رَہی؟
تُم خدا سے بَڑھ کے ہو کیونکہ تمھیں دیکھ کے خُدا یاد آجاتا ہے
تمھارے چہرے کا نقش نقش سینے میں محفوظ کرتی ہوں کہ کَہیں خطا میں میں خطا ہوجاؤں تو یہ خیال خطا نہ ہو اور نماز محبت قضا نَہ ہو .......
میری جان
جب سے تمھیں دیکھا ہے چین و پل کو دان کرکے درشن کو مندر میں بھگوان کی پوجا شُروع کردی. مرے خیال کی رکھشا کرے گا بھگوان اور مجھ سے کبھی جدا نَہ کرے گا
تم جانتی ہو
محبت تلازمِ حیات ہے ....
یہ وہ آبِ حیات ہے جس سے شہد کی مٹھاس ماند پڑ جاتی ہے
یہ وہ چاندنی ہے جس سے چاند ماند پڑجاتا ہے
یہ وہ آگ ہے جس سے لوہا پگھل جاتا ہے
یہ وہ نغمہ ہے جو دِلوں کے باہم وصال سے وجود آتا ہے
اچھااااا!
تُمھارا حُسن اس قدر جاذبیت لِیے ہے کہ اک پل کو جی چاہے کہ روشنی سورج کی تم سے خیرات مانگنے آتی ہے ....
تمھارے احساس کا آنچل .....
تمھاری محبت میں جلتا سندیب ....
چراغ محبت میں راکھ ہوتی دشائیں
آرتھی اتارو
بھگوان نیا میں بہنے دو آنچل سے آگ کو
کپڑے کو جل جانے دو
محبوب ساتھ ہو تو جلنے کا لطف الگ ہے
جو مزہ جلنے میں وہ صبا کے چلنے میں نہیں
یونہی تھام چہرا دیکھ دیکھ کے احساس کی سرحدوں میں پیار روشنی کے دریا جیسا داخل ہوا .... یکتائی .... دوئی نہیں ہوتی پیار میں ... ورنہ پیار نہیں ہوتا .....
ترے سنگ چلی پیا
نینن میں بَسا کے چلی
Thursday, May 19, 2022
نوری ریکھائیں
Noor Iman
5:23 AM
5:23 AM
بہرحال سلطان پیش رو قبلہ ماتمی قبا پہنے زندہ درگور حیات میں بقا کا پرندہ لافانی ہے یہ جذبات کی روانی میں نکلا آبجو جس کو مانند بحر سمجھ کے رقم کردیا. یہ شاہ نسیان ہے. سلاست کے قائم مقام اللہ کے ہادی ہیں جن پر دل کا کہا ہے وجی اللہ کی تار
یہ میم کی رخسار
بات میں ہے اختصار
دل میں بسے اغیار
کیسا کیا میں نے پیار
بج رہا ہے میرا ستار
ہوئی لیل میں نہار
کوبہ کو ریشمی فضا
اللہ اللہ کی ہے ردا
دل میں کس کا جلوہ
اللہ کا ہے وہ نور یزدان
سلطانی قبا کو پہن کے روح ہاشمی کے سامنے لب سمیٹ کے کریم سے فہم کے دھاگے مانگ کے لطیف ہوگئے اور اسم ناتوانی سے اک الف نے توانائ کی آبشار دی اور مجھ میں ذات کا اظہار کسی برقی رو سے مانند مثل نور ہے اور جانب طور سے جانب جبل النور ہے. کسی سدرہ والے نے آواز دی ہے کہ طائران حرم کے پیشوا حاضر ہیں
مقبران طیور پر زندہ باقی ہے
وہی زندہ جو مثل نور قدیم ہے اسکی بات طوفانی ہے اور حق کی روانی میں کسی آبشار کے سلام کو اسم قہار سے تعلق جوڑنے والے بے ھو کا اشارہ دیا گویا بحر کو کنارے کی ضرورت نہ تھی مگر موج بن گیا بحر اوراستعاراتا موت واقع ہوگئی اور جنبش مژگان سے موتی ٹپکتے رہے اور ہاتھ کی روانی میں کسی نور سے آنکھ ملی. یہ ید بیضائی ہالہ ہے
اسکو اجالا کہیں گے کہ کسی اجالے والے سے پوچھو کہ کس طرز سے راگ چھیڑا جاتا ہے. کس طرز سے صدائے نو بہار کو بلایا جائے یا صدائے جرس کی گھڑی کو بھگایا جائے یا نغمہ آہو کو رفع کیا جائے. میں شمع ہوں اور پروانہ مجھ میں متوف ہے. کیسا رشتہ ہے یکتائ میں دوئی ہے اور اسم وحدت ھو بن کے چمک رہا ہے گویا تو بن کے دمک رہا ہے
وہ افلاک سے قندیل بلائی گئی ہے جس میں نور سجایا گیا ہے .نور مکمل ہوگا جب مکمل ہوگا تب نہ ہوش ہوگا نہ ذوق ہوگا تب وہ ہوگا صاحب وڈا میں نیوی آں
صاحب ہادی میں مندی آں
صاحب نال رشتہ ازلوں اے
صاحب نال ازلوں منگی آں
میں اوہدی راہ انج تکدی آں
جیویں نور وچ سیاہی لکی ہے
جیویں روشنی دے اجیارے
جیویں روشنی وچ استعارے
کس طرز نو بہا سے سجایا گیا ہے. کس طرز سے افلاک کو سجایا گیا ہے. کس طرز سے ابحار کو ریکھا نے لکھا ہے مجھ میِں. وقت کی قید میں مثل شعر ہوں. میں اسکی پوری غزل ہوں اور خود منعم کا انعام ہوں. صراط مستقیم پر اجالا ہے. گزرنے والے نے کہا
اللہ سے رنگ لیا ہے
میم سے واج اٹھی ہے
میم نے ردا ڈالی یے
میم سے سویرا ہوا ہے
میم برحق برمثل شمع
میم رخسار دل پر رقم
میم افکار میں قائم ہے
: وہ نور جو مجھے میں دائم ہے میں اس پر صائم ہے. میں ناعم ہوں وہ قائم ہے. میں ناعم ہوں وہ ثُبات ہے. میں ناعم ہوں وہ حیات ہے. میں ناعم ہوں وہ لا اضداد ہے. میں ناعم ہوں وہ بے حساب ہے. میں ناعم ہوں وہ غنی ہے. میں ناعم ہوں وہ رواں مثل آبشار ہے. میں ناعم ہوں وہ دائم ہے. میں ناعم ہوں وہ الحی القیوم یے ..میں ناعم ہوں وہ یوم حشر کی توانائی ہے .میں ناعم ہوں وہ دیدار بقا ہے. میں ناعم ہوں وہ ابہار حیا ہے. میں ناعم ہوں وہ رب زوالجلال ہے. میں ناعم ہوں وہ رب پر جلال ہے
میں ناعم ہوں وہ پیشوائے رنداں ہے. میں ناعم ہوں بزم شوق کی نوری قندیل ہے. میں ناعم ہوں وہ جنبش موجہِ ندیم کی بات سے لب دل سے افکار سے مختصر ہے. قصہ گو نے مجھے لکھنا چاہا ہے میں نے قصہ لکھنا چاہا ہے. قصہ مجھے لکھ رہا ہے. میں نے اسے دیکھ رکھا یے. ہاں وہ رب جس کی وحدت کی چمک سے جہاں روشن ہے. ہاں وہ رب جس کی شان الوہیت سے قلب مطہر ہیں. ہاں وہ رب جو سب میں ہے. ہاں وہ رب جو سب میں بقائے حیات ہے. ہاں وہ رب جو کرسی پر فائز ہے. ہاں وہ رب جو ندی سے بحر کا سفر کراتا ہے. ہاں وہ رب جو قطرے کو دریا بناتا ہے. ہاں وہ رب جو دریا کو بحر میں لیجاتا یے. وہ مجھے ملا ہے مرا دل ہلا ہے مجھ میں کچھ ہلا ہے. کہو اللہ اللہ
سنو یہ حرف مقام شوق سے پربیان دل پر طاری افکار ندیم ہیں. سنو یہ دل کی ازلی عطا پر رفتگی کا سایہ شمیم ہے سنو یہ فلاں ابن فلاں کی روحی ترمیم ہے. سنو یہ اللہ سے اللہ کی باد نسیم ہے. سنو یہ تمنائے حرم کی شوق صمیم ہے. سنو یہ کوئے جاناں کی طواف نسیم ہے. خاک کو بہ کو ہے روشنی چار سو ہے رگ رگ میں وہی تار ہے کہو اشھد ان الا الہ الا اللہ
تشہد پر قائم دل ہو تو رخ سے حجاب ہٹ جاتے ہیں رخ سے حجاب اٹھا تو لگا تم بھی نور قدیم ہو. تم ازل کی باد نسیم ہو تم موجہ کریم ہو. تم رومی کے ندیم ہو. تم شمس سے منسلک کسی ستار کا تار ہو. تم پر غازی لکھا گیا ہے غازی جس نے لکھا اس نے کہا ہے اسم غازی سے غازہ دل سے سرخ رنگ تمھارا ہے لعل تمھارا روشن ہے تم چراغ حسینی کے اک احساس ہو. جب جب احساس کی تلوار اترتی ہےتم رو پڑتے ہو
رخ عنبر سے عنابی پن میں آپ کے لیکھ روشن. آپ کے ہاتھ میں وہ ہالے ہیں جس سے شاہ کنعان نے چابیاں لے کے بحر طلسم توڑا. محبت کا الوہی احساس ہے جس میں کسی تار حریر سے ریشمی قبا کا سوال کیا گیا. کسی احسن ندیم نے مجھے زعیم کیا اور کہا رنگ لگا ہے سرکاری. سرکار والے آئے ہیں اور سرکار سے سلیمانی ٹوپی لائے ہیں. آپ کے احساس سے ڈوبی تلوار نے ناوک دل پر گھاؤ لگایا ایسا کہ ٹوٹ گیا صبر کا قفل. روشنی کا ستم اشتہار ہوا اور خبر کا انتشار ہوا. مخبر کو بتایا گیا
الحاقہ ماالحاقہ
Saturday, April 16, 2022
دل اک چراغ
Noor Iman
10:23 PM
10:23 PM
دل، اک سرزمین ہے، یہ زمین بلندی پر ہے. زمن نے گواہ بَنایا ہے اور ساتھ ہوں کہکشاؤں کے. سربسر صبا کے جھونکے لطافت ابدی کا چولا ہو جیسا. ازل کا چراغ قید ہے. یہ قدامت کا نور وہبی وسعت کے لحاط سے جامع منظر پیش کرتا ہے. کرسی حی قیوم نے قیدی کو اپنی جانب کشش کر رکھا ہے وحدت کے سرخ رنگ نے جذب کیے ہوئے جہانوں کو چھو دیا ہے. شام و فلسطین میں راوی بہت ہیں اور جلال بھی وہیں پنہاں ہے. دل بغداد کی زمین بنا ہے سفر حجاز میں پرواز پر مائل ہوا چاہے گا تو راقم لکھے گا کہ سفر بغداد کا یہ باب سنہرا ہے جس میں شاہ جیلان نے عمامہ باندھا ہوگا اور لفظِ حیات پکڑا تھمایا ہوگا. وہ لفظ حیات کا عقدہ کوئی جان نہیں پائے گا . بس یہ موسویت چراغ کو عیسویت کی قندیل سے روشنی نور محمدہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل رہی. وہ بابرکت مجلی زیتون کا درخت جس کے ہر پتے کا رنگ جدا ہے مگر درخت نے سب پتوں کو نمو دیے جانے کس نگر کا سفر کرادیا ہے. داستان گو نے کہا ہے کہ انمول خزینے ہوتے ہیں جہاں نورانی مصحف شاہ جیلاں اتارتے ہیں اور کہنے والے کہتے پیرا سچا بغداد ساڈا. اودھی دستار دے رنگ وی وکھو وکھ. اوہی سچے دا سچا سچ
Saturday, March 12, 2022
عبد اللہ شاہ غازی
Noor Iman
10:07 PM
10:07 PM
شمعِ دل کی لو عبد اللہ شاہ غازی
ضوئے عالمِ ہو،عبد اللہ شاہ غازی
بامِ فلک پر قندیل نوری نوری ہیں
زمین نیلی نیلی عبد اللہ شاہ غازی
گل دستہ عشق ،شہ زمن، نوری رتن
رنگ علی،در عینی عبد اللہ شاہ غازی
راجدھانی کے سالار عبد اللہ شاہ غازی
نورِ رنگ ہیں پہ نوری چمن کہ عقیقِ دہن
شیریں لحن،نوری وطن، صالح زمن
زنگِ دل!
رنگ کیسے ہوگا؟
کیسے اڑے گا زنگ؟
کیسے چڑھے گا رنگ؟
عبد اللہ شاہ غازی وردِ لب
ورد لب بام دل پر نوری جھلک
بغداد کے ہیرے
ہجرت تھی ان کا مقدر
رنگ دیا.....
لعل دیے ....
چنر دی .....
لعلی کو رنگ دیا
جمال کی محویت دی
اظہار دیا ـ
گفتار میں لقا۶
لقاء میں گفتار
جنبشِ نگاہ .......
مرگیا دِل، مٹ گیا ......
قتل ہوگیا .......
طرز فکر کی نو بہار
نوکِ دل پہ مژہِ نم
کسی کو بس ہے ترا ہی درد
عبد اللہ شاہ غازی
قتل کیا جاتا ہے
وار در وار کیا جاتا ہے
نگاہوں کے تیر گھائل کیے دیں
نچھاور ہو جائیں ہزاروں دل
نچھاور ہو جائیں کڑوڑوں دل
رنگ دیا جاتا ہے
نگینہ ہائے بغداد در مکران
مظہر علی نور جلی - علی علی
شاہ سبحان عبد اللہ شاہ غازی
قتل کیا گیا
وار در وار کیا گیا
نچھاور ہوگیا دل
در نجف،در عینی،در یمن،عقیقِ لعل و یمنی مہک علی، روئے علی، جناب علی، حسنی و حسینی
عبد اللہ شاہ غازی
بسمل کی تڑپ
بسمل کا سینہ
سینہ کہ مدینہ
بسمل محو لقا
تصادم پر گھائل
الوہی صدا .....
سید الصدا ....
علی، علی، علی، علی، ......