Sunday, November 22, 2020

رحمت

 سرورِ کونین جب اس دنیا میں تشریف لائے ، فلک ، زمین ، شجر و حجر نے مل کے یک بیک درود پڑھا ۔ درود کی صدائیں بکھرتے ایک نغمہ تشکیل دیا گیا ، یہ نغمہ ایسا تھا جس سے ہر نیا مولود پیداہوتے ہی اس ساز کو سن لیتا تھا ۔ یہ ساز قالو بلی کی مانند ، مگر روح کے امر کے بعد ایک نیا عہد تھا ۔ پہلا نغمہِ کُن تھا ، دوسرا نغمہ حُب تھا ۔ رحمت العالمین ﷺ کی مسند ہر دل میں بچھا دی گئی ۔روح نے پہلا نغمہ سُنا جبکہ دوسرا اُس نے ادا کیا۔ اے نبی ﷺ اے دو جہانوں کے سردار ، اے ذی وقار، اے محمد ﷺ اے احمدﷺ ، شہ ابرار ، اے ہادیِ برحق ، اے شافعی امم ﷺ ، اے جن و انس کے آقاﷺ ، اے اللہ کے حبیب ﷺ ! تم پہ کڑوڑوں درود ! تم پہ کڑوڑوں درود۔۔۔۔۔


نغمہِ صلی علی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گونجتے ہی روح کا رابطہ عالی سرور وقار سے ہوگیا ،اس پر رحمت کی ذمہ داری لے لی گئی ۔ آپ نے رحمت کی تقسیم شروع کردی ۔ وہ کلمہِ روح جس میں نور کی تجلیات ہیں ، اس کا رابطہ جب رحمت العالمین سے ہوا ، محبت کی خلعت سے نواز دیا گیا ۔ آپ کی محبت کی عطا کسی بھی عطا سے بڑی ہے ۔ جس سے جب نبی ﷺ محبت کریں ، رب العالمین بھی محبت کرتا ہے ۔ کلمہِ نور نور العرش پر لکھے کلموں میں سے ایک ہے یہ نورِ خاص کی ایک تجلی ہے ، جس کی روشنی مصفی ، مجلی ، معطر ، منور ہے ، جس کو دی جاتی ہے ،اسکی صورت مطاہر اور اسکو مسیحائی مل جاتی ہے ۔حضرت عیسی ؑ کو ذات میں نور کی تجلیات رکھی گئیں اور بعد اسکے مسیحائی عطا کی گئی۔ اسی طرح موسی ؑ کی روح کو محبوبیت کا شرف حاصل رہا ہے ،آپ کو عظمت کی تجلی سے نوازا گیا ، بزرگی کی روشنی دی گئی اور آپ کے ذکر کو بلند کردیا گیا ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی روح کو بہت سی تجلیات کا شرف حاصل ہے ، بعد محمدﷺ آپ ایسے نبی ہیں جن کی روح کثیر تجلیات رکھتی ہے ''ذو الجلالی بھی شان تھی ، کرم بھی ، رؤوف بھی تھے ،ٖغنی بھی تھے ، سراپا نور بھی تھے ،حکیم بھی تھے ، رشد و ہدایت کے درجے پر فائز تھے ، صابر و تسلیم و رضا والے تھے ، شبیر و شبر کو ان خاص صفات سے نواز گیا جو آپ سے ہوتی نبی محتشم ﷺ تک آئیں ۔

حضرت محمد ﷺ کی ذات میں اللہ کی تمام صفات جمیلہ ، کمالیہ ، جلالی کو سمو دیا گیا اور روح کی پیشانی پر رحمانیت کی تجلیِ خاص سے سرفراز کردیا گیا ۔ آپ کی روح کو کمال عطا کیے گئے اور کمال کی غفاری ہے ، کمال کی انکساری ہے ، کمال کی عاجزی ہے ، کمال کا اخلاق ہے ، کمال کا صبر ہے ، کمال کا محبت ہے ، کمال کے انسان ہیں ، کمال کے شوہر ہیں ، کمال کے ہمسائے ہیں ، کمال کے امین ہیں ، کمال کے صدیق ہیں۔ کاملیت کی انتہائیں نبیِ محتشم ﷺ کو عطا کر دی گئیں ۔ آپ کو جلال کی انتہائیں مل گئیں ، مہر و ماہ کی روشنی آپ کے آگے ماند ہیں ، بزرگی کی وہ رفعتیں دی گئیں کہ امامت کراتے ربِ العالمین کے پاس پہنچے ۔ معراج آپ کی روح سے ہر روح کو ملتی رہی ہے ، ملتی رہے گی ۔ جمال کی انتہائیں عطا کی گئیں ۔ رحمت العالمین بنا کے اللہ نے دنیا میں بھیجا ، آپ کی روح نے جتنا جمال ، جتنا ذوق ، جتنی لطافت ، جتنی شہادتیں دنیا والوں کو دیں ہیں وہ لا متناہی ہیں ۔ آپ کی رحمت میں بعدِ خدا ہیں

حضرت محمد ﷺ کی جس پر نظر ہوجائے ، درود اسکو عطا ہوجاتا ہے ۔ اسکا سینہ مدینہ کردیا جاتا ہے ، اسکا سینہ کشادہ کردیا جاتا ہے اور گاہے گاہے رحمت کی نظر رکھی جاتی ہے اور جب نگاہیں ادھر ہوتیں ہیں تو ساقی کو دیکھ کے میخوار بول اٹھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

کمان سے جو تیر نکلا ، سینے میں کھبا​
تری نگہ سے کتنے دل فگار ہو چلے​


میخواری سے پیمانہ جب بھرا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے

جامِ جم کا ہے موسم
حوضِ کوثر کا ہے موسم
-----------
میخوار کو مدینے لایا گیا
شہ ابرار کا سوالی بنایا گیا
باب العلم نے اسے تھام رکھا ہے
سیدالعشاق کے کے ساتھ چلنا ہے


میخواری کو ساقی کی نگاہوں کی تلاش رہتی ہے ، ساقی رحیم ہے ۔ میخوار کو امید ہے وہ سینہ جسکو کائنات کیا گیا ہے ، اس پر نگاہ کیے رکھیں گے ۔ اے کعبہ کے بدر ، اے کعبہ کے شمس ! درود کی ایسی عطا میخواروں کی دے دی جائے کہ اسمِ حمد ہر وقت یکساں دل میں متحرک رہے ۔ آپ رحمت العالمین ﷺ ہیں ، جتنے سینے ہیں ، جتنے عالم ہیں ان پر مہربان ہیں ! اے کائناتوں ، اے عالمین کے مالک ! ایسی نگاہ ہو کہ ہست نہ رہے ، بیخودی میں عدم کا احساس رہے ، عدم میں مگر آپﷺ کا احساس ہو ! یہ منتہی کا سفر ہے ! یہ معراج ہے ! معراج کی عطا ہے ! اس عطا کو بے انتہا کردیں ۔

وہ کہاں کہاں ہے

 بنانا مٹانا مٹا کر بنانا اس کی حکمت کے رخ ہیں ۔ وہ مٹی کے گارے سے انسان کا جسم بناتا ہے اور پھر انسان کے جسم کو مٹی گارا بنا کر فنا کر دیتا ہے ۔ گارے مٹی کایہ کھیل زندگی اور موت کے عمل کو رواں رکھتا ہے ۔ مٹی سے جسموں کا بننا ، ان جسموں میں روح کا سمانا زندگی کو جنم دیتا ہے ، روح نکلنے کے بعد جسموں کا فنا ہونا ، اسی سمانے نکلنے فنا ہونے کے سلسلے میں مالکِ کائنات کی حکمت چھپی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ تعمیرِ حیات کے ابتدا میں گارہ کھنکھناتی مٹی سے لیس دار لج لجا کی صورت بدلا گیا پھر اسمیں جان ڈال دی گئی ۔ کن فیکون میں بدل گیا ۔ روح کو جسم میں دخول کا امر ہوگیا ، گویا لا مکاں کو مکان مل گیا ۔حلقہِ لا مکاں نے جسم خاکی میں قدم رکھا اور نفس سے اس کو قرارکی استقامت ملی ۔


حلقہِ لا مکاں نے مکاں میں داخل ہونے کے بعد بے جان جسم خاک کو بے پناہ قوتیں وسعتیں عطا کردیں ، وہ جو مٹی تعمیر سے پہلے تخریب کی حالت میں گیلی لج لجی تھی ۔ وہ جس کو نظر بھر دیکھنے کے بعد دل برا پڑتا تھا ، حلقہِ لا مکاں کے دخول کے بعد وہی اب بہت اعلی ، جمیل ہے .... بہت خوبصورت ہے بہت پر نور ہے کہ اسکا نور چارسو بکھرتا ہے ،

نور کی جانب ، نور کی سرحدوں میں داخلے
، کیسے داخلے ؟ کیسے رابطے ؟ کیسے ضابطے ؟
مر مٹنے کے ضابطے ؟ کیسے سابقے َ؟
شاید کوئی ماضی میں کھوگیا ہے ،
کوئی تو گمشدہ ہے ؟ کوئی گمشدہ ہے
اور ستم زدہ ہے ..

ابھی سرحدِ نور میں چار سو نور کو دیکھ رہا ہے ، حجاب ازل کی جانب خیال پروازمیں ہے اچانک ، گمان نے راستے روک دیے ؟
مصطفوی ﷺ نور کہاں ہے ؟ ارے ! وہ کہاں نہیں ہے ؟

اندر ہے ! باہر ہے !
اوپر بھی ، زمین میں بھی ،
عیاں بھی ، نہاں بھی ! تو کیا وہ خدا ہے ؟
نہیں ! وہ خدا کے بعد ہے
تو وہ ہر جگہ کیوں ہے ؟
وہ تو ایک کی جگہ ہے !

ایک نے ایک جگہ ، ایک کو دے دی ۔ محبوب نے محبوب کو اپنی محبوبیت کی سند دے دی ، جا ! جس دل میں دیکھ ! مندر میں جا ، مسجد میں بیٹھ ، کسی باغ میں بیٹھ ، گلوں کی خوشبو سے مہک ، جگنو کی روشنی سے نکلتا نور دیکھ .......

''تو وہ جو ہر جگہ ہے ،جس کا جلوہ ہر جگہ دکھ رہا ہے، وہ خدا ہے''
اللہ نور السماوات و الارض ۔۔۔۔۔

''ا جو ہر جگہ ہے ، جو دکھ رہا ہے ، وہ محمد ﷺ ہے''

و ما ارسلنک الا رحمتہ للعالمین

موسیؑ کو جلوہ ِ جاناں نہ دکھا مگر طور جلا دیا گیا ...ؑ محمدﷺ وہ کہ جنہیں خود دیدارکے لیئے خود فلک پر بُلا لیا گیا ، موسی ؑ کو چالیس رات اس تپش میں جلنا پڑا جبکہ محمد ﷺ کو چالیس سال سرور کی منازل میں محو رکھا ......

اللہ الصمد

میں تجھے چاہوں مگر تو کہاں ہے ؟ کس در دکھے گا تیرا جلوہ ۔۔؟ آئی صدا جہاں محمد ﷺ کا ذکر ہے ، وہاں ہی میں رہتا ہوں ۔۔۔۔ ۔۔لامکاں کی بلندیوں پر رفعت محمد ﷺ کے نور کو ملی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمین کی حد بندیوں سے اوجِ ثریا کے رفعتوں میں نورِ علیِ نور کے سلاسل میں محمد ، احمد ، طہ ، یسین ، مزمل ، مدثر کے نوری اسما گردش میں ، ۔۔۔۔ افلاک بھی اس گردش کا حصہ ہے ،

وہ جو کرم کرے ، دل میں سما جاتا ہے

 وہ جب بھی ہم کلام ہوتا ہے ، بیخودی میں خود ہوتا ہے ۔ اس خودی میں ''میں ، تو '' ختم ہوجاتی ہے ۔ سب سے پہلے وہ دل توڑتا ہے ، اسکے شیشے سے دنیا نکل جاتی ہے ۔اسکا جلوہ کی دمک ملمع اتر جانے کے بعد نمایاں ہوجاتی ہے ۔ وہ صدائے ھو سے مست کیے رکھتا ہے ! وہ نورِ یزدانی ایسی مسند پر ہے جہاں کی سرحدیں ویرانے سے ملتی ہیں جس ویرانے میں ھو ھو کی صدا بکھر رہی ہے ۔ سب سے پہلے وہ جوگی بناتا ہے اور اسکے بعد جلوہ طور ہوتا ہے اور یہی جلوہ طور معراج ہے ، یہ منتہی ہے ، یہ پیار ہے ، یہ حبیبی ہے ، یہ اسکے پیار کی پیاری مٹھاس ہے جو کہ رحمت ہے ۔یہی زمانے میں بنٹنی ہے ۔ وہ جو ہے وہ سات زمینوں کو برابر روشنی دے جا رہا ہے ، کائناتِ دل منور ہوجائے تو باقی دنیا بھی ہوجائے گی ۔


تیرا جلوہ ہوجائے ، جلالِ حشمت ہے
تیری محبت مل جائے ، رحمت ہے
تیری صفات میں تیری اکملیت ہے
تو بھی ہے ، ھو کی صدا بھی ہے
ویرانہ دل میں اک تری رونق ہے
ھو کی صداؤں میں بکھر ا ہے نور
یہ سندیسہ ہے کہ تیرا دل ہے طور
ذکر جس کا عالی وہ ہے عالی مقام
اسکی صفت کرنا ہے تیرا ہے کام
--------------
یا نبی ﷺ یانبی ﷺ یا نبی ﷺ یا نبی ﷺ
یہ زمانے میرے مکان میں سمائے ہیں
آپ ﷺ جب سے تشریف لائے ہوئے ہیں
ھو ! محمد ﷺ ھو ! محمد ﷺ ھو ! محمد ﷺ
دو نورانی تجلیات کے بادل ہیں چار سو
ھو کی صدا پھیل رہی ہے کو بہ کو
یا نبی ﷺ ہر آدم کے دل کے مالک
یا نبی ﷺ تیری واری جائے بالک
تیری خوشبو بکھر رہی ہے مجھ میں
تیرا ذکر بُلند ہو رہا ہے مجھ میں
یا نبی ﷺ دل سے نگاہ مت اٹھایے
یا نبی ﷺ حجابِ ازل اب اٹھایے
چشم نم ، دل میں غم ، لب خاموش
آپ ﷺ کی محفل میں گردن جھکی
محمد حق ! محمد حق ! محمد حق ! حق !
وہ تیرا مسکرانا ، میرا چوٹ کھانا
سوہنا مکھڑا یونہی بار بار دکھانا
مقامِ دل میں عالی مقام محمد ﷺ
ہیں ساری دنیا کے والی محمد ﷺ


دل جب تھام لیا جاتا ہے ، اس کو نرم کر دیا جاتا ہے ، اسکی مٹی کی نرمی سے فصلِ گُل چلتی ہے ۔اسکی مٹی میں شاہی رکھ دی گئی ہے ۔ وہ جب کرم کرتا ہے تو ایسے کرتا ہے ، وہ نور ازل ہے ، وہ حقیقت ہے وہ نور الہی ہے جس نے مجھ پر اپنی مامتا نچھاور کردی ہے ، اسنے اپنی رحمت کی انتہا کردی ہے ! وہ حق ! وہ عالی نوازتا جارہا ہے اور دل اسے پکارتے ھو ھو ھو کہے جارہا ہے ۔

جس دل میں وہ بس جاتا ہے اسکو خود پہ اختیار جاتا رہتا ہے ، وہ احساس کی میٹھی میٹھی پھوار سے دل کو گُداز کیے جارہا ہے اور میں اس کو کہے جارہی ہوں کہ لامکانی میں ہوں ، کب دید کراؤ گے ! جلوہ کب ہوگا ، عید کب ہوگی ، کب چلوں گی حج کرنے ، کب کعبے کا کعبے دیکھوں گی ، وہ کہتا ہے کہ جب میرا امر ہوگا ، تب ! میں کہتی ہوں امر کی محتاج ہوں ، وہ کہتا ہے بسمل کی تڑپ دیکھنے کی چاہت ہے ۔میں تو کہتی ہوں تیری مرضی مالک تو جو چاہے ، وہ کہتا ہے ڈوبی رہ ! میں کہتی ہوں مالک جو تیری مرضی ! وہ کہتا عشق آسان نہیں ! میں کہتی ہوں مشکل کہاں نہیں ہے؟ وہ کہتا ہے حق، حق کیوں نہیں کہتی ! میں کہتی ہوں ھو ! ھو ! سے فرصت نہیں ملتی ! وہ کہتا ہے نغمہ ھو ، حق کی علامت ہے ، یہ عام نہیں ہے نعمت ! خاص نعمت کی حفاظت کی جاتی ہے ! میں کہتی ہوں ایک بس تیری محتاجی رہے ، وہ کہتا ہے کہ بس مجھے دیکھتی رہ ، میں کہتی ہوں دید کب ہوگی عید کب ہوگی ، وہ کہتا بسمل کی تڑپ قابلِ دید ہے ! جب ہوگی تب ہوش نہیں ہوگا ، خواہش ہوگی مگر تو نہیں ہوگی ۔میں کہتی ہوں انتظار کیوں طویل ہے ۔ وہ کہتا ہے حیات دوامی کا ظہور ہے ، جہاں کانٹوں پہ چلنا اصول ہے ۔ وہ کہتا ہے زندگی میں بس میری رہ ! مجھے چاہ ، میری چاہت کر ۔میں کہتی ہوں مجھے خود سے علیحدہ نہ کر

اے کاش انؐ کے در پر جب اذنِ حاضری ہو

 اے کاش انؐ کے در پر جب اذنِ حاضری ہو

اک نعت جو ہے لکھی ، وہ نعت تب کہی ہو

پُر کیف وہ نظارہ ہوگا، درِ نبی ؐمیں
جب حالِ دل سنانے کو سگ نبیؐ کھڑی ہو

روضے کی جالیوں کو آنکھوں سے چُومی جاؤں
فریاد مصطفیؐ سے دیدار کی بھی کی ہو

ہاتھوں کو جب اٹھاؤں، ہو جستجوئے آقا(ص)
لب پر درود جاری ، اشکوں کی تب لڑی ہو

طہٰ کی خوشبوئے گُل نس نس میں ہو معطر
نوری قَلَم سے محفل ہر روز ہی سجی ہو

نظروں میں وہ سمائے ، منظر لگے جو دلکش
محفل ہو روضے میں جب ، دل میں کلی جلی ہو

کملی سے نور چمکے ، جلوہ ہو مصطفٰی(ص) کا
اور نوری محفلوں میں شرکت مری لکھی ہو
نورؔ

پسِ عکس

 

زندگی پر تعجب کرنا سِرا سر بیوقوفی ہے ۔ہم زندگی کو سَنوارتے جاتے ہیں ،یہ بگڑتی جاتی ہے اور جب ہم تخریبی کاروائیاں کرتے ہیں تو ہمیں تعمیر میں الجھا دیا جاتا ہے ۔''ہائے زندگی ، وائے ندمت !'' تم ،میں ، وہ'' کچھ بھی نہیں ہیں بس ''کچھ نہ ہونا'' زندگی ہے ۔ایسی منفیت بھری سوچ سے امید کیا ابھرے گی ؟ ۔زندگی پر تعجب کرنے کا خُمیازہ بھگتنا ہوتا ہے خاموشی کی چادر اوڑھ کے آئنے کے سامنے کھڑے ہوجائیے ،آئنہ کبھی مسکرائے یا کہ کبھی خفا ہوجائے ،کبھی روئے تو کبھی خوف کی ہولناکی سے ہمیں ڈرائے ،کبھی سراپا خودپسندی تو کبھی جائے ملامت ، کبھی آزادی کے خواب دکھلاتے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دینے والا۔اسکے اتنے سارے رنگ ایک ہی عکس تشکیل دے دیں تو حدیثِ ذات سنانا آسان ہوجاتی ہے اور تعجب کسی کاٹ کباڑ کی دکان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ساری بغاوت اسی آئنے کی تشکیل شُدہ ہے اسلیے ایسے آئنے کو توڑ دینا ہی کافی ہے

خودپسندی زندگی گزارنے کے لیے سب سے اچھی شے ہوتی ہے ۔سارے رشتوں کا نعم البدل خودپسندی ہے ۔دنیا والے اس انعمول طرزِ فکر کی قدر کہاں کرتے ہیں اورنابغے انسانوں کی بھیڑ میں گُم ہوجاتے ہیں ۔عمومًا جتنے بھی ادباء گزرے ہیں ان سب میں ایک قدر تو مشترک ٹھہری کہ سارے خودپسند تھے ۔ ادیب سے لوگوں کی بڑی توقعات ہوتی ہیں ۔جو انسان معاشرے کے سچ کو لکھتا ہے وہ ان کے حالات کو بَدل دے گا۔صدہائے افسوس کہ امیدوں کا ناتواں بدن قدم بوس ہوجاتا ہے جوں جُوں احساس دریچوں کو روشن کرتا ہے۔جو اپنے حال کو بدل نہ پائے وہ کیا دوسروں کے امیدِ کوہِ گراں کو اٹھائے گا ۔مارلو شاید دُکھ کے ناتواں بوجھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا اسلیے دو گھڑی خوش رہنے کے بعد غمِ حیات کے سنگ کو دل کی جگہ رکھنے کا قائل تھا ۔ اپنے بنائے ہوئے دائروں میں رہنے والا مارلو دُنیا والوں کو نہیں بھایا تھا، کیا خُدا کو بھایا ہوگا؟خُدا کو دیکھیے اوپر بیٹھا اضداد کے قانون کو ہر شے ، شخص پر لاگو کردینے والا ۔خودپسندی کو اُس نے اپنے لیے پسند فرمایا مگر اسکو اچھا نہیں لگتا بندے خود پسند ہوجائیں ۔خودپسندی مارلو کے لیے نعمت ہوئی یا نہیں مگر اس طلسمِ حیرت کدہ میں قدم رکھنے والے، اِس راہی کے علم وتجربے سے ضرور مستفید ہوں گے ۔ انجامِ بعد ازموت کس نے دیکھا ہے ؟ کس کو پروا ہوگی کہ جو ہونا ہے وہ انسان کی زورِ بازو سے ہونا ہے ! بعد از موت کیسے بازو کاٹ دیے جاتے ہیں اسکے لیے خودپسند ہونے کی مشقت کرنا پڑتی ہے ! بے نیازی شانِ خُدا وندی ہے بندہ بشر ان فنی خوبیوں سے ماوراء ہوتا ہے ۔تخلیقار کی تخلیق کا روح سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے ۔لفظ جو قرطاس پر چمکتے ہیں وہ روح سے نکلے ہوتے ہیں ۔مارلو کا ٹریجیکل ہسٹری کا ''کورَسّ'' روح سے نکلا ، لیر لیر تن کی کہانی تھا ! مارلو کا خُدا معاف کرنے کی صفات رکھتا تھا مگر مارلو نے امیدوں کے دائرے کو وسیع نہ کیا ۔ ہم سب اصلی زندگی میں امیدوں سے ایسے دور بھاگتے ہیں جیسے جنات نے کے سائے ہمارے پیچھے رواں دواں ہیں ہم ان سے پیچھا چھڑاتے کسی اندھی کھائی میں گِر جاتے ہیں


حوصلہ بڑی انمول شے ہے ۔بارہا ہمیں سوچنے پر مجبور کیے دیتی ہے کہ اس عظیم الشان کا قوت کا مظہر کیا ہوگا ۔وہ کونسی قوت ہے جو اتنا پُختہ کیے دیتی ہے کہ جابر حُکمران مارے خوف کے بُلند عالی پہاڑ جیسے حوصلے کو سلاخوں میں قید کردے ۔فیض کا سلاخوں کے پسِ پُشت ہونا ان کاگوشت پوست کے وجود کے باعث نہیں بلکہ ان کی اَزلی بےباکی اس کا باعث تھی ۔یاس کے مرجھائے پھولوں سے امیدوں کے تیشے کو وجود دینے والے فیض میں یہ حوصلہ کہاں سے آیا ہوگا؟ جالب کے پاس بھی ایسا حوصلہ دیکھنے کو نہیں ملا شاید جالب حقیقت میں رہتے تھے ، ان کی شخصیت کی انفرادیت تمنا کے جال میں الجھنے کے بجائے حال سے نبرآزما رہتی تھی ۔فیض تو چلو امید کو دامن میں جلو رکھتے تھے مگر جالب نے تو اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھا ۔شاید اسلیے جالب کو ہماری کم فہم نظر نے پسندیدگی کے معیار میں اے ون ریٹ کردیا۔ جالب کی ایک بری عادت تھی کہ دوسروں کو الزام دیا کرتے تھے ۔ ہر وقت حکومتِ وقت کو اپنی نگارشات میں تنقید کا نشانہ بنائے رکھنے والے یعنی کہ خود بھی جلے اور دوسرے کو بھی جلائے۔بعد ازاں ہمیں اس سے بہتر انشاء جی لگے ۔انشاء جی کی ایک خوبی تھی وہ خود فریبی میں مبتلا رہے ۔ جب جب خود فریبی کا آئنہ حقیقت کے آئنے سے پاش پاش ہوتا تب انشاء جی خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ۔ فیض و جالب کے مقابلے میں ان کے کلام میں قدرے حلاوت ہے مگر یاس ان کے لفظوں پر اس طرح جمی ہوئی جیسے شہد پر مکھیاں ۔ان مکھیوں سے رستا شیرا چوسنے والے لوگ انشاء جی کو برا بھی کہیں مگر واہ واہ تو ضرور کریں گے ۔

اردو ادب میں خواتین کی کمیابی نقصان کے طور پر مانی جائے یا اسکو خوش آئند قرار دیا جائے یہ تو بعد کے فیصلے ہیں مگر خواتین کے تخیلاتی معجزوں نے اردو ادباء کو انگشت بہ دندان کردیا ۔قراۃ العین نے وسیع کینوس پر پھیلے افکار کو استعمال کرتے ہوئے جو ناول کی بُنت کی ہے اسکی تعریف صدیوں کی محتاج ہے ۔ ایسا ناول شاید کسی بھی زبان کی تعریف سے بالا تر ہے ، ایشیائی ثقافت کے سارے منجدھارے اسی ناول سے پھوٹتے دکھتے ہیں ۔ قراۃ العین کو کس ضرورت نے زمانوں سے بالا سفر پر مجبور کیا ہوگا ۔۔۔۔ماضی حال کے چکروں نے ڈھائی ہزار سالوں کی مسافت طے کردی ۔ یہ کسی کے گمان میں کہاں تھا کہ ایک ناول کی ضخامت اس بوجھ کو اُٹھا بھی سکی گی مگر کامیابی سے اٹھایا بھی ! سوچ کا اس قدر انقلابی ہونا کارِ بیکار تو نہیں مگر اس کا ہونا نعمت تو ضرور ہے ۔ قراۃ العین کے تجربات تیس سال کی عمر میں اتنے پختہ ہوگئے تھے ؟ شاید ہجرت ، شناخت کے کرائسز ایسے ہی ہوتے ہیں جو کبھی قراۃ تو کبھی سلہری تو کبھی اڑنڈتی تو کبھی ماریسن تو کبھی سدوا کو تخلیق کے عمل سے گُزرانے کے بعد شاہکار تخلیق کروائے دیتے ہیں ۔ سارہ سُلہری کی سوانح پر مشتمل ناول جس کا نام جانے کیوں ''میٹلیس ڈیز'' رکھا گیا تھا ۔گوشت کا فقدان یا عدم دستیابی تھی یا زندگی ہجرت کی مثال ۔۔۔ جہاں قراۃ نے دکھ کو تاریخ کے اوراق میں لپیٹ دیا تو سلہری نے اسے استعاروں کی ،خوابوں کی نظر کردیا


دُکھ ، درد اور بہتے اشک۔۔۔سیلِ رواں ۔یہ کب بہتا ہے ؟شاید جب کوئی شے وجود میں آرہی ہوتی ہے ، کوئی آئنہ آئنے سے ٹکرا رہا ہوتا ہے ، کچھ پاش پاش ہوکے بکھر رہا ہوتا ہے ! شیشے کا جسم بکھرجائے تو اچھا ہے اور کچھ وقت کی چادر میں سمٹ کے مربوط ہوجائے تو اچھا ہے ۔یہ دُکھ ،یہ حوالے ،یہ ادب کے مجاور اپنی اپنی خانقاہیں سجانے والے عدم سے آئے اور عدم ہوگئے !انکا وجود تخلیقات کے لیے تھا اسلیے تخلیق کو انہوں نے دوامت بخشی اور تخلیق سے یہ دائمی شہرت کے حامل ہوگئے ۔یہ لفظ جو لکھے جاتے ہیں یہ سرمایہ ہوتے ہیں ،یہی آئنہ ہوتے ہیں ۔آئنہ بنتا ہے ،بگڑتا ہے ،کبھی خفا ہوتا تو کبھی یاسیت سے بھرپور ۔۔۔۔ آئنے پر ایک رنگ جمتا نہیں ہے کبھی دکھ کی دیوی نظر آتی ہے تو کبھی حوصلہ مند ٹھاکر جھروکوں سے جھانکتا ہے تو کبھی دنیا تیاگ دینے والا جوگی اس میں کھڑا مسکراتا ہے ۔کس رنگ کو بندہ پکڑے تو کس کو چھوڑے ! ان سب میں سرمایہِ ماحاصل جذبات سے نکلنے والا آتش فشان ہوتا ہے ، بس !

جانے کتنے آئے ، دکھ تحریر کیا ، آنسوؤں کو صاف کیا ،چلے گئے ۔کتنوں نے آئنے صاف کیے ، اپنا عکس دیکھا اور عکس کے پسِ عکس میں داخلی دنیا کے ثمرات سے لطف اندوز ہوئے ! یہ عکس ، جو وہ تخیل کی دستیابی ہے ، یہی انقلابی سوچ بھی ہے ! ایسے ادباء جو تعقلی سازش کا شکار رہے ان کا نام تاریخ سنہری حروف میں مزین نہ کرسکی ہے جس طرح تخیلاتی شاہکار لکھنے والے اَمر ہوگئے ہیں ۔ شام ڈھلنے کے بعد سویرا کون دیکھتا ہے ۔ زندگی بس ایک صبح ایک رات کا چکر ہے ! جانے کیوں عینِ الصبح سے ازلی بڑھاپے کا سنڈروم کب جان لے گا یا کب ، کون جانے ایسے وائرس کا علاج دریافت کرے گا !

شہِ کونؐین کے عاشق حضوری میں رہے اکثر

 شہِ کونؐین کے عاشق حضوری میں رہے اکثر

نگاہِ یار کے طالب تجلی میں رہے اکثر

تصور محفلِِ نوری اڑا کے لے گئے ذاکر
پرندے بھی قفس سے ایسی دوری میں رہے اکثر

حریمِِ ناز کے جوشہر منڈلاتے ہیں متوالے
وہ شیدا قبل اس سے خوابِ نوری میں رہے اکثر

مسافر گرمیِ خورشید کی شدت سے گھبرائے
مصائب میں انہی کے دل صُبوری میں رہے اکثر

طلب سے ماوراء ہوتے ہیں طوفِ شمع کے جو گرد
وہ پروانے سدا نوری جلالی میں رہے اکثر

یہ اُنظر نا کے طالب اب کھڑے کب سے مؤدب ہیں
نفوسی ایسے کب سے ناصبوری میں رہے اکثر

سیہ بدلی میں معجز نور پوشیدہ تھا، طہٰؐ تو
خشیت مارے گھبرا کر تھے کملی میں رہے اکثر
نورؔ

کالا رنگ

 پاس حرم ہے اور ایک کالا کپڑا ہے. دل چاہتا ہے کالا کپڑا چڑھا دوں...؟


''نور کو کالے کپڑے کی ضرورت نہیں ہے . بس سب رنگوں کی کے پردے ہیں. ان رنگوِں کو نفی اثبات کرنا مقصود ہے.

''تم کون؟

''میں کالا رنگ ہوں؟
رنگینیاں کے ڈھانپے ہوئے ہوں.
ایک طرف خاکی رنگ اور دوسری طرف نوری رنگ.

"نور " : ... کالا رنگ بھی مجھ سے نکلا ہے. یہ میرا حجاب ہے

کالا رنگ!!!
" کیسا حجاب ہے؟
سب خاکی مجھ سے گزرتے ہیں میری حیثیت کیا ہے؟
نور : وہی نسبت جو روح الامین کی تھی.

"نور" : یہ بے تابی کیسی؟
اضطرابی پہلے تو نہ تھی؟

''اوئے رنگی
تیرے توں جیہڑا وی لنگے
اوہی پہچان چھڈے تے لنگے
تو کیہڑ یاں فکراں پالیاں؟ ''

اے خاکی! وڈا کثیف!
اے پلیتی تے پاکی وی
ایڈی پلیتی اچ لنگی حیاتی وی
ایڈیاں پلیتیاں تو پردے پاندی
تیری بے رنگی اے ذاتی وی

کالا رنگ: میڈا سائیں ..
تیرا حکمتاں مالک میں کیہ جانڑاں؟
''او مالک''
میرے تو لنگدے خاکی
اپنے رنگ چھڈ تیرے کول
آندے تے جاندے
میرا رنگ کیہڑ اے؟
میں رنگاں نوں سونگاں آں
مینوں پر کج نہ پلے
ای کیہڑا راز.

نور ": اس وجہ سے تو تیرا رنگ کالا ہے کہ تجھ پر خاکی رنگ نہ چڑھے اور خاکی پر نوری رنگ چڑھے.
یہ وہ حکمت تو جان نہ سکے. تو خاک کے لیے ہے مگر خاک تجھ سے نہیں بالکل اسی طرح جس طرح خاک مجھ سے ہے
از نور

[​IMG]

کلامِ الہی سے خشیت کا طاری ہونا

 

( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آَيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ) [الأنفال: 2]

مومنین میں ایسے لوگ ہیں جن کے دل اللہ کے کلام کی ہئیت پاتے ڈر جاتے ہیں ۔ وہ نشانیاں ان کے قلوب میں رقت طاری کردیتی ہیں ۔ وہ مومنین جب مشکلات میں گھرے ہوتے ہیں ، ان کے دلوں کو توانائی اس قران پاک سے ملتی ہے اور ان کے یقین میں اضافہ کرنے والی کتاب حقیقتاً قران پاک ،کلامِ الہی ہے ۔ اللہ کریم فرماتے ہیں
( لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآَنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ) [الحشر: 21]

اس کلام کی اثر انگیزی ایسی ہے کہ اگر یہ پہاڑ پر نازل ہوتا تو وہ بھی خشیت سے ٹکرے ٹکرے ہوجاتا۔ اے کاش کہ ہمارے دل اسکی حقیقت جان بھی لیں ۔ اللہ تعالیٰ کا پیار و دلار دلوں پر کیسے کیسے اثر کرتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا : مجھے قران پاک کی تلاوت سناؤ ، جواباً : اے اللہ کے رسول ہاک ﷺ ،میں آپ کو قران پڑھ کے سناؤ جبکہ قران کا نزول آپ پر ہی ہوا ہے ؟ فرمایا: ہاں
آپ نے سورہ النساء کی تلاوت فرمائی اور جب اس آیتِ کریمہ تک پہنچے

( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ) [النساء: 41]

آپ کو اس آیتِ مبارکہ پر اس آواز نے روک دیا : بس کرو ، استعجاباً پیچھے مڑ کے دیکھا جنابِ رسول کریم ﷺ اطہر کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے ۔

جناب رسول پاک ﷺ عملی مثال ہیں ۔ ہم لوگ سنت پر چلنے کے لیے بے تاب ہیں اپنی خرد و عقل کے استعمال سے مگر اسکو عمل بجالانے میں مفلوج ہے ہمارے عمل و بدن ۔ یہ سیاہ کاری کیسے چھپے گی ؟ اعمال کی سیاہی دل کی سیاہی بن گئی ہے ، جیسے رات کالی آگئی ہے ۔ روزِ محشر اللہ کا سامنا کیسے کریں گے ، ان اعمال کے سبب چھپنا بھی چاہیں تو نہ چھپ سکیں ۔۔ ہم تو مسلمان ہیں جن کے دل خشیت خالی مگر وہ اللہ کے بندے جن تک اسلام پہنچا نہیں تھا مگر ان کے دل روشن تھے ۔۔۔

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ٭
(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّ‌سُولِ تَرَ‌ىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَ‌فُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ٭

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

یہ آیاتِ مبارکہ اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ نے اس وقت ایک عیسائی کی گواہی کو ہمارے لیے ایک نشانی بنایا ہے ۔ ہجرتِ حبشہ کے بعد نجاشی کے دربار میں قرانی آیات کی تلاوت کی گئی تو وہ ایسے روئے تھے کہ ان کی آنکھیں سے نکلنے والے آنسو ان کی داڑھی کو تر کرگئے ، اس کلام نے ان کے دل پر خشیت طاری کردی اور انہوں نے روتے ہوئے اس کلام کے سچے ہونے اور حضور پاکﷺ کے سچا نبی ہونے کی تصدیق کردی ۔ ایسے لوگ جن کے دل خشیت سے کانپ جاتے ہیں ، درحقیقت وہ عارف ہوتے ہیں یعنی حق کی پہچان کرنے والے ہوتے ہیں ، سبحان اللہ !


اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے ، اسکو پڑھنے کی ، سمجھنے کی اور بار بار پڑھنے کی تاکہ ہمارے دل بھی ایسے ہی خشیت میں ڈوب جائیں اور ہم بھی ان کو سن کے ، پڑھ کے رو دیں ۔ کاش ! ہم ایسا کرپائیں ۔ دل سیاہ ہوچکے ہیں ، عمل میں ریاکاری ہے ، ہم عمل میں پیچھے اور قول میں آگے ہیں ۔ اے ہمارے رب کریم ، ہمارے حال پر رحم فرما ۔ آمین !

جو تارِ ہست سے اتار کے قبا چلے

 جو تارِ ہست سے اتار کے قبا چلے

غمِ حیات بھی ہمی سے شرم کھا چلے

نشانے پر لگے تھے تیر جتنے بھی لگے
زمانے کے رواجوں پر سو مسکرا چلے

شجر سیاہ ،دھوپ میں جلے، تو سو ہوئے
صبا کے جھونکے خاک، خاک میں مٹا چلے

بریدہ شاخ پر گلُوں کی بکھری مہک
جو لوگ خوشبو کی نئی دکاں سجا چلے

یہ سیل آب جانے کب تلک پرکھ کرے
کنارے سے چٹان ساتھ جو بہا چلے

فراق و وصل سے پرے یہ ایسا اک مقام ہے

 فراق و وصل سے پرے یہ ایسا اک مقام ہے

نظر نہ آئے وہ ، جو رہتا مجھ میں ہم کلام ہے

نظر مکاں سے لامکاں تلک جو میری ہے گئی
عجب ہی رنگ و بو کا چار سو وہ انتظام ہے

یہ بیچ راہ کا ہے کھیل، کب تلک یہ بھی چلے
تری نگہ کے تیر سہنا عشق میں جو عام ہے

بدن کی قید میں جوپارہ تھا ، وہ اب چٹک گیا
بکھرنا روشنی کا ُاس کے ملک کا نظام ہے

فلک تلک رسائی نورؔ کو ملی بھٹک بھٹک
یہ بعد موت کے لگا بڑا مجھے مقام ہے

بند کاغذ کتاب ہو جیسے

 بند کاغذ کتاب ہو جیسے

تیری خوشبو گلاب ہو جیسے

جیل نےدی کبھی رہائی ہے
خواب لمحہ سراب ہو جیسے

کھول کھاتے شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے

قتل کرکے شہیدوں میں لکھا
خون نکلا کہ آب ہو جیسے

موت بادل کے جیسے برسی ہے
غم کا دائم سحاب ہو جیسے

حشر میں درد سے گزر گئے ہیں
لمحہ لمحہ عذاب ہو جیسے

کیفیت

 نور یہ جو کیفیت ہوتی ہے نا ۔ اس میں ہوش نہیں کھویا جاتا باقی دل کھنچا چلا جاتا ہے. دل روتا جاتا ہے. آنکھ نم رہتی ہے. دل کے اندر سب کچھ اکٹھا اک مقام پہ ہوجاتا ہے.

دل کرتا ہے بے اختیار روتی جاؤں اور نہ بھی روؤں تو آنکھ نم رہتی ہے اور یوں لگتا ہے جسے مری ہستی جہانوں ک رحمت کی جانب کھنچی چلی جا رہی ہے ۔
اس کیفیت کی ابتدا اس وقت سے ہوئی جب سے " مرشد کی زیارت " بارے لکھی کسی اشرف المخلوق کی تحریر پڑھی ۔ تحریر کے لفظ دل میں اترتے روح کو بے چین کرتے وجدان کے آئینے کو منور کرتے چلے گئے ۔ احساس ہوا کہ زیارت پاک ہونے کو ہے
دل نے دی صدا کہ جب بھی ہوگی زیارت پاک ان کے کرم سے ہو گی ۔
تو بس درود پاک سے دل و زبان تر کر ۔
اپنے نفس کو پاک رکھ ۔
دل کو ہی نہیں بلکہ اپنے خیال کو بھی ہر غیر کے خیال سے پاک رکھ ۔
اچانک یوں لگا جیسے میں لپٹی ہوں شاہا کے قدموں سے اور رو رو کر کہہ رہی ہوں ۔
مجھے خاتون جنت اپنی پاک بیٹی جناب فاطمہ علیہ السلام کی کنیزوں میں شامل کر لیں ۔
مجھے لگا جیسے رحمت بھرا روشن ہاتھ میرے سر کو سہلانے لگا ۔
آنکھ روتی رہی دل سکون پاتارہا ۔
پیر مہر علی شاہ یاد آئے ۔۔
کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء ۔۔۔ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں ۔
نور بے اختیار پکار اٹھی آپ تورحمت للعالمین ہیں زمانے کے ستم کو اپنےکرم میں ڈھانپ لیتے ہیں، ان سے ہی فریاد کر کہ زخم سے چور وجود ہے سرور انبیاء، شاہا! ۔۔ کرم کی اک نگاہ ہو مجھ پر
آپ کی بارگاہ میں اپنے دکھ بیاں کرتے دل ہلکا ہو جاتا! جانے کیوں لگتا ہے کہ دل ہلکا ہوگیا! نہ گلہ کہ کتنوں پہ نظر نہ کتنوں کو عطا ...
آپ کی جانب سے تقسیم برابر ہوتی ہے مجھے مگر تمنا زیادہ کی ہے ...
مجھےاپنے قریب کرلیجیے شاہا ... شاہا دل بڑا نم ہے ... شاہا آنکھ میں غم لہو کی مانند چھلک رہا ہے ...
شاہا رہنمائی کیجیے! اے میرے شاہا! اے میرے بابا .... اے میرے بابا ... اک بیٹی آپ کی محبت میں آنسو بہاتی ہے آپ ہی توہو جو مجھ دکھیاری کی سنتے ہو ...
بابا! مجھے قدموں میں کرلیں میں کیوں آپ کے ہوتے مضطرب رہوں .. آپ کے ہوتے مجھے رنج کیسا ؟!​