Sunday, November 24, 2024

تلیت --- قرأت

قران پاک میں تین الفاظ حوالہ کے لحاظ سے ملتے جلتے ہیں تُلیت قُرأَت کُتبت تلیت القران جب قران پاک پڑھا جائے کتبتوہ قران جو لکھا گیا،اس لکھے گئے کی تلاوت یہ تلاوت کیسے کی جائےورتل القران ترتیلا جب یہ آیات اس انداز سے جسم و روح میں translate  ہوتی ہیں تب روح کا (سافٹ وئیر) ایکٹیوٹ ہوتے ان آیات کا عمل کرواتا ہے.جب ہم نہیں کرتے تو اک ڈپریشن و ہیجان کا سامنا ہوتا ہے جس کے سبب ہمیں مزید زمینی و  افلاکی آفات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے جب تک کہ ہم اس ٹرانسلیٹڈ...

Thursday, November 14, 2024

موسی کا چرواہا

موسی کا چرواہا موسی دریا سے نکالا ہوا بچہ، جس کا نام اسی بات کے تناسب سے رکھا گیا.ایک دِن وُہ اپنی قوم کا چرواہا بن گیا. موسی کی قوم میں عصبیت و شہوت بھیڑوں جیسی تھی، اس لیے اس قوم کا اجتماعی شعور حیوانی رہا تھا. جس قوم کا شعور حیوانی ہو، اسکو جسمانی و زمینی آفات سے سامنا ہوتا رہتا ہے. موسی کا چرواہا دس زمینی آفات کی بابت ہمیں اس جسمانی و زمینی آفات کا لائحہِ عمل دیتا ہے۱: پانی کا خون بن جانا ۲:  مچھلیوں کا پانی میں مرجانا موسی کا چرواہا بتاتا ہے کہ جو شخص پانی...

موسویت کی چادر میں حکمت

نبی بس خبر پاتا ہے یا نشریات پالیتا ہے جبکہ رسول نشریات نہ صرف بانٹتا ہے بلکہ نشر کردہ حدود کی پابندی کراتا ہے. موسی علیہ سلام کی زندگی کی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ عقدہ کھل جاتا ہے نبی پر نبوت کا عقدہ پیدائشی نہیں بلکہ اسکی اپنی دریافت سے کُھلتا ہے.ایک بچہ جس کا خاندان اُسکے پاس نَہیں یا جس نے ماں کا لمس نَہیں پایا.زندہ ماں کا ہونا،ہجر کا درد سہنا بڑے بڑوں کے پاؤں تلے زَمین نکال دیتا ہے. وہ بچہ حادثاتی طور پر تتلانا شروع کردیتا ہے.اس پر گفتگو کرنے کا ہنر چلا جاتا ہے یعنی وہ بچہ...

Friday, October 18, 2024

درود کی چادر

...

بند آنکھیں

...

Monday, February 26, 2024

حرف خط نقطہ

تجسیمِ وفا ،الفت سرِراز، ماہناز ہیں جو شہرِ دل میں حال پر قائم ہیں وہ تقدیر پر نائم ،تدبر میں پائیم شمیشیر جن کے ہاتھ میں نازاں قلم برنگ تجلی صدہا زماں لیےنور قدیم، نور لطیف کی شفافیت لیےمیم کی عطا پر قائم و صائم شجر حجر کا نقطہ، شجر کی الف پر قائم زمانے صدیاں بنتے چلتے گئے جنبشِ خاماں سے قفلِ نازش ستم زدہ دل حرف کنندہ پر لام کا نام اتمامِ حجت:کلیہِ درویشاِں ....حرف تسبیحات نقطے تجلیات لفظ شبیہات خط سایہِ دلبری منقش ہالہِ نوریقندیل...

Tuesday, February 13, 2024

اقراء : اکتیسویں نشست

اکتیسویں نشستمتواتر بات چیت و گفتگو ایک مربوط رشتہ قائم کردیتی ہے. اور گفتگو میں تواتر بجانب خدا عطیہ ہوتا ہے. حکیمانہ صفت لیے لوگ اور اللہ کے دوست ایسا سکون رکھتے ہیں کہ ان سے جاری اطمینان کی لہریں قلب و نگاہ میں معجزن ہوجاتی ہے.مجھے حکم ہوا قران پڑھومیں نے ان سے کہا کہ یہ آسان کتاب نہیں ہے.....اسکا پڑھنا  عام لوگوں کے لیے نہیں. بلکہ یہ علماء کرام پڑھاتے ہیں....فرمانے لگے:  یہ کہاں لکھا کہ خود پڑھنا نہیں ہے یا اسکے لیے استاد چاہیے؟ میں نے کہا کہ اس کی زبان اتنی مشکل ہے. اسکی...

Tuesday, February 6, 2024

من گنجل

 من گنجل کھول سائیں گھٹری انج نہ رول سائیں من گنجل کھلدا نئیں تو وی مینوں لبھدا نئیں اندر بڑے جھول سائیں کتھے روحی کروبیاں کتھے جن و انس تے حورین کتھے غلمانِ جنت، کتھے شیطین سارے کھڑے ایتھے سائیں تسبیح کردے  ایتھے ملائک حورین دیون تحائف غلمان تعارف دی کنجی نوری علی النور کر سائیں من گنجل کھول سائیں میتھوں میرے توں نہ رول میں تے ہاری،سکدی سکدی ہن بوہا،باری کھول سائیں چَن وی تو،شمس وی تو شجر وی تو،...

Wednesday, January 24, 2024

حمد

الحمدُ للہ ال حمدُ للہ ال (وسیلہ ) حمد (نفس) للہ ذات کی تعریف، اپنے آپ کی تعریف بنا ممکن نَہیں. جیسا میں نے اچھا کھانا کھایا.مجھے کھانے میں ذائقے اور بھوک نے کہنے پر مجبور کردیا. واہ،  کھانا بہت اچھا تھا...مولا ترا شکر ہے...تو نے نعمت میسر کی گوکہ رزق کمانے کی مشقت میں نے خود کی. میرے ٹیسٹ بڈز اگر نَہ ہوتے تو میں کیسے اس نعمت کا شکر ادا کرپاتی ...ان ٹیسٹ بڈز کے ہونے کا شکریہ ...یا کہ میرا نیورانز اگر ٹھیک نہ ہوتے تو مجھے  ذائقہ محسوس نہ ہوتا...... اس نیورانز کے نظام کا شکریہ...

Sunday, January 7, 2024

تحت الشعور

...

Wednesday, November 22, 2023

قرأت کیوں ضروری ہے

قران پڑھنے و فہم کے لیے روحِ اعظم سے ربط ضروری ہے  معظم و مبین و رحمت سراپا ہستی نے قَریب سالہا سال کی ریاضت و مجاہدہ فکرو غور پر رکھا. سوچ و خیال کے تَمام سوتے مرکوز ہوئے ایک نقطے پر، تب جبرئیل رحمت اس نقطہ کے وسیلے سے حرفِ اقرء کے راوی ہوئےکَہا گیا قرأت ویسی کیجیے،جیسی کہ بَتائی گئی حکمت کا درجہ تھا کہ تین مرتبہ کہا گیا میں قرأت نَہیں جانتا میں قرأت نہیں جانتا میں قرأت نہیں جانتا قرآن پاک کو درجہ بَہ درجہ ایک سیڑھی (نور کی) سے معتبر کیا جاتا ہے تب یہ واردات(وحی)...

نبی مثل نور ہوتا ہے

نبی مثلِ نُور ہوتا ہے مگر صورت بشر ہوتا ہے.اس کی رویت میں اللہ عزوجل اس قدر قرار پاچُکا ہوتا ہے، اُسے دیکھنا اللہ کو دیکھنے جیسا ہے مگر یہ ظاہری صورت کا جلوہ نَہیں  وہ دید تو ابو جہل نے بھی کی تھی  یہ درون کی رویت کا جلوہ جب تک ممکن نَہیں جب تک نبی خود نَہ دکھانا چاہے  نَبی خود نَہیں دکھاتا بلکہ اسکے نور کی رویت(اللہ) جس تک وہ چاہے، جتنی چاہے،پہنچ جاتی ہے  اس لیے مومنین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ نَہیں پاتے تھے جب تک نَبی ان کو نہ دیکھیں  جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ...

Tuesday, October 10, 2023

ذات ِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اللہ کی ذات روشن و بابرکت ہر زَمن کے لیے متجلی ہے. جب وہ کسی کو اپنی محبوبیت کا شرف بخشتا ہے تو اس کو ایسی چادر عطا کرتا ہے جو قربت کی نشانی ہوتی ہے. ہر زمانے میں اُسکا محبوب بصورتِ نشان رہا ہے. گویا ذات محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہر نبی کے دل ودیعت کردہ ہے. وہ زمانہِ قدیم سے اب تلک کے تمام خبر دینے والوں کے قلب میں نشانِ عظیم ہے. ہر معرفت کا طلب گار دل اس نشان عظیم کا متمنی ہے.&nb...

مناجات

اے مالکِ کونین! دل کو اپنے نور سے منور کردے.قرابت کی منازل عطا کر. جنبشِ ناز سے حریمِ دِل میں قدم رکھ. فریاد رس دل میرا تری بارگہ میں ترے نام کا ہدیہ لیے طالب ہے.مولا تو نے اپنے طالب کو کب حق سے محروم کیا ہے؟ مولا تو نے کب موج کو بحر سے الگ کیا ہے.مجھے بحرِ حق سے الگ مت کر. یہ میرے ظاہر کی بھی موت ہے. یہ مرے باطن کی بھی موت ...

نعت

اوہدہ کمبل کالا تے مکھ چن ورگا مکھڑا سوہنا ،لگدا مینوں رب ورگا تراب کی قسم کھائی جاتی ہے اور بوترابی کا لقب عطا کیا جاتا ہے.القابات سارے رب کی جانب سے عطا ہیں. وہ اس زمانہِ روشن میں بھی جھکے ہیں جو اس زمانہِ قدیم میں جھک گئے تھے.وہ اس حال میں مقیم ہیں گویا ان کے روبَرو ان کا محب ہے. یہ تسبیح ہے. انسان کو قائم تسبیح خیال کی یکسوئی سے ملی ہے جبکہ رات کی تسبیح بشارت دینا ہے. اندھیرا ہمیشہ روشنی لاتا ہے ..... روشنی عالمِین کی قائم ہوتی ہے تو کملی والا دکھائی دینے لگتا ہے ....

Tuesday, March 14, 2023

ترا خیال....

یہ الفاظ کھوجائیں گے...... محبت کے حرف ختم نَہ ہوں گے ....... وصلت عیش میں خیال ترا غافل نَہ کردے..... اس لیے تجھے سامنے بِٹھا کے دیکھتے رہتے ہیں .... کَہیں تُم مجھ خُدا تو نَہیں سَمجھ رَہی؟ تُم خدا سے بَڑھ کے ہو کیونکہ تمھیں دیکھ کے خُدا یاد آجاتا ہے تمھارے چہرے کا نقش نقش سینے میں محفوظ کرتی ہوں کہ کَہیں خطا میں میں خطا ہوجاؤں تو یہ خیال خطا نہ ہو اور نماز محبت قضا نَہ ہو .......میری جان جب سے تمھیں دیکھا ہے چین و پل کو دان کرکے درشن کو مندر میں بھگوان کی پوجا...

Thursday, May 19, 2022

نوری ‏ریکھائیں

 بہرحال سلطان پیش رو قبلہ ماتمی قبا پہنے زندہ درگور حیات میں بقا کا پرندہ لافانی ہے  یہ جذبات کی روانی میں نکلا آبجو جس کو مانند بحر سمجھ کے رقم کردیا. یہ شاہ نسیان ہے. سلاست کے قائم مقام اللہ کے ہادی ہیں جن پر دل کا کہا ہے وجی اللہ کی تار یہ میم کی رخسار بات میں ہے اختصار دل میں بسے اغیارکیسا کیا میں نے پیار بج رہا ہے میرا ستار ہوئی لیل میں نہار کوبہ کو ریشمی فضا اللہ اللہ کی ہے ردا دل میں کس کا جلوہ اللہ کا ہے وہ نور یزدان سلطانی قبا...

Saturday, April 16, 2022

دل اک چراغ

دل،  اک سرزمین ہے،  یہ زمین بلندی پر ہے. زمن نے گواہ بَنایا ہے اور ساتھ ہوں کہکشاؤں کے. سربسر صبا کے جھونکے لطافت ابدی کا چولا ہو جیسا. ازل کا چراغ قید ہے. یہ قدامت کا نور وہبی وسعت کے لحاط سے جامع منظر پیش کرتا ہے. کرسی حی قیوم نے قیدی کو اپنی جانب کشش کر رکھا ہے  وحدت کے سرخ رنگ نے جذب کیے ہوئے جہانوں کو چھو دیا ہے. شام و فلسطین میں راوی بہت ہیں اور جلال بھی وہیں پنہاں ہے.  دل بغداد کی زمین بنا ہے سفر حجاز میں پرواز پر مائل ہوا چاہے گا تو راقم لکھے گا کہ سفر بغداد کا یہ باب...

Saturday, March 12, 2022

عبد ‏اللہ ‏شاہ ‏غازی

شمعِ دل کی لو عبد اللہ شاہ غازی ضوئے عالمِ  ہو،عبد اللہ شاہ غازیبامِ فلک پر قندیل نوری نوری ہیں زمین نیلی نیلی عبد اللہ شاہ غازی گل دستہ عشق ،شہ زمن، نوری رتن رنگ علی،در عینی عبد اللہ شاہ غازیراجدھانی کے سالار عبد اللہ شاہ غازینورِ رنگ ہیں پہ نوری چمن کہ عقیقِ دہن شیریں لحن،نوری وطن، صالح زمن زنگِ دل!رنگ کیسے ہوگا؟کیسے اڑے گا زنگ؟ کیسے چڑھے گا رنگ؟عبد اللہ شاہ غازی وردِ لب ورد لب بام دل پر نوری جھلک بغداد کے ہیرے ہجرت تھی ان کا مقدر رنگ...

Monday, February 28, 2022

عشق نصیب ہو جسے ، مر کے بھی چین پائے کیا

 عشق نصیب ہو جسے ، مر کے بھی چین پائے کیا درد جسے سکون دے، نازِ دوا اٹھائے کیامرگ ہو جسکی زندگی، چوٹ اجل کی کھائے کیامیں ہوں بجھا ہوا چراغ، کوئی مُجھے بُجھائے کیاٹوٹا ہے دل کا آئنہ، عکسِ خیال لائے کیاشعر کوئی بنائے کیا؟  مایہ ء فن لُٹائے کیاغم سے مفر کِسے یَہاں، دیکھے جِگر کے زخم کونکس کو سنائیں حال ہم،  اپنے ہی کیا؟  پرائے کیا؟ساعتِ وصل حشر تھی  صدمہ ء زندگی بنیبیٹھے ہیں روتے رہتے ہم، کوئی ہمیں رلائے کیا تاب نہیں سنانے کی،  دل کی تمہیں بتانے کی حالِ...

Tuesday, February 8, 2022

احساس کہاں ہے ، لباس کہاں ہے ؟

 احساس کہاں ہے ، لباس کہاں ہے ؟زندگی ہے جسکا اقتباس، وہ کہاں ہے؟لہو کی بوندوں میں یار کا آئنہ ہےتشنگی بڑھی بے انتہا ، قیاس کہاں ہے؟ربط احساس سے ٹوٹا سجدے کے بعدڈھونڈو میرا نشان ، اساس کہاں ہے؟جُنون کو خسارے نے دیا پتا منزل کاحساب چھوڑو  ،دل  شناس کہاں ہے؟--------------------------جواب میں ، احساس میں کیا الجھےپھولوں کو نئی خوشبو ملتی  جائےرنگ بکھرتے ہیں بارش کے بعدوصال کے  بعد ملال ہیں مٹتےبہاراں ہے ! یار شکوے کیسےقبا میں بند پھول پر جگنو کیسےصبا میں پتے ہیں کھلتے رہتےشجر...

خیال کی اہمیت

 کاش پوچھے کوئی لطف محبت، لمحوں میں ہوتی ہے شَناسائیانسان انسان سے مخاطب ہوتا ہے اور پتا نہیں چلتا ہمیں کہ درمیان میں حجاب ہے اور خدا کلام کرتا ہے ـ جب نفس کا حجاب اٹھتا ہے یا اٹھتا چلا جاتا ہے یا وہ خود چلمنوں سے جھانکے تو لطفِ آشنائی سے واسطہ پڑجاتا ہے. خدا سے ہمکلامی گرچہ عام نہیں مگر یہ یہ محیط مکان سے لامحیط لامکان تک چلتی ہے. انسان چاہے جتنا گنہگار ہو، جس پر لطافت کی باریکیاں عیاں ہوجاتی ہیں وہ جان لیتا ہے ـــ ایسے اوقات جب وہ عیاں ہو تب تب کیفیات استعارہ بن جاتی ہیں ـــ ذات خود...

دید

لوگ بھاگ رہے ہیں،  بلکہ مانگ رہے ہیں،کیا مانگ رہے ہیں،  دید کی بھیک،  ممکن نہ تھی دید آسان،جب  حاجرہ کے چکروں کا لگنااسماعیل کے پا سے زم زم کا نکلنا،  موسی کا خود شجر سے سراپا آگ بن جانا اللہ نور سماوات کی تمثیل تھے یقینا ہم نے سبھی سرداروں کو اسی برق سے نمو دی،  یہ شہ رگ سے قلبی رشتہ تھا ... .جس پہ مقرر اک فرشتہ تھا.   جس نے جان کنی کا عالم دو عالم میں سمو دیا،  یہ عالم موت تھا،  یا عالم ھُو تھا دونوں عالمین کے رب کی کرسی نے الحی...

ایلف اور سیپ

 حصہ اول پسِ تحریرماؤنٹ حینا میں اک غار میں نو سو سال کی بڑھیا رہتی تھی، اسکا اک مشغلہ تھا!  اس کی ماں جو تین سو پینسٹھ سال کی تھی روز اس کا مشغلہ دیکھا کرتی تھی ... غار سے باہر جاکے آسمان کو دیکھنا اور کہنا"ابھی صبح نہیں ہُوئی "یہ کہتے وہ بُڑھیا واپس دم سادھ کے بیٹھ جایا کرتی تھی .... اک دن وہ اسی سکتے میں تھی،  اس کی ماں نے اسکو جھنجھوڑ کے اُٹھایا ... اس نے آنکھ کھولی تو حیرانی سی حیرانی تھی ... وہاں اسکی ماں نہیں کھڑی تھی،  وہ کھڑی تھی .... اس نے ماں کی شکل میں خود کو...

سر زمینِ حشر سے خاک کے پتلے کو ہّوا دے. ...

 سر زمینِ حشر سے خاک کے پتلے کو ہّوا دے.  ...موتی سمجھے کوئی، آبِ نیساں سے جِلا دے.  ..شراب جاودانی ملے، درد ہجر کو ایسا مزّا دے ..اَحد کی زَمین سے جبل النور تک منظر  دکھا دے ......حِرا ہی آخری مقام ٹھہرے، مسجد حرم میں جگہ دے ....جو ہو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت سے معتبر اس کو اعتبار کی آخری حدّ تک پُہنچا دے ....شام ہجر کی سحر میں پل پل وصل کا مزّا دے .... آہ!  وہ لطفِ چاشنی ....  مرگِ وصل میں، دکھ کا نشہ دے ......مئے عشق ہے! آسانی سے نَہیں ملتی ..... مسافت...

فقیر مرد حرم سے مری ملاقات ہوئی

 جب انسانی ہستی قرب کی متمنی ہو اور خواہش کی لگام بے زور ہوگئی تو وجہِ شوق کچھ بھی باقی نہیں رہتا ہے.کھو جائیں گے کیا؟ بحر ہو جائیں کیا؟ہستی کھوئی ہے ، زندگی سوئی ہے! آدمیت سے ناطہ کچا دھاگا ہے اور ٹوٹ جاتا ہے. ایک یاد ہےجو سنبھال لیتی ہے ورنہ کیا بے سکونی کی لہروں کا تموج!  یہی جینے کا کمال ہے . ہمنشین،  دیکھ رنگ میرا،  ڈھنگ میرا، چال میری، حال میرانور سے ملنا، کیا سعادت ہے! نور سے ملنا ہے بس اسلیے زندہ ہیں، زندہ ہیں کب کے مرگئے ہیں آرزو میں، آرزوئے ہستی سے بکھر رہے ہیں سندیسے، ...

Monday, February 7, 2022

پری چہرہ

 جتنے الیکڑانز کائنات کے مدار میں ہیں، جتنے سورج کہکشاؤں میں ہے، جتنے دل زمین پر ہے اے دل!  قسم اس دل کہ سب کے سب انہی کے محور میں یے جتنی روشنی ہے، وہ جہان میں انہی کے  دم سے ہے لکھا ہے نا، دل، دل کو رقم کرتا ہے لکھا ہے نا، جَبین سے کَشش کے تیر پھینکے جاتے ہیںلکھا ہے نا،  سجدہ فنا کے بعد ملتا ہے اے سفید ملبوس میں شامل کُن کے نفخ سے نکلی وہ  روشنیجس روشنی سے لامتناہی کائناتوں کے دَر وا ہوتے ہیں تو سُن لیجیے!  ان سے نسبتیں...

Thursday, February 3, 2022

بی ‏بی ‏مریم ‏کے ‏نام ‏خط ‏

خط،  نمبر ۷ بسلسلہ ء قلندری،بہ تارِ حریر مادرِ قلندر کیف آور لہر ہے، سکون بخش چاشنی ہے  ... ہیولا نورانی ...مادر،  آپ کی رُوشنی سے دل میں تجرید کی ابتدا ہوتی ہے  .یوں لگتا ہے، روح آپ کی روح کے ہیولے سے ایسے وجود ہوئ جیسے اک وجود کے دو ٹکرے ہوں    ...مادر،  آپ کے نور سے شاخ حرم پہ بیٹھی بلبل کو ساز نگر سُر ملا ہے    ... پیاری مادر، آپ کی صورت، مری صورت ہے! آپ بہت خوبصورت ہے ...ارض حرم کی مٹی کتنی زرخیز ہے، عیسوی نور ارض مقدس میں تخلیق کیا گیا. ...

بنام ‏زوجہ ‏اطہر ‏صلی ‏اللہ ‏علیہ ‏وآلہ ‏وسلم ‏

خط نمبر ۴ سیدہ خدیجتہ الکبری زوجہ ہادی برحق ختم الرسل شہِ ابرار جمالِ کائنات مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ..آپ سیدوں میں سید ہیں،  آپ کا احساس شفقت سے بھرپور ہے جیسے مری نادانی پہ مسکراتے شفقت فرماتی ہیں اور اس سے دل کو ڈھارس ہوجاتی ہے کہ بری سہی مگر آپ کی نظر کرم سے سیکھ جاؤں گی اور قابل ہوجاؤں گی .... آپ میری تڑپ سے خوب واقف ہے،  یوں لگتا ہے آگ نے روح وجود کو پکڑ لیا ہے اور سینے سے بڑھتے وجود تمام اس کی لپیٹ میں ہے اور سینہ جل جل کے مَدینہ ہوا چاہتا ہے ...سیدہ بی بی جان! ...

اپنی ‏تحریر ‏

اپنی تحریر اُٹھا،  اٹھا کے ورق ورق گردانی کر .یہ مصحف داؤدی ہے جس کو ترنگ مل گیا ہے. یوم الست کسی روح کو ملا ہے قرآن پاک  .اسکا سینہ تجلیات کا مسکن ہوا ہے. تجھ کو علم مگر نَہیں کہ خُدا تُجھ سے کیا چاہتا ہے جب تک کہ نوری قندیل ترے سینے میں ہے. یہ قندیل ایسی ہے جو شرقی ہے نہ غربی ہے. یہی ذات کا ستارہ!  مبارک ہو تجھ کو چُنا گیا ہے مُبارک ہو تو نیک ساعت کی پیدائش ہے مُبارک ہو تجھ میں خاص نور ہے تجھ کو علم ہے کہ خدا نے کچھ انس و جن ایسے رکھے ہیں، جو کہ اس کے لیے مخصوص ہیں...

محب و محبوب اور تم کون ہو؟

الہیاتی تسلسل میں اک بات غور طلب ہے. وہ یہ بشر بشر کا آئنہ ہے. نقطہ وری میں مہارت اس آئنے سے ہے. تم سب آئنے ہوجاؤ تو وہ بچے گا کیا؟ حجاب ذات سے اٹھ سکتا ہے مگر اندھے بہرے دل کو سنائی دکھائی کیا دے جو سوچ نادم کرے اسکو پڑھ لو دل میں اس کو کافی ہے. ہر شے میں اسکی دید کے علاوہ کیا ہوگا ... منجمد نقاط کے دائروں سے بے کلی دل میں وجود لیتی ہے. اپنے دائروں کو بھی حرکت دو تاکہ نقاط تحریک پکڑیں دل کی کتاب میں ایک سکہ ہے. وہ سکہ قفل میں ہے اس سکے میں جو لکھا ہے اسکو پڑھو تم میں سے ہر اک پاس جوہر ہے....