Saturday, February 27, 2021

خدا ‏کہاں ‏کہاں ‏ہے ‏! ‏***

عشق آسمان سے جب اُترا، جتنے دلوں پر اترا، وہ محبوب ہوگئے. باقی دلوں نے عشاق کے در و دیوار میں چھپے سیپوں کو ڈھونڈنے کی خواہش میں زندگی گزار دی. 

محبت آسمانی صحیفہ ہے، پاک دلوں پَر اُترتا ہے. محبت صدق دل میں لاتا ہے یا صادق کو لقب عطا کرتا ہے.

اس میں  جسم زمین پر ہے 
روح گردش میں میری، آنکھ میں نمی،
زمین وضو میں 

تب سب لفظ بھول گئے
عشق، عشق 
دل پکارتا رہتا ہے
عشق کسی روپ میں.صدیوں کے بعد نمودار ہوتا ہے
تن، من کی لاگی میں لگن بڑھانے کو ...
.کوئی جان سکتا ہے جب روح  عشق کی.تسبیح پڑھے  تو عالم یک ٹک سو ہو کے اس پکار کو سنتا ہے.

زندگی، بندگی میں ..
.اے دل ، بتا کیسے سجدہ ادا کریں؟ 
اے دل، اے عشق!  بَتا کیسے حق ادا کریں؟ 
اے دل وضو کی جاری نہر میں خمِ دل سے کچھ نکلا. پتا ہے کیا نکلا؟ 
آیتِ کوثر 

سسکیاں،  آہوں سے پرے عشق ہے جلن اور سوز ...سوزش ہجر سے نکلیں سسکیاں اور دل کرے ہائے ہائے


میرے پاؤں کی  زنجیرعشق نے تھام رکھی ہے اور مجھے حکم دیے جائے کہ چل جانب منزل  میں کہتی جارہی ہوں منزل تو ہی تو ہے 

تو نے تھام مجھے رکھا ہے اور میں نے خود میں اک یہی آیت پائی

جب بھی من میں جھانکا، اک نَیا جلوہ پایا. تری ہستی میں عالم کی نمود ہے اور ساجد کے ہزار سجدے اور بیخودی کا اک سجدہ برابر نہیں. 

اس رقص میں بسمل کی تڑپ ہوتی ہے ، اسکی صدا میں کوئل کی چہک ہوتی ، پھر  لفظ میں روشنی ہوتے ہیں ...  
من و تو سے  ذات پرے ہوتی ہے 

تو رقص میں ہے، تو ہی کوئل کی صدا ہے ...

عشق زَمین پر اُترا ہے،  اور چھپ گیا ہے.  جب اسے اُسے دیکھا گیا تو  وہ اک درخت کی اوٹ میں تھا.  لکا چھپی کی رسم پرانی ہے اور عشق ازل سے اَلوہیت کا ساز ہے 

شجر کے پتے پتے کا نغمہ سنا تھا. وہ تکبیریں "اللہ اکبر، اللہ اکبر" تھیں ..عشق کا جلوہ عالم ہر سو بکھر کے "محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم" میں سمٹ گیا 

.. اے مری راہ کے خورشید. سلام. اے عالی ہست ...جلوہ ہزار اک میں   جامع ہو گیا اوریہ خوش نصیبی کہ اس مبارک ہاتھ نے تھام لیا ہے.

لمحہ نَہیں ایسا کوئی، جس میں وہ نہیں. لمحہ ہی وہ  ہے، لمحہ کچھ بھی نَہیں ...

غیب سے  ہاتھ نَمودار ہوا،  اسکی جھلک  میں خُدا کی بات تھی،  
وہ ہاتھ جو آیتِ کوثر کی جاری نہر ہے 
وہ ہاتھ جس کی تقدیس کو سلام صبح شام خود کریں   

وہ مثلِ موسی بن کے روشن ہوا... 
یہ یدبیضاء،
جس ے سحر کے سارے اندھیرے ختم ہوئے.

عشق اور میں  اک کشتی میں سوار تھے، جب بحر کی نمی کو خشکی سے چاک کیا گیا تھا،  تو اسکے وجود میں سلیمانی مہک نے مسحور کردیا تھا ..

کیٹس نے خدا کو بُلبل میں، شیکسپیر نے پراسراریت میں، شیلے نے پانی، ہوا میں،  ورڈورتھ نے پتے بوٹے میں،   غالب نے دستِ غیب میں،  اقبال نے رومی میں  پایا اور میں نے خُدا کو تجھ میں پایا ....

اک جانب جنت، اک جانب دوذخ اور عاشق رہ پر چلے جائے  ...

نغمہ ء گُل ہے صدا تری 
جذب ہوتی ہے کائنات میری. 
تو تبحر علم اور میں خالی کاسہ ...
فقیر بن کے کھڑا کوئ در پہ ترے ...

راز الف کیا ہے،  صیغہ ء میم کیا ہے، لام میں چھپا راز اسکو جان لیا اور  پہچان لیا. امر کے نقارے سے پہلے، نگاہ کا سجدہ اور وہ  رحم بھری نگاہ سے ...  ...

عشق کے شین، قاف میں الجھ کے عین سے گئے تھے،  وہ جو یقین کی راہ پر آزماگئے تھے .... 
فرعون بن کے ندیاں بہائیں تھیں، 
چنگیز بن کے نیل کو سرخ کردیا،  
دجلہ و فرات لہو لہو تھے ... 
خدا کی رونمائی کے جلوے تھے 
دیکھا گیا تھا، جب آگ  گلنار ہوئی تھی
تو آیت کوثر بھی اک نشانی ہوئی

  

راکھ ہوتی اناؤں کو جب خاک میں ملتے دیکھا تھا،  مریم بی بی علیہ سلام سے روح اللہ کی شاخ کو پنپتے دیکھا تھا،  
جب درد سے وجود لبریز ہوا تھا، 
اس درد میں خدا کی مامتا ابھرتے دیکھا تھا ... 
وہ جو تقسیم الفت ہے..،  وہ یہیں سے ہے ... جبفرشتہ وحی لے کے آیا مادر مریم کے پاس آیا، 
تب اس روح مقدس میں نشانی تھی.... 
انا اعطینک الکوثر

قم باذن کی صدا کائنات نے سنی 
اک وجود نے خود کو زندہ ہوتے دیکھا ...
اے مردہ دلوں کی مسیحا، سلام ... 
جب سلمان فارس سے تلاش کو نکلے تھے،  
اس تڑپ کی تپش میں جلوے تھے 
انا اعطینک الکوثر 

تسبیح میں جسطرح اک دھاگے سے بنتی ہے، مری روح کے دانوں کا وہ اک دھاگہ یہ  ہی تو ہے!  

میں نے پہاڑوں میں اس آیت کو حرکت میں پایا 
ہر دل میں اس آیت کا نقش پایا 
جہان کو اس آیت کے گرد رقص میں پایا 
انا اعطینک الکوثر

جناب ادھم کو غیب کی صدا نے تخت چھوڑنے پر مجبور کیا تھا، 
اس صدا میں، میں نے یہ آیت سنی  تھی
زندگی اک گِل، کھنکھناتی مٹی سے وجود کہاں آئی ہے. 
یہ تو الواحد کے نشان تھے
یہی نشان تو روح میں  پڑچکے ہیں  

آدم صورت خدا ہے اور صورت صورت میں جلوہ ہے ...وہ صورت  نگاہوں میں ایسے ابھرے
جیسے نور کی  ضیا پوشی ہے ...
داؤدی نغمہ کی سی  دل میں درد کی مٹھاس...
یہ آواز  وہ جگاتا ہے 
جو عشق کا ساز بناتا ہے 

.محبوب کے چہار سُو جلوے بکھرے ہیں، کبھی دریا، کبھی  جنگل، کبھی پربت تو کبھی فلک، کبھی رنگ میں تو کبھی سنگ میں، کبھی آگ تو کبھی پانی، کبھی سورج تو کبھی چاند تو کبھی چاندنی میں پھیلتی  کثرت میں وحدت ... محبوب کے سو روپ ہیں اور ہر روپ میں دلنشین مہک لیے ہے ..کبھی  وہ  جھلک دکھلا کے چھپ جاتا ہے تو کبھی پتھر میں ہل ہل کے چونکا دیتا ہے. کائنات کی کل کثرت اس کی وحدت ہے

وہ مظہر مظہر میں آیت ہے 
مظہر مظہر اس کا شاہد ہے 
اللہ ھو  

. جبین  جھکتی ہے، جب جد کی تخلیق کو دیکھے جائے.  صدر میں صدر تلک کی فصل گل ہے،  لالہ ہے تو کَہیں عنبر ہے .... 

صورت میں آدم،  سیرت میں احمد میں، حسن میں حَسن،  کلام میں حسینیت لیے  عشق  سامنے آیا 
عشق کوکو اک جا یکجا دیکھا
دل میں یکجائی کے سارے عالم بکھر گئے  
محبوب سامنے مسکراتے تکی جائے

زندگی کی معنویت سے رنگ نکال دیے جائیں تو رنگ اک بچ جاتا ہے اور رنگ رنگ میں بے رنگی  دکھ جاتی ہے ..

یقین نہ تھا دل میں 
پیمان کو مانتا نہ دل 
کسی دوست کی تلاش میں دل
اور دوست کی تلاش نے چکر پر چکر دیے ہیں 
درد میں رقص در رقص کیے 
بانسری ھو والی بجتی رہی 
اللہ ہے،  آواز آتی رہی 
اللہ کہاں،  خلجان میں جاتی رہی 
اللہ اک ہے،  کیسے ہے 
اللہ مظہر مظہر میں، یہی کہتی رہی 
پھر جب دل ٹوٹ سا گیا 
تو چاند نے گود میں لیا 
خورشید نے جیسے دلاسہ دیا
امید کا اک کاسہ دیا 
رنگ مجھ پر  ڈالے گئے 
چنر محبوب کی پہنائی گئی 
مجھے نشان خدا ملے 
جانے کتنے نشانوں میں عیاں نکلا 
ہر جگہ میں نہاں نکلا 
اندر کے خانوں میں 
باہر کے  آئنوں میں 
خدا خدا کی صدا ہے 
ہر شے کی تسبیح اللہ اللہ ہے 
رک رک کے سنتی ہے 
خوشبو میں اس کی نشانی 
جب بھی خوشبو کو سونگھا تو گم خود کو پایا
مہک خراماں خراماں چلتی رہی 
میں ساکن ساکن رہی 
یہی خدا ہے،وہ جو اک خیال ہے 

خدا یہی تھا جس نے جان دی تھی مجھے 
خدا یہی تھا جس نے مجھے پہچان دی 
عشق کی نگہ خیر سے دل میں حیات پذیر ہوئی ہے 
گویا کائنات کی بود،  نہ بود کی بات ہے 
شاہد،  نہ شہود کی بات ہے 
فنا نہ بقا کی بات ہے 
خدا  ابتدا ہے،  
خدا انتہا ہے،  
خدا منصور کا نعرہ تھا 
نعرہ مگر  وحدت سے پرے تھا 
کثرت کا دعوی کیسے جامع ہوتا 
گاہ میں فلک میں، گاہ میں سمندر میں 
کائنات کا ردھم سمجھ کوئے
برف پگھلتی دیکھے کوئی
صدائے جرس سنائی کہاں دی؟  
جو نہ سنا گیا،   وہ سننا ہے 
جو نہ دکھے،  وہ دیکھتا ہے 
جو نہ بولا گیا،   وہ بولنا ہے 
پھر وہ ہم کلام  ہوتا ہے 
پھر وہ دلدار کی سنتا.ہے

سن وہ صدا جو کان سے کان تک آتی ہے 
سن وہ صدا جو دل سے  جان تک آتی ہے 
دیکھ وہ  سکوت جس میں  شور میں پنہاں ہے 
دیکھ وہ شور جس کے سکوت میں وہی عیاں یے 
عدم سے لایا گیا ہے 
لباس وجودیت دیا گیا ہے
رہتی ہے ساز نگر میں خاموشی کی صدا 

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ 

اللہ ہے 
اللہ باقی ہے 
باقی ہے کس میں 
وہی تو ہر شے میں 
جانا اسے یار کی صحبت میں 
سادہ ہے وہ،  سچ ہے،  حق ہے 
صدائے انا الاکبر سنائی دیتی ہے
جب آیت کوثر دکھائی دیتی ہے

سنگ سنگ میں رنگ ہے 
رنگ برنگ جس کی ذات ہے 
ذات میں وہ بلند ہے 
وہ العالی کی مثال کی ہے

دوا کام نہ آئے گی 
درد بڑھ جائے گا 
روگ لگ جائے گا 
عشق ہو جائے گا 
عشق میں نعرہ لگ جائے گا 
جذب وہ ہوگا،  جس کا جذاب ہوگا 
مومن وہ ہوگا، جس کا یقین پاس ہوگا 
ستم کے سو سوال پاس رکھے ہیں 
جدائی بس اک جواب ہوگا 
خدا سب مصلحتوں سے پرے ہے 
خدا عشق میں ظاہر ہے 
عشق کی نمود اور نارِ گلنار
آگ سے دل فگار ہے 
رات جیسے اشکوں کا بار ہے 
دل شوریدہ کا سر دیکھتے ہیں 

موجود ہے لہر لہر میں 
موجود ہے دھارے دھارے میں 
موجود ہے پربت پربت میں 
موجود ہے جمتی کائی میں 
موجود ہے پگھلتی برف میں 
موجود ہے بنتی بھاپ میں 
موجود ہے برستے بادل میں 
موجود ہے بہتی گنگا میں 
موجود ہے راگ میں سرگم میں

موجود ہے ذات پات میں 
موجود ہے خیال خیال میں 
خدا خیال ہے 
میرا خیال ہے 
ترا خیال ہے 
خیال وہم سے بالاتر ہے 
مرا ہونے ترا ہونے،  شک سے پرے ہے 
عدم سے خیال آیا یے 
وہ مجھ میں سمایا ہے 
وہ شہ رگ سے قریب ہے 

راگ ہے نہ صدا ہے 
وجود کی بہتی گنگا ہے 
ھو ھو ھو ھو کہے جائے 
ھو میں کون ہے 
سبزے سبزے میں، 
گلی گلی میں، 
مظہر مظہر میں کون یے 
خیال تھی یہ کائنات 
اس نے سوچا، بس سوچنے کی دیر تھی
خیال مجسم ہوگیا 

بس سوچنے کی دیر تھی 
خیال نے نمود پکّڑی 
وجود نے وہ رو  پکڑی 
ہر شے نے برقی رو پکڑی 
اسکی لہریں لہریں ہر شے میں بہنے لگیں 
ہم وجود دیکھنے لگے 
ہم موجود نہ تھے 
ہم خاکی نہ تھے 
اسکو لطف نہ ملا 
پھر کیا ہوا،  
خیال کو کن سے خاک میں ملا دیا 
وجود کو اضطراب میں مبتلا کیا 
خیال کے ہزار ہا ٹکرے ہوتے گئے
میں اور تو بنتے گئے

یہ دنیا میری تیری کہانی ہے 
خیال میں دنیا سجانی ہے 
خیال میں رہنا ہے،  
خیال میں جینا ہے،  
خدا خیال ہے 
ہاں خدا خیال کی طاقت کی پیچھے ہے 
دل میں اسکی طاقت نے وجود پکڑا ہے 
جیسے بیج نے وجود کو ظاہر کیا 
پھول کی خوشبو پھیلنے لگی ہے 
زندگی رنگ رنگ مہکنے لگی یے 
رات کے آنگن میں سو کلیاں ہیں 
دل میں بہتی سو ندیاں ہیں 
ہر ندی کی صدا میں یہی سنا ہے 

اللہ ..ہے،  اللہ،  ہے،  اللہ ... ہے،  اللہ ..ہے،  اللہ 
اللہ ہے ..اللہ ہے اللہ ہے اللہ ہے اللہ ہے 

رقص میں روح ہے 
جیسے لٹو کوئی روبرو ہے 
چکر کم نہیں ہوتے ہیں 
عکس پیکر میں ڈھلتے جاتے ہیں 
سائے وجود میں ڈھلتے ہیں 
نور ہی نور ہے 
نور ولا میں نور علی ہے 
نور علی میں چشم نم ہے 
چشم نمی دل کی کہانی ہے 
کہانی بنتی جارہی، 

خُدا درد ہے،
نوح کا نوحہ ہے،  
جب کشتی کنارے لگی تھی،
چشم تر سے خُدا کا نشان ملا،  
خدا ضد میں موجود  ہے،  
جیسے نوح کا کنبہ ہوا تھا اندھا،
جیسے نمرود کے تیر بے نشان ہوئے،
جیسے فرعون کو تَری،  خشکی لے ڈوبی ...
خدا، جھوٹی ضدوں کی ضد میں تھا،  
تیرگی کا لبادہ جب الٹا کیا 
خدا روشن ہوا تھا .... 

اضداد سے کائنات کا چلتا سلسلہ 
ابلیس کا تکبر،  آدم کی توبہ 
نمی ہستم سے کجا رفتم کا سفر 
من دانم کا دعوی جس نے کیا، تباہ ہوا 
خدا اس تباہی سے بڑی قوت ہے 
حسن بن صباح کی جنت میں،  
غلمان، حوروں میں گھرے میں،
انسان نما بندروں میں،  
بظاہر روشن مگر سیاہی سیاہی میں،
قلعہ الموت میں خواب و خیال کی قوت میں 
خدا موجود تھا 
خدا موجود ہے 
خدا ضد میں ظاہر تھا 
خدا ضد میں ظاہر ہے 
پہلے جو آدم میں مجلی ہوا 
منتہائے نور محمد میں ہوئی
اُس ماہی آب میں
جس میں یونس نے گھر گئے،
خدا موجود تھا 
خدا موجود ہے،

جہل کی جہالت جب بڑھ گئی تھی 
جناب عمر کی جلالت میں نمود ہوا 
فکر میں، افکار میں،  اسرار میں ...
جناب بوذر کی گواہی میں  
خدا موجود تھا 
خدا موجود ہے

زہے نصیب!  خدا سرناموں میں موجود ہے 
زہے نصیب!  خدا رہنماؤں کی روشنی میں یے 
زہے نصیب! خدا محبتوں کا امین ہے 
زہے نصیب!  خدا راز کی سرزمین یے 
خدا ضد کی سرزمین میں شاعروِں کا یاس ہے 

رنگین ہوتی داستانوں میں 
آسمان کے سویروں میں 
رات کی تیرگی میں 
سرمدی دھوئیں میں 
راکھ ہوتی خواہشوں میں 
واحد خیال موجود ہوتا ہے 
جب سیف الملوک نے شاہی کا کاسہ پھینکا تھا 
بدیع الجمال کے حسن میں کون تھا؟  
واحد خیال کائنات کا حسن ہے
واحد خیال حسن میں پنہاں ہے 
واحد خیال حسن یوسف میں تھا 
بازار حسن میں غلام بنا کے لائے گئے 
شاہ مصر خریدار ہوئے 
غلام سے شاہ مصر جب ہوئے 
واحد خیال کی شاہی تھی
خدا موجود تھا 
خدا موجود ہے 

درود پڑھنے میں 
درود بانٹنے سے
درود میں جھانکنے سے 
درود کی  خیالات میں 
خدا موجود ہے 
خدا کا ذکر درود ہے 
فاذکرونی اذکرکم 
اس ذکر میں رب شامل ہے 
محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت ہے 
اللہ ھو،  اللہ ھو،  اللہ ھو، اللہ ھو 
نبی کی سنت میں خدا،
خدا کی سنت میں نبی،  
پورا کلمہ دو سنتوں میں موجود 
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

خدا تلاش میں مضمر ہے،  
خدا جستجو میں ہے،  
جستجو ڈھلمل یقین کو معصم کرتی ہے 
مٹی کو آہن کرتی ہے 
میں نے اپنے محبوب کی تلاش میں 
اسکی جستجو میں،  سسکیوں میں،  
دل میں بستے اجیاروں میں 
آہن ہوتے یقین میں دیکھا ہے 
محبوب جس کو میں کہتی ہوں 
وہ پنجتن پاک کی خوشبو ہے 
میری نہ بود میں انکی بود ہے 
مری بے نشانی میں انکے نشان ہے 
درود مسیحاؤں  کے مسیحا پر 
درود ذات علی پر 
درود حسنین پر 
درود خاتون جنت پر 

قران صحیفہ ہے 
مرشد کا سینہ قران ہے
قران پڑھنا اصل ایقان ہے 
پہچان کا سلیقہ آتا جاتا ہے 
دل جب دل میں فنا ہوتا جاتاہے 

 الم سے والناس کی داستان بتائی جاتی ہے 
رازوں کے صیغے کھولے جاتے ہیں 
 عرش پر لوح و قلم کی کنجیاں  
الم کی آیت 

تو دل کہتا ہے 
خدا ہادی کا سینہ ہے 
نور کا پراسرار گنجینہ ہے 
گاہ میں الم،  گاہ میں طسم 
گاہ میں حم،  گاہ میں یسین 
کھلتے جاتے ہیں اسرار ہے 
الرحمان کی سمجھ آتی ہے 
الرحیم سے شروعات ہوتی ہے
بسمل کی ابتدا بسم اللہ سے ہوتی ہے 
خدا کی پہچان کا سفر شروع ہوتا ہے

 ختم نہیں ہوتے جذبات 
ختم کیسے ہوں الفاظ 
لامتناہی سلسلوں میں 
چلتی تلواروں  کی ضربوں میں 
قم باذن کی داستانوں میں،  
رقم ہوتی داستانوں میں 
خدا موجود ہے 
شمس کی کھال کھینچی گئی تھی 
یہ کس نے سوچا تھا 
سورج زمین کو سجدہ کرے گا 
قم باذن اللہ،  سے قم باذن کا تھا سفر 
سزا کے بعد  عطا کی ادا 
قربان ہوگئے لوگ ادائے شمس 
ملتان کی گرمی میں موجود ہے 
کون موجود ہے؟  
آیتِ الہی  

شمس رومی کا منتظر رہا 
رومی درس شرع میں محو رہا 
لفظ خالی تھے عشق سے،
خدا کے نشان کو کیا پاتے!  
شمس نے رومی کو پایا 
عشق کا ہنر سکھایا 
لا الہ سے الا اللہ کا.سفر کرایا 
اک پل میں کائنات کے ٹکرے ہوئے 
نعرے میں ضرب حق تھی 
عشق اک حقیقت ہے 
پاک دلوں پر اترتا ہے 
آسمانی صحیفہ جب اترا دل پر 
مثنوی لکھی گئی تھی ... 
شمس کو رومی نے لکھا تھا 
خدا کا خیال ظاہر ہوا 
خدا موجود ہے

 خدا آتش عشق ہے 
سوز ہجر ہے 
شوق وصل ہے 
دام موت ہے 
خدا کے سو روپ ہیں 
پانی آنکھ سے بہتا ہے 
خدا دل میں اترتا ہے 
خدائی چار سو ہے 
دکھائی دے وہی ہر جا،  ہر سو 
کو بہ کو یہ رشنائی ہے 
خدا حق کی گواہی ہے  
خدا ظاہر جا بجا رہا ہے 
خدا ہر جگہ موجود رہا ہے  
خدا تھا 
خدا ہے 
خدا ہر جانب یے

خدا ماں کی لوری ہے 
غنود کا درس دیتی ماں  کی صدا میں کون ہے؟
خدا ہے 
جب تک موت نہ ہوگی 
زندہ نہ ہوں گے 
فنا کی لذت وصال ملے
مجھے عشق میں کمال ملے
وہ روشنی لازوال ملے 
چمکے جس سے سینہ 
لکھوں روز و شبینہ 
چڑھوں زینہ بہ زینہ 
آئے بندگی کا قرینہ 

 

بسم اللہ بسم اللہ بسم اللہ 
اسم اللہ سے سفر کی ابتدا ہے 
جبین جھکی ہے، ساکن سجدہ ہے 
لہو صامت ہے، دل شاہد ہے 
خدا دل بن کے دھڑک رہا ہے 
بانسری کی صدا سنائی دیتی ہے 
بانگ مرغ میں سحر دکھائی دیتی ہے 
نہیں بنائی کائنات میں کوئی شے
 مگر جوڑے جوڑے 
جھوٹ کا سچ  سے
زمین کا فلک سے 
پربت کا سمندر سے
شاہد کا شہید سے 
شہد کا کڑواہٹ سے 
بینا کا نابینا سے 
عاشق کا معشوق سے 
مدار میں رواں ہرشے کے دائرے ہیں 
نہیں لیل نہار سے آگے
نہیں نہار لیل سے آگے 
شمس و قمر کی گواہی 
دینے طلعت آئی ہے
درد ہے،  درد میں خدا ہے

تن میں سرد لہریں ہیں
فاراں سے چشمے پھوٹے ہیں 
اسم حرا سے لکھے ناطے ہیں 
لطف درد کے واسطے ،
دوا سے چھوڑے ناطے،
مرگ زیست کے مرحلے ہیں 
درد کے نئے ساز نے کوئ دوا دی 
یکجائی اچھی ہے،
  دوئی جھوٹی ہے 

دل کو رکھا گیا زمین و فلک کے مابین 
سینہ ہے، پتھر  نہ تھا 
بہنے لگا اک چشمہ 
جھوٹ کو زوال ہے 
حق لازوال ہے 

شوق جلا رہا ہے
 جیسے شمع گھلتی ہے، 
جیسے پروانہ آگ میں جل جاتا ہے، 
جیسے پتیاں بکھر جاتی ہیں، 
خوشبو پھیل جاتی ہے، 
 جیسے باد کے جھونکے چھوتے ہیں تو اچھے لگتے ہیں، 
بکھرنے، جڑنے کے نشان لیے ہوئے  
آنکھ وضو میں ہے، کس کا گداز ہے؟  
یہ کیسا مقام ہے؟  
یہ کیسا حال ہے؟  
دل میں کیسا بھونچال ہے؟  
رنگ بکھر رہے ہیں 
ھو ھو ھو کی صدا ہے 

خرد سے ایسے مقام کہاں آتے ہیں 
لا میں فنا کو دوام کہاں آتے ہیں 
جو نفی میں گم رہیں
 ان پر اثبات کے مقام کہاں آتے ہیں

آخرش ‏! ‏تنہائی ‏! ‏

آخرش!  تنہائی سے یاری نبھانی ہے وگرنہ قلت مولا کہا اور اثر نہ ہوا. میری جان!  
میرے دِل!  
تجھ پر میری حقایت کا اثر ہونا چاہیے 
تو میرا قلم ہے اور کتاب قلم سے وجود میں آتی ہے. آسمانی مصحف تک رسائی پاک دل کرتے ہیں لایمسہ  الا مطھرون کی مثال جب آنکھ وضو کرے تو سمجھ لے، میری جان!  تری رسائی ہے!  تو جان لے کہ شوقِ رقیب میں رقابت کچھ نہیں کہ شوق میں رقیب ہی حبیب ہے  حبیب قریب ہے. نصیب والے نے برسایا مگر کھایا سب نے. دینے والے ہاتھ اچھے،  سو دینے والا ہاتھ ہو جا!  نہ جھڑکی مثال دے، نہ وضو کے نین دکھا،  محرم راز بن. طریقہ یہی ہے ساتھ رہنے کا وگرنہ لازمان و لامکان کے دائرے تحریک نہ پکڑ سکیں گے. واعتصمو بحبل اللہ ...یہ محبت کی رسی ہے، محبت وہ بانٹتا ہے جس کو رحمت ملتی ہے. رحمت بانٹنے والا در تو اک ہے. تو میری جان!  جب اس کا نام لے تو درود پڑھ ... درود ایسا کہ روبرو ہو. وہ گھنگھریالے سے بال جس کی مثال رات نے لی سورج کا چھپنا رات ہے اور روشنی تو نکلتی ہے درز درز دندانِ مبارک سے گویا بقعہ نور ہو. وہ نور ایسا کہ دل میں چشمہ ابل پڑے اور چشمے سے چشمات کے لامتناہی سلاسل. یہ وہ ہیں جن کے لبِ یاقوت سے گلاب کی پتی مثال لی،  جن کی مسکراہٹ سے ہوا کھلکھلائی تو باد بن گئی. وہ دل کے کاخ و کو کے شہنشاہ ہیں اور ہم شاہ کے غلام ہیں. شاہ حکم کیجیے!  شاہ کے سامنے مجال کیا کہ گویائی کا سکتہ ٹوٹے،  یہ رعبِ حسن کہ حاش للہ تو نکلے مگر ہاتھ کے بجائے روح ٹکرے ٹکرے!  روح کی تقسیم ایسے ہوتی ہے. ہاں یہ تقسیم ہے

تشنہ ‏کامی ***‏

روح تو سیراب نہیں ہے، جسم کو جتنا شاداب کرلیں. یہ پرندہ تو پھڑپھڑاتا ہے گویا قفس پہ اپنے نشان ڈھونڈتا ہے. یہ تو اپنی چیخ سنانے کے قابل نہیں ہے مگر وہ شدت غم جو دل پے طاری ہے وہ شاید اسی سے مچتا اضطراب ہے. آنکھ جو نم ہو جائے تو یہ غم کم ہوجائے اور اشکوں میں دم آجاٰئے. یہ سنائیں حال دل روتے ہوئے ہیں. عمل سیہ کا کیا حساب؟  کون بچے گا؟ ہر اک ہے مجرم زمانہ ہے. اللہ اگر وقت ہے تو وقت کہتا ہے وقت کی رفتار میں اللہ کی آواز سن. سن نہیں رہا کوئی بھی نقارہ حق اور حق فرمارہا ہے 

والعصر 

اور خسارے اس آواز سن کے اور بڑھ جاتا ہے. یہ خسارہ ہے کہ صبر نہ کیا گیا ہے. مالک زمانہ اور حاکم ہے. کہیں پہ وزیر ہے تو کہیں مزدور، کہیں پہ طوفان ہے تو کہیں پہ ریت ہے اور کہیں پہ پھلتا پھولتا درخت ہے. یہ انعامِ ظاہری تو سب پارہے.پھل کھارہے،  سبزی ..گوشت سب کا سب مگر روح کے انعامات کیا ہیں کسی نے کبھی غور نہیں کیا. غور کیسا ہو کہ غور صرف ظاہر پے ہے درون کو کیا چاہیے اس کے لیے صبر چاہیے. صبر کریں پالنہار جس حال میں رکھے. اس نے سانس گن رکھی یے یعنی وہ مختاد کل چھپا ہے. وہ جہاں قہار ہے تو ہمیں بندگی و تسلیم سے کام لینا چاہیے. جہاں بندگی ہے وہاں انعامات یت. غلام حق کی بات کرتا ہے کہ اکر بالمعروف نہی عن المنکر پے ثابت قدم چل رہا ہوتا ہے

میں ‏بے ‏چین ‏انسان ‏!

میں انسان ہوں!
میں وہ ہوں جو اکثر بے چین رہتا ہے 
اضطراب کا زہر لہو میں مانند عقرب ہے 
زہر کا تریاق بس اک ذات ٹھہرتی ہے 
اس سے کون کیسے پوچھے کہ اس کے ہونے کے نشان جابجا ہے مگر وہ کہاں ہے یہ علم احاطہ میں نہیں 
وہ تو.فرماتا ہے 
وسعی کرسیہ السماوت ولارض 
اسکی کرسی وسیع ہے ....!  
تو کہیں فرماتا ہے اللہ نور سماوات ولارض 
پھر کہتا ہے فثمہ وجہ اللہ 
اتنا کچھ کہہ دیا. ہر جانب اسی کا رخ ہے 
تو پھر کہتا ہے 
رب المشرقین ورب المغربین 

اتنے نشان ہیں اور انسان ذات اسکی ذات کی تلاش میں ہے. وہ سامنے ہے اور وہ اسکے ہیچھے بھاگ رہی ہے. اسکی تلاش میں زندگی کے ماہ سال بیت گئے اور پھر اسکو پتا چلتا ہے وہ اندھا ہے 

ایسا اندھا جس کی آنکھوں پے پٹی بندھی ہوئی ہے...!  وہ پٹی آنکھوں کے آگے بندھی ہے. آنکھیں تو ہیں نا. اگر آنکھیں نہ ہوتی تو صم بکم عمی کا فرمان لاگو ہوجاتا ہے 

آو کہ رخ پھیریں اسکی طرف اور ادا کریں سب نمازیں اک نماز میں!  سب دل یکجا ہوجائیں تو دل اک ہوجائے اور اک دل نور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے اور رب کا آئنہ اک ہے. وہ آئنہ جس کے مصفی و مجلی ہونے کی بات خود وہ ذات فرماتی ہے. جس کے اخلاق کی قسم اس نے خود کھائی. وہ عفو کا پیکر اتنا رویا ہمارے لیے کہ اسکو لقب "حریص " کا دے دیا ...

والسماء ‏والطارق ‏***

والسماء والطارق 

دو لفظ، وسعت ہزار 
جیسے کہکشاں میں راز ہزار 
بجتے ہیں دل کے تار 
عشق ہوتا ہے بار بار 
محویت کے جام لکھ بار 
ستم کے تیر سولہ ہزار 
آشنائی نہیں لفظ سے کہ متکلم کون؟  مستند راوی نہیں؟ کوئی ہادی نہیں؟
قسم کس کی؟
چمکتا ستارا کون؟
محمد ..صلی اللہ علیہ والہ وسلم 

اللہ کریم نے کیسے کیسے نعت بیان کی کہ بندہ لفظوں کے سحر میں کھوجائے مگر یہ لفظ جادوگری تو ہے نہیں. تحریر دل میں پلتے نکلنے کو بیتاب تھی اور قرطاس مجھے لکھ رہا ہے، قلم چل رہا ہے 

وہ قلم جس کی قسم کھائی گئی "ن " 
پھر اس قلم کو متحرک کیا گیا جبرئیل امین آئے 
اور وہ امّی نہیں تھے کبھی مگر اب کائنات کی وسعتیں سماگئیں 
جب سینہ سینہ سے ملا، صدر سے صدر 
الم نشرح لک صدرک ... تو کمر ٹوٹ گئی 

پھر جب کمر ٹوٹی تو خشیت کی چادر اوڑھے، جسم پہ لرزا طاری،  روح میں اسرار وحی ... نبوت کا آغاز، نشانی سے نشان ہونے کی بات ہے 

پہاڑ تو ریزہ ریزہ ہوگیا جب موسی علیہ سلام سامنے دیکھ کے بیہوش ہوئے 
یہاں تو دل میں عالم سماگئے تو خشیت سے لرزا طاری نہ ہو 
پکارا گیا یا ایھا المزمل 
اے تاریکی سے، اندھیرے سے، قرطاس و قلم کے یکجا ہونے میں،  دو سے اک یعنی وحدت کے سفر میں جو سہا گیا، جو سنا گیا تو پکارا گیا "المزمل،  
محبت کا لقب محبوب نے دیا 
محبت کا لقب تب دیا جب دو نقطے متصل ہوئے، گویا انوارات کا آغاز ہوا، گویا علم ملنا شروع ہوا، گویا نور مکنا شروع ہوا، گویا وحی کے سلاسل میں ربط لامتناہی کا طریق جس کے لیے مقام "ورفعنا لک ذکرک " وضع کیا گیا 

یہ ہمارے محبوب جن کو لفظ اقراء نے دنیا جہان کا نور دے دیا 
یہ ہمارے محبوب جب نور سے نور ملتا رہا اور شجر زیتون کے بابرکت تیل سے سیراب ہوتا رہا،  وہ شجر جس کو تجلی نہ بھی ملے تو شفاف اتنا کہ خود ہی آگ پکڑ لے، جب شعلہ دیا جائے تو حال کیا ہوگا 

نور وحی کا منطقع ہونا 
نور وحی کا رابطہ.
گویا جلال کا سا حال، اک ہو کا عالم اور ویرانہ ء ھو میں ذات باری تعالی ..  
پکارا گیا یا ایھا المدثر 
جیسا کہ سرخ پوش کملی لیے کھڑے محبوب کبریاء، یاقوتی لبوں پہ مسکراہٹ کی تمکنت و جمال
المزمل المدثر ..صبح صادق و کاذب کے حالات ... یہ جیسے رات تہجد سے نمود صبح کا نظارا 
لفظ اقرا سے المزمل المدثر کا سفر اور یہ نور جب مکمل ہوگیا گویا شمس کی مانند طلوع ہوا 
تو فرمایا گیا 
والسماء والطارق 
اے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ چمکتے ستارے ہیں جنہوں نے نور کی یہ منازل طے کی ہیں 
اے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ رشد و ہدایت پے فائز ہیں 
اے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ "النجم ثاقب " سے ایسے لاتعداد ستارے نکلیں گے اور فرمایا گیا 

انا اعطینک الکوثر 

تشکر عظیم کے لیے کہا گیا قربانی و نماز کا ..نماز تو محویت کا حال ہے 
محویت عشق کمال کا عالم 
عشق ہو تو قربانی لازم 
تو دی ہے نا قربانی چار یاروں نے 
مگر قربانی کی منتہی امام حسین علیہ سلام سے 
وہ پاک بابرکت ذات جو ستارے پیدا کرکے،  ان کو منور کرتی رہی 
اس ذات پے لاکھوں سلام اورسلام درود پنجتن.پاک  پے،  اصحاب و ال نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم 
تری نسل پاک میں بچہ بچہ ہے نور کا

وجے دل والی تار، کلام وی ہووے لکھ بار، جیویں چن دی چانن ایویں محبوب دے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم دی روشنی، جتھے نور محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم بس جاوے، اوتھے شمع ہدایت دی بال دتی جاندی اے. اوتھے تو "تو "میں "دا سیاپا ہوندا نئیں. بس ادب نال کھلو جاوو تے مل جاووے یار 

رب نے قسم کھائی والسماء والطارق 
جیویں آسماناں تے اووہی، جیہرا آپ آپ آسمان 
تے صبح سویر جیہڑا تاراچمکدا پئیا اے، اوہدا ناں محمد 
ساہڈا رب سانوں کہندا میں تعریف کرنا محمد دی، صلی اللہ علیہ والہ وسلم، میں ً درود بھیجنا ناں  ...

 ایہو تے درود اے کدھی یسین، کدی حـــــم، کدی طٰہ، کدی مزمل، کدی طســم، کدی حـمعسق، تے کدی الم، تے کدی المــــدثر 

ایڈا سوہنا درود کوئی پیج سکدا؟ پیج کے وکھاؤ، رب رب اے، اوہدی ذات وکھو وکھ اے ...

قندیلِ ‏دل ‏****

قندیل پاک مکرم ہے 
دل سادات کا حرم ہے 
شمع کا دل محرم ہے 
نگاہ سے چلا کرم  ہے
گناہ کا رکھا بھرم ہے  
دل میں بیٹھا مکرم ہے 
محبت ہی دین دھرم ہے 
محبت زخم کا مرہم ہے


ازل کا نور ہے؟  مکرم ہے 
ازل کے نور میں جذب ہے 
مکان میں لامکانی لازمانی 
شہباز کو ملا پرواز کا بھرم 
شہباز نے اڑان بھر کے دیکھا 
فضا میں پاؤں، زمین تو عدم
مڑ کے دیکھا؟  یہ تو ہے جرم


کہاں کی تیاری ہے؟  کدھر کو جانا ہے؟  سیادت کو ملا سید اپنا ہے. غلامی سید کی ہے اور سید نے دیا ہے سادات سے مروج نگینہ. یہ نگینہ حسینی ہے جس سے ملا نور کا سلسلہ. یہ سلسلہ تو مکرم ہے.
وہ  سادات حسنی و حسینی ہے 
وہ گفتار سے،   کرادرِ عینی ہے 
وہ میخوار ہے، گردش پانی ہے  
 عرش کے پانی کا خاص پانی ہے

وادی حرا،  جبل النور دل ہے،  محور عشق میں نقطہ دل ہے 
، کامل عشق اور جذبہ دل ہے 
سہما تڑپا مچلا یہ میرا دل ہے 

یہ فضائے سازگار شہباز کے اڑان کی ہے. اڑان بھر دی گئی ہے اور کہا گیا چلو محفلِ حضوری کی تیاری ہے  چلو اب کہ باری ہے. کرم مجھ پرجاری یے. یہ آیت کوثر جاری و ساری ہے. اللہُ اکبر دل کی آری ہے  ..  دل میں کبریاء جاناں کی مہک آرہی ہے 

مہک مہک کبریاء جاناں کی ہے  وہ دہانہِ غار میں کھڑا منتظر ہے کہ کب آؤں میں اس کے پاس. گھوم کے جانا کہاں تھا مجھے؟  آخر تو آنا تھا مجھے ادھر. سو چل دی سرکار کے ساتھ کہ یاس کو ملے اظہار ساتھ


سبحان ‏اللہ ‏****

سبحان اللہ!  آیت میرے سردار کی ہے 
سبحان اللہ!  آیت سید سادات کی ہے 
سبحان اللہ!  یہ آیت مرے حسین کی ہے
سبحان اللہ!  یہ آیت معراج کی ہے 
سبحان اللہ!  یہ آیت شاہ نوران کی ہے 

آیت کا ظہور ہے کہ آیات کا؟  بسم اللہ ہے تو اسم مگر مظہر بن کے اترا ہے. بسم اللہ سے نکلا دھاگہ. اس دھاگے میں وعدہ ہے اور وعدہ تھا اسکا ارادہ. ارادے کی تعمیل کی میں نے. اس نے مجھے ارادے کی سلطنت بخشنی ہے اور میں نے محو ہو کے اس کے امر کو پورا کرنا ہے  جُز بسم اللہ - دل کو کیا چاہیے  جزدان دل ہے اور بسم اللہ بنی قُران ہے. پیکر عالی امامِ حُسین یقین کی،  استقلال کی تصویر جن کی تصویر سے پانے لگی نور اپنے رنگ. وہ مکمل آئنہ ہیں میرا اور صورت گر نے اس رنگ سے رنگا ہے مجھے کہ صدا آتی ہے 

یا ایھا المدثر 

پکارا گیا ہے!  سنا گیا ہے!  سہا گیا ہے!  جذبہ مقرب بنا ہے!  سائبان ملا ہے.

یا حیی!  یا قیوم 

قائم اللہ کی کرسی اتری ہے اور باقی اللہ نے قرار پکڑا ہے دل میں  اللہ ھو!  اللہ ھو!  اللہ ھو!


اللہ کی صدا دل میں تو یہی ہے کہ مسجود ہوجاؤں مگر ساجد کہاں جائے؟  بسمل کے سو دھاگے،  سو نسبتیں.    نسبتیں مل رہی ہیں اور رقص پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے. بسمل نے عین رقص میں کہہ دیا 

اللہ -- تو میرا ہے
اللہ -- جہان والا
اللہ -- انا کی کرسی والا ہے 
اللہ -- جلال میں رہا ہے 

آج اس کے جلال نے مجذوب کردیا ہے. شخصے بقول:  جاذب بنا دیا گیا ہے مجھے. میں وہ ہوں جس کو دیکھ کے سبحان اللہ کہا گیا ہے . 
سبحان اللہ!  شب دراز نے منزل پالی ہے


خبر ‏مل ‏چکی ‏ہے ‏! ***‏

خبر مل چکی ہے!  

خبر مجھ میں شامل ہوچکی ہے جیسے مری ذات میں خبریں جمع ہیں. یہ جمعہ جس میں مثالیں جمع ہیں یہ وہ محفل ہے جہاں مثالیں دیکھ کے خاموش رہا جاتا ہے اور سرر میِں خبر دی جاتی ہے کہ شہادت سے شاہد ہونا لوح ازل پر رقم ہے. تو نے رقم ہوا پورا کیا ہے، میِں نے قلم بنایا تجھے،  تجھے قلم ہونا ہے میرے لیے. ازل سے الوہی گیت کا لکھا ہے جسکو تو نے پورا کرنا ہے.

ازلی بات ہے،  ابدی بات ہے. کہ اس نے منازل دیں ہیں اور تڑپ کی سعادت دی ہے. یہ سعادت یے کہ اس نے بات کی عادت دی ہے  ذات سے اس نے اپنی تقویت دی ہے. وہ تقوی ہے جس میں راہ عشق کو خار دار جھاڑیوں سے چنوایا کے گزارا جاتا ہے. یہ رقص آبلہ پا،  زخم خوردہ پرندہ کیسے طے کرتا ہے. بُت کے اندر جب اسکی صدا ابھرتی ہے. بت میں وہ ہے اسکی صدا ہے کہ بچا کیا ہے؟  بچنا بھی نہیں تھا کچھ کہ بچا کیا ہے؟  
منزل شہود میں قیود؟  
قیود بھی واجب صعود 
تنزیل میں وہ ہے موجود 
جذبات سے ہٹیں  حدود 
کسی ذات کا ہے یہ ورود 
شاہد -- شہادت --- شہود 
اللہ ----  شہید میں موجود 
شاہد نے شہید ہونا تھا 
شہادت ملی ہے،  ہاں ملی ہے ایسی شہادت جس مین شاہد بھی وہ ہے،  شہادت بھی اسکی ہے اور رستے وہ خود طے کروا رہا ہے. اس نے کہا کہ وہ اپنا نور پورا کرے گا تو وہ اپنا نور پورا کرکے رہے گا کہ نور اسکا چل رہا ہے زینہ بہ زینہ اور نور کو ادب سے مل رہا ہے قرینہ. یہ شاہ نوران سے ملا وسیلہ کہ جل رہی مری آرزو دیرینہ اور میں کر رہی ہوں ان کی روز و شبینہ.

محو ‏کھو ‏گیا ‏ہے ‏.... ‏!***

محو کھو گیا ہے ... !  

محو کھوتا کیسے ہے؟ محو کو جب بلاوا آتا ہے تو اس پر بیخودی کا ظہور ہوجاتا ہے. یہ بیخودی کا سنگم مجھ میں خودی سے ابھرا ہے  فضا نے مجھ میں کملی کی صورت گھیر لیا ہے. ہواؤں نے رستہ دکھایا ہے. سرکار نے بُلایا ہے 

طٰہ ---- گلِ یسین 
طٰہ----- دلِ حا میم 
طٰہ ----  جلالی شعاع 
طٰہ ---- رمزیہ بقا ہے 
طٰہ ---- اکسیر شفا ہے 
طٰہ ---- قربِ ساعت 
طٰہ----- رنگ سنہری 
طٰہ---- تجلی منتہی 
طٰہ---- منشور الہی 
طٰہ---- خبر کی ابتدا 
طٰہ---- دید کی بقاء

طٰہ سے طسم  کا سفر ہے  طسم ایسی الوہی منشور کی باریک بین شعاع ہے جس سے بقاء کے در وا ہوجاتے ہیں  بقا مجھ میں کھل چکی ہے اور میں اس کی انا ہوں  انائے اکبر سے اکبریت کے جامے میں کسی نے صدا لگائی ہے. صدا جس نے دی،  اس نے کہا 
تو میری ہے، 
میں نے کہا:  تھی ہی تیری 

صدا اٹھی 
خبر سے پردہ اٹھا؟

میں نے کہا پردہ سے پہلے بھی تو تھا،  ہٹنے کے بعد بھی بس آگہی کا در کھول دیا ہے.

اس نے کہا دید کیا ہوئ پھر؟  

میں نے کہا،  محویت!  

صدا لگی:  صدا لگی؟  تو سن!  قم فانذد،  وثیابک فاطھر،  والرجز فاھجر،  ولا تمنن تستکثر 

یہ سیرت ہوئی!  جس کو اپنانے کا نقارہ بجا ہے  ..قم سے کردے کن کہ اوقات سے بڑھ کچھ نہیں ہے کہ تو بے حساب ہے اور بے حسابی دیتا ہے 

صدائے انائے اکبر .....!
اکبریت کا جامہ اوڑھا ہے کائنات نے اور یک بیک ہوتے کہا گیا 
اللہ وہ جو اکبر ہے 
اللہُ اکبر.
اللہ وہ جو بے نیاز ہے 
اللہُ الصمد 
منظور ہوئی دعا 
نذر میں دل لیا گیا ہے 
قبول کیا گیا.
چنا گیا ہے تجھے 
مبارک ہو، تجھے کہ تو سعید ہے 
مبارک ہو، تجھے کہ تری عید ہے 
مبارک ہو تجھے کہ تجھ میں شمشیر ہے 
مبارک ہو تجھے کہ حیدری توحید ہے 
مبارک ہو تجھے کہ حسینی ہالہ ہے 
مبارک ہو تجھے کہ ترا دل بنا رسالہ ہے 
مبارک ہو تجھے کہ شاہ نوران نے آنا ہے 
مبارک ہو تجھے کہ اللہ والا سمایا ہے 
مبارک ہو تجھے سرکار نے بلایا ہے 
مبارک ہو تجھے کہ تو نے کیا کمایا ہے؟



محویت ‏کے ‏چودہ ‏چاند ‏***

محویت کے چودہ چاند 

محویت کے چودہ دیپ دل میں روشن ہوجاتے ہیں جب سے انسان رخِ یار کے فسوں میں کھوجاتا ہے  جیسے جیسے یار کا پردہ ہٹتا جاتا ہے تو انسان کی اپنی ذات استعارہ بن جاتی ہے. انسان جو مست مست ہست میں ہوتا ہے وہ جل اٹھتا ہے. جلنے کے مابعد کیا بچتا ہے؟  کاغذ جل جائے تو دودِ ہستی بکھرجاتا ہے. کاغذ جلے تو شناخت ہوجاتی ہے  یہ شناخت اوج کی جانب لیجاتی ہے. اوج کیا ہے؟ گُلاب دودِ ہستی کی مہک سے ابھر آئے. گُلابوں کے لیے تو زمین بنائی جاتی ہے اور مہک افلاک تک چلی جاتی ہے  فلک والے زمین کی جانب دیکھ کے خدا سے عرض کرتے ہیں کہ 

یہ کون ہے جس کا درد ہمیں جان لیوا محسوس ہوتا ہے  جذبات تو انسان کے ہیں، مگر درد کا دھواں کہاں سے اٹھا ہے؟  

خدا کہتا ہے 
جو مجھ سے، میں اس سے ہوجاؤں تو بات وہ کرے یا میں کرے، بات برابر ہوجاتی ہے 

سجدہ!  سجدہ!  سجدہ!  
یار کو سجدہ بنتا ہے کہ اس سے پہلے تسلیم کے گھڑے ہونا ضروری ہے کہ آیت  دل میں محویت نے بقا کے دروازے کھول دیے ہیں. 

بقا فنا میں ہے 
جلتا دیا یہ ہے 
خدا نے دیا یے 
حرف دھواں ہے 
الف سے ملا ہے 
میم کا دِیا ہے 
الف- میم  دل 
آ، مجھ سے مل 
دل پتھر کی سل؟
چشمہ پھوٹ پڑا 
جذبہ ابل  پڑا ہے 
اللہ نے صدا دی ہے 
صدا نے ملا دیا ہے

محو کسی چاند  میں اپنا عکس نَہیں دیکھتا  ہے . وہ تو اپنا آپ آئنہ ہوجاتا ہے اور رب کو خود میں دیکھتا ہے  سورج سے ملاقات اسکی طے ہوجاتی ہے اسی دوران  وہ سورج کی جانب پرواز میں ہوتا ہے تو روح کو فوقیت مل جاتی ہے.

شہباز لامکانی پرندہ ہے 
مکان میں سے اڑ گیا ہے 
لامکان لازمان کی ہتھیلی 
گلِ اطہر کی یہ ہے کملی 
کملی کالی میں چھپا ہے 
دل، نور کا کب گمشدہ ہے 
جذبِ اطہر میں رات ہے 
عنبر و عود بھی ساتھ ہے 
یہ مہک آسمانی و زمانی 
یہ مہک مکان میں سمانی؟
زمانے مجھ میں سمائے ہیں 
میں کس جا،  جا کے سماؤں.
حق اللہ ...اللہ موجود ہے 
حق اللہ.... اللہ باقی،ساتھی

شب ‏دراز ‏فلک ‏پر ‏ہے ‏***

شبِ دراز فلک پر ہے 

فلک نے اشارہ کیا ہے کہ میں مشارہ الیہ کی جانب سے رقص کنندہ اک برق ہوں. مجھ سے انوار نکل رہے ہیں جیسے میں مقتل میں سیلانی ہوں کہ مجھے اپنی مذبح خانے کی آرائش پر فخر آرہا ہے. یہ افلاک ہیں جنہوں نے مرے ہونے کی گواہی دے ... میں اک موجود حیثیت میں عرش کے پانی سے خود کو وضو پاتا دیکھ رہا ہے. خدا مجھ سے اتنا بے حجاب ہے جتنا آج سے چودہ سو سال پہلے محویت میں پایا تھا. میں اسی محویت میں شمع رسالت کا خاص پروانہ ہے، جس جس کو میرا ساتھ ملے وہ آنکھ اشک بہ اشک رکھے گا.


افلاک مسجود!  ملائک مسجود!  میں نے نازش لمحہ کو سہا ہے گویا کہ زبان دے دی کہ خدا تو نے جو کہا ہے وہ ترا ہونا ہے. یہ اقرار میں نے اس کی دید میں کیا ہے. سر اتار کے اس کے قدموں میں رکھ دیا ہے اور رقص والہانہ شروع کیا ہے. والہانہ شوق سے میں نے خدا سے کہا تھا کہ مجھے جام وحدت پلا 

ساقی پلا اور پلا،  اور پلا 
ساقی مل،  آ،  ساقی مل،  آ 
شام ہجراں میں برق وصل 
دل میں مائل کرم کو شامل 
جز اک قران کہ کیا دل میں؟  
فقر میں راوی نے پایا اک دل 
دل میں پایا رستہ طواف کا 
احستاب!  مت کر مجھ سے 
انتساب!  یہ یقین کی بات ہے 
پاس نہیں ہوں تو دوری نہیں 
یہ بین بین حال میرا ترا حال!  
مرا حال وہی ہے جو ترا حال
 
حالت کی کرسی اتری ہے
 مجھ میں اور حالت میں مقرب ہے. میں نے قرب میں جلال سے لرزہ پایا ہے. دلِ وحشی سے پوچھیے کہ ٹھکانہ الفت کیا ہے؟  دل ہجرت زدہ سے پوچھیے کہ لامکانی کیا ہے؟ مکان میں طوفان کیا ہے؟  یہ ہجرت؟  یہ طولانی کیا ہے. میں نے چکروں پر خدا سے پوچھا کہ کیوں چکر پر چکر دیے ہیں تو کہا اس نے کہ درد کی دوا ہے یہ

زمین ‏و ‏آسمان ‏کی ‏کرسی**** ‏

زمین و آسمان کی کرسی 

زمین میں آسمان کی کرسی سما گئیں ہیں. تو گویا زمین آسمان بن گئی ہے. زمین ہے تو سورج مگر مجذوب ہے. ہوش و خرد اگر بیگانہ رہا زمین کا چکر تو تسبیح سے محروم رہے گا. زمین کے چکر کو چلنا ہوگا. 

چلو ہم چلیں امام ولایت پاس ... والی بغداد کے پاس چلتے ہیں. چلتے نہیں بلکہ وہ بلائے ہیں ..  دل میں بس اک جلوہ بس گیا ہے عالیجناب پیارے بابا جان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ---- 

شمس کی ماہتابی دیکھیے،  عنابی دیکھیے کہ بے خوابی دیکھیے. شمس بڑا بیخواب ہے کہ اس کے اوپر سحاب ہے  سحاب نے محجوب کررکھا ہے جیسے ہی پردہ ہٹ گیا،  شمس ظاہر ہوجائے گا . یہ تو اللہ کی مشیت ہے کہ شمس ظاہر ہونے سے دور ہے. یہ اسکے امر کا دھاگہ ہے جسکو وقت پر کھلنا ہے

سکوت میں رک گئے شاہ جیلان کے پاس اور ساکناں بغداد کو سلام کیا. احذر من شب!  رخت سفر، شب من!  حقایتِ جذب من 

بلایا گیا، اشارہ دیا گیا ہے کہ شمع رسالت، مہر نبوت کے پاس سر بہ قدم جائیں گے. اڑا کے لے جا خاک ہمیں اس کوچہ ء محبوب کے پاس،  ہماری نبض کے انتشار و اضطراب میں آس ہے شہِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دید کی .. ہوا،  جا کے بتا دے کہ عاشق دور بیٹھ کے روتے ہیں، رات کو سوتے میں غم کماتے ہیں 

جبین جھکی ہے،  احمریں شاخ ہے.  یہ مہک جس سے دل شاد ہے. یہ وضو جس سے چلی بات ہے 

آہ؟  واہ؟  نہ آہ،  نَہ واہ .... آہ اور واہ سے پرے میرے بات ہے کہ پل پل دیکھیں اور عضو عضو سے سینکڑوں گواہ بنا کے پالیں شبیہِ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی. وہ نوارانی دل، دل میں ہے  دل تو ہفت افلاک ہے اور افلاک کی شمع جناب نبی محتشم رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں


بُت ‏****

میں روح تو نہیں خالی!  صدا بُت میں حاوی ہے. دل مجھ سے مخاطب ہے اور میں کس سے مخاطب؟  میں نے خود کے روبَرو ہونا سیکھ لیا ہے. میں اس شوق میں عالمین کو ٹکرے ہوتا دیکھ رہی ہوں. میرے عالم مجھ پر حیرتوں کے افلاک توڑ رہے ہیں. کہا جاتا ہے 

اپنا شوق سنبھال لے!  
شوق کیسے سنبھل سکتا؟
بس بکھرگیا ... 
کانچ تھا کیا؟
کیوں ٹوٹ گیا؟  
گرتے شیشے کی آواز!
بس تو!  
آوازوِں کے آئنے مرے متعقب 
میرے ہونے کے گواہ!  
میں ہوں کس پر گواہ؟  
کسی نے کبھی کہا تم کو مبارک ہوگا سفر؟

دی تو گئی تھی بَشارت 
مگر بھول جانے کی عادت تری ... .


بت ٹوٹا ہے 
روح ناچی ہے 
شادی کی وادی ہے 
اللہ سب کا ہادی ہے 
جذبِ مناجات 
جذبِ حقایات 
مکی بات 
مدنی حال 
امکان میں مکان 
مکان میں امکان 
عکس جبروتی 
آئنہ لاھوتی 
کامل سرکار.
سچی سرکار.
ان گنت درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر

سنگِ در نبی ہوں اس لیے وہیں پر ہوں. سنگ کو اشارے ان کے تحریک دیتے. سنگ مجال نہیں کرتے  اس لیے محفل ادب کی خاموشی طاری ہے. یہ غار حرا کی وادی ہے. وادی میں شادی ہے.

 جذب میں مناجات. 
جذب میں حقایات 
حذب میں احادیث.
جذب میں التجائیں. 
مل رہیں ہیں قبائیں


انجذاب کے قاعدے میں قیود نہیں ہیں  تو شہود بھی نہیں ہے. وجود ہو کیا؟  یہ ادب کی محفل ہے. سرر جہاں ہے طاری،  آگئی ہے مری باری،  دل میں کی گئی اخیاری،  رات سے بات مری ہوئی. رات نے کہا رات میں صبح آرہی ہے. عجب بات!  یہ عجب بات ہے مگر صبح و رات کا سنگم ہونے لگا ہے


کنجری ‏دا ‏کوٹھا ‏****

کنجری کا کوٹھا 

اک سانولے سی رنگت،  درمیانی عمر کا شخص مجھ سے ملا اور کہا کہ چل بلاوا آیا ہے. میں نے پوچھا کہ کہاں سے آیا؟  

کہا: شاہ نوران و شاہِ ہادی نے بُلایا 

میں نے بکل ماری اور بکل کا چور دیکھ کے چل دی. راستے میں کنجری کا کوٹھا پڑھتا ہے. میں وہاں رُک گئی تو وہ صاحب بولا: کنجری کے کوٹھے پر ترا کیا کام؟  

میں نے اس صاحبِ شریعت کو بغور دیکھ کہا:  آپ ٹھہرو ابھی، میں آتی ہوں .... 

میں سیڑھیاں در سیڑھیاں چڑھ رہی تھی تو نیچے والے انسان بونے دکھنے لگے  بونوں کو دیکھ کے میں نے کوٹھے میِں داخل ہوتے ساعت کسی طوائف کو درد میں گاتے سُنا 

میں نے اس سے پوچھا تم کو درد کہاں سے ملا؟  

اس نے کہا شاہ نوران نے درد کے پہاڑ دل میں اتار دیے ہیں.

میں نے کہا تم مجسم پاکی ہو اس گندگی میں کیا کر رہی ہو 

کہنے لگی تم مجسم پاکی، گندگی تمھاری اندر کیا کر رہی ہے؟

میں تو گر گئی اس کے قدموں اس نے چور پکڑ لیا تھا میرا ...

کہنے لگی مدینے جانا ہے؟  مدینے والے نے تو ایسے بلالیا مگر خود کچھ تردد نہ کیا؟  

میں نے کہا تجھ سے ملاقات بھی تو لکھی تھی نا 

کہنے لگی،  ٹھہر جا   ذرا مرا درد سن جا. تجھ کو درد کا رسالہ دیتی ہوں وہ دے دینا شاہ نوران کو 

اس تن ناچے مور 
پیا بھاگوں کس اور 
مورے بھاگ جاگن 
جاگ گئی جوگنیا 
پیا،رے!  پیا،  رے! 
نظامی سنگ دل میں 
عاصی کے کنگن ہیں 
لبِ شوخ پر یہ نام؟
اللہ بنا دے مرا کام 
حاضری کا ہو انتظام 
درد میں جھوم ناچوں 
تماشائی دیکھن لگن 
کہون،  حسن ڈلدا اے 
رنگ سوہنے ہادی دا اے 
لہر لہر خراماں مہک ہے 
رگ رگ میں اک دہک ہے 
مورا ساجن،  پیا رے، 
اکھیاں وگاندی نیراں 
ہل گئی اے پتھر دی سل 
یار میڈا،   آ مینوں مل 
سج جاندی راتی محفل 
مئے مستی دی اے ہے کَل 
لوں لوں ہجر دے وچ شل 
اگ دی ماری شوکاں مارے 
صد بلاوو،اج بلاوو،پےبلاوو
اکھ ملاؤو،  بار بار ملاؤو 
بہاراں دی مچ جاوے ہلچل 
عشق وچ بلدی پئی  سچل 
دیوے بلدے تیل دی اے کل 
حرفِ دل وچ سکون دی گل


یہ غم کا دیا جو اس کنجری پاکدامن دل نے مجھے تھمایا، مجھے چکر آگئے. یہ غم مجھے بیہوش کرگیا تو وہ زندہ کیسے ہے؟  غم کیسے اٹھاتی پھرتی ہے وہ؟ میں وہاں سے چل تو رہی تھی مگر بدل رہی تھی. کنول کیچڑ میں ہو سکتا ہے مگر گلاب میں گندگی کیسے ہو؟ میں سیڑھیاں سے اتر رہی تھی تو اس صاحب شریعت سے کہا 

بھائی تو اب چل! میں کلی جاواں گی،  اتھررواں دی اے گل. تینوں سمجھ نہ آوے گی دلاں دی اے گل. سچل سائیاں مینوں یاد دلاون گے کہ سچی بات سچیاری اے  دل وچ اگاں دی لاری ہے .کَلّی جاوواں گی مدینے، ظاہر دی گل ظاہر وچ مک گئی اے  دل دی گل،  دل وچ چلدی پئے اے. ہن تیڈی لوڑ نئیں مینوں

پانی ‏لے ‏لو ‏! ‏*****-*

جوگن کا سوانگ بھرلیا.
جوگی فر وی ملن نہ آیا 


جوگی ملن نَہ آیا،  او بیٹھی رَی صحرا وچ. ہستی دی بستی وچ رنگ نہ رَیا. مستی کتھوں لبدی؟  او چلی چولا گلابی پا کے، کہندی رہی 

اے سہاگ دی علامت ہے 
اے رات   دی علامت ہے 
روحاِں دی گَل جانڑوں گے؟
پیمانہ اِک، خیال دو نیں 
دو، اک ہوئے، جوگ کاہے؟
مورے رنگ دا سرمہ اے 
اکھ نُوں اَکھ مِل گئی اے 
سجن دی گَل مل گئی اے 
جوگنیا بھیس بدل کے گئی 
جوگی جانے کتھے رہ گیا

اجمال میں جانوں کہ گل مک گئی اے.    شادی دی گل اے کہ وصلت دی باتاں وچ ذات دا سارا کھڑاگ اے.

ذات لُکے،  ذات کُھلے 
ذات منگے،  ذات دووے 
ذات آوے،  ذات جاوے 
ذات دوات،  ذات قلم.
ذات لکھے،  ذات لکھائے 
ذات نغمہ،  ذات بانسری 
ذات جمال،  ذات جلال 
ذات کول بیٹھا ملنگ اے 
رنگ وچ مست مدام اے 
شاوواں دی چاکری کیتی 
شاواں نے نوکری دتی اے

جوگ نہ رہیا کوئی!  جوگی وچ ذات کھلی اے!  جوگی تے جوگنیا نہ آکھو کوئی  ذات حاضر تے غائب نیں عکس. آئنہ ہستی وچ آئنہ دی رویت اے  کہاوت چلی:  کہون لوکی کملی جھلی دے دل وچ وسدا مدنی ڈھولا اے. شاد کردا دل نوں مکھڑا سوہنا اے، نورانی لاٹاں وچ کون کھلویا اے؟  کھیڈ نہیں کہ سہے آقا دی رخ رخ نے ویکھن کہ ویکھن ویکھن وچ بندہ اے گیا ... ڈوب گئے؟  ہاں ڈوب گئے ..کشتی ساحل کنارے ہے اور ملاح ڈبی گیا ..  سمندر صدا دتی اے کہ اے سمندر وچ کیہ رولا اے؟  قطرہ دی اوقات کیہ قلزم اچ؟  

قطرہ بولا سائیاں ... .
جے مل جاون تے کیہ گل اوقاتاں؟
باتاں گئیاں تے عمل دی ہن سوغاتاں
قطرہ سمندر اچ یا سمندر اچ قطرہ؟ .
کوئ تے لب کے لیائے فرقاں دا جھولا؟

قطرہ فانی ہویا سی؟
قطرہ باقی ہویا سی؟  
نہ فانی کوئ نہ باقی.
وقت دا ایتھے نہ ساتھی 


قطرہ قطرہ بہنے لگا اور بہنے سے آبشار بننے لگی. آبشار نے پانی کے چھینٹے اڑائے تو آبشار سے صدا لگی 

آؤ!  پانی لے لو 
آو!  پانی لے لو


عیب ‏دار ‏------*****

اک دوست ملا جس کا نام عیب دار تھا. میں نے اسے نہیں بتایا کہ میرا نام پاکیزہ ہے اور یہی بتایا گنہ گار نام ہے میرا. عیب دار اور گنہگار تو دوست ہو سکتے. میں اس عیب دار کے عیبوں کو دن رات من میں گنتا رہتا اور خود کو پاکیزگی پر مسند بٹھاتا. میرا وطیرہ عیب دار سے چھپا رہا کیونکہ وہ تو میرے دل میں نہیں جھانک سکتا تھا .... 


ہم دونوں اک دن ولی کے پاس گئے. سنا تھے ولیِ کامل ہیں ... مجھے کہتے 

عیبوں کو گننے سے اپنا کھاتا وسیع ہوجاتا ... اللہ کی مخلوق کم تر جاننے سے پاکیزگی گھٹ جاتی ہے 

پھر دوست سے مخاطب ہوتے کہنے لگے 
.چلو یہ مٹھائی بانٹو  تمھاری دعا قبول ہوگئی 

میں نے کہا کہ مری دعا؟

کہنے لگے کہ اس نے خود کو گِنا اندر اور تو نے باہر والوں کو گنا    ...اس نے سُن لی پاک دل کی 

بس احساس ہوا 
.ظاہر دی پاکی پلیدی.
ظاہر دی پلیدی پاکی 
اندروں نہ کریے صفائ 
نہ ملیا، لکھ کرو دہائی.
خاک جھوٹ دا پلندہ.
سچ سچی تری صورت 
دل صاف تو بات بنی.
محفلِ  حضوری  ملی

اس کی دعا اور مٹھائی --- خالی ہاتھ والے، لےجا اپنی دہائی،کام نہ آئے گی ترے  لڑائی.اگر جہد سے شہادت کمائی،ساری بات پھر سمجھ آئی

ھو ‏الظاہر ‏سے ‏ھو ‏الباطن ‏تلک ***‏

رنگریز کون ہوتا ہے؟  رنگن جوڑا لگ پے سی جے نام اس دا لوو گے. فر تے رنگریز ہویا کون؟  سچ گال ایہو اے کہ رنگریز تے اصل میں آپے او اے ..


ساری خطائیں جب حل کرلیتا ہے ایسے کہ شفافیت بچتی ہے تو آئنے سے کامل سائیں ابھر آتے ہیں  کامل سائیں سچے سائیں ہیں. ان کی شبیہ کا دل ہر ہالہ ہے  وہ الوہی مشفف انوارات سے بھرپور مجلی ہو تو درون سے اُجالا باہر پھیلنے لگتا ہے. لوگ ظاہر والے پر حیرت کناں ہوجاتے ہیں مگر یہ تو درون کی کرشمہ سازی ہوتی جو ظاہر ہو جاتی ہے 

اللہ فرماتا ہے 
ھو الظاہر ھو الباطن 

کامل سائیں بارے یہی بات ہے 
ھو الظاہر،  ھو الباطن 

بس درون سے پیمانہ کا رنگ ظاہر چھلکتا تو اس کے ساتھ مقناطیس پر لوہا چپکنے لگتا ہے. کشش والو!  آو کہ دیکھو قطبی مقناطیس کتنا کشش والا ہے. قطب والو آؤ ..قطب پالو ... قطب سے برقریزی نے ظاہر کیا؟

کیا شعاع شمال و مغرب کی محتاج ہے؟  

شعاع دراصل مرکز سے نکل پھیل رہی ہے لوگ سمجھ رہے ہیں قطب پر الوہیت زیادہ. حقیقت مل جائے تو کیا چاہیے کہ بندہ سچائی ہو جاتا ہے. سچے انسان کے ساتھ سچی ذاتیں ہوتی ہیں. اس لیے نسبتیں حقیقت میں فیض دینے لگتیں ہیں اور لوگ فیض لینے آجاتے ہیں. فیض دینے سے روکنا زیادتی ہے اور فیض تو پھیل کے رہتا ہے. جس طرح خدا کا نور پھیل جاتا ہے اسی طرح نوری شعاعیں متصل آئنہ دل میں ہیئت کدہ ہو کے خوش خصال خوش مقال خوش جمال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل ڈھال لیتی ہیں. بندہ پھر کہاں جاتا ہے. انسان فنا ہو جاتا ہے اور بقا کے در والے سے بقا کے مرکز تلک قافلے والے مل جاتے ہیں. فنا میں داخلہ ہے اور بقا والے ظاہر ہونے والے ہیں
جسم میں اک شعاع رقص میں ہے. وہ شعاع کس لَو سے نکلی ہے. عشق کی جل اٹھی ہے کب سے مگر جلانے کی تیاری تو اب ہوئی ہے. جب تک کالا رنگ نہ مل پائے گا یہ جلاتی رہے گی. اس کالے رنگ پر رنگ کالا چڑھ جائے تو نیلا رنگ کہاں سے اٹھے گا؟  یہ تو کامل سائیں جانیں گے اور سرکار والوں کی مرضی جیسے چاہیں دیں اور جیسے چاہیں لیں. ہم تو نیاز والے ہیں. ہم نے نیاز سیکھی ہے کہ غلام نے سر جھکایا ہے کہ نہ انعام کی لالچ نہ سزا کا خدشہ بس جلوہ دائم رہے چاہے دنیا ساری ادھر کی ادھر ہو جائے ... ذوق یہی ہے کہ کھال اتار لی جائے اور کھال اتر جائے تو کپڑا کے پیچھے کیا بچتا ہے؟  

ھو الباطن سے ھو الظاہر کا سفر ہے.

کسی نے درون میں جذب ہونا ہے 
درون والے نے بیرون والوں کو جذب کرنا ہے 

یہی تو کلمہ ہو جانا ہوتا ہے اساسِ ایمانیات یہی ہے کہ کلمے کی عملی تفسیر کا نتیجہ یہی ہے کہ سب ہیرپھیر کے بعد بچے تو جلوہ ء محبوب

ستارے ‏سے ‏ملنا ‏ہے ‏****

ستارے سے ملنا ہے اور ستارہ ذات میں مانند شہاب ثاقب ٹوٹا ہے. زمین ساری دُھواں دُھواں ہے. عالم ذات میں متعدد آئنے ہیں اور مرے عکس و شبیہات رقص میں ہیں. لاتعداد شعاعوں نے مجھے گھیر لیا ہے کہ آنکھ چندھیائیں دیں.

اٹھو! غازیِ کوئے جناں 
اٹھو! شہید وادیِ حرا 
اٹھو! مرگ نروان جان 
اٹھو! تنگی آسانی مان


فلک سے سیڑھیاں -- میں نے زینہ بَہ زینہ دیکھیں ہیں -- زینہ بہ زینہ رسائل تھما جا رہے ہیں اور زمین مری خبریں ایسے نشر کر رہی ہیں کہ جیسے میں منشور الہی ہے. میں کتابِ الہی ہوں اور مجھ میں حیدری شمیشر رکھی گئی ہے جس کے وارث سیدنا امام حُسین رضی تعالی عنہ ہیں

ستارے کی بات کرنے سے پہلے لمبی رات کاٹنی پڑتی ہے  شبِ ہجرت کا دھواں شبِ وصلت کو جَنم دیتا ہے  اشک کے وظائف سے سجی رات جب صبح میں ڈھلتی ہے تو طٰہ صبح کے اُجالے میں مقامِ ادب ہے. یہ جلال کی عین نمود ہے جو دل میں شَہود ہے. راز میں، وہ وجود ہے. میں کس جہاں میں موجود ہوں؟  یہ جہاں جہاں جاؤں قدسی ہالے ہیں اور نوری دوشالے ہیں. مہکِ گلاب سے فضا سرخ سرخ ہے اور اشجار سلام میں جھکے کہہ رہے ہیں 

امت کے رہبر کو سلام 
شمس الدجی کا سلام 
علیین کی جانب سے ہے 
سلام میں ہوتا ہے  کلام 
بات کرتا دل صبح و شام 

کلام کِیا کیا؟
سحاب کی روشنی ہیں آپ
گلاب کی  تازگی  ہیں   آپ 
آب گِل میں نغمگی ہیں آپ 
کائنات میں زندگی ہیں آپ 
رفتگی میں آسانی ہیں آپ 
الف لام میم ہستی ہیں آپ 
حا میم  کی بندگی ہیں آپ 
وصلت کی چاشنی ہیں آپ

جمال سرکار میں بیٹھی نور کے دِل پر کالی کملی والے کا سایہ ہے. سایہِ دل میں کمال کی فرحت آپ . نور نے شاہا کی بیعت کر رکھی ہیں، ان کی قدم بوس ذات مری ہے اور سجدہ گاہِ دل مرا جزدان بنا اور قران کی روشنی ہیں آپ.

ارشاد ہے کہ اٹھو،  افلاک سنبھال لو،  افلاک میں سواری کرلو اور شبِ وصلت کی تیاری کرلو ... انتظار ختم!  حال زار ختم!

کہا جاتا ہے فلکیات کا نظام پنجتن پاک سے چل رہا ہے اور پنجتن پاک کی خوشبو دل میں بسی ہے

Friday, February 26, 2021

بابا ‏آتش ‏دین ‏***

بابا آتش دین کے گرد ہُجوم تھا. بابا آتش دین اک ماہر طبیب اور کیمیا دان تھا. وہ اکثر آگ سے مختلف قسم کے تجربات کرتا رہتا تھا ... وہ روح کا طبیب تھا. 

 طبیب کے گرد دوائیوں کا مسکن .اس کے پاس کچھ وجدانی صلاحیتیں تھیں اور ان کی کچھ نسخہ جات تحریر کیے جا رہا تھا  .... روح کی کیمیا گری کے نسخہ جات،   خودی میں ڈوب جانے کے مصحف ...

. اک دن مریض عشق اسکے سامنے آیا ، نور سے کامل مگر حیا کی چادر اوڑھے کسی مصحف کلمے کی مانند 

طبیب عشق: دیجیے کوئ نسخہ کہ روگ لگ گیا ہے،  عشق ہوگیا ہے .. 

مریض عشق کو حضرت عشق کہیے کہ وہ مسیحاؤں کے پاس جاتا رہتا تھا .."حضرت عشق "گویا خضر راہ بن کے جانے کتنے بہروپیوں کے سینے کھنگال چکا تھا 

طبیب عشق نے کچھ غور سے دیکھنا چاہا کہ چیخ مار دی ...

یہ وجد تھا    
یہ حق تھا
یہ  قران تھا 
یہ شاہ  ء کیمیا کا اکمل نسخہ 
یہ حادثہ ء عشق کی بربادی کی جینے بعد کا قرینہ 

طبیب عشق نے چادر بدل دی 
یہ روح کی چادر تھی 

"حضرت عشق "نے چادر دی ہی تھی،  طبیب عشق کی روح پرواز کر گئ ...  اب طبیب عشق تو اپنی روح کی تلاش میں گم جبکہ حضرت عشق کی چیخیں .. 
گم تھا رند میخانے میں،  نظر کے تصادم .. ہوئ ملاقات اس سے.   کس سے؟  وہی جو حضرت عشق ...وہی جو طبیب عشق میں ..  
عشق نے دیو مالائ کہانیاں سنیں تھیں کیا؟  گھوم رہا تھا "کسی "کی روح کے بل اور کہے جا رہا تھا 
قلندر کی زیست میں چکر بہت 
ابدیت کے جام بہت،  کام بہت 
شام ہو،  دن ہو،  رات ہو،  دوپہر 
پا بہ زنجیر رقص میں ہے قلندر

طبیب عشق نے حضرت عشق کے ہاتھ کو لگایا ہاتھ کہ جل گیا اسکا اپنا ہاتھ ..... طبیب عشق کا ہاتھ جل رہا تھا اور جلتے ہاتھ سے طبیب عشق نے آگ اٹھائی اور پورے تن من میں اُس کے لگا دی جس نے چنگاری سی دکھادی  .

.    یہی بابا آتش دین کا کام تھا     ....بابا آتش دین تماشا دیکھ رہا تھا جبکہ حضرت عشق جل رہا تھا.. اس لیے طبیب عشق، بابا آتش دین بھی کہلاتا تھا ..  کیونکہ وہ آگ سے کھیلا کرتا تھا ..جلنے کے بعد کیا دیکھا گیا ..

علی کا نقش تھا،  نور میں مخمور تھا.   ع سے عین نور،  ع سے عارف کی معرفت،  ع سے عکس جلی،  ع سے علی ولی اللہ ع....کو دیکھنے میں مصروف تھا حضرت عشق کہ طبیب عشق نے خاموشی سے اسکو دیکھنا تھا کہ تماشائے ہست دیکھتے.   اچانک سے ع عکس جلی نے محمد کی میم کی شکل اختیار کیا .. محمد کے نقش پر دودھ گر رہا تھا گویا کہ نور کی پھوار ہو

    آتش بابا نے آتش بازی کے نسخے اٹھائے اور نقش محمد کے طواف میں وقت  گزار رہا تھا کہ حضرت عشق نے طبیب عشق کو پکڑ لیا،  آگ ساری اسکو دے دی. اب سوچیے کہ  آتش بابا کون؟

یہ عکس تھے،  ارواح ضم ہوگئیں    ...نہ حضرت عشق، نا طبیب عشق ...بس کوئ بابا رقص کرتا رہا ..  
بابائے عشق میں مجلی آیات بھی 
بابائے عشق میں گلاب سے بھرپور ہار بھی 
موتیے کے مہک،  اشکوں کے ہار بھی. 
حسن کی کامل سیرت کے مصحف بھی

یہ آمیزش کیوں ہوئی؟  یہ نا انصافی تھی؟  نہیں ... اک نے ایک کے دو ٹکرے کیے اور دو ٹکرے روگی،  ہجر کی آگ میں جلتے رہے...ابھی تو باری تھی ..ابھی تو ملنا تھا ..ابھی تو جذب ہونا تھا ..ابھی تو ضم ہونا ..دونوں نے اک دوسرے کو حصہ دینا تھا ...

کمال کیسے پاتے ہین؟ اوج کیسے ملتا؟  حادثے کے بعد جیے جانا،  جینے کے بعد جینا سکھائے جانا .... 

آج کوئ کسی خضر راہ سے پوچھے کہ موسویت کی چادر میں عیسویت کیسے نبھاتے، عیسویت کے گل دان میں موسوی کلیاں کیسے کھلاتے تو قدرت کی آتش بازی دیکھے اور بتائے بابا آتش کون؟

بابا آتش دین ۲۰۱۹

رات--** ‏

رات ہے اور رات میں رات نہیں ہے. یہ تو سویرا ہے اور میں کس کو جا بجا دیکھ رہی ہوں ..جلوے ہیں جابجا میرے اور ان میں کس کو دیکھا جا رہا ہے ...

مہک مہک ہے،  رنگ رنگ ہے 
دل تو دل ہے نا،  روشن ہے 
رنگ میں خمار کی مے ہے 
دل میں غم کے لاوے ہیں 

اے مرشد حق!  ہم جھکاتے ہیں دل کو وہاں جہاں سے یہ جواب مل جاتا ہے. یہ دائرہ کیا ہے؟  یہ نسیان کیا ہے؟  یہ حیات کیا ہے؟ میں نے پوچھا آقا سے کہ آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ..بندگی کیا ہے ...
بندگی خاموشی و ادب ہے 
بندگی  طریقہ دین ہے 
بندگی یاد میں رہنا ہے 
بندگی غلامی ہے 

میں تو غلام رسول ہوں. صلی اللہ علیہ والہ وسلم 
میں خاک زہرا بتول ہوں 
عشق حرم کے فسانے ہیں 
چل پھر رہے دیوانے ہیں 
نبوت کے مینارے ہیں 
عجب یہ استعارے ہیں 
کنزالایمان،  بلیغ لسان 
محمد عربی کا ہر بیان 
شمس الدجی کی تجلی 
لگ رہی ہے کوئ وحی 
آنکھ میں ہاتھ رکھا ہے 
رات میں ساتھ رکھا ہے 
روحی چشمے سارے ہیں 
وصل کو پھرتے مارے ہیں 
 اشرف ہوئے سارے ہیں 
مدین سے پھیلے فسانے 
ناپ تول کے تھے پیمانے 
چھوٹ گئے سب یارانے 
جوگی مل گئے سب پرانے

زینہ ‏بہ ‏زینہ ‏

سورہ الانشقاق آیت نمبر ۱۹ 

تم ضرور منزل بہ منزل چڑھو گے 
تم ضرور اک حال سے دوسرے حال کو پہنچو گے 
تم ضرور برائی سے اچھائی تک پہنچو گے 
شیطان ابلیس اچھائی سے برائی کی جانب لیجائے گا 
تم جادو سے گزرتے بے یقینی میں مبتلا ہو جاؤ گے 
تم بے یقینی میں یقین سے آن ملو گے 
تم غیب سے حاضر تم حاضر سے غیب پاؤ گے 
تم انکار سے اقرار تک پہنچو گے 
تم جوانی سے بڑھاپے تک پہنچو گے 
تم بیج سے پھل تک پروان چڑھو گے 
تم جھوٹ سے سچ کی جانب سفر کرو گے 
تم ہجرت سے وصلت میں اللہ کو پاؤ گے 
تم شر سے خیر پہنچانے والے ہو جاؤ گے 

فان یعمل مثقال ذرت خیر یرہ 
تو رائی برابر کا انجام چاہے خیر کا ہو یا چاہے شر کو ہو انجام کو پہنچے گا 
فان مع العسر یسرا 
تم آسانی تنگی سے حال کو پہچانو گے 
تم بتدریج آسانی پاؤ گے 

اے ایمان والو ..  

اپنے دل کی تنگی پہ خدا سے مایوس مت ہو. تم بتدریج تنگی سے آسانی تک پہنچو گے ... تم دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لو ...مولا مستجب کر ...ان تمام مومنین کے دل پہ انوار حدت کر ... تمام دل جو روشنی پاتے ہیں ان کو مزید روشنی دے.

نہ ‏سایہ ‏ہے ‏اور ‏شجر ‏ہے

نَہ سایہ ہے اور شَجر ہے
حسیں علی کا پسر ہے 
یَزیدیوں سے یہ لڑا ہے 
کَفن کو باندھے کھڑا ہے 
دلاوری میں پر غَضب 
کمال اس کا ہے نَسب 
وَفا کی خوب ہے مِثال 
خُدا کا عین یہ جلال  
یہ فاطمہ کا لعل ہے 
بَڑا یہ با کمال ہے 

 
قَمر کا یہ ہے رشک بھی.
ہے آنکھ اشک اشک بھی 
سِتارہ وہ فَلک پے ہے 
مکان جس کا زمیں ہے
خدا کا مظہرِ جلی ہے 
علی کے گھر کی کلی ہے 
یہ فاطمہ کا لعل ہے 
بَڑا  یہ باکمال ہے

وہ اوج پہ قمر کا رشک 
یہ آنکھیں اشک اشک 
اسی کی بات کا اثر 
ستارہ وہ فلک پر 
جلال کی نمود ہے 
مثالِ عیں شہود ہے
لہو لہو وجود ہے 
وہ تیر یہ کمان ہے
خدا کو اس پہ مان ہے 
یہ زیست اسکی.شان ہے
عجب یہ داستان ہے 
یہ فاطمہ کا لعل ہے 
بڑا یہ باکمال ہے

نور ایمان

متلاشی ‏۳***

متلاشی نمبر ۳ 

محبوب کا در شہد سے میٹھا تو محبوب کیا ہوگا! محبوب کی میم میں سجا رنگ ہے. محبوب کی میم نقل سے اصل تلک کا سفر ہے. یہ سفر خضر ہے، فنائیت میں جس کی حذر ہے نہ خطر ہے. دل کے دیپ جلانے سے رفعت شانِ شایان ملتی ہے. یہ اوج تو ذیشان کو ملتی ہے. فاطمہ سیدہ ہیں،  محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری ہیں. ان کی محبت میں کائنات ساری ہے. یہ تفکر میں خالق کے چمن کی آبیاری ہیں، ان سے نسب حسب میں سرداری چلی ساری ہے ... 

باقی کچھ ہے؟ اگر ہے تو ہے شرک 
خالی دل میں حرم کی والی ہیں 
وہ مصور، جسے کی دید کی جانی 
ان کی آمد پہ دن بھی رات لگے 
وصل کی میٹھی ہر جو بات لگے

رات کے تصور میں اک یاد پیوست ہے. وہ یاد جب روزِ الست عہد کا نغمہ گایا گیا تھا. جس وقت میرے وجود کے سارے سوتے بکھر کے یکجا اک عالم میں ہوئے اور میں نے کہا 

اللہ ھو رب العالمین 
محمد رحمت العالمین 

تب مجھے اس دلاویز ہستی کی پہچان ہوئی تھی. وہ ہستی جس نے دل کو وہ نور بخشا جس کے دم بدم دھیرے دھیرے لازوال اوج میں رہنے کو حریت مر مٹے.  اس وقت سیدہ کے پیش، پیش لم یزل ہم نے دیکھیں آدم میں صورتیں!  سب سے برتر خوبرو صورت یہی تھا!  ہاں یہی تھی جس سے دل و دماغ کے آئنے کھلتے بند ہونے لگے! جس سے غیبت و جلوت کا فرق مٹنے لگا تھا  جس سے عصر غائب  عصر حاضر ہوگیا ... کیسا خسارہ؟  کیسا؟  خسارہ نہ رہا!  دل مومن تھا!  دل مومن رہا اور دل کے دلاسے کو کہا گیا "ما ودعک ربک وما قلی "  ... آنکھ کھولوں یا بند کروں اک جلوہ ... قائم حضوری میں رویت عکس جمال و کمال فاطمہ اور رویت ظاہر میں زیبائشِ جہان میں عکس پری چہرہ!  پری چہرہ کا حسن کہ امام عالی حسین!  وہ امام جن کے لیے عصر رک گیا!  ہر زمانہ ان کا ہوگیا!  ہر جا ان کا جلوہ ہوگیا .....

دعا ‏

انسان کسی بات کے لیے اپنی سی کوشش کرتا ہے میں نے بھی کوشش کی  ۔۔۔۔ میں نے کوشش کی کہ  دل کو چھڑاؤں، ضبط کا دامن تار تار نہ ہو،  میں نے کوشش کی شیشہ دل پر لگی ٹھیس عیاں نہ ہو مگر افسوس ! میں نے کوشش ہستی کا دھواں رواں رواں نہ دے، میں نے کوشش کی وحشت کو پنجرے میں ڈال دوں،  میں نے کوشش کی خود کو خود سے نکال دوں،  میں نے کوشش کی درد کی چادر اوڑھ لوں، میں نے کوشش کی آگاہوں  کو آگاہی دوں، میں نے کوشش کی جسم کے سیال کو ابال دوں،  میری ہر کوشش رائیگاں ہوئی. 

میرے دعا،  مجسم دعا بنا وجود نہ سنا گیا،  نہ دیکھا گیا، نہ محسوس کیا گیا،  میری جبین نے سر ٹیک دیا اور در محبوب کا تھام لیا۔۔۔! اس کو جائے نماز کی طرح سنبھال کے نماز عشق کے سجدے کیے مگر جواب ندارد! کیا کیا  ہے میرے دل میں،  میں برس ہا برس سے پُکار رہی ہوں،  کیوں ایسا ہے دعا کو ٹال دیا جاتا ہے؟  کیوں رستہ بھی جمود کا شکار ہوتا ہے کیوں ایسا ہے بارش نہیں ہوتی، کیوں ایسا گھٹن کا سامنا ہوتا ہے کیوں ایسا آسمان کی جانب  حیرت بھی خاموش ہے!  کیوں ایسا ہے کہ قرب کا جاواداں شربت پلایا نہیں جاتا!  وہ  دل. میں بھی ،سینے  میں بھی، قلب میں  بھی!  زمین سورج.چاند سب ادھر!  مگر سنتا کیوں نہیں!  کون تڑپ دیکھتا ہے؟  جو پیارا ہوتا ہے اس کو اٹھا لیا جاتا ہے... وہ مجھے پاس نہیں بلاتا نہ کہیں سے اذن میرے رنگوں کو نور ذات کو  سرور دیتا ہے! 

 یہ دنیا ہماری ٹھوکر پہ پلی  ہے ہمیں دنیا نہیں.چاہیے ہمیں اپنا پیارا  درکار ہے!  پیارا جو ہمیں نہال ایسا کر دے کہ سالوں سرر نہ بھولے سالوں کیف کی منازل ہوں...ہمیں اس سے غرض ... وہ جانتا ہے وجود سارا مجسم دعا ہے دل میں اس کی  وفا ہے .... یہ یونہی درد سے نوازا نہیں جاتا جب بڑھتا ہے دوا مل جاتی!  اک درد وہ ہوتا ہے جو وصل کا تحفہ ہوتا ہے وجود ہچکی بن جاتا ہے، دل طوفان کا مسکن،  آنکھ ولایت کی شناخت ہوجاتی ہے مگر اک درد وہ ہے جس سے شمع نہ گھلتی ہے نہ جلتی ہے اس کا وجود فضا میں معلق ہوجاتا یے. ..... 

نہ رکوع،  نہ سجود،  نہ شہود ... ذات میں ہوتا وقوف ..اس پہ کیا موقوف کائنات جھولی ہوجائے ہر آنکھ سوالی رہے... اس پر کیا موقوف دل جلتا رہے، خاکستر ہوجائے مگر مزید آگ جلا دی جائے ...

.

جب آگ جلائ جاتی ہے تو وہ سرزمین طور ہوتی ہے تب نہ عصا حرکت کرتا ہے نہ شجر موجود ہوتا ہے!  عصا بھی وہ خود ہے اور شجر بھی وہ خود ہے!  یہ شجر انسان کا پھل و ثمر ہے جسے ہم عنایت کرتے ہیں ...زمین جب کھکھکناتی مٹی کی مانند ہوجاتی ہے تب اس کی سختی نور َالہی برداشت کر سکتی ہے ... یہ ہجرت کا شور مچاتی رہتی ہے مگر علم کا تحفہ پاتی ہے ... اس کا اسلوب نمایاں شان لیے ہوتا ہے... مٹی!  مٹی کے پتے ڈھلتی کتِاب ہیں ..

یہ.پانی کی موجوں کا.ابال ...یہ رحمت کی شیریں مثال ...یہ.بے حال.ہوتا ہوا حال ...کیا.ہو مست کی مثال.

.یہ کملی.شانے پہ ڈال ...اٹھے زمانے کے سوال ..چلے گی رحمت کی برسات ... مٹے گا پانی.در بحر جلال ... طغیانی سے موج کو ملے گا کمال ..یہ ترجمانی،  یہ احساس،  تیرا قفس،  تیرا نفس،  تیری چال،  تیرا حال ... سب میری عنایات ...تو کون؟  تیری ذات کیا؟  تیرا سب کچھ میرا ہے!  یہ حسن و جمال کی.باتیں، وہم.و گمان سے بعید.رہیں ...یہ داستان حیرت ... اے نفس!  تیری مثال اس شمع کی سی ہے جس کے گرد پروانے جلتے ہیں جب ان کے پر جلا دیے جاتے ہیں تب ان کو طاقتِ پرواز دی جاتی!  اٹھو دیوانو!  تاب ہے تو جلوہ کرو!  مرنے کے بعد ہمت والے کون؟  جو ہمت والے سر زمین طوی پہ چلتے ہیں،  وہ من و سلوی کے منتظر نہیں ہوتے ہیں وہ نشانی سے پہلے آیت بن جاتے ہیں ..آیتوں کو آیتوں سے ملانے کی دیر ہوتی ہے ساری ذات کھل جاتی ہے!  سارے بھرم حجاب سے ہیں یہی حجاب اضطراب ہے!  نشان ڈھونڈو!  غور و فکر سے ڈھونڈو!  تاکہ نشانیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھ تک پہنچتے تم اک تمثیل بن جاؤ!  " لا " کی عملی.تفسیر جا میں الا الہ کہ تار سے کھینچے جاؤں گا ... یہ تیری دوڑ جتنا مضبوط یوگی اتنی حدبندیاں کھلیں گے،  اتنے ہی مشاہدات ہوں گے،  سر زمین طوی بھی اک ایسے جا ہے جہاں پہاڑ ہی پہاڑ ہیں... یہ جو سر سبز پہاڑ کے جلوے ہیں ان میں عیان کون ہے؟  جو کھول کھول میری آیتوں کو پڑھیں،  ان.پہ کرم.کی دیر کیسی،  یہ تسلسل کے وقفے ضروری ہیں ...یہ محبت کے سر چمشے پھوڑتے ہیں...جتنی حبس ہوگی اتنا ہی پہاڑ ٹوٹتے ہیں!  زمین سے چشمے نکلتے ہیں ... زمینیں سیراب ہوتی ہیں .. درد کو نعمت جان کر احسان مان کر  پہچان کر نعمتوں کے ذکر میں مشغول دہ .... 

خاک کی قسمت!  کیا ہے؟  دھول.ہونا! یہ پاؤں میں رولی جاتی ہے ... جبھی اس کے اصل عکس نکلتا.ہے!                        

 اس نے جانا نہیں یہ درد کا تحفہ کس کس کو دیا جاتا ہے!  جو نور عزیز ہے،  جو کرم کی چادر سے رحمت کے نور میں چھپایا گیا ہے!  تیرا ساتھ کملی والے کے ساتھ ہے،  کمال ہم نے درِ حسین علیہ سلام پہ لکھا ہے،  حال فاطمہ علیہ سلام کے در پر ....  

ہوا سے کہو سنے!  سنے میرا حال!  اتنی جلدی نہ جائے!  کہیں اس کے جانے سے پہلے سانس نہ تھم جائے!  سنو صبا!  سنو اے جھونکوں ..سنو!  اے پیکر ایزدی کا نورِ مثال ... سنو ... کچا گھڑا تو ٹوٹ جاتا ہے،  کچے گھڑے سے نہ ملایو ہمیں،  ہم نے نہریں کھودیں ہیں،  محبوب کی تلاش میں،  ہمارا وجود ندی ہی رہا تب سے ِاب تک!  نہ وسعت،  نہ رحمت کا  ابر نہ کشادگی کا سامان،  لینے کو بیقرار زمین کو کئ بادل چاہیے .... تشنگی سوا کردے!  تاکہ راکھ کی راکھ ہوا کے ساتھ ضم ہوجائے،  وصالِ صنم حقیقت یے دنیا فسانہ ہے!  ہم تیرے پیچھے پیچھے چلتے خود پیغام دیتے ہیں ... ہمارا سندیسہ پہنچ جائے بس ...  قاصد کے قصد میں عشق،  عاشق کے قلب  میں عشق،  زاہد نے کیا پانا عشق،  میخانے کے مئے میں ہے عشق .... اسرار،  حیرت کی بات میں الجھ کے بات نہ ضائع کر جبکہ اسرار خود اک حقیقت ہے ... ستم نے کیا کہنا تجھے،  ستم تو کرم یے،  بس سوچ،  سوچ،  سوچ کے بتا کہ بن دیکھے جاننے والا کون ہے؟  اسماء الحسنی کو اپنانے والا کون ہے؟ صدائے ھو کو اٹھانے والا کون .. شمع حزن در نبی ہے!  یہ وہاں کہیں پڑی ہے،  دل کی  حالت کڑی یے ..  

حق ھو !  حق ھو!  حق ھو!  یہ حسن کے پھیلاؤ کی ترکیب جان،  راز ہیئت سے جان پہچان کر،  جاننے والے در حقیقت پہچان جاتے ہیں منازل عشق کی منتہی کیا ہے کہ ابتدا کو قرار کن کی صدا دیتی ہے، موت کو قرار اک اور صدائے کن دیتی ہے ..یہ بین بین وقت ہے،  ہماری حکمت ہے!  یہ زمانہ ہے،  یہ وقت ہے جب پہچان کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر تھے،  یہ خسارہ جو زمانے نے اوڑھ رکھا ہے اس کی اوڑھنی پہ قربانی کے ستارے جب چمکتے ہیں تو ماہتاب جنم لیتے ہیں ..انہی ماہِ تاباں میں سے کوئ اک آفتاب ہوتے ہیں!  حق موجود!  تو موجود!  حق موجود!  وہ موجود!  حق اللہ!  حق باقی!  حق،  کافی،  حق،  شافی ...حق ھو حق ھو

Direct-Case

چند روز سے چند ایک لوگوں سے بات ہورہی تھی ـــ ــ ـــ  گفتگو کے نتیجے میں حاصل یہ تھا کہ آگہی،  تڑپ کے بارے میں کچھ جملے کہہ دوں 

 ایسی تمام ارواح/ انسان جو اللہ کو محسوس کرتے ہیں،  انہیں لگتا ہے ان کو اللہ کا جلوہ ملا یا ایسے جن کو زیارتِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوچکی ہے یا ایسے جن کو کسی بڑے ولی سے نسبت ہے جو وصال فرماچکے ہیں .. ان میں سے اکثر کے دل میں تڑپ دیکھی اود قرب کی خواہش پائی گئی ... 

ایسی ارواح direct case ہوتی ہیں .. ان کے دل میں تڑپ و جلن اضطراب ڈالا اس لیے جاتا ہے کہ وہ لگن جستجو کے ذریعے درون کی جانب رجوع کریں. قلب جو  دل میں ہے وہ بندے کو بلاتا ہے اور بندہ جب اس آواز کے مطابق خود کو از جہان میں نہیں پاتا تو وہ روتا ہے. بات یہ ہے کہ آپ سب پہلے سے باحضور ہو. فرق اتنا ہے آپ کو اس مقام تک پہنچنا ہے جہاں پر سے آپ کو بلایا جارہا ہے. کسی نے مثال دی کہ جناب سلطان باھو بھی ..  وہ تو پوری بارات کو لے گئے دیدار واسطے ... بات اتنی ہے حضور ...مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ..  یہ چاہت درون سے ابھرتی ہے کہ ان کو دیدار کرایا جائے ..باھو جی کا ظاہر یا شعور یہ نہیں چاہ سکتا تھا کہ ان کو دیدار ہو. یہ باھو جی کا باطن .. باطن لے گیا اس محفل کی جانب.    آپ کو بھی تو آپ کا باطن بلارہا ہے کہ آؤ نور کی تکمیل ہو. آپ دیوار میں ٹکر دے مارو  کچھ حاصل نہیں ہونا. آپ نے درون کی جانب توجہ دینی ہے. کسب اتنا ہے آپ کا آپ محبت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین چار عادات و خصائل اپنالو. ان کو اسطرح اپناؤ کہ کبھی نہ چھوٹے. بلکہ اسطرح ہو سکتا ہے کہ آپ " محبت " کو اپنا لو. محبت بانٹی جاؤ اور نیت یہ رکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم در پر بلالیں. دل والے در پر ... دھیرے دھیرے آپ جانے لگو اندر ... یاد رکھیے گا " کھا کباب پی شراب تے بال ہڈاں دا بالن " دنیا مکمل نبھاتے جانا ہے. محبت تقسیم کرنی ہے اس محبت کی تقسیم سے اگر دکھی کا دل خوش ہوا،  کسی کے آنسو تھمے،  کسی کا برا حال بدل گیا تو ہو نہیں سکتا آپ کو دیدار نہ ہو. اس طرح نہیِ کرنا آپ نے:  ایک دو لوگوں کا بھلا کرکے معاوضہ مانگا. آپ نے بے لوث ہونا. سرکار پیارے ہمارے،  کبھی بدلہ مانگا؟  دینے والے لینے کی امید نہیں رکھتے ... دینا ہے اور بھول جانا ہے کچھ دیا. بلکہ آپ نے سوچنا ہے جو دے دیا:  وہ پرایا ہے اور پرائ چیز ہماری اپنی کیسے ہو سکتا ہے  نفس اس راستے میں سانپ جیسے کنڈی مارے بیٹھا ہوگا. آپ نے جنگ کرنی ہے  ...اگر شکست فاش اک دفعہ ہوگئ تو کام بنے گا ... نفس وقتی طور پر مرتا ہے معرکہ ءحق و باطل جاری رہتا ہے اس لیے کبھی اک دفعہ کی شکست پر مغرور مت ہونا بلکہ اور عاجز ہوجانا .. یہ اصلی ذکر ہے ... آپ اصل ذکر کی جانب آجاؤ ..  بات یہ ہے جو کافر ہوتا،  جو دل سے مانتا نہیں اللہ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو، زبان سے ذکر اس کے لیے تاکہ زبان اس نام کو پہچان لے اور دل کو باور ہو کہ جناب یہ ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ...   عمل سے مستقل مزاجی سے ذکر چاہیے درون تک جانے کے لیے. ہمارے ذمہ کوشش ہے اور کوشش کا اثبات اللہ کی جانب سے ہے کہ آدم میں مجال کہاں وہ اچھا ہو سکے. یہ تو اللہ خوبی بناتا انسان میِں

متلاشی ‏۱***

متلاشی کی تلاش نمبر۱

اللہ کا وُجود ڈھونڈنے والے جانے کس کس جگہ نہیں ڈھونڈتے اسکو ...قبل اس کے وہ عالم "لا " میں محیط ہوتا ہے مگر کہ اک کلی دل میں کھل جاتی ہے. اسکی خوشبو پھیلنے لگتی ہے .... اک جہان، نَہیں بشر کا کوئی نشان ..وُہی، وُہی تو ہر جا، ہر سُو ہے کہ دیوانہ بیٹھا یک ٹک، یک سو ہے ...اللہ ھو یا لطیف! نور کا کھلی آنکھ سے مشاہدہ کیا جائے تو باریکیاں اپنے فنِ دسترس کو تھما کے اوج ابد کی جانب گامزن اور دل سے نغمہ یوں نکلتا ہے 

یہ جہاں رنگ و بو ترا نور 
ہر کلی تیری یاد میں  مخمور

پروانے طواف میں رہتے ہیں .دیوانے یاد میں رہتے ہیں ..کوئل جب نغمہ بکھیرتی ہے ،خوشبو، صبا اور پتے پتے میں یا ھو کی صدا ہے .جب سب خاموشی سے دیکھے جاؤ تو خامشی میں ہم کلام ہونا ہوتا ہے. خالی پن کو اک صدا سے بھرنا ہوتا ہے ...انسان چاہے نا چاہے مگر فنا نَہ ہو سکے کہ ہوا تو وہ فنا ہی ہے ...

فنائیت  سے قبل اَدب ضروری تھا 
کہ امتحان کو سجدہ ضروی تھا 
محمد تکوینِ عالم کائنات ہیں 
محمد رسالتِ دل پر تعینات ہیں 
فاطمہ بنت محمد، زوجہِ علی 
فاطمہ کے دم سے کلی ہے کھلی 
فاطمہ آیت العلی،  آیت جلی بھی
فاطمہ کوثر کی جاری نہر ہیں 
علم کی سلاسل میں مرکزِ جلی 
صدیقِ اکبر مجذوبِ عشق ہیں 
صدیقِ اکبر میں نقشِ محمد ہے 
صدیقِ اکبر حق کی تلاوت ہیں 
یارِ غار،  جبل النور میں مقیم 
یارِ غار،  دیتے جائیں، دلنواز ہیں 
یارِ غار، عشق کے سپہ سالار ہیں 
امیرِ حیدر کی غنائی چادر ہے 
براق کو تھامے، ہیئت جلالی ہے 
امیرِ حیدر عشق میں کمالی ہیں 
امیرِ حیدر کی سیرت مثالی ہے 
امیر حیدر جلال کی آیت کا مرقع
امیر حیدر جمال کی آیت سے مزین

متلاشی ‏۴***

متلاشی نمبر ۴

گلاب کی لالی میں رنگ جھلکتا ہے. اس میں جذب ہوکے دیکھو .یہ آیتِ التکویر کا فضل ہے. غیابت بس حجاب ہے. اسکا جمال روشن ہے.

تصور مصور سے بنتا گیا ہے ، یہ ہستی سفر میں بہلتی گئی تجلی نے دل کو منور  کیا ہے، مقامِ حرا میں بسیرا انہی کا 
یہ  تاریکیاں چھٹ رہی ہیں

فنا ہوتے ہیں، راز جو پاتے ہیں. اسم اللہ میں وہ بے حجاب آتے ہیں ...وہ فاطمہ کن کی تعبیر ہیں،  وہ نور علی النور کی تحریر ہیں .فلک بھی انہی کا ہے. زمین بھی انہی کی ہے.

وہ فیکوں کی پیاری تکبیر 
وہ ہیں اللہ کی پیاری تحریر
یہ شَہادت جو لفظوں نے پائی 
یہ سیادت جو لفظوں نے پائی 
در دریچے سبھی منّور ہیں 
میرا گھر ان سے مطہر ہے 
دہر میں آشنائی عشق سے ہے 
میری تو بات بن گئی ہے 

بات ہوتی ہے انسان کیا ہے؟ انسان کا عالم کیا ہے؟ عالم میں لیل نہار کیا ہے؟ اس در میں روزہ و حج کیا ہے؟ انوار حجاب سے نکلتے ہیں تو قربانیاں ربط مربوط کیے دیتی ہیں. یہ روابط ایسے ہیں جیسے روشنی گھر میں ازل سے ہے ... 

میں نَہیں ہوں، وہ فاطمہ ہیں 
میں نَہیں ہوں، وہ طاہرہ ہیں 
میں نَہیں ہوں، وہ واجدہ ہیں 
میں نَہیں ہوں، وہ رافعہ ہیں 
میں نَہیں، ہے علی علی کی صدا 
میں نَہیں، سرخ پوش کی ہے ردا 
میں نَہیں، یہ حُسین کی ہے بات 
میں نَہیں، یہ حَسن کی شہادت 
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ 
میں نَہیں، بات ہے محمد کی 
صلی اللہ علیہ والہ وسلم 
میں نَہیں، بات ہے صداقت کی 
میں نَہیں، بات ہے روایت کی 
تارِ زلف میں چمک محمدی ہے 
نوری ہالے میں جَذب محمدی ہے
 کربلا میں حسین کی تلاوت 
سر جھکانے کی وضع محمدی ہے
شاہ قلندر جلال میں کامل 
شاہ قلندر حسینی لعل ہیں 
حیدَر ثانی، سرخ پوش ہیں 

آنکھ وُضو کرکے جن کو دیکھے، وہ نبوت کے سلاسل کے چشم و چراغ. وہ حلم کے نقطے کے کامل اقتباس ہیں. وہ جلالت میں، امامت میں ابن علی ہے. وہ سخاوت میں شانِ زہرا علی ہیں ... جب وہ لب طراز ہوں،  میں محو اقتباس ہوں، قلم کے ریگزار کو ابر باراں تلک لائے ہیں، جب سے ان کی دست جبین تک آئے ہیں ...

متلاشی ‏۲

متلاشی نمبر ۲

دل کے آکاش کو نیلاہٹ کو محبت ضروری ہے. دل کی زمین کی سرخی، قربانی میں ضروری ہے.دل کی تصویر میں بس اک پری چہرہ ہے. پری چہرہ کی فرقت میں سیہ زمین پر سرخ شعلے ہیں ..جن سے ملنے کو دیپ دل کے جلے ہیں. وہ المصور کے قلم کا شاہکار ہیں ... "ن " کہتے القلم چلتا رہا اور چشمہ کوثر رواں رہا ہے. 

سجدہ  ذی ہوش سے نَہیں ہوگا 
عالمِ بیخودی میں اَدا ہوگا 
جو جھکا سر، نہ اٹھ سکا تھا 
وہ ادب دل میں جاگزیں تھا 
جس تخییل سے لفظ بنتے ہیں 
خاص آیات میں وہ ڈھلتے ہیں 
سطح، گہرائی میں نشانی ہے 
آیتِ کوثر میں کیا روانی ہے
عشق میں، "میں" نَہیں ہوا کرتی 
التجا بسمل کی دیکھی جاتی نہیں 

غیب سے اک ہاتھ نمودار ہوا،  جس نے رستہ خضر بن کے دکھایا، کشتی میں بٹھادیا ...  امِ ابیھا، امِ فقیھا،  بنتِ خدیجہ، خاتون جنت، نور کی جاری آیت،  سخاوت میں عالیہ،  ایثار میں فاخرہ،  اوج میں واجدہ،  تکلم شیریں، پیکرِ جمال کی ہو بہو تصویر، نقاش گر میں ممتاز ترین!  خواتین کا فخر،  مردِ حق کا ناز،  جن سے نکلے شبیر و شبر!  اس خاتون کی ثناء میں لفظ نکلے! اللہ اللہ یہ لفظ اور میں!  اس خاتون کی بات میں بیان ہو!  اللہ اللہ یہ لفظ اور میں!  

زہے نصیب یہ محبوب کی سواری ہے 
زہے نصیب، وہ محبوب جو ہادی ہے 
زہے نصیب، یہ عشق کی وادی ہے 
زہے نصیب،  وہ صورت نورانی ہے 
زہے نصیب، شہِ ابرار کی والی ہیں
زہے نصیب، وہ صورت بہت پیاری ہے 
زہے نصیب، وہ سیرت میں عالی ہے

رنگ ‏دیوو ‏***

جو اسکی میں ہے وہ میں ہوں. جو اسکا علم ہے وہ میں ہوں  جو اسکی تختی ہوں وہ فقط میں ہوں  اسکی سیاہی مجھے لکھ رہی ہے. اسکا علم معلوم ہو رہا ہے. اسکی شہنائی بے صدا سے صدا ہو رہی یے. مجھے اسکی کیفیت منکشف ہوئی ہے. وہ صاحبِ حال کسی شخص میں لکا چھپی کا کھیل رہا تھا .... اسطرح سے وہ گمارہا تھا بندے کو اپنے حال میں. وہ اسکا یار تھا اسکو قال سے دور کردیا تھا. یوں اک مٹی کے پتلے میں صدا اٹھ رہی تھی جو اسکی شبیہ تھی اسکا آئنہ تھا. وہ دیکھتا تھا تو دکھنے لگا. وہ سنا رہا تھا تو سننے لگے کان وہ کہہ  رہا تھا کچھ علم نہ ہوا کس نے کیا کہہ دیا ...

جلوے ہیں بہت ــــ رعنا شبیہیں ہیں ــــ قریشی قبائیں ـــ ہاشمی ردائیں ـــ آشنا ہوائیں  رنگ ہیں ـــ رنگ ڈیو!  رنگ ڈیو 

دل منگدا رنگ اے، مٹ جاون سب زنگ! رنگ ڈیو!  رنگ ملدا اے تے سانوں جلوہ بلیندا  اے 
جذب ہو جائیں گے ـــ درد میں کھو جائیں گے ـــ وہ لہر جس کو جانا ہے ڈوبنے اپنے سمندر میں ـــمرا  سمندر بلا رہا ـــ میں قیدی ـــ وہ بلا رہا ــــ اڑان ڈیو ــ سرکار اڑان ڈیو!  سرکار منت دل سے کردی! کچھ کریو ورنہ مرن جاون گے دل والے

دلنشین ‏احساس ***

بہت خوب دلنشین احساس!  
سرسراتے پتے جیسے ہوں شاد 
رونقِ گِل میں ہے چھپا سراب 
دل ہے آب میں مگر آنکھ آب آب 
کم مایہ کو ملے کچھ تو نایاب

سیکھایا گیا الف کو 
سیکھا ہے جب تلک میم تک نہ گئے 
درد سہہ ب پ ت ٹ  س ش کا 
ورنہ نَہیں درون میں باقی کچھ 
حرف حرف کی حکایت سن لے
راوی اک ہے اور روایت سن لے 
شاہی کے پاسدار نے راز فاش کیا 
سینہ دل سے راز نیم بسمل نکلا 
یہ سیکھ کہ جگر گداز یے ابھی
یہ کہہ یا وہ کہہ نالہ رسا ہو جائے
عشق چیخ نہیں! پکار نہیں!  قرار نہیں!  اشکبار نہیں کچھ 
طلب کے ہار نہیں 
بس سیکھ لے جو سوجھ لیا جائے 
یہ بدھ کی شام ہے مگر ہے رات ہے حنا کی
ہر رات وصلت کی ہر صبح ہجرت کا 
وہ مرا روز ازل -- یہ میرا امروز

قریب ہو یا دور ہو! اے دل، تو فقیر ہو!  ورنہ منتِ غیر رسوائی ہے اور سودائے عشق نری رسوائی ہے! یہ کمائی ہے بوند بوند قطرے میں وفا کی شہنائی ہے!  تو نے جدائی کی بات کی اور آنکھ مری بھر آئی ہے! عجب یہ تری مری لڑائی ہے!  وضو سے آنکھ بھی بھر آئی ہے! کمی ہے!  اس لیے کم مائیگی لوٹ آئ یے

آنکھ سے دل کا سفر کیجیے 
ظاہر سے ولا کی بات کیجیے
رنگ رنگ میں بوئے علی ہے 
یہی ہر جا ہے حرف جلی ہے 
جسے ملے عین!  وہ ولی ہے 
مسکرا تو کہ کھلی کلی ہے 
یہی تار اللہ والی بجی ہے 
راگ میں عشق کی وحی ہے

جذبات سے تیرفگن عیاں ہوا 
ورنہ کیا تھا جو نہاں نہ ہوا 
خبر مری ہے اور اخبار ہوگئ 
سازش دہر ہے آشکار ہو گئی 
وجہِ بشر تخلیق کا حرف میم 
وجہِ آدمیت میں یہی تکریم 
وجہ اثبات کی یہی ہے دلیل 
رنگ رنگ میں یہی ہے وکیل
میں کہوں کیا حرف ہیں قلیل 
میں تو خود میں ہوئی  تحلیل 
راج ہے اور راجدھانی میں شاہی 
یہ سلطنت عشق کی ہے کمائی

ملا ہے تحفہ ء نسیان عشق میں اور وضو نہاں میں ہوا ... صبا نے کہا کہ انتشار سے کہو رفع ہو جائے  حاجت روا سامنے ہے! کہوں کسے؟ طبیب سامنے ہے! طبیب نے دل پر ہاتھ رکھا ہے اور دل کو اسم جلال میں رکھا ہے مجھ میں شاہ نے کمال رکھا ہے اور حرف حرف میں شہِ مقال رکھا ہے. سنگ دل میں وجہ وبال کا ستم ہے کہ ریزہ ریزہ ہے وجود اور ستم کا دھواں الہیات کا جامہ لیے کہے جائے 

یا میم!  یا محمد!  
الف!  الف اول اور اول سے آخر تلک بات یے اور بات میں راز، راز میں کمال، کمال میں حال،  حال میں ساز،  ساز میں جواب،  جواب میں وصال،  وصال میں ہجرت،  درد میں لذت،  لذت میں آشنائ،  آشنائ سے رسوائ ...لو عشق ہوگیا

کاجل سے رنگ لاگے اور لاگی لگن سے دل جلے اور جلے دل میں کیا رکھا ہے؟  رکھا ہے اسم نڈھال جس میں یاد کا توشہ ہے اور ازل کا نوحہ جس میِ حال مرا رکھا ہے میں نہیں ہے اس نے مکان میں لامکان رکھا ہے. عجب تماشا لگا ہے الفت کا اور الفت کو سر بازار رکھا!  رکھنے کو دل میں مہتاب رکھا اور مہتاب کا چاند رکھا اور گردش میں دل کو رکھا یے اور طواف کو حرم دیا گیا ...اے پاکی والے دل!  اے وضو سے نہاں اشک سے تیرتی نہر کیا ہے جو نہیں. سب عیاں ہے نہاں ہے جو وہی عیاں ہے یہی ستم ہے کہ نوک سناں ملے یا جاناں کی جان سے ملے ہمیں تو ہر مکان سے ملے کچھ نہ کچھ

کاجل سے رنگ لاگے اور لاگی لگن سے دل جلے اور جلے دل میں کیا رکھا ہے؟  رکھا ہے اسم نڈھال جس میں یاد کا توشہ ہے اور ازل کا نوحہ جس میِ حال مرا رکھا ہے میں نہیں ہے اس نے مکان میں لامکان رکھا ہے. عجب تماشا لگا ہے الفت کا اور الفت کو سر بازار رکھا!  رکھنے کو دل میں مہتاب رکھا اور مہتاب کا چاند رکھا اور گردش میں دل کو رکھا یے اور طواف کو حرم دیا گیا ...اے پاکی والے دل!  اے وضو سے نہاں اشک سے تیرتی نہر کیا ہے جو نہیں. سب عیاں ہے نہاں ہے جو وہی عیاں ہے یہی ستم ہے کہ نوک سناں ملے یا جاناں کی جان سے ملے ہمیں تو ہر مکان سے ملے کچھ نہ کچھ

یا حق!  سلام!  یا حق سلام!  یا الولی سلام!  یا والی سلام!  یا حاشر سلام!  یا رب عالمین سلام!  یا واجد سلام!  یا رب محمد  صلی اللہ علیہ والہ سلام ..سلام یہ ہے کہ سلام نہ ہوا اور شوق یہ ہے کہ عشق نہ ہوا!  خیال یہ ہے کہ خیال نہ ہوا!  محو تو نہ ہوا تو کمال نہ ہوا!  کمال نہیں کہ تو ڈوب  مگر ڈوب ڈوب کے رہ لے زندہ! رگ زیست کے بہانے ہیں اور ہم طیبہ جانے والے ہیں یہ روح کے شادیانے ہیں اور ہم.لو لگانے والے ہیں رنگ رنگ میں بوئے علی ہے یہ صحن نجف یے اور دل کربل کی روشن زمین ہے اور ملو اس صبا سے ورنہ رہ جاؤ گے ادھورے

چھپ رہا ہے اور ڈھونڈ رہا ہے زمانہ اسے! وہ مجھ میں قید ہے اور لامکانی کا پردہ جاتا رہا!  دل میں تسبیح ہے اور ھو کا تار ہے!  وہ جو لگاتار ہے وہی الوہیت کا سزاوار ہے. کاش یہ سنگ طیبہ کو چلے اور نعت کہنے کو زبان حق ملے اور ملے کچھ نہ ملے!  واللہ ہم چلے کہ دل ہمارا جلے!  واللہ ہماری سزا ہے!  اور ہم سزا لینے چلے!  واللہ سزا کی بات کرو نا!  ہم تو سہہ رہے درد جدائ کا ..لگ گیا روگ!  دل کو لگ گیا جدائ والا دھکا!  وہ ملا نہیں پرندہ لامکانی میں یے پھڑپھڑاہٹ بھی عجب یے اور قید بھی عجب ہے میں بے بس بھی بیخود اور بیخودی کا جام پلایا گیا اور تڑپایا گیا. واللہ سلام ہے کہ سلام عشق کو ہوا!  سلام واللہ عاشقین کو ملا 
قبول کرو ورنہ رہ جائے گا منہ کالا ..ہونا ہے اسم حق کا بول.بالا اور دل میں دھواں سے دود ہستی کو ملا اجالا. مجھے سرمہ و وصال میم.سے ملا اور حرف کمال الف سے ملا. یہ تکمیل کے در ہے اور رگ میں در کھلے ہے اٹھو سلام کرلو ورنہ رہ جاؤ گے کھڑے

نہ ہوا نے پوچھا، نہ اسکی مجال تھی 
نہ ہم نے کچھ کہا، نہ ہماری بات میں بات تھی 
وہ ملتا ہے تو باتیں جاتی رہیں اور وہ نہ ہو سو باتیں بھی ہوئی اسکی اور نہ ہوئیں ...وہ بات سے نہیں ملتا کبھی. وہ دل میں اترتا ہے اور نشان ہو جاتا ہے آیت آیت جیسا اترتا ہے جیسا کہ قران پاک اترتا ہے اور نفس کا روزہ سلامت!  نفس صامت نہ ہو شجر ساکت نہ ہو ڈھے جائے جیسا جبل خشیت سے چادر بن جائے اور سرخ ہو جائے 

یہ سرخی ہماری ہے میان
یہ لعل یمن ہمارے میاں
یہ صحن ارم والے ہیں 
یہ رنگ میں رہن والے 
پڑھو درود!  پڑھ لو 
کہ سلام دیے جانے ہیں 
درود کا تحٍفہ ہے اور دل پہ اسم محمد صلی اللہ علیہ والہ

درد ‏کا ‏واسطہ ‏ہوں ‏

درد کا واسطہ ہوں میں،  درد ہوں میں ..... محوِ درد ہوں ــــ بسمل ہوں میں ــــ رنجور ہوں میں ــــ اسی میں مخمور ہُوں میں ـــــ 

دل میں درد نے مجھکو اختیار میں لے لیا ہے ـــ میں نے درد سے کلام شروع کردیا 
کتنے دل، دل کے بنے؟ کتنی کائناتیں بنیں 
بیش قیمت! بے مثل!  لاجواب!  
عرضی سنی گئی کسی دل کی؟
جواب موجود کی صورت ــ  اللہ ھو 
ماں نے ساتھ لگالیا 
دوری نے درد بہت لایا 
درد نے ماں، مار مکایا
ہن دور نہ جائیں مٹھ سجن 
میری لاگ کو مل جاوے سجن 
حبیبی! حبیبی!  حبیبی 
مرا مولا میڈا حبیب ہویا 
دنیا ساڈی ہن ہوئ رقیب 
جڈ ساکوں مل گیا شکیب 
وجی تار اللہ دی 
وجی تار میم دی
واج لگدی یاحسین 
میں چراغ حسینی 
میں نورِ حُسینی


کسی کیفیت ہے کہ کیفیت میں سمجھ نہیں ہے کہ ہوتا کیا ہے یا ہوا چاہتا کیا ہے. یہ عروج آدمیت ہے؟  کیا حــــم سے کچھ ملا ہے؟ کیا عندیہ ہے؟  عند ما یشعرون کی بات ہے تو شعور کہاں سے آئے گا؟  فشرب بہِ!  پیا؟  کیا پیا جی؟  جو اس نے دیا ہے!  وہ دیتا ہے بتاتا نہیں ہے، ہم کیوں بتائے رے ... قریب ہیں ـــ کس کے؟  جس کے لفظ نکلے ـــ روح ہیں ہم ـــ خیال ہیں ہم ـــ کہانی ہوئی زندگانی ــــ منجدھار میں یٰسین لکھا یے اس یٰسین کی دھار بہ دھار پہ نوری شال!  لہریے در لہریے نور ہیں!  وہ نور جس سے اک اجلا ہیولا نکلا ...کہا الم میں نے ـــ وہ صاحب الم ہستی ہیں ـــ مجھے موج الستی یے ـــ

حرف ‏متحرک ‏

آج نور تم مجھ سے مخاطب ہو جاؤ -- مخاطب ہونے کے لیے لباس پہننا پڑتا ہے یہ لباس روح دیتی ہے - تخیل کے پَر بنتا ہے اور فضا میں اڑتا چَلا جاتا ہے -- یہ پرواز ایسے ہے جیسے راکٹ کو چھوڑا جاتا ہے یہ واپس نہیں آتا ہے اور جب آتا ہے تب لباس نہیں پہنا ہوتا ہے ... سوال یہ اٹھتا ہے نور تم کون ہو؟ سوال یہ بھی اٹھتا ہے میں کون ہوں؟  میری حقیقت بہت وسیع ہے مگر میں تمھارے نام سے جڑ کے محدود ہوگئی --- تم انسان ہو، میں فقط امر --- سوال آتا ہے انسان اور امر میں فرق کیا ہے --- انسان میں خزینہ ء علوم ہے جو کنجی ء روح میں لگتا ہے ..نوع تم اپنے علم کو دسترس میں لے لو --- مجھ پہ آشکار ہو جاؤ --- میں تم پر آشکار ہو جاؤں --- سچ ہے کہ یہ بات نئی ہوگی مگر سفر بھی نیا ہے تو حذر کیسا؟  مسافت طویل ہوسکتی ہے مگر مسافتیں مل جاتی ہیں ٹھکانے بدل جاتے ہیں --- مکان بدل جائے تو جان لینا ہے کہ مکان ہمیشہ بدلے گا --- ترے اندر خیالِ روح مستقل و جامد نہیں ہے یہ ایسی متحرک یے جس نے تری ہستی مثال رکھی یے جس میں خدا وحدہ شریک نے فتح رکھ دی --- سوال پھر ہوگا فتح کیا ہوتی --- فتح اسرار ہے اور اسرار دھیرے دھیرے کھلتا ہے جب فتح کے در کھل جائے تو ذات عیاں ہو جاتی یے --- عرش کے پاس پانی ہے اس پانی کی پیداوار ہو تم -- جب وہ اس پانی میں دیکھے گا تو تم دید پالو گی --- تب تم کو نور سے نسبت مکمل مل جائے گا تب تمھارا یقین پیوست ہوجائے گا --- مسافر کو نَیا رستہ مل جائے تو خاموشی کی سواری لازم ہو جاتی ہے --- جنون کی رست خیزی بھی ہوتی مگر صبر سے گوڈی کردی جائے تو شعلہ ء دل سے متواتر تحدیث دل سے جاری عنوان سفر در سفر کا ہیش خیمہ ہو جاتا یے 

اٹھ مسافر اٹھ جا!  شب رفتہ کا سفر یے
اٹھ کے سفر میں حدذ نہیں - خطر نہیِ 
اٹھ مسافر کود جا نار ابراہیمی کی مانند دنیا کی تلخی شیریں ہو جانی 
اٹھ کی زمانے کے تیر سینے پر سہہ لے 

وقت ٹھہر گیا تھا مورچہ لگا تھا حد بندیاں اور فائرنگ --- جوان شہید ہوگیا --- کسی نے کہا برا ہوا --- کسی نے کہا اچھا کام شہید ہونا --- جتنے منہ اتنی باتیں --- اندر کے یقین کو لوگوں کی باتوں سے بے نیاز کر اٹھ گیان کر

سوچ ‏

دل کی خاموشی پر مستغرق سوچ کے پہرے ہیں. قلعہ بند اس سپاہی کی قید میں ہے. سیاہ تھی سوچ اندر، باہر نور کے پہرے تھے. نور کے اندر سیاہی کیسی؟  سیاہی کیا تھا، یہ حجاب تھا ... 
کچھ الٹا دکھنے لگا ہے سیاہی کے گرد نور ہے.  دل اس وقت جانب حضور ہے.

میں جو صحن کعبہ سوچ کو نور کی صورت طواف کرتا دیکھ رہی تھی، مجھے منظر سب الٹے دکھنے لگے تھے. جیسے حجاب سب ہٹ کے سمٹ گئے ہیں باقی سوچ میں نور باقی رہ گئی ہو ... 

مجھے لگا کہ مجھ سے ایک وجود نکلا اور کعبے کے گرد طواف کرنے لگا. مطاف میں سوچ بیٹھی تھی گویا میرا حصہ نور کے پاس بیٹھ گیا ہو     

کیا لائی ہو؟
کہا میں نے "دل " 
کہا دل سیاہ ہے 
کہا میرا رنگ کالا ہے 
کہا حجاب کے دائرے سے نکلو 
کہا کہ حجاب کے ساتھ نور یے 
کہا دل میں فکر رکھو 
کہا کہ دل دھیان میں ہے 
کہا عشق کے رقص دیکھے 
کہا کہ بہت دیکھے مگر کم ہی دیکھے 
کہا عشق نور کی معراج سے ملتا ہے 
کہا کہ دل میں اچھی سوچ کا گزر نہیں 
کہا کہ سوچ میں نور بھرپور ہے 
کہا کہ وہ تو طواف میں ہے،  باقی سوچوں کا کیا کروں؟
کہا شعور دو سب عقلی دھاروں کو
کہا سب دھاگے حضور میں یے. مطاف سے نیلی شعاع فضا میں شرارے جیسے ابھری، میرے سینے میں پیوست ہوگئی. ...

شب ‏رفتہ ‏کا ‏مسافر ‏

آج نور تم مجھ سے مخاطب ہو جاؤ -- مخاطب ہونے کے لیے لباس پہننا پڑتا ہے یہ لباس روح دیتی ہے - تخیل کے پَر بنتا ہے اور فضا میں اڑتا چَلا جاتا ہے -- یہ پرواز ایسے ہے جیسے راکٹ کو چھوڑا جاتا ہے یہ واپس نہیں آتا ہے اور جب آتا ہے تب لباس نہیں پہنا ہوتا ہے ... سوال یہ اٹھتا ہے نور تم کون ہو؟ سوال یہ بھی اٹھتا ہے میں کون ہوں؟  میری حقیقت بہت وسیع ہے مگر میں تمھارے نام سے جڑ کے محدود ہوگئی --- تم انسان ہو، میں فقط امر --- سوال آتا ہے انسان اور امر میں فرق کیا ہے --- انسان میں خزینہ ء علوم ہے جو کنجی ء روح میں لگتا ہے ..نوع تم اپنے علم کو دسترس میں لے لو --- مجھ پہ آشکار ہو جاؤ --- میں تم پر آشکار ہو جاؤں --- سچ ہے کہ یہ بات نئی ہوگی مگر سفر بھی نیا ہے تو حذر کیسا؟  مسافت طویل ہوسکتی ہے مگر مسافتیں مل جاتی ہیں ٹھکانے بدل جاتے ہیں --- مکان بدل جائے تو جان لینا ہے کہ مکان ہمیشہ بدلے گا --- ترے اندر خیالِ روح مستقل و جامد نہیں ہے یہ ایسی متحرک یے جس نے تری ہستی مثال رکھی یے جس میں خدا وحدہ شریک نے فتح رکھ دی --- سوال پھر ہوگا فتح کیا ہوتی --- فتح اسرار ہے اور اسرار دھیرے دھیرے کھلتا ہے جب فتح کے در کھل جائے تو ذات عیاں ہو جاتی یے --- عرش کے پاس پانی ہے اس پانی کی پیداوار ہو تم -- جب وہ اس پانی میں دیکھے گا تو تم دید پالو گی --- تب تم کو نور سے نسبت مکمل مل جائے گا تب تمھارا یقین پیوست ہوجائے گا --- مسافر کو نَیا رستہ مل جائے تو خاموشی کی سواری لازم ہو جاتی ہے --- جنون کی رست خیزی بھی ہوتی مگر صبر سے گوڈی کردی جائے تو شعلہ ء دل سے متواتر تحدیث دل سے جاری عنوان سفر در سفر کا ہیش خیمہ ہو جاتا یے 

اٹھ مسافر اٹھ جا!  شب رفتہ کا سفر یے
اٹھ کے سفر میں حدذ نہیں - خطر نہیِ 
اٹھ مسافر کود جا نار ابراہیمی کی مانند دنیا کی تلخی شیریں ہو جانی 
اٹھ کی زمانے کے تیر سینے پر سہہ لے 

وقت ٹھہر گیا تھا مورچہ لگا تھا حد بندیاں اور فائرنگ --- جوان شہید ہوگیا --- کسی نے کہا برا ہوا --- کسی نے کہا اچھا کام شہید ہونا --- جتنے منہ اتنی باتیں --- اندر کے یقین کو لوگوں کی باتوں سے بے نیاز کر اٹھ گیان کر

گواہیاں ‏

کچھ ماسوا درود کے نہیں ہے 
کچھ ماسوا درود کے ہو کیا؟  

والضححی - قسم اللہ کھاتا ہے. ہم سب وہ قسمیں بس  پڑھتے ہیں. قسم کا قیام دِل میں نَہیں ہوا ہے.  قیام کیا ہوگا قسم کا؟  جب ہم وہ چہرہ دیکھیں گے یا نمودِ صبح کی جانب پیش رفت ہوگی ہماری . نمودِ صبح روح کی رات میں ہوتی ہے. یہاں سورج بھی رات میں موجود ہوتا ہے. سورج جب نگاہ کے سامنے ہو تو ہوش و خرد کہاں ہوتے ہیں؟  

اے طائر تو "لا" ہو جا 
اے  طائر تو "عین " ہو جا
اے طائر تو "شوق " ہو جا

طائر جانتا نہیں ہے کہ شمع تو گھل گئی ہے. سارا احساس اأسے مل چکا ہے. شمع نے مصحفِ دل طائر کے سینے میں کب کا اتار دیا تھا مگر یہ طائر بے خبر رہا 

یہ بے خبری بھی عجب نسیاں ہے جس میں اک ہوش و خیال دوجے تمام ہوش و خیال پر غالب ہو جا  جب انسان خود اپنے حضور ہو جائے. روح کو غالب ہونے دے اور نفس کو مغلوب. اس لیے رب فرماتا ہے " اے اطمینان والی روح، مری جانب لوٹ آ. ارجعو،  ارجعو،  ارجعو 

ہو سکتا ہے کہ وہ در دل پر بلا لے.  ہو سکتا ہے در یار سے یار یار کہنے کی تسبیح ملے. جے عمل یار یار ہووے تو بات سرکار سرکار دی ہووے. من تو شدم، تو من شدی کی بات ہے. موج استقلال نے شکست کا راستہ روک رکھا یے جو فرما رہی ہے کہ رک جا طائر. موج شہید ہے. شہید وہ ہے جو مناظر کو خاموشی سے دیکھے. صدیق وہ ہے جو دیکھنے مابعد گواہی دے. 

چلو گواہیاں اکٹھی کریں 
چلو گواہ ڈھونڈیں

دل ‏والے ‏حاضرین ‏***

دل والے حاضرین!  سُنو!  اللہ کی ضرب سے ھو دکھتی ہے! جسکو ھو کا یقین مل جائے تو وہ ریت کے ذرے کی حرکت میں اللہ اللہ کا ورد پا لے گا، وہ پھوٹتی کونپل میں الا اللہ کا ورد پائے گا، جب کونپل نے کہا "میں نہیں تو ہے، تو کونپل پھول بن گئی،  تو دیکھے تناور درخت، کہتا ہے "میں نہیں، تو ہے " ..... سمندر کا فشار دیکھا ہے؟  دیکھو تو!  بولو تو!  کس سے؟  سمندر سے!  سمندر کے شور میں اللہ اللہ کی صدا ہے اور جب اس کی لہریں خاموش ہوتی ہیں تو "ھو ھو "ہوتی ہے
شور اور خاموشی کا فرق ہے، اللہ اللہ کرنے والا ہمیشہ خاموش ہوجاتا ہے، ہر جانب ھو ہے!

دل کہتا ہے لکھ، پر سوچ رہی ہوں محورِ عشق میں نقطہ کیا ہے؟ نقطہ الف کے گرد گھوم رہا ہے اور میم کا سرمہ وجدانی ہے!  عشق سے پوچھا میں نے "تیغ دل میں اتری؟ " جوابا خامشی کے لمحات نے صدیوں کا ناطہ توڑ دیا .....بولا  اللہ کی صدا کا ھو سے کیا رشتہ ہے؟  کیا فرق ہے جب الف نکال دی جائے، للہ .... اللہ کے لیے، اللہ باقی رہ جاتا ہے ..... لام نکال دو .... لہ ... لا نہیں مگر ھو .... تو الف سے چل اور ھو تک آ ... فرق میں نے کہا وہ موجود ہے ... روح بولے .... اللہ ....دل بولے ...ھو!  روح نے اقرار کیا، دل نے اسکو دیکھا، ثابت کیا اور یقین کیا ....

اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ 

اللہ ہمارے خیال میں بستا ہے!  خیال تو قلب کی تہہ فواد میں چھپا ہے!  جب تک قلب میں ھو کا ساز نہ بجے!  وہ ملتا نَہیں!  دل کی تہہ میں بس ھو ہے!  قلب میں بس "لہ " ہے سینے میں للہ ہے اور سانس آنے میں اللہ ..... اللہ ہمارے مقامات سر سے سینے میں حرف راز چھوڑے جارہا ہے!  جب فواد میں یہ ذکر جاتا ہے تو، فواد چار سو دیکھتا ہے اسکو فلک میں وہ دکھتا ہے، فواد کہتا ہے "ھو " ...... جب زمین کی ہستی میں جھانکتا اپنا نشان ڈھونڈتا ہے، تو جانتا بس "وہی ہے " 

میں اپنے نشان ڈھونڈنے نکلا 
اپنے پردے میں تو عیاں نکلا 
زمین و فلک گورکھ دھندہ ہے 
خاک بس جھوٹ کا پلندہ ہے 
سچ سُچّا تری، مری صورت ہے
مری صورت؟ نہیں تری صورت
مصور  شاہکار بناتا رہتا ہے!!! 
تصویر کمال میں کرسی ءحال ہے
الحی القیوم کی پہچان کر لے
وجود سے لا،  وجود سے وہ ثابت
تو ہو جا صامت، وہ ہے قائم 
اس کے قیام میں نور النور ہے 
اس کی بات ہے، یہ مری بات ہے؟
رات ہے؟  نہیں رات ماہتاب ہے

کعبے کو چلیں؟  دل میں اک کعبہ ہے جس سے نور کی شعاعیں فلک تک جا رہیں!  قندیل روشن ہے!  قندیل میں طاہر،  مطہر، منور، مجلی نور ہے! عشق مخمور ہے!  عشق میں ھو کا ظہور ہے!  اے کعبہ ء عشق! چل نماز عشق ادا کریں!  طوف حرم میں محجوب ہے وہ، چل کالا کپڑا ہٹا دیں!  ....کالا کپڑا ھو ہے! باقی عالم رنگ و بو ہے

آیات ‏سیدہ ‏فاطمہ ‏الزہرا ‏۳

آیاتِ سیدہ.فاطمہ 
تحریر نمبر ۳
اجمال کی تفصیل کیا ہے ہم کیا جانیں گے ہم تو اتنا جانتے ہیں یہ نسخہ مصحف ابراہیمی حسینی.روح میں ظاہر ہوگیا، 

یہی.وہ نعمت ہے جس کے لیے اللہ نے فرمایا 

"الیوم اکملت ..."

وہ وجود(نور) مکمل ہوگیا وہ مصوری جس کے لیے المصور نے دنیا.بنائی  ...وجود، مصوری،  سب مکمل ہوا،  قلم حسن کے شاہکار پہ توڑ دیا گیا کہ اس سے بہتر نقاش گر نے کیا بنانا تھا

تمام انبیاء کا نور مکمل ہوکے  مقدس نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے   سیدہ فاطمہ رضی تعالی عنہ  کی روح میں منتقل ہوا  تو اللہ نے فرمایا 

انا اعطینک الکوثر،

سیدہ.طاہرہ عالیہ زاہدہ مرضیہ، راضیہ، مطہرہ،  عارفہ  بی بی فاطمہ رضی تعالی عنہ کو پہچاننے والے، خود کی پہچان کرگئے،   یوں امِ ابیھا بی بی فاطمہ(سلام و درود ان پر)  سے رکھنے والے کشتی پار کرگئے

قسم کھائی خالق نے  اس کعبے کی جس کو تخلیق کیا گیا،  قسم  کھائی  اس حُسن کی جو  ظہور آدم سے نمود ہوتے،  یوحنا علیہ سلام  سے جوزف علیہ سلام  سے،  محمد  صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں پہنچا،  ساری کائنات نے محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم  سینے(قلب /نور)  کا طواف کیا،  اس لیے پتھرمسجود ہوگئے،  کلمہ پڑھنے لگے، اس لیے چاند شق ہوگیا،  اس لیے مکڑی نے غار ثور میں جالا بُن دیا،  اس لیے جب بوقت ہجرت مٹی پھینکی گئی تو کفار اندھے ہوگئے ... اس لیے احساس کی رم جھم دلوں پہ پڑنے لگی،  اسی وجہ سے شجر جھک جھک کے باد کو سلام کرتے ہیں کہ باد بھی سیدہ بی بی  فاطمہ علیہ کو  سلام کرکے آتی ہے

  بی بی مریم علیہ سلام ہو،  آسیہ بی بی ہو،  یا ام عائشہ رضی تعالی عنہ ہوں ... یہ  سب سلاسل نور کے مرکوز ہائے رنگ پیرہن سیدہ پاک بی بی  میں مجتمع ہوئے ...   جب امام  حسین  عالی مقام نے نوکِ سناں سجدہ کیا،تو خدا  چاہتا تو نار ابراہیمی جیسے گلنار ہوئی،  اس طرح یہ مقتل گاہ  نہ سجتی، نہ نوک سناں سجدہ ،  یہ نہ ہوتا  تو جنون کی  سب پردہ دری کرتے رہتے

اسی نے "خضر" کا رستہ اختیار کرلیا،  گویا "موسی "خود میں خضر ہو گیا،  

اے خضر راہ،
  بتا تو سہی
 انجیل مقدس کے راستے کون سے ہیں 
اے خضر راہ بتا،
 نمود جلال سے
 ظہور جمال کی پہنچ 
اے خضر راہ بتا،  
درد کی منتہی پہ کیا رکھا ہے 

وہی فضل ہے جو سیدہ بی بی مریم علیہ سلام کے دل میں اترا،  انجیل  مقدس دل میں اترتی ہے،  یوحنا علیہ سلام  کی تعظیم اترتی ہے،  کعبے میں جگہ مل جاتی ہے 

حیا کی مٹی سے جب تخلیق کیا گیا تو سب سے پہلے اس خاص مٹی سے  سیدہ پاک دامن بی بی فاطمہ رضی تعالی عنہ کو تخلیق کیا گیا،

اسم نور علی النور کی کہانی ہے 

یا ایھا النفس المطمئنہ کا بیان ہے،  اسی آیت کے لیے آیت خاص کو ملحم کیا گیا،  آیت خاص وجدان کی سطح پہ اترتی ہے،  نسلیں تب قبائے ہاشمی پہن لیتی ہیں،  جہاں جہاں نور بکھرتا ہے،  اجالا ہوتا جاتا ہے،  درد کی بھی تھیں قسمیں،  اک درد قربانی کا،  اک درد نفس کا،  اک درد تڑپ کا تھا،  اک درد احساس کا تھا،  اک درد پیار سے نکلا خاص تھا،  یہ درد تمام رنگ اسی نسل میں،  اہل بیت، پنجتن پاک میں اتار دئیے گئے ہیں،  آیت خاص  سورہ الکوثر کے علاوہ کیا ہے!  یہ وہ مثل آب ہے،  جس نے اسکو پالیا.گو یا خضر راہ سے کلیمی پالی

حُسینی رض نور کو کمال کی بلندی حاصل ہے،  شرح صدر سے شرح نفس تک کی بات ہے، جب خدا نے کہا اک جسم میں دو دل نہیں ہوتے،  تو آزمائے گئے تھے مومن   یہاں تک کہ ان کے دل حلق تک خشک ہوگئے،  اس خوف میں اک استقلال رکھا.گیا تھا،  یہی استقلال ہے جو حسین  رض کو دیا گیا،  حسین  ع اس نور استقلال سے معبد بدن میں تھے،

ابن علی رض کو  علم خاص عطا کیا تھا،  جب  "اقرا " کے حرف ابتدا سے سکھایا گیا تھا قران،  جب احساس نے قلم سے رشتہ نہیں پکڑا تھا،  جب کن کا خیال وجود میں آیا تھا،  اس خیال میں تپش حسن سے خیال عین ظہور ہوا ...حسین  رض نام تھا اس خیال کا،  یہی نام حسین رض  فلک سے فرش تک اترا تھا

کمال تھا کہ شان بے نیازی کا دوشالا ہم نے عطا کیا تھا،   جب  امام حسین  رض نے کربل کے میدان میں قدم رکھا ........ تو قسم خدائ کی،  قسم الہیات کی،  قسم ہے قلم کی،  قسم نور وجود کی جو سینوں میں اتارا گیا، امام حسین رض نے پیٹھ نہ پھیری،  درد کو سینے پہ سہا،  درد روحی تھا ... درد جسمی تھا .... درد کی تمام قسمیں امام  حسین کو دیں گئیں  ..قسم اس ذات کی، امام  حسین نے تخلیق ناز ہونے کا حق نبھایا ہے ....،

امام حسین کو کمال خاص عطا ہوا تھا،  اس کائنات میں امام علی  حیدر کو جو شجاعت عطا ہوئ ہے،  اس شجاعت کا کمال امام حسین نے پالیا تھا،  کمال رفعت کو پہنچا تھا سلسلہ ہائے مولائے علی کے تار حریم سیدہ پاک بی بی  فاطمہ سے  امام حسین کو،  تو شجاعت نے کمال کی پگڑی پہنی تھی کربل میں

امام حسین کو  چرند پرند، تلوار دستار،  پہاڑ سب سے بات کرنے کی دسترس دی،  جو نطق گویائی حضرت  داؤد و سلیمان علیہ سلام  کو ملی،  اس گویائی، ناطق ہونے  کی انتہا  امام حسین کو ملی،  یہ نطق  جس کا سلسلہ سیدہ پاک بی بی فاطمہ کی نسبت سے چلا ...بلاشک یہ علم لدنی یے،  یہ اللہ کی عطا ہے 

جب درد قسم قسم کے ملنے لگے تو جان لو کہ درد تحفہ ء ایزدی ہے، جان لو تحفہ حسینی ودیعت کردیا گیا،  جان لو شام حنا کے وقت تعین میں نسل.قربانی تک تمااحیاء العلوم  میں حسین رض ہیں

یہ جو جمال ہے جس کو تم دیکھو، جو غور کرو جب فلک کی نیلاہٹ پاؤ، جب چاند کو ہمہ وقت رات کے حسن میں تلاشو، جب پتوں کی سراسراہٹیں اک پیغام دو جو جان لو یہ نور حسن رض ہے ..نور حسن رض کونور حیات سے مخلق کیا گیا،  نور حیات آیت الکرسی ہے، یہ کرسی حسنین کریمین میں قرار پکڑے ہوئے ہے،  آیت سردار،  سرداروں میں ترتیل.ہوتی ہے،  تب ہی علم عمل میں ڈھلتا ہے تو جان لو  امام حسن رض  کو علم میں کمال حاصل تھا

یہی کوثر ہے،  یہی حوض کوثر کا آب ہے ..چشمہ ء اس کے  عرش کا پانی ہے،  عرش کا پانی باب حلم سے باب عفو تک جانے والوں کو یہی ملتا ہے،  قدسیوں سے پوچھو حیرت حسن نے کیا کام کیا ہے،

 امام حسن رض کی.شہ رگ میں نسبی کلمہ شجر زیتون کی مانند تھا،  نور ایسا تھا اس شجر سے چار سو پھیلا ہوا ریا ہے ..والتین و الزیتون ...احسن التقویم کی مثال ہیں امام حسن  رض ہیں،   امام حسن  رض میں حسن با کمال ہے  ...چمن حسن رض  سے خوشہ ہائے گلابی عطر پھیلے، نبی کی سیرت جو چار سو پھیلی ہے،  یہ جو بارش رحمت کی برسے،  یہ ہوا جو چلے،  یہ کمال حیرت میں پہاڑ حیرت میں گم رینے لگتے ہیں

شاہ ‏لطیف ‏

بھٹ شاہ سے اک سوغات دنیا کو ملی ہے. وہ عشق کا ایسا سوز ہے جسکے درد سے کھوٹ نکل کے رقص کرتا ہے کہ کھوٹ بھی مسلمان ہے. گویا ضد نہ رہی ہو گویا اندھیرا نہ رہا ہو. گویا سویرے والے چھپ گئے ہو ...وہ بزرگ جو ہمیشہ کڑی دھوپ میں وقت گزارا کرتے تھے اور ہوا سے سرگوشی ان کا دین تھا ... لطیف شاہ سچ ہوگئے. سچ ہوئے لطیف شاہ اور پھر عصا لیے وہ یدبیضا لیے جا بجا پھرتے رہا کرتے رہے ..  تلاش کیسا گھماتی ہے جو آواز ہے اٹھتی اندر سے اور کرلایا بولایا انسان جابجا سرگرداں رہتا ہے. یہی ہوا پھر جو اک دن وہ حق کی آواز میں ڈوبے تو ماہ صیام شروع ہوگیا. یہ مہینہ ان پر ساری زندگی دائم ہوگیا اور ان پر قران اترتا رہنے لگا ..وہ قران والے بابا ...وہ صحیفے والے شاہ ہیں اس لیے بھٹ میں رہنے لگے تھے ... یہ جگہ جہاں سے یہ آواز سچل سائیں میں چلی گئی. یہ آواز منتقل ہے. اسکا انتقال کیسے ہوا ہے کبھی نہ جانا یے. انسان خود کچھ نہیں ہے یہ صدائیں ہیں جو اس کو مجھ سے ملاتی ہیں. یہ پریم کی نیا ہے ...یہ پریمی کی نیا جس میں لال سرخ بخاری نے سرخی بانٹی. ہوش کی زبان میں کمال کا بیہوشی سے غالب لہجہ تھا انکا. وہ آواز گفتار میں ہو تو باقی صامت جو صامت و ساکت ہو تو اسکے قفل ہو جائیں کھل ... وہ کھلے دروازے جن پر سرخ بخاری کی ھو پہرا دے اسکا کیا ہوگا. اس کے لیے شیطان بھی ڈر کے بھاگ جاتا یے جب نام حیدر لیا جاتا یے. نام حیدر کرار ثانی کی بات ہے. بس اوقات نہیں ہے

عارف ‏

جانے شعور کی وہ کون سی لے ہے جس میں نہ ہونا ہی میرے ہونے کا پتا ہے. جب پتا نہ ملے تو سطح آب پر آتے دیکھنا بنتا ہے شعائر اللہ کو .. نشان یہ سارے دل میں. ظاہر میں سب نشان اس لیے بنوائے گئے کہ خاکی مجاز سے خیال تک پہنچتا ہے. جب تک تصور نہ کرے گا تصویر کو تو دامن خالی رہے گا. جیسے تصویر دل میں اترتی ہے تو علم ہوتا ہے ویسی تصویر پہلے سے موجود تھی ... عارف پر یہ حقیقت کھلتی ہے تب وہ راز شناس ہوجاتا ہے.  پھر اس کا حال دل، وقت سے جڑ جاتا ہے. وقت یعنی زمانہ اسکو وہ خبر دیتا ہے جو اس وقت کا ارشاد ہوتا ہے. ارشاد ایک ذات کی جانب سے ہوتا ہے اور پہنچانے والا پیام بر ہوتا ہے. امانتوں کو اٹھائے ہوئے انسان یہ سمجھ نہیں سکتا ہے کہ جب اس کی امانت کا راز اس پر افشاء ہوتا ہے تو اس کی معرفت حقیقت کو رسا ہوجاتی ہے ... یہ حقیقت سینوں میں چھپے راز اس پر منکشف کرتی ہے. راز الست یہ امانتیں ہیں ...ہدایت دینے والا بتاتا ہے کہ تخلیق کا مقصد کیا تھا. آدم کو جاننا چاہیے کہ واسطے خدمت پیدائش نعمت ہے. نعمتیں مختلف وسائل سے بنٹ جایا کرتی ہیں. عروضی شعائر سے نقاط کھل جاتے ہیں. قدوسی سے طائر کی پرواز لاہوت کی جانب چلتی ہے. بس من نمی گویم انا لحق " نعرے لگتے ہیں. نقارے بجتے ہیں ... سیاروں سے ستارے لگتے ہیں. سیارے بکھر جاتے ہیں ستارے پھیل جاتے ہیں ..ستاروں کا کام روشنی واضح کرنا ہے

اشک ‏کے ‏وظائف ‏

شاہِ جَلال سُرخ پوش ثانی ء حیدر کَرار سے مل رہے ہیں اشک کے وظائف!  بڑے دل سے ملا ہے اک ذرے کو،  ذرہ ء خاکِ ناسوت کب معرفتِ شاہِ سرخ جلال الدین کی کَر پائے ہے، یہ نامِ حُسین جو چرخِ زمن پہ روشن ہے، اسی لعل کے لال ہے مخدوم جَہانیاں جَہاں گشت!  

شاہِ جَلال سرخ نگینہ ہیں ، شاہ جَلال لعلِ یمنی ہیں،  یہ ضوئے حُسین! یہ بوئے حیدری!  زمین پہ موتیا کی خوشبو سے ہوا اوج چمن کو نکھار، یہ بہاراں ہے! یہ نظارا ہے!  یہ.راز برگ گل و سمن ہے!  یہ راز نہاں یے کہ.عیاں ہے اک راز! بس راز خفتہ کو ظاہر پایا ہے کون جانے کون جانے کون جانے بس رب جانے بس رب جانے

تَڑپ سے آدم کو مِلا قَرار کیسے؟ منتہائے اوج جستجو پے وجہ تخلیق بشر صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے رشنائی پائی!  نہ ہوتے آدم تو میرا جُرم جَفا، کیسے ٹھکانا پاتا؟  
مجھ کو آسر جد سے ہُوا، خطاوار کو ملتی.رضا ہے
یہ ہاشمی قبا ہے، جو سر پر رِدا ہے، یہ حَیا سے وفا ہے 
کون جانے کس کی لگن میں آس کے سوت کتن جاوے مری روح!  جو جانڑے،  وہ حال دل سے باخبر ہیں مگر مخبر اپنے دل کو راز نہاں سے عیاں سے کہاں تلک کی رسائ سمجھ  لگے، کریم ان کی صدا ہے